
محمد اشرف ڈار بن سلام
بڈگام ، کشمیر
پادشاہ مشائخ، سیداوّلیا، پیرانِ دستگیر، روشن ضمیر، قطب الاقطاب، الشیخ محیی الدین عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، پانچویں صدی ہجری کے زمانے میں اسلامی تاریخ کا ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان قوم اپنی عروج، علم و فضل اور تمدنی ترقی کے بلندیوں پر پہنچ چکی تھی، اور بغداد عالم اسلام کا مرکز اور علوم و فنون کا پرکشش مرکز بن چکا تھا۔ تاہم، اس بلند مقام کے ساتھ بیرونی نظریات و خیالات کی یلغار نے یقین و اعتماد کی دیواریں کھوکھلی کرنی شروع کر دی تھیں۔ ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی شخصیت پیدا کرے جو اپنے ایمانی جذبے اور غیر معمولی صلاحیت سے اس دھارے کا رخ بدل دے۔
اسی صدی کے آخری میں، اللہ کے فضل و کرم سے پادشاہ مشائخ، سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، یکم رمضان المبارک، 470ھ بمطابق 1075ء کو طبرستان کے قصبے جیلان میں پیدا ہوئے۔ پیرانِ پیرؒ دین اسلام کے چمن سے ایسا عطرِ گلاب تھے جس نے اپنے خوشبو سے روحانیت اور طریقت کے ذریعے پورے عالم کو مہکا دیا۔ ان کے والدین سید موسی ابوصالح موسیٰ جنگی دوستؒ اور سیدۃ فاطمہ بنت عبداللہ الصومعیؒ تھے، اور ان کی خوشبو آج تک جاری ہے۔
محبوب سبحانی، سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ، تاریخ اسلام میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے شریعت اور طریقت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی روحانی اور اخلاقی زندگی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ دور عباسی خلافت کا تھا، جو زوال کی جانب جا رہا تھا، اور معاشرتی و روحانی خلا پیدا ہو رہا تھا۔ اسی دور میں تصوف کی تحریک نے مسلمانوں کی زندگی کو نئی سمت دی۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے مجددین دین کو بھیجا، اور پانچویں صدی ہجری کے مشہور مجددین میں امام غزالیؒ، امام فخر الدین رازیؒ، امام تقی الدین بن دقیقؒ، حافظ زین الدین عراقیؒ، امام جلال الدین سیوطیؒ، اور شیخ احمد سرہندیؒ شامل ہیں، جن میں سید عبدالقادر جیلانیؒ نمایاں ہیں۔
اسلامی تعلیمات کا سرچشمہ قرآن و سنت رسول ﷺ ہے، اور ابتدائی دور میں یہ تعلیمات مجلس نبوی میں دی جاتی تھیں۔ قرآن کی تفسیر کرنے والے مفسر کہلائے، حدیث کی خدمت کرنے والے محدث، فتوی اور فقہ کے کام کرنے والے فقیہ اور تزکیہ نفس کے کام کرنے والے صوفیا کہلائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "قد افلح من زکا، وقد خاب من دسا” (الشمس) ترجمہ: "بے شک جس نے نفس کو پاک کیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے میلا کیا وہ ناکام رہا۔”
آج کے حالات میں اکثر ہم ولی کامل کی کرامتوں سے ان کا مقام ناپتے ہیں، لیکن اصل پہچان ان کی زندگی، تعلیم و اصلاح، اخلاق و کردار، اور لوگوں کی ہدایت میں مضمر ہے۔ پادشاہ مشائخ، سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، دین و شریعت کی حسین تصویر تھے اور بدعات، خرافات اور بے دینی کے تاریک ماحول میں اصلاح و ہدایت کے روشن مینار تھے۔ انہوں نے علم و عمل کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کی، اور کتاب و سنت کے مطابق زندگی بسر کی۔
آپؒ نے مسلسل چالیس سال تک وعظ و نصیحت فرمائی، جس کے اثرات سے لاکھوں افراد نے اپنی زندگی کا رخ اللہ کی طرف موڑ دیا۔ آپؒ کے شاگرد روحانی مشعل لے کر عالم اسلام میں پھیل گئے، اور نورِ حق سے دلوں کو جگمگانے لگے۔ سلطان نور الدین زنگیؒ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی فوج میں شامل افراد میں اکثریت آپؒ کے مدرسہ کے طلبہ کی تھی، جو نہ صرف متعبد بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگر انسان اپنی طبعی عادات کو چھوڑ کر شریعت کی طرف رجوع کرے تو یہی اطاعتِ الٰہی ہے، اور طریقت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔” اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "وما اتکم الرسول فخذوه وما نھکم عنه فانتھوا” (الحشر) ترجمہ: "جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو، اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔” اتباعِ رسول ﷺ اللہ کی اطاعت ہے، اور دل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت باقی رکھنا ضروری ہے۔
آٹھویں صدی کے مشہور محدث، مجدد حضرت علامہ ابن حجر عسقلانیؒ نے لکھا ہے کہ آپؒ کی مجالس میں ستر ہزار کا مجمع ہوتا اور ہر صف میں بیٹھے افراد ایک جیسی آواز سنتے۔ علامہ ابن جوزیؒ جیسے محدثین بھی آپؒ کی مجلس میں فیض حاصل کرتے تھے۔ ایک مجلس میں آپؒ نے قرآن کی ایک آیت کی چالیس تفسیریں بیان کیں، جن میں سے پہلی گیارہ علامہ ابن جوزیؒ کو معلوم تھیں، باقی انتیس نئی تھیں، جس پر وہ وجد میں آ گئے۔
پادشاہ مشائخؒ روحانی علوم کے حامل، عارف باللہ، باکمال صوفی، سنت رسول ﷺ کے پابند، فقہ و حدیث کے استاد، مفتی، مصنف اور مبلغ تھے۔ ہمیں ان کے علمی و روحانی کارناموں کو یاد رکھنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں ان سے ترغیب حاصل کریں۔
آپؒ کی تعلیمات میں اتباعِ سنت کی بارہا تاکید موجود ہے۔ الفتح الربانی میں ذکر ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی پیروی نہیں کرتا، وہ اللہ کی بارگاہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایمان اقرار اور عمل کا تقاضا ہے کہ انسان احکام الٰہیہ کی تعمیل کرے، صبر و اخلاص کے ساتھ عمل کرے، اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے۔
گیارہ ربیع الثانی کو یوم وصال حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ منایا جاتا ہے۔ ان مجالس کا مقصد اللہ و رسول ﷺ کا ذکر، اولیاء اللہ کی سیرت اور تعلیمات، تزکیہ نفس، خدمت خلق اور اعلیٰ اخلاق کے کارناموں کو لوگوں تک پہنچانا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلیں اور عظمت کا سفر جاری رہے۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا مرتبہ اللہ کی بارگاہ میں بہت بلند ہے اور وہ بلا شبہ روئے زمین کے تمام اولیاء اللہ کے سردار ہیں۔ ان کی کتابیں، جیسے الفتح الربانی، الفیض الرحمانی، غنیتہ الطالبین، فتوح الغیب، جلاء الخاطر، تصوف و روحانیت میں علمی و روحانی خزانے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آپؒ 91 سال کی عمر شریف میں گیارہ ربیع الثانی 561ھ بمطابق 1165ء کو وصال پذیر ہوئے۔ ان کا آسان عالیہ آج بھی زیارت گاہ ہے، جہاں لوگ عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے اور فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں توحید، اتباع سنت، اور اولیاء کاملین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں حق کہنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور وادی کشمیر کے تمام لوگوں کو ہر پریشانی اور مصیبت سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین۔


