گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر انسانیت دشمنی کی بدترین مثال قائم کی جب اس نے امدادی سامان لے جانے والے کشتیوں کو روک دیا۔ یہ کشتیاں نہ اسلحہ لے جا رہی تھیں، نہ بارود، بلکہ محصور اور مظلوم فلسطینی عوام کےلئے دوائی، غذا اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں لے جا رہی تھیں۔ لیکن اسرائیل نے انہیں بھی "خطرہ” قرار دے کر روک دیا۔ یہی دراصل حقیقی دہشت گردی ہے وہ دہشت گردی جس کی جڑیں ریاستی طاقت میں پیوست ہیں اور جسے عالمی ادارے دیکھ کر بھی انجان بنے بیٹھے ہیں۔
اسرائیل کی یہ روش محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جاری جنگ کا حصہ ہے۔ بھوک اور بیماری سے دوچار عوام تک امداد پہنچنے نہ دینا کسی بھی عالمی ضابطے اور انسانی ضمیر کے منافی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اور وہ ممالک جو انسانی حقوق کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ خاموشی اور بے حسی دراصل دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہاں گریٹا تھنبرگ کی مثال یاد آتی ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کر کے دنیا کو جھنجھوڑتی ہیں۔ وہ بارہا کہہ چکی ہیں کہ "خاموش رہنا جرم ہے۔” اگر ایک کم سن لڑکی زمین کے تحفظ کےلئے اربابِ اقتدار کو للکار سکتی ہے، تو پھر عالمی لیڈران اسرائیل کی کھلی جارحیت پر زبان کیوں بند رکھتے ہیں؟ کیا فلسطینی بچے اور بیمار انسان اس کرۂ ارض کے باسی نہیں؟
عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کی یہ حرکتیں محض فلسطین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ امدادی کشتیوں کو روکنا دراصل انسانیت کو روکنے کے مترادف ہے۔ اگر آج دنیا نے خاموشی اختیار کی تو کل یہ خاموشی ہر ظلم کےلئے جواز بن جائے گی۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ عوامی دباؤ کے ذریعے حکومتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کی دہشت گردانہ پالیسیوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کریں۔ ورنہ تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ جب انسانیت چیخ رہی تھی تو دنیا کے بڑے ممالک اپنی کرسیوں اور مفادات کی حفاظت میں مصروف تھے۔


