منتظر مومن وانی
بہرام پورہ کنزر
کشمیر کی موجودہ تعلیمی صورتحال ہر تعلیم دوست فرد کے لیے فکر کا باعث بن چکی ہے۔ ایک طرف تعلیم کے دعوے ہیں، دوسری طرف ہمارے طلبا قومی سطح کے امتحانات میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ بے روزگاری کے غم میں نئی نسل نے بھی حوصلہ ہار دیا ہے اور یہی ان کی تعلیم سے دوری کا بہانہ بن گیا ہے۔نصاب مکمل کرنے کی دوڑ، نمبروں کی فکر، اور کسی بھی طرح ڈگری حاصل کرنے کی تگ و دو نے طلبا کے اندر تخلیقی اور تحقیقی رجحان کو دفن کر دیا ہے۔ ڈگری ملنے کے بعد کتابوں سے ناتا ٹوٹ جاتا ہے، اور علم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ تعلیم اب ایک مکمل تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے، ہر طرف تجارتی لب و لہجہ میں اس کا ذکر ہوتا ہے۔
بچوں کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ کون سا شعبہ زیادہ منافع بخش ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ فکری غلامی میں جکڑ جاتے ہیں۔ عملی تجربات، تحقیق، اور سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ اسکولوں کی لیبارٹریاں اور لائبریریاں غیر فعال ہیں۔
بچوں کے ذہنوں میں ابتدا ہی سے یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ کون سا شعبہ زیادہ منافع بخش ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ فکری غلامی میں جکڑ جاتے ہیں۔ عملی تجربات، تحقیق، اور سوال اٹھانے کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ اسکولوں کی لیبارٹریاں اور لائبریریاں غیر فعال ہیں۔
ہمارے ہائر سیکنڈری اداروں میں کبھی سالانہ مجلے شائع ہوتے تھے، جو طلبا کے علمی ذوق اور تخلیقی صلاحیت کو جِلا دیتے تھے۔ اب بیشتر اداروں نے یہ روایت بھی ختم کر دی ہے۔ دوسری طرف، اسکول تجارتی فائدے کے لیے ایسے پروگرام منعقد کرتے ہیں جن کا تعلیمی فائدہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر والدین انہیں پسند کرتے ہیں، اور اسکول اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ والدین اپنی سوچ کو تازگی بخشیں، تعلیم کے حقیقی مقصد پر غور کریں، اور اپنے بچوں میں تحقیق، مطالعہ، اور تخلیق کی روح کو بیدار کریں۔اللہ تعالی ہمارے بچوں کو علم، فکر، اور ترقی کی دولت عطا فرمائے۔


