بارش و برفباری کی پیشگو، پیشگی تیاری ناگزیر

محکمہ موسمیات نے 4 سے 7 اکتوبر تک جموں و کشمیر میں شدید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ پیشگوئی محض ایک موسمی اطلاع نہیں بلکہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ معمولی بارش نے کس طرح سڑکوں کو دریا بنا دیا، مکانوں کو نقصان پہنچایا اور کسانوں کی فصلیں برباد کر دیں۔ ایسے میں اگر بروقت تیاری نہ کی گئی تو آنے والے دن مزید سنگین نتائج لا سکتے ہیں۔
حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ شہری انتظامیہ، ضلع سطح کے ادارے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام فوری متحرک ہوں۔ ندی نالوں کی نگرانی، نکاسیٔ آب کا نظام، اور ایسے مقامات پر ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی ضروری ہے جہاں زمین کھسکنے یا سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے۔ اسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز کو بھی ہنگامی حالات کے لیے تیار رکھا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، مگر بہتر حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے ذریعے نقصانات کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ عوام کو بھی اپنی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں، مثلاً کمزور ڈھانچوں سے دور رہنا، غیر ضروری سفر نہ کرنا، اور ہیلپ لائن نمبروں کو محفوظ رکھنا۔
وقت کی ضرورت یہی ہے کہ ہم بار بار آنے والی ان آفات سے سبق سیکھیں۔ صرف امداد اور تلافی پر اکتفا کرنے کے بجائے، پیشگی تیاری اور پائیدار منصوبہ بندی ہی وہ راستہ ہے جو جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت محض الرٹ جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

بارش و برفباری کی پیشگو، پیشگی تیاری ناگزیر

محکمہ موسمیات نے 4 سے 7 اکتوبر تک جموں و کشمیر میں شدید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ پیشگوئی محض ایک موسمی اطلاع نہیں بلکہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ معمولی بارش نے کس طرح سڑکوں کو دریا بنا دیا، مکانوں کو نقصان پہنچایا اور کسانوں کی فصلیں برباد کر دیں۔ ایسے میں اگر بروقت تیاری نہ کی گئی تو آنے والے دن مزید سنگین نتائج لا سکتے ہیں۔
حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ شہری انتظامیہ، ضلع سطح کے ادارے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام فوری متحرک ہوں۔ ندی نالوں کی نگرانی، نکاسیٔ آب کا نظام، اور ایسے مقامات پر ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی ضروری ہے جہاں زمین کھسکنے یا سیلاب کا خطرہ زیادہ ہے۔ اسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز کو بھی ہنگامی حالات کے لیے تیار رکھا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، مگر بہتر حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے ذریعے نقصانات کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ عوام کو بھی اپنی سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں، مثلاً کمزور ڈھانچوں سے دور رہنا، غیر ضروری سفر نہ کرنا، اور ہیلپ لائن نمبروں کو محفوظ رکھنا۔
وقت کی ضرورت یہی ہے کہ ہم بار بار آنے والی ان آفات سے سبق سیکھیں۔ صرف امداد اور تلافی پر اکتفا کرنے کے بجائے، پیشگی تیاری اور پائیدار منصوبہ بندی ہی وہ راستہ ہے جو جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت محض الرٹ جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں