جنگ وئب ڈیسک
دنیا بھر میں معروف مصلحِ اسلام انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف الزامات کی فہرست میں انسدادِ الیکٹرانک جرائم (پیکا) ایکٹ کی مزید دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ الزامات ایک وائرل ویڈیو سے متعلق ہیں جس میں موصوف نے اپنے ایک آن لائن درس کے دوران مبینہ طور پر متنازع مذہبی گفتگو کی تھی۔
نئے الزامات میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-اے (مذہبی جذبات مجروح کرنا)، دفعہ 298 (مذہبی احساسات کو ٹھیس پہنچانا) اور دفعہ 298-اے (اہلِ بیت یا صحابہ کرامؓ کے خلاف توہین آمیز کلمات) شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستان میں توہینِ مذہب اور سائبر قوانین کو یکجا کر کے استعمال کیا گیا ہو۔ حال ہی میں ایک یوٹیوبر رجب بھٹ پر بھی انہی دفعات کے تحت مقدمہ قائم ہوا جب اُس نے ایک خوشبو کا نام "295” رکھا، جسے توہین آمیز تصور کیا گیا۔
انجینئر مرزا جو عالمِ اسلام میں ایک جری مصلح کے طور پر جانے جاتے ہیں، بدعات و خرافات کے رد اور من گھڑت حکایات کے انکشاف کے باعث عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے لاکھوں متبعین دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں اور وہ کئی قاتلانہ حملوں سے محفوظ رہ چکے ہیں۔
25 اگست کو مرزا کو دفعہ 3، آرڈیننس برائے تحفظِ امنِ عامہ (ایم پی او) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا تاکہ کسی ممکنہ بدامنی کو روکا جا سکے۔ اسی دوران جہلم میں قائم ان کی "قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی” کو بھی مقامی انتظامیہ نے امنِ عامہ کے خدشات کے تحت سیل کر دیا۔ بعد ازاں انہیں احتیاطی طور پر ضلعی جیل منتقل کیا گیا۔
سرکاری دستاویزات اور ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق 26 اگست کو جہلم سٹی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-سی بھی شامل ہے، جو گستاخیِ رسول ﷺ پر سزائے موت یا عمر قید کی سزا تجویز کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہیں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 11 کے تحت بھی ماخوذ کیا گیا ہے، جو نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے انسداد سے متعلق ہے۔
7 ستمبر تک مرزا پر باقاعدہ توہینِ رسالت کے تحت مقدمہ قائم ہو چکا ہے، الزام ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں گستاخانہ کلمات کہے اور قرآنی آیات کی غلط تشریح کی۔ حکام کے مطابق انہیں جہلم ضلعی جیل سے حافظ آباد جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق پولیس نے مرزا کی کرایہ پر لی گئی اکیڈمی، جو عام طور پر "دارالارقم” کے نام سے معروف ہے، سے فرنیچر اور ریکارڈنگ کا سامان بھی ضبط کر لیا ہے۔
دریں اثناء مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور یوٹیوبرز نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادیِ اظہار پر قدغن ہے۔ دوسری طرف بعض عناصر، مبینہ طور پر مخصوص حلقوں کے اشارے پر، ان کی رہائی کی جھوٹی خبریں پھیلا کر عوامی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


