سپریم کورٹ کا ہمالیائی خطے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر تشویش

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہماچل پردیش میں حالیہ سیلاب کے دوران پانی میں بہتے ہوئے لکڑی کے گٹھوں کی خبروں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیائی خطے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی بڑے پیمانے پر جاری معلوم ہوتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے صرف ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ شمالی پٹی کے نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام شدید دباؤ میں ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا بی۔ آر۔ گوائی اور جسٹس کے۔ وِنود چندرن پر مشتمل بنچ ہمالیہ میں ماحولیاتی تباہی سے متعلق ایک عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کر رہا تھا۔ ججوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کے بڑھتے واقعات نے پہاڑی ریاستوں کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔
بنچ نے کہا: "سیلاب میں بڑی تعداد میں لکڑی کے گٹھے بہہ رہے تھے۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ پہاڑوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی ہو رہی ہے۔”
ایک ماہر ماحولیات نے عدالت کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں جموں و کشمیر کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف ہماچل تک محدود نہیں۔ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر میں بھی جنگلات کی کٹائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً شمالی کشمیر اور پیر پنجال رینج میں جہاں مقامی آبادی اور کارکنان بارہا لکڑی کی اسمگلنگ پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر بھی بار بار اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے جیسے مسائل کا سامنا کرتا ہے، اس لیے عدالت کی مداخلت سے جنگلات کے تحفظ کے اقدامات پر سخت نگرانی ممکن ہو سکتی ہے۔
بنچ نے مرکز کو بھی نوٹس جاری کیا ہے، جن میں وزارت ماحولیات، وزارت جل شکتی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا، اور ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر کی حکومتیں شامل ہیں۔
چیف جسٹس گوائی نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے مخاطب ہو کر کہا: "یہ سنگین مسئلہ ہے۔ میڈیا میں ہم نے دیکھا کہ ہماچل اور اتراکھنڈ میں بڑی تعداد میں لکڑی کے گٹھے بہہ رہے تھے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے۔”
سالیسٹر جنرل نے بنچ کو یقین دلایا کہ وہ وزارت ماحولیات سے کہیں گے کہ فوراً ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کرے۔
درخواست گزار کے وکیل نے بھی ہمالیائی خطے میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے خطرات کی نشاندہی کی، اور چندی گڑھ۔ منالی راستے پر بننے والی سرنگوں کا حوالہ دیا جو لینڈ سلائیڈ کے دوران "موت کے پھندے” میں بدل جاتی ہیں۔
انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس میں تقریباً 300 افراد ایک ایسی ہی سرنگ کے اندر پھنس گئے تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

سپریم کورٹ کا ہمالیائی خطے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر تشویش

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی/سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہماچل پردیش میں حالیہ سیلاب کے دوران پانی میں بہتے ہوئے لکڑی کے گٹھوں کی خبروں پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیائی خطے میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی بڑے پیمانے پر جاری معلوم ہوتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے صرف ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ ہی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ شمالی پٹی کے نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام شدید دباؤ میں ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا بی۔ آر۔ گوائی اور جسٹس کے۔ وِنود چندرن پر مشتمل بنچ ہمالیہ میں ماحولیاتی تباہی سے متعلق ایک عوامی مفاد کی عرضی کی سماعت کر رہا تھا۔ ججوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کے بڑھتے واقعات نے پہاڑی ریاستوں کی کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے۔
بنچ نے کہا: "سیلاب میں بڑی تعداد میں لکڑی کے گٹھے بہہ رہے تھے۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ پہاڑوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی ہو رہی ہے۔”
ایک ماہر ماحولیات نے عدالت کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس میں جموں و کشمیر کو شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف ہماچل تک محدود نہیں۔ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر میں بھی جنگلات کی کٹائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً شمالی کشمیر اور پیر پنجال رینج میں جہاں مقامی آبادی اور کارکنان بارہا لکڑی کی اسمگلنگ پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر بھی بار بار اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے جیسے مسائل کا سامنا کرتا ہے، اس لیے عدالت کی مداخلت سے جنگلات کے تحفظ کے اقدامات پر سخت نگرانی ممکن ہو سکتی ہے۔
بنچ نے مرکز کو بھی نوٹس جاری کیا ہے، جن میں وزارت ماحولیات، وزارت جل شکتی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا، اور ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر کی حکومتیں شامل ہیں۔
چیف جسٹس گوائی نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے مخاطب ہو کر کہا: "یہ سنگین مسئلہ ہے۔ میڈیا میں ہم نے دیکھا کہ ہماچل اور اتراکھنڈ میں بڑی تعداد میں لکڑی کے گٹھے بہہ رہے تھے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے۔”
سالیسٹر جنرل نے بنچ کو یقین دلایا کہ وہ وزارت ماحولیات سے کہیں گے کہ فوراً ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کرے۔
درخواست گزار کے وکیل نے بھی ہمالیائی خطے میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے خطرات کی نشاندہی کی، اور چندی گڑھ۔ منالی راستے پر بننے والی سرنگوں کا حوالہ دیا جو لینڈ سلائیڈ کے دوران "موت کے پھندے” میں بدل جاتی ہیں۔
انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس میں تقریباً 300 افراد ایک ایسی ہی سرنگ کے اندر پھنس گئے تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں