پاکستان کا کشمیری راگ

ڈاکٹر شجاعت علی قادری

 

کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستان کے کسی وزیرِاعظم نے یا ان کی غیرموجودگی میں کسی نمائندے نےاقوام متحدہ میں کشمیر کا ذکر نہ کیا ہو؟ ہمیشہ وہی تکبرانہ لہجہ: ہم غلط نہیں ہو سکتے، چاہے تاریخ گواہ کیوں نہ ہو۔

26 ستمبر کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے پھر وہی پرانا کشمیری نعرہ لگایا اور فخر سے کہا کہ یہ تقریر وہ ایک سال پہلے بھی کر چکے ہیں حالانکہ کسی کو یاد بھی نہ ہوگی۔ شریف نے 1948 کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حوالہ دیا، مگر یہ بھول گئے کہ اس سے پہلے قبائلی یلغار میں کشمیری عوام نے کیا کچھ برداشت کیا۔ جیسا کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی خودنوشت ولر کنارے میں لکھا ہے، پاکستانی قبائلی سرداروں نے مقامی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کشمیری عورتوں کی بے حرمتی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلے۔

یہ دہشت گردی ہی ہمیشہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ مولانا روم نے کہا تھا: “جب یہ پردہ ہٹے گا تو راستہ نظر آئے گا۔” تقسیم کے بعد بھارت نے رابطے کبھی بند نہ کیے، اسی لیے 1965 تک دونوں ممالک میں خاندانی اور تجارتی تعلقات قائم رہے۔ مگر 1965 میں پاکستان نے بھارت پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ابھی چین جنگ کے زخم سہلا رہا تھا۔ اس جارحیت نے، جیسا کہ ایم جے اکبر لکھتے ہیں، عوامی نفسیات بدل دی اور تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

اپنی تقریر میں شریف نے کشمیر کو غزہ سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر کوئی معتبر شہادت یا رپورٹ پیش نہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلگام کے سانحے کے باوجود کشمیر میں سیاحت عروج پر ہے۔ کشمیری عوام کی شکایات وہی ہیں جو باقی ہندوستانیوں کو حکمرانی کے نظام سے ہیں، جو ایک مضبوط جمہوریت کی علامت ہے۔

پاکستان کی پالیسی ہمیشہ موقع پرستی پر مبنی رہی۔ قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی کئی حکومتیں واشنگٹن کے اشارے پر بدلی گئیں۔ اسی طرح فلسطینی قتلِ عام پر بھی اکثر خاموشی اختیار کی گئی۔

ایم جے اکبر کے مطابق پاکستان نے امریکی طیاروں کو ایران کے خلاف اپنے فضائی اڈے دیے، جس کے بعد اس کی پالیسی پر کوئی پردہ باقی نہیں رہتا۔

پاکستانی حکمرانوں کی ایک اور روایت قرآن کے حوالے دینا ہے۔ شریف نے بھی طویل آیت سے تقریر شروع کی اور “بنیان المرصوص” کا حوالہ دیا، مگر تلفظ تک درست نہ کر سکے۔ جناح کے سوا تقریباً سبھی حکمران یہ حربہ استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ خود کو حق پر ظاہر کریں۔ لیکن قرآن کسی قوم یا فرد کا طرفدار نہیں، اس کا معیار صرف عدل، کردار کی بلندی اور ظلم سے اجتناب ہے۔ جو قوم یہ اوصاف اپنائے گی وہی کامیاب ہوگی۔ پاکستان کو یہ حقیقت جلد سمجھنی ہوگی، تبھی وہ واقعی “پاک” بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

پاکستان کا کشمیری راگ

ڈاکٹر شجاعت علی قادری

 

کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستان کے کسی وزیرِاعظم نے یا ان کی غیرموجودگی میں کسی نمائندے نےاقوام متحدہ میں کشمیر کا ذکر نہ کیا ہو؟ ہمیشہ وہی تکبرانہ لہجہ: ہم غلط نہیں ہو سکتے، چاہے تاریخ گواہ کیوں نہ ہو۔

26 ستمبر کو وزیرِاعظم شہباز شریف نے پھر وہی پرانا کشمیری نعرہ لگایا اور فخر سے کہا کہ یہ تقریر وہ ایک سال پہلے بھی کر چکے ہیں حالانکہ کسی کو یاد بھی نہ ہوگی۔ شریف نے 1948 کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حوالہ دیا، مگر یہ بھول گئے کہ اس سے پہلے قبائلی یلغار میں کشمیری عوام نے کیا کچھ برداشت کیا۔ جیسا کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی خودنوشت ولر کنارے میں لکھا ہے، پاکستانی قبائلی سرداروں نے مقامی سیاستدانوں کے ساتھ مل کر کشمیری عورتوں کی بے حرمتی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلے۔

یہ دہشت گردی ہی ہمیشہ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ مولانا روم نے کہا تھا: “جب یہ پردہ ہٹے گا تو راستہ نظر آئے گا۔” تقسیم کے بعد بھارت نے رابطے کبھی بند نہ کیے، اسی لیے 1965 تک دونوں ممالک میں خاندانی اور تجارتی تعلقات قائم رہے۔ مگر 1965 میں پاکستان نے بھارت پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ابھی چین جنگ کے زخم سہلا رہا تھا۔ اس جارحیت نے، جیسا کہ ایم جے اکبر لکھتے ہیں، عوامی نفسیات بدل دی اور تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

اپنی تقریر میں شریف نے کشمیر کو غزہ سے جوڑنے کی کوشش کی، مگر کوئی معتبر شہادت یا رپورٹ پیش نہ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلگام کے سانحے کے باوجود کشمیر میں سیاحت عروج پر ہے۔ کشمیری عوام کی شکایات وہی ہیں جو باقی ہندوستانیوں کو حکمرانی کے نظام سے ہیں، جو ایک مضبوط جمہوریت کی علامت ہے۔

پاکستان کی پالیسی ہمیشہ موقع پرستی پر مبنی رہی۔ قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی کئی حکومتیں واشنگٹن کے اشارے پر بدلی گئیں۔ اسی طرح فلسطینی قتلِ عام پر بھی اکثر خاموشی اختیار کی گئی۔

ایم جے اکبر کے مطابق پاکستان نے امریکی طیاروں کو ایران کے خلاف اپنے فضائی اڈے دیے، جس کے بعد اس کی پالیسی پر کوئی پردہ باقی نہیں رہتا۔

پاکستانی حکمرانوں کی ایک اور روایت قرآن کے حوالے دینا ہے۔ شریف نے بھی طویل آیت سے تقریر شروع کی اور “بنیان المرصوص” کا حوالہ دیا، مگر تلفظ تک درست نہ کر سکے۔ جناح کے سوا تقریباً سبھی حکمران یہ حربہ استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ خود کو حق پر ظاہر کریں۔ لیکن قرآن کسی قوم یا فرد کا طرفدار نہیں، اس کا معیار صرف عدل، کردار کی بلندی اور ظلم سے اجتناب ہے۔ جو قوم یہ اوصاف اپنائے گی وہی کامیاب ہوگی۔ پاکستان کو یہ حقیقت جلد سمجھنی ہوگی، تبھی وہ واقعی “پاک” بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں