غزل:میر شہریار

میر شہریار

کیا ہے کمرے کے باہر نہیں معلوم
باغ، دشت، سمندر نہیں معلوم
آتا ہے دلِ آوارہ سرِ صبح
ہوتا ہے کہاں شب بھر نہیں معلوم
پوجتا ہوں شب و روز جسے میں
وہ خدا ہے کہ کافَر نہیں معلوم
وہ ازل سے ہی خاموش پڑا ہے
کون ہے مرے اندر نہیں معلوم
چھایا جس کا فسوں چاروں طرف ہے
ہے کہاں وہ فسوں گر نہیں معلوم
چاروں اور تھیں دیواریں مگر آج
یہ کہاں سے کھلا در نہیں معلوم
میں کہانی کا منظر ہوں عیاں ہوں
ہاں مگر پسِ منظر نہیں معلوم
کیسے ہے ہرا اس فصلِ خزاں میں
ایک سروِ صنوبر نہیں معلوم
خود سے بھی تھا میں رم، جانے میں کیسے
آ پڑا ترے در پر نہیں معلوم
ایسی خانہ خرابی سے رفیقو
کب یہ دل ہوا خوگر نہیں معلوم
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

تازہ ترین خبریں

نیتن یاہو کا سیاسی زوال!

اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات نے وزیر اعظم...

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو گروپ کو 53 اور اپوزیشن کو 48 سیٹیں، ٹرمپ نے لیا کریڈٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اسرائیل...

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

غزل:میر شہریار

میر شہریار

کیا ہے کمرے کے باہر نہیں معلوم
باغ، دشت، سمندر نہیں معلوم
آتا ہے دلِ آوارہ سرِ صبح
ہوتا ہے کہاں شب بھر نہیں معلوم
پوجتا ہوں شب و روز جسے میں
وہ خدا ہے کہ کافَر نہیں معلوم
وہ ازل سے ہی خاموش پڑا ہے
کون ہے مرے اندر نہیں معلوم
چھایا جس کا فسوں چاروں طرف ہے
ہے کہاں وہ فسوں گر نہیں معلوم
چاروں اور تھیں دیواریں مگر آج
یہ کہاں سے کھلا در نہیں معلوم
میں کہانی کا منظر ہوں عیاں ہوں
ہاں مگر پسِ منظر نہیں معلوم
کیسے ہے ہرا اس فصلِ خزاں میں
ایک سروِ صنوبر نہیں معلوم
خود سے بھی تھا میں رم، جانے میں کیسے
آ پڑا ترے در پر نہیں معلوم
ایسی خانہ خرابی سے رفیقو
کب یہ دل ہوا خوگر نہیں معلوم
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون