سعودی عرب اور پاکستان کے مابین عسکری معاہدہ کس قدر قابلِ یقین !

بےنام گیلانی
سعودی عرب اور پاکستان کے مابین عمل پذیر ہوئے عسکری معاہدے کو کون سا نام دیا جائے اور یہ کس حد تک کارگر ثابت ہوگا، یہ امر ناچیز کی فہم سے پرے ہے۔ آج کا عالمی منظرنامہ بہت ہی عجیب ہے۔ اس میں تعلقات کے استحکام کے تعلق سے ایک بے یقینی کا عالم ہے۔ جس طرح لمحہ بہ لمحہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے، عین اسی طرح بنی آدم کے رنگ و روپ اور طور و طریق بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ناچیز عہدِ طفلی سے یہ سنتا آیا ہے کہ انسان کی فطرت و جبلت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، لیکن مشاہدے یہ بتا رہے ہیں کہ اب فطرت و جبلت میں بھی تغیر عمل پذیر ہوتا رہتا ہے۔ اب اس کے بعد رشتے، ناطے و تعلقات کا کیا ذکرِ خیر ہو۔ جس طرح یہودی و نصاریٰ آج بھی قابلِ یقین نہیں ہیں، عین اسی طرح سعودی عرب اور یو اے ای کے شاہان کے قول و عمل کا بھی کوئی یقین نہیں کیا جا سکتا۔ شاہانِ سعودی عرب میں ناچیز کے خیال سے صرف ایک ہی ایسا انسان پیدا ہوا جس پر یقین کیا جا سکتا تھا۔ اس شخص کا نامِ نامی شاہ فیصل تھا۔ آپ مرحوم واقعی ایک سچے اور پکے مسلمان تھے اور اپنے دل میں اسلام کا درد رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد تو رکھا ہی، اسی کے باہم پاکستان میں نکلیائی بم کی اساس بھی رکھی۔ آپ کا کہنا تھا کہ یہ ایٹم بم میں پاکستان میں بنوا رہا ہوں، یہ بم صرف پاکستان کی ملکیت نہیں ہوگا بلکہ عالمِ اسلام میں جب اور جہاں بھی اس کی ضرورت درپیش ہوگی، وہاں اسے استعمال کیا جائے گا۔ یہی سبب تھا کہ شاہ فیصل نے اس بم کا نام “اسلامی بم” رکھا تھا۔ اس وقت کے وزیرِاعظمِ پاکستان سے یہ واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ یہ بنا تو ہے بلا شبہ پاکستان میں، لیکن اس پر تمام اسلامی ممالک کا حق یکساں طور پر ہوگا۔ جہاں اس کی ضرورت درپیش آئے گی وہاں بلا تاخیر یہ استعمال کیا جائے گا۔
مذکورہ بم کو بنانے پر جو اخراجات ہوئے وہ سارے کے سارے شاہ فیصل صاحب کی تحویل سے گئے۔ اس کے علاوہ اسی دور میں شاہ فیصل نے ارضِ پاکستان پر شاہ فیصل مسجد کی بھی اساس ڈالی جو آج پاکستان کی سب سے حسین مسجد ہے۔ یہ شاہ فیصل اسی سعودی عرب کے بادشاہ تھے جہاں آپ کے بعد کے تمام فرماں روا کو امریکہ و اسرائیل نیز مغربی ممالک کی غلامی پسند آئی۔ اس غلامی کا سلسلہ بدستور آج بھی جاری ہے۔ اتنا کچھ گزرنے کے باوجود اور ایک عظیم اسلامی ملک جسے انبیا کی سرزمین کہا جاتا ہے، اس کی مکمل تباہی اور وہاں کے مسلمانان کے وسیع قتال کے باوجود قاتلوں کے خلاف کبھی ولیعہدِ سعودی عرب محمد بن سلمان کے لب مقفل ہی رہے۔ نہ کوئی عملی احتجاج اور نہ زبانی، بس اپنی عقابی نگاہ سے فلسطینیوں کی شہادت کا تماشا دیکھتے رہے۔ ان بے حسوں سے کوئی امید رکھنا ہی نادانی ہوگی۔ اب جب خود اپنے تخت و تاج پر بات آ بنی ہے تو ان کے سینے میں ملت کا درد امنڈ پڑا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف لب کشائی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اب انہیں خود اپنے ملک کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک کی ضرورت درپیش ہے اور وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مجبور ہیں۔
زمانہ اس مجبوری اور فلسطینیوں سے اظہارِ جہتی کے مقاصد کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ وہ خود کو بہت کمزور تصور کر رہا ہے، علاوہ ازیں خود کو بے سہارا و بے مددگار بھی سمجھ رہا ہے۔ یہ وہی سعودی عرب ہے جو فلسطین پر ہوئی بے تحاشہ بمباری پر خاموش رہا، لبنان پر ہوئی بمباری پر خاموش رہا، شام میں عمل پذیر ہوئے خون خرابے پر خاموش رہا۔ انتہا تو یہ ہوئی کہ ایران کے نکلیائی اڈے پر ہوئے حملے پر خاموشی اختیار کی۔ بے حسی ایسی گویا ان ممالک میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ ہی کسی افسوس یا تعزیت کا اظہار کیا۔ گرچہ اس حملے میں ایران کے کئی بڑے افسران و نکلیائی سائنس داں شہید ہو گئے۔ اس کے عین برعکس یہ سعودی عرب والے خفیہ طور پر اسرائیل کی مدد کرتے رہے۔ دراصل امریکیوں نے محمد بن سلمان کو یہ یقین دلا رکھا تھا کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے، لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں، امریکہ ہر ملک سے اور ہر حال میں تمہاری حفاظت کرے گا۔ شاید یہی سبب ہے کہ سعودی عرب والے خدا سے زیادہ امریکیوں پر یقین کرنے لگے ہیں۔
یہ سب ایران کے خوف کے باعث عمل پذیر ہوا۔ چنانچہ محمد بن سلمان مسلسل ایک خوف زدہ زندگی جیتے رہے۔ ایران سے خوف کے باعث یہ امریکہ سے خوف زدہ رہنے لگے، وہ بھی اس قدر کہ خدا ناراض ہو تو ہو، امریکہ کو کسی طور بھی ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس خوف کا انجام یہ ہوا کہ محمد بن سلمان اپنے شاہی خزانے کو آنکھ بند کر کے اور دل کھول کر امریکہ پر لٹاتے رہے۔ صرف خزانے ہی نہیں لٹاتے رہے بلکہ حکمِ ٹرمپ پر چپکے چپکے پوشیدہ طور پر فلسطین کے معصوموں کے سفاک قاتل اسرائیل کی خفیہ طور پر حربی و اقتصادی امداد بھی کرتے رہے۔ جب بحری راستے سے سامانِ حرب بھیجنا ممکن نہیں رہا تو اس منافق نے سڑک کے راستے سے بڑی بڑی ٹرکوں پر لبالب بھر کر بھیجا۔ آج جب اس منافق کے سر پر خود آ بنی تو اسی فلسطین کا بہانہ بنا کر ایران وغیرہ سے کہہ رہا ہے کہ اب تمام مسلم ممالک کو متحد ہو جانا چاہیے۔ جبکہ اطلاع یہ بھی ہے کہ آج بھی وہ ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطے میں ہے۔
خوف تو یہ بھی ہے کہ اب پھر ڈونالڈ ٹرمپ اس شخص محمد بن سلمان کے ذریعے کون سی نئی سازش مسلمانوں خصوصاً ایران کے خلاف رچے گا، اس کا علم کسی کو نہیں ہے۔ ہاں، یہ اندیشہ یقینی ہے کہ اب جو زخم ٹرمپ مسلمانوں کو دے گا وہ قبل کے زخموں سے زیادہ ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ گہرا ہوگا۔ اس کے بعد شاید مسلم ممالک کی کمر سیدھی نہ ہو سکے۔ اسی اندیشے کے تحت تمام مسلم ممالک عجب سی بے یقینی کے شکار ہیں۔ لیکن پیش آنے والے خطرات سے آگاہ ہیں، خواہ یہ آگاہی اندیشے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سب کے سب خود ہوشیار اور محتاط ہیں۔
محمد بن سلمان کی غلامانہ ذہنیت سے فی زمانہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار پاکستان کی خود مختاری ہے۔ فی الوقت جو پاکستان فلسطین کا تھوڑا بہت حامی نظر آ رہا ہے، ممکن ہے کہ ماضی قریب میں محمد بن سلمان کے دباؤ اور اقتصادی مفاد کے باعث فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہو جائے، کیونکہ حکومتِ پاکستان قبل ہی سے سعودی عرب اور یو اے ای کے معاشی و اقتصادی دباؤ میں ہے۔ پھر بھی پاکستان کی معاشی و اقتصادی حالت روز افزوں غیر ہوتی جا رہی ہے۔ معلوم نہیں کب بنگلہ دیش اور نیپال کی مانند وہاں کے عوام بھی حکومت سے بغاوت کر جائیں۔ چنانچہ پاکستان کو اپنی اقتصادی حالت کو استحکام دینے کے لیے سعودی عرب، یو اے ای نیز امریکہ کی شدید ضرورت درپیش ہے۔
ایسے میں پاکستان کب تک اپنے قول پر قائم رہ سکتا ہے، یہ کہا نہیں جا سکتا۔ ویسے یہ تو طے ہے کہ سعودی عرب امریکہ سے غلامی کی حد تک مرعوب ہے۔ مگر معاملہ اب چونکہ اپنے تخت و تاج تک پہنچ چکا ہے اور محمد بن سلمان کو یہ علم ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تعلق سے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا سکتا اور اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل” کے نقشے میں سعودی عرب کے بھی کئی شہر، خصوصاً مکہ، شامل ہیں۔
اس طرح سعودی عرب کی ابھی سب سے بڑی ضرورت ایک ایسے ملک کی ہے جو اسرائیل کی پیش قدمی کو روک سکے۔ اب چونکہ پاکستان ایک نکلیائی پاور ہے اور اس کے پاس دیگر کارگر اسلحہ جات بھی ہیں نیز ایک لمبی چوڑی فوج بھی ہے، یہی سبب ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو ڈھال بنا کر آگے لانا چاہتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ مسلم، لیکن یہ جو دونوں ممالک کے مابین عسکری معاہدہ عمل پذیر ہوا ہے، شاید دیرپا ثابت نہ ہو، کیونکہ اس کی بنیاد نہ اخلاقیات پر ہے اور نہ ہی اخلاص پر، بلکہ صد فیصد غرض مندی اور مفاد پرستی پر ہے۔ یہ غرض مندی اور مفاد پرستی پر مبنی رشتہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتا۔ تاہم اسی بہانے پاکستان کا اقبال کچھ بلند ہو گیا ہے۔ وہ یوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین جو عسکری معاہدہ ہوا ہے اس سے پاکستان کی اقتصادی حالت کو کسی حد تک استحکام مل سکتا ہے۔ پھر وہاں سے کچھ حد تک بے روزگاری بھی دور ہو سکتی ہے کیونکہ محمد بن سلمان اپنے ہاں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے دروازے ذرا کشادہ دلی کے ساتھ کھول سکتے ہیں۔
اس طرح پاکستان کی زوال پذیر معیشت کو کچھ استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم اس امر کا کوئی یقین آج بھی نہیں ہے کہ یہ رشتے کتنی دور تک چل سکتے ہیں، کیونکہ ایک جانب سعودی عرب امریکہ کے آگے سر بہ سجود رہنے سے انکار نہیں کر سکتا تو دوسری جانب پاکستان کا بھی یہی عالم ہے۔ پاکستان کس وقت امریکہ و اسرائیل کے آگے سرنگوں ہو جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ المختصر یہ کہ مذکورہ معاہدہ اپنے روزِ اول سے ہی بے یقینی کا شکار ہے۔ آگے واللہ اعلم بالصواب۔
ادارہ جنگ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

سعودی عرب اور پاکستان کے مابین عسکری معاہدہ کس قدر قابلِ یقین !

بےنام گیلانی
سعودی عرب اور پاکستان کے مابین عمل پذیر ہوئے عسکری معاہدے کو کون سا نام دیا جائے اور یہ کس حد تک کارگر ثابت ہوگا، یہ امر ناچیز کی فہم سے پرے ہے۔ آج کا عالمی منظرنامہ بہت ہی عجیب ہے۔ اس میں تعلقات کے استحکام کے تعلق سے ایک بے یقینی کا عالم ہے۔ جس طرح لمحہ بہ لمحہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے، عین اسی طرح بنی آدم کے رنگ و روپ اور طور و طریق بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ناچیز عہدِ طفلی سے یہ سنتا آیا ہے کہ انسان کی فطرت و جبلت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، لیکن مشاہدے یہ بتا رہے ہیں کہ اب فطرت و جبلت میں بھی تغیر عمل پذیر ہوتا رہتا ہے۔ اب اس کے بعد رشتے، ناطے و تعلقات کا کیا ذکرِ خیر ہو۔ جس طرح یہودی و نصاریٰ آج بھی قابلِ یقین نہیں ہیں، عین اسی طرح سعودی عرب اور یو اے ای کے شاہان کے قول و عمل کا بھی کوئی یقین نہیں کیا جا سکتا۔ شاہانِ سعودی عرب میں ناچیز کے خیال سے صرف ایک ہی ایسا انسان پیدا ہوا جس پر یقین کیا جا سکتا تھا۔ اس شخص کا نامِ نامی شاہ فیصل تھا۔ آپ مرحوم واقعی ایک سچے اور پکے مسلمان تھے اور اپنے دل میں اسلام کا درد رکھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد تو رکھا ہی، اسی کے باہم پاکستان میں نکلیائی بم کی اساس بھی رکھی۔ آپ کا کہنا تھا کہ یہ ایٹم بم میں پاکستان میں بنوا رہا ہوں، یہ بم صرف پاکستان کی ملکیت نہیں ہوگا بلکہ عالمِ اسلام میں جب اور جہاں بھی اس کی ضرورت درپیش ہوگی، وہاں اسے استعمال کیا جائے گا۔ یہی سبب تھا کہ شاہ فیصل نے اس بم کا نام “اسلامی بم” رکھا تھا۔ اس وقت کے وزیرِاعظمِ پاکستان سے یہ واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ یہ بنا تو ہے بلا شبہ پاکستان میں، لیکن اس پر تمام اسلامی ممالک کا حق یکساں طور پر ہوگا۔ جہاں اس کی ضرورت درپیش آئے گی وہاں بلا تاخیر یہ استعمال کیا جائے گا۔
مذکورہ بم کو بنانے پر جو اخراجات ہوئے وہ سارے کے سارے شاہ فیصل صاحب کی تحویل سے گئے۔ اس کے علاوہ اسی دور میں شاہ فیصل نے ارضِ پاکستان پر شاہ فیصل مسجد کی بھی اساس ڈالی جو آج پاکستان کی سب سے حسین مسجد ہے۔ یہ شاہ فیصل اسی سعودی عرب کے بادشاہ تھے جہاں آپ کے بعد کے تمام فرماں روا کو امریکہ و اسرائیل نیز مغربی ممالک کی غلامی پسند آئی۔ اس غلامی کا سلسلہ بدستور آج بھی جاری ہے۔ اتنا کچھ گزرنے کے باوجود اور ایک عظیم اسلامی ملک جسے انبیا کی سرزمین کہا جاتا ہے، اس کی مکمل تباہی اور وہاں کے مسلمانان کے وسیع قتال کے باوجود قاتلوں کے خلاف کبھی ولیعہدِ سعودی عرب محمد بن سلمان کے لب مقفل ہی رہے۔ نہ کوئی عملی احتجاج اور نہ زبانی، بس اپنی عقابی نگاہ سے فلسطینیوں کی شہادت کا تماشا دیکھتے رہے۔ ان بے حسوں سے کوئی امید رکھنا ہی نادانی ہوگی۔ اب جب خود اپنے تخت و تاج پر بات آ بنی ہے تو ان کے سینے میں ملت کا درد امنڈ پڑا ہے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف لب کشائی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اب انہیں خود اپنے ملک کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک کی ضرورت درپیش ہے اور وہ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مجبور ہیں۔
زمانہ اس مجبوری اور فلسطینیوں سے اظہارِ جہتی کے مقاصد کو اچھی طرح سمجھ رہا ہے۔ وہ خود کو بہت کمزور تصور کر رہا ہے، علاوہ ازیں خود کو بے سہارا و بے مددگار بھی سمجھ رہا ہے۔ یہ وہی سعودی عرب ہے جو فلسطین پر ہوئی بے تحاشہ بمباری پر خاموش رہا، لبنان پر ہوئی بمباری پر خاموش رہا، شام میں عمل پذیر ہوئے خون خرابے پر خاموش رہا۔ انتہا تو یہ ہوئی کہ ایران کے نکلیائی اڈے پر ہوئے حملے پر خاموشی اختیار کی۔ بے حسی ایسی گویا ان ممالک میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ ہی کسی افسوس یا تعزیت کا اظہار کیا۔ گرچہ اس حملے میں ایران کے کئی بڑے افسران و نکلیائی سائنس داں شہید ہو گئے۔ اس کے عین برعکس یہ سعودی عرب والے خفیہ طور پر اسرائیل کی مدد کرتے رہے۔ دراصل امریکیوں نے محمد بن سلمان کو یہ یقین دلا رکھا تھا کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے، لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں، امریکہ ہر ملک سے اور ہر حال میں تمہاری حفاظت کرے گا۔ شاید یہی سبب ہے کہ سعودی عرب والے خدا سے زیادہ امریکیوں پر یقین کرنے لگے ہیں۔
یہ سب ایران کے خوف کے باعث عمل پذیر ہوا۔ چنانچہ محمد بن سلمان مسلسل ایک خوف زدہ زندگی جیتے رہے۔ ایران سے خوف کے باعث یہ امریکہ سے خوف زدہ رہنے لگے، وہ بھی اس قدر کہ خدا ناراض ہو تو ہو، امریکہ کو کسی طور بھی ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس خوف کا انجام یہ ہوا کہ محمد بن سلمان اپنے شاہی خزانے کو آنکھ بند کر کے اور دل کھول کر امریکہ پر لٹاتے رہے۔ صرف خزانے ہی نہیں لٹاتے رہے بلکہ حکمِ ٹرمپ پر چپکے چپکے پوشیدہ طور پر فلسطین کے معصوموں کے سفاک قاتل اسرائیل کی خفیہ طور پر حربی و اقتصادی امداد بھی کرتے رہے۔ جب بحری راستے سے سامانِ حرب بھیجنا ممکن نہیں رہا تو اس منافق نے سڑک کے راستے سے بڑی بڑی ٹرکوں پر لبالب بھر کر بھیجا۔ آج جب اس منافق کے سر پر خود آ بنی تو اسی فلسطین کا بہانہ بنا کر ایران وغیرہ سے کہہ رہا ہے کہ اب تمام مسلم ممالک کو متحد ہو جانا چاہیے۔ جبکہ اطلاع یہ بھی ہے کہ آج بھی وہ ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطے میں ہے۔
خوف تو یہ بھی ہے کہ اب پھر ڈونالڈ ٹرمپ اس شخص محمد بن سلمان کے ذریعے کون سی نئی سازش مسلمانوں خصوصاً ایران کے خلاف رچے گا، اس کا علم کسی کو نہیں ہے۔ ہاں، یہ اندیشہ یقینی ہے کہ اب جو زخم ٹرمپ مسلمانوں کو دے گا وہ قبل کے زخموں سے زیادہ ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ گہرا ہوگا۔ اس کے بعد شاید مسلم ممالک کی کمر سیدھی نہ ہو سکے۔ اسی اندیشے کے تحت تمام مسلم ممالک عجب سی بے یقینی کے شکار ہیں۔ لیکن پیش آنے والے خطرات سے آگاہ ہیں، خواہ یہ آگاہی اندیشے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ سب کے سب خود ہوشیار اور محتاط ہیں۔
محمد بن سلمان کی غلامانہ ذہنیت سے فی زمانہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار پاکستان کی خود مختاری ہے۔ فی الوقت جو پاکستان فلسطین کا تھوڑا بہت حامی نظر آ رہا ہے، ممکن ہے کہ ماضی قریب میں محمد بن سلمان کے دباؤ اور اقتصادی مفاد کے باعث فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہو جائے، کیونکہ حکومتِ پاکستان قبل ہی سے سعودی عرب اور یو اے ای کے معاشی و اقتصادی دباؤ میں ہے۔ پھر بھی پاکستان کی معاشی و اقتصادی حالت روز افزوں غیر ہوتی جا رہی ہے۔ معلوم نہیں کب بنگلہ دیش اور نیپال کی مانند وہاں کے عوام بھی حکومت سے بغاوت کر جائیں۔ چنانچہ پاکستان کو اپنی اقتصادی حالت کو استحکام دینے کے لیے سعودی عرب، یو اے ای نیز امریکہ کی شدید ضرورت درپیش ہے۔
ایسے میں پاکستان کب تک اپنے قول پر قائم رہ سکتا ہے، یہ کہا نہیں جا سکتا۔ ویسے یہ تو طے ہے کہ سعودی عرب امریکہ سے غلامی کی حد تک مرعوب ہے۔ مگر معاملہ اب چونکہ اپنے تخت و تاج تک پہنچ چکا ہے اور محمد بن سلمان کو یہ علم ہے کہ امریکہ اسرائیل کے تعلق سے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا سکتا اور اسرائیل کے "گریٹر اسرائیل” کے نقشے میں سعودی عرب کے بھی کئی شہر، خصوصاً مکہ، شامل ہیں۔
اس طرح سعودی عرب کی ابھی سب سے بڑی ضرورت ایک ایسے ملک کی ہے جو اسرائیل کی پیش قدمی کو روک سکے۔ اب چونکہ پاکستان ایک نکلیائی پاور ہے اور اس کے پاس دیگر کارگر اسلحہ جات بھی ہیں نیز ایک لمبی چوڑی فوج بھی ہے، یہی سبب ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو ڈھال بنا کر آگے لانا چاہتا ہے۔ یہ سب اپنی جگہ مسلم، لیکن یہ جو دونوں ممالک کے مابین عسکری معاہدہ عمل پذیر ہوا ہے، شاید دیرپا ثابت نہ ہو، کیونکہ اس کی بنیاد نہ اخلاقیات پر ہے اور نہ ہی اخلاص پر، بلکہ صد فیصد غرض مندی اور مفاد پرستی پر ہے۔ یہ غرض مندی اور مفاد پرستی پر مبنی رشتہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتا۔ تاہم اسی بہانے پاکستان کا اقبال کچھ بلند ہو گیا ہے۔ وہ یوں کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین جو عسکری معاہدہ ہوا ہے اس سے پاکستان کی اقتصادی حالت کو کسی حد تک استحکام مل سکتا ہے۔ پھر وہاں سے کچھ حد تک بے روزگاری بھی دور ہو سکتی ہے کیونکہ محمد بن سلمان اپنے ہاں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے دروازے ذرا کشادہ دلی کے ساتھ کھول سکتے ہیں۔
اس طرح پاکستان کی زوال پذیر معیشت کو کچھ استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ تاہم اس امر کا کوئی یقین آج بھی نہیں ہے کہ یہ رشتے کتنی دور تک چل سکتے ہیں، کیونکہ ایک جانب سعودی عرب امریکہ کے آگے سر بہ سجود رہنے سے انکار نہیں کر سکتا تو دوسری جانب پاکستان کا بھی یہی عالم ہے۔ پاکستان کس وقت امریکہ و اسرائیل کے آگے سرنگوں ہو جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ المختصر یہ کہ مذکورہ معاہدہ اپنے روزِ اول سے ہی بے یقینی کا شکار ہے۔ آگے واللہ اعلم بالصواب۔
ادارہ جنگ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں