جنگ نیوز ڈیسک
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج نئی دلّی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس )کی صدسالہ تقریبات سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر مودی نے نوراتری کے موقع پر تمام شہریوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج مہا نو می اوردیوی سدھی دھاتری کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل وِجے دشمی کا بڑا تہوار ہے، جو بھارتی ثقافت کی بدی پر نیکی ، جھوٹ پر سچ اور تاریکی پرروشنی کی فتح کے ابدی پیغام کی علامت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجاگر کیا کہ اس پوتر موقع پر، ایک صدی قبل راشٹریہ سویم سیوک سَنگھ کا قیام عمل آیا اور یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ ہزاروں سال پر محیط قدیم روایت کی بحالی کا موقع تھا، جس میں قومی شعور ، ہر دور کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس دور میں سنگھ اسی ابدی قومی شعور کی ایک زندہ مثال ہے۔
مودی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ موجودہ نسل کے سویم سیوکوں کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے صدسالہ جشن کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے قومی خدمت کے عزم کے لیے خود کو وقف کرنے والے بے شمار سویم سیوکوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور سنگھ کے بانی اور قابلِ احترام مثالی شخصیت، ڈاکٹر ہیڈ گیوارکوخراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ سَنگھ کے شاندار 100 سالہ سفر کی یاد میں ، حکومتِ ہند نے ایک خاص ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکّہ جاری کیا ہے۔ 100 روپے کے سکّے کے ایک رُخ پر قومی نشان ، جب کہ دوسرے رُخ پر بھارت ماتا کی پُر وقار شبیہ ورَد مُدرا میں، ایک شیر کے ساتھ نمایاں ہے، جسے سویم سیوک سلامی دے رہے ہیں۔ مودی نے اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شاید یہ آزاد بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ بھارتی کرنسی پر بھارت ماتا کی تصویر والے یادگاری سکّے اور سنگھ کے رہنما منتر کی نقاشی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 1963 میں آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے یوم جمہوریہ پریڈ میں حب الوطنی کی دھنوں کے ساتھ قدم ملائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جاری کردہ ڈاک ٹکٹ اور سکّے سنگھ کی قومی خدمت اور لگن کے استعارے ہیں۔وزیر اعظم نے سنگھ کو ایک دریا سے تشبیہ دی جو اپنی شاخوں کے ذریعے مختلف شعبوں کو سیراب کرتا ہے۔ تعلیم، زراعت، سماجی فلاح، خواتین بااختیاری اور قبائلی ترقی میں سنگھ کی وابستہ تنظیموں کی خدمات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شاکھا کا مقصد ایک ہی ہے: ‘‘ملک مقدم’’۔ڈاکٹر ہیڈگیوار کے نظریات اور کردار سازی کے عمل کو بیان کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ عام افراد کو تربیت دے کر سنگھ نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ شاکھاؤں کو انہوں نے ‘‘پوِتر مقام’’ قرار دیا جہاں فرد ‘‘میں’’ سے ‘‘ہم’’ کی طرف بڑھتا ہے۔وزیر اعظم نے بتایا کہ سنگھ کا سفر تین ستونوں پر قائم ہے: قومی تعمیر کا وژن، فرد کی ترقی کا راستہ اور شاکھاؤں کا عملی ڈھانچہ۔ انہوں نے آزادی کی تحریک، حیدرآباد، گوا اور دادر و نگر حویلی کی تحریکوں میں سنگھ کی قربانیوں کو یاد کیا۔ ساتھ ہی گروجی کی برداشت، ایمرجنسی کے دوران عزم اور تقسیم ہند کے بعد ریلیف کاموں کی مثالیں دیں۔مودی نے قبائلی علاقوں میں سنگھ کے کام کو نمایاں کیا اور کہا کہ سیوا بھارتی، ودیا بھارتی اور ونواسی کلیان آشرم جیسی تنظیمیں قبائلی بااختیار بنانے کا ستون بنی ہیں۔ سماجی ہم آہنگی اور چھواچھوت کے خلاف سنگھ کی جدوجہد کو انہوں نے گاندھی جی کے تائیدی بیان کے ساتھ یاد کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ چیلنجز میں آبادیاتی ہیرا پھیری، دراندازی اور علیحدگی پسند رجحانات شامل ہیں جن کا مقابلہ سنگھ اور حکومت دونوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے سنگھ کی پانچ قراردادوں — خود آگاہی، سماجی ہم آہنگی، خاندانی روشن خیالی، شہری نظم و ضبط اور ماحولیاتی شعور — کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور سودیشی اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ 2047 تک ہندوستان فلسفہ، سائنس، سماجی ہم آہنگی اور خود اعتمادی پر مبنی ایک عظیم قوم ہوگا۔ سنگھ کا مقصد عوامی خدمت کو ہر دل میں بیدار کرنا اور ہندوستانی سماج کو عالمی سطح پر باوقار بنانا ہے۔
ہیڈگیوار کو بھارت رتن دینے کا مطالبہ
بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر جمال صدیقی نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو خط لکھ کر آر ایس ایس کے بانی اور آزادی پسند ڈاکٹر کیشو بلیرام ہیڈگیوار کو بعد از مرگ بھارت رتن دینے کی درخواست کی ہے۔
خط میں صدیقی نے ہیڈگیوار کی خدمات، آزادی کی جدوجہد میں ان کی شرکت، 1925 میں آر ایس ایس کی بنیاد رکھنے اور قوم سازی کے لیے ان کے وژن کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف ہیڈگیوار کی قربانی کو تسلیم کرے گا بلکہ ان تمام رضاکاروں کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا جو قومی خدمت میں سرگرم ہیں۔


