غلام غوث
پچھلے 25 سالوں میں امریکہ کے کتب خانوں میں سیاستدانوں، ملٹری افسروں اور دوسرے لوگوں کی حالاتِ حاضرہ پر لکھی ہوئی امریکیوں، اسرائیلیوں اور یوروپینوں کی کتابوں کا مطالعہ کرنے اور ان کے خیالات پر غور و خوض کرنے کے بعد میں نے عرب-اسرائیلی مسئلے کے سلسلے میں کچھ مشورے دیے تھے۔ یہ مشورے میں نے ایران، مصر، ترکی، ملک شام اور ہندوستانی اخبارات کو روانہ کیے۔ ساتھ ہی جن عربوں کے ای میل اور فون تھے، انہیں بھی اپنے مضامین اور مشورے روانہ کیے۔ یہ سلسلہ میں نے اب تک جاری رکھا ہوا ہے۔
17.5.2025 کے سالار اخبار اور چند دوسرے اخباروں میں یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ قطر کے شہر دوحہ میں مسلم ممالک کی میٹنگ میں مصر کے نمائندے نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلم ممالک کو امریکہ اور یورپ کے دفاعی نظام ناسو جیسا (NATO جیسا) ایک دفاعی نظام بنانا چاہیے۔ مصر کا مشورہ ہے کہ مسلم ممالک متحد ہو کر ایک مشترکہ فوجی قوت (Joint Armed Force) بنائیں جو کسی بھی مسلم ملک پر حملے کو سب پر حملہ تصور کرے۔ ان ملکوں کو چاہیے کہ وہ Middle East Treaty Organization (METO) بنائیں اور پاکستان کے بجائے ایران کے ساتھ مل کر نیوکلیئر دفاعی نظام کا حصہ بنیں۔ ایک پر حملہ — تمام پر حملہ تصور کیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ ایران کو ساتھ لے کر تمام عرب ممالک METO بنائیں اور اگر یہ مشکل ہو تو ایران، مصر، ملک شام اور یمن کا ایک NATO کی طرز پر ملٹری نظام بنایا جائے اور ایران کو چاہیے کہ NATO کی طرح اپنے کچھ نیوکلیئر ہتھیار مصر، شام اور یمن میں رکھے۔
یہ کہنا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا ملٹری اتحاد NATO جیسا ہے، غلط ہے کیونکہ NATO میں 31 ممالک ممبر ہیں۔ ہاں، اگر 28 عرب ممالک ایران کے ساتھ مل کر اتحاد بناتے ہیں تو اسے NATO جیسا کہا جا سکتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ کئی امریکی سیاستدانوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ امریکہ کی نہ دوستی اچھی اور فائدہ مند ہے اور نہ ہی اس کی دشمنی۔ امریکہ اپنے مفاد کے لیے ہر کسی کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ قطر پر اسرائیل کا حملہ اس کی ایک مثال ہے۔
دوسرا میرا بتایا ہوا حربہ یہ تھا کہ عرب ممالک اپنی تمام تجارت امریکی کرنسی (ڈالر) کے بدلے دوسری کرنسی استعمال کرنے کی دھمکی دیں۔ سننے میں آیا ہے کہ سعودی عرب نے یہ دھمکی امریکہ کو دے دی ہے۔ اب تیسری اہم دھمکی یہ دینا ہے کہ تمام مسلم ممالک اقوامِ متحدہ سے نکل جائیں گے اور خود اپنا الگ مسلم اقوامِ متحدہ بنائیں گے۔ اس سے یورپ اور امریکہ دونوں لرز اٹھیں گے اور کبھی نہیں چاہیں گے کہ اقوامِ متحدہ صرف 153 ممالک کا ادارہ بن کر رہ جائے۔ ایک دھمکی یہ بھی دینا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک اپنے عرب ممالک میں موجود فوجی اڈے خالی کر دیں کیونکہ ان کی موجودگی عرب ممالک کی حفاظت کی ضمانت ثابت نہیں ہوئی۔ یہ بات کہ قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس پر بمباری کر دی، اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کی موجودگی عرب ممالک کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ امریکہ اپنے فوجی اڈے سے اس اسرائیلی حملے کو روکتا اور جوابی حملہ کرتا اور اسرائیلی ائرفرافٹ کو مار گراتا۔ یا قطر اتنا طاقتور ہوتا کہ اس کے ریڈار اس حملے کا پتہ لگا لیتے اور جوابی کارروائی کرتے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کسی کے پاس کتنی زیادہ دولت کیوں نہ ہو، جب تک وہ ملٹری لحاظ سے طاقتور نہیں ہوتا وہ ہمیشہ مار کھاتا رہے گا۔
قطر کے کم عقل اور بزدل حکمران اب عالمی فوجداری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ اسرائیل اس کے فیصلے کو بھی اپنی ٹھوکر میں اڑا دے گا۔ ساری دنیا عربوں کی دولت اور ان کی بزدلی پر طنز کر رہی ہے مگر عربوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ قطر نے حال ہی میں 150 بلین ڈالر کے امریکی ہتھیار خریدے اور اس نے مسٹر ٹرمپ کو ایک قیمتی ائرفرافٹ بھی تحفے میں دیا۔ اس اسرائیلی حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ عرب ممالک امریکہ سے دوستی کریں تو بھی محفوظ نہیں ہیں اور دوستی نہ کریں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔
امریکی صدر کے وزیرِ خارجہ ہنری کیسینجر کا کہنا صحیح ہے: "To be friend of US is fatal” یعنی امریکہ کا دوست ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے میں عرب ممالک کا ایک الگ دفاعی نظام ہی ان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ یہ بات عربوں کو جتنی جلدی سمجھ میں آ جائے اتنا ہی ان کے لیے اچھا ہے۔ یہی امریکہ اور اسرائیل کو دو ریاستی حل منوا دینے کا ذریعہ ہے۔ اگر اس پر عمل ہوا تو عرب ممالک بغیر جنگ لڑے اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔ امریکہ سے عرب ممالک کی نزدیکی کی وجہ سے روس اور چین ان ممالک کی کھل کر مدد نہیں کر سکتے۔ امریکی عوام تو عربوں کے ساتھ ہیں مگر امریکی حکام عرب ممالک کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔
عرب ممالک پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے اللہ کی طرف سے عربوں کو متحد کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔ اگر اسی طرح اسرائیل دوسرے دو عرب ممالک پر حملہ کرتا ہے تو مارے ڈر کے تمام عرب ممالک متحد ہونے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ ایک اور کام جو عرب ممالک کو کرنا ہے وہ یہ کہ وہ دھمکی دیں کہ وہ اپنی جو جمع شدہ دولت یوروپی بینکوں میں رکھی ہے، وہ اسے نکال کر چین، ہندوستان اور افریقی ممالک میں رکھ دیں گے۔ اگر ان مشوروں پر عمل ہوا تو مغربی ممالک لڑکھڑا جائیں گے اور عربوں کے مطالبات منظور کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہاں میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمان اسے پسند نہیں کریں گے: ہمیں اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی ہمت کی ضرور تعریف کرنی چاہیے کہ اس نے دنیا کے ممالک کے مشوروں کو نظر انداز کر دیا اور انہیں بتا دیا کہ وہ ساری دنیا کو اپنی ٹھوکر پر رکھتا ہے۔ اسے کہتے ہیں دلیری، جو کسی بھی عرب حکمران میں نہیں ہے۔ اگر نتن یاہو عرب حکمرانوں کی جگہ ہوتا تو وہ کب کا اسرائیل کے چھکے چھڑا دیا ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار بھی استعمال کر چکا ہوتا۔ ساری دنیا کے ممالک مل کر بھی چھوٹے سے اسرائیل کو جھکا نہیں پا رہے ہیں۔ واقعی وہ ظالم ہونے کے باوجود قابلِ توجہ ہے۔ کاش اس جیسی صلاحیت کسی ایک مسلم حکمران میں ہوتی۔
ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ حماس نے اپنی جنگی بے سروسامانی کے باوجود اسرائیل پر حملہ کیوں کیا؟ اصل میں یہ حملہ حماس کے اندر موجود اسرائیلی ایجنٹوں نے کروایا۔ یہ اس لیے کہ اسرائیل کو موقع ملے کہ وہ حماس کا خاتمہ کرے اور فلسطینیوں کو غزہ سے بھگا دے۔ اب جو بھی ہو رہا ہے وہ سب اسرائیل کے خیال کے مطابق ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے ظلم و ستم کے باعث ایک کام یہ ہوا کہ اسرائیل دنیا بھر میں ایک ظالم ملک کے طور پر بدنام ہو گیا اور کئی ممالک (153) نے فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر قبول کر لیا۔ ساری دنیا اسرائیل کو مجبور کرنے میں اس لیے ناکام ہے کیونکہ وہ نیوکلیئر پاور ہے اور اگر اس کی بقا کو خطرہ ہوا تو وہ اپنے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرے گا جس سے آدھی دنیا تباہ ہو جائے گی۔ عرب ممالک نے نیوکلیئر نہ بنا کر بیوقوفی کی۔ کتنی بےوقوفی کی بات ہے کہ اسرائیل لاکھوں کو مروانے کے لیے تیار ہے اور جنگی حالت میں رہنے کو تیار ہے مگر زمین کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر حکومت کرنے، فللسطینی ریاست قائم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے ملٹری اتحاد کے سبب اب ہندوستان کو اپنی فارن پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی ہو گی اور سوچنا ہو گا کہ کیا چین اور پاکستان سے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ٹھیک ہے یا کئی اور برس حالتِ جنگ میں رہنا ٹھیک ہے۔ جذبات اور انا سے کام لینا ہر ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔


