سرینگر میں تاریخی درگاہ حضرت بل کی شاندار تزئین و آرائش کے بعد افتتاح

بلال بشیر بٹ
سرینگر جنگ 
کشمیر کی روحانی متاع درگاہِ حضرت بل جسے حضورِ اکرم ﷺ کے مقدس موئے مبارک کی نسبت سے عالمِ اسلام میں غیر معمولی تقدیس حاصل ہے، بدھ کے روز اپنی عظیم الشان تزئین و آرائش کے بعد ازسرِ نو جلوہ گر ہوئی۔ اس بابرکت منصوبے کی قیادت جموں و کشمیر وقف بورڈ نے کی جب کہ اس کا افتتاح چیئرپرسن ڈاکٹر سیدہ درخشاں اندرابی نے مذہبی شخصیا ت و معزز شخصیات کی موجودگی میں انجام دیا۔

یہ تجدیدی منصوبہ جو گزشتہ برس سے جاری تھا، درگاہ کی داخلی عمارت کے استحکام و جمال پر مرکوز رہا۔ مقامی روایتی فنون جیسےختمبند، پیپر ماشی، پنجرہ کاری، خطاطی اور شیشہ گری سے در و دیوار کو سنوارا گیا، جب کہ جدید سہولیات میں برقی و صوتی نظام، ایئر کنڈیشننگ، اور حفاظتی آلات شامل کیے گئے۔ سنہری نقوش سے مزین جھاڑ فانوس اور ازسرِ نو تعمیر شدہ نور خانہ اس روحانی مرکز کو مزید جاذبِ نظر بناتے ہیں۔


ڈاکٹر اندرابی نے اس کارنامے کو اپنی دیرینہ آرزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ میلادالنبی ﷺ کی آمد سے قبل اس منصوبے کی تکمیل ان کے لیے سعادتِ عظمیٰ ہے۔ انہوں نے اسے ملک و خطے کی "سب سے حسین و جلیل درگاہ” کا درجہ دیا اور عوام و انتظامیہ کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔

یہ سعید پیش رفت ایسے وقت میں منصۂ شہود پر آئی ہے جب دنیا بھر میں سیدالمرسلین ﷺ کی 1500ویں ولادتِ باسعادت کو عقیدت و محبت کے ساتھ یاد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 

عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں علمی، روحانی اور تہذیبی اجتماعات برپا ہوں گے، اور درگاہ حضرت بل کی یہ تجدیدی رونق اس موقع کو ایک لازوال روحانی جِلا بخشتی ہے۔

افتتاحی تقریب میں اس منصوبے پر مبنی ایک مستند دستاویزی فلم بھی ناظرین کے سامنے پیش کی گئی۔
قابلِ ذکر ہے کہ درگاہ حضرت بل صدیوں سے وادی اور بیرونِ وادی کے ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیضان رہی ہے اور اب یہ تزئین و آرائش کے بعد اپنے جاہ و جلال اور تقدس کے ساتھ ایک نئی روحانی شان کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

درگاہ حضرتبل کا مختصر تاریخی پس منظر
حضرتبل کی بنیاد 17ویں صدی میں پڑی جب شاہجہان کے دور میں اشرف محل کو مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں 1699 میں موئے مقدس یہاں لایا گیا۔ سفید سنگ مرمر کا گنبد فارسی طرزِ تعمیر کا حسین نمونہ ہے، جو کشمیر کے دیگر روایتی ڈھانچوں سے مختلف ہے۔
1968 سے 1979 تک اس درگاہ کی بڑی مرمت ہوئی جبکہ حالیہ برسوں میں جدید انفراسٹرکچر شامل کیا گیا ہے۔ مارچ 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے حضرتبل ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے تحت صوفی مرکز، پارکنگ سہولت، روشنی کے انتظامات، اور جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ زائرین کے لیے سہولت میں اضافہ ہو۔
یہ درگاہ نہ صرف جمعہ کی نماز کا مرکز ہے بلکہ میلاد اور دیگر مواقع پر ہزاروں عقیدت مند یہاں جمع ہوتے ہیں۔ موئے مقدس کی زیارت کے وقت ماحول عشق و عقیدت سے لبریز ہو جاتا ہے۔
درگاہ کے اردگرد چھوٹے پیمانے پر کاروبار اور دستکاریوں نے مقامی معیشت کو نئی جان بخشی ہے۔ کٹھ بادام، نادر مونج، مچھلی کے پکوان اور دیگر کشمیری اشیاء بیچنے والے اسٹال زائرین کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ یوں حضرتبل سیاحت اور روزگار دونوں کا مرکز بن چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

سرینگر میں تاریخی درگاہ حضرت بل کی شاندار تزئین و آرائش کے بعد افتتاح

بلال بشیر بٹ
سرینگر جنگ 
کشمیر کی روحانی متاع درگاہِ حضرت بل جسے حضورِ اکرم ﷺ کے مقدس موئے مبارک کی نسبت سے عالمِ اسلام میں غیر معمولی تقدیس حاصل ہے، بدھ کے روز اپنی عظیم الشان تزئین و آرائش کے بعد ازسرِ نو جلوہ گر ہوئی۔ اس بابرکت منصوبے کی قیادت جموں و کشمیر وقف بورڈ نے کی جب کہ اس کا افتتاح چیئرپرسن ڈاکٹر سیدہ درخشاں اندرابی نے مذہبی شخصیا ت و معزز شخصیات کی موجودگی میں انجام دیا۔

یہ تجدیدی منصوبہ جو گزشتہ برس سے جاری تھا، درگاہ کی داخلی عمارت کے استحکام و جمال پر مرکوز رہا۔ مقامی روایتی فنون جیسےختمبند، پیپر ماشی، پنجرہ کاری، خطاطی اور شیشہ گری سے در و دیوار کو سنوارا گیا، جب کہ جدید سہولیات میں برقی و صوتی نظام، ایئر کنڈیشننگ، اور حفاظتی آلات شامل کیے گئے۔ سنہری نقوش سے مزین جھاڑ فانوس اور ازسرِ نو تعمیر شدہ نور خانہ اس روحانی مرکز کو مزید جاذبِ نظر بناتے ہیں۔


ڈاکٹر اندرابی نے اس کارنامے کو اپنی دیرینہ آرزو قرار دیتے ہوئے کہا کہ میلادالنبی ﷺ کی آمد سے قبل اس منصوبے کی تکمیل ان کے لیے سعادتِ عظمیٰ ہے۔ انہوں نے اسے ملک و خطے کی "سب سے حسین و جلیل درگاہ” کا درجہ دیا اور عوام و انتظامیہ کے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔

یہ سعید پیش رفت ایسے وقت میں منصۂ شہود پر آئی ہے جب دنیا بھر میں سیدالمرسلین ﷺ کی 1500ویں ولادتِ باسعادت کو عقیدت و محبت کے ساتھ یاد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ 

عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں علمی، روحانی اور تہذیبی اجتماعات برپا ہوں گے، اور درگاہ حضرت بل کی یہ تجدیدی رونق اس موقع کو ایک لازوال روحانی جِلا بخشتی ہے۔

افتتاحی تقریب میں اس منصوبے پر مبنی ایک مستند دستاویزی فلم بھی ناظرین کے سامنے پیش کی گئی۔
قابلِ ذکر ہے کہ درگاہ حضرت بل صدیوں سے وادی اور بیرونِ وادی کے ہزاروں عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیضان رہی ہے اور اب یہ تزئین و آرائش کے بعد اپنے جاہ و جلال اور تقدس کے ساتھ ایک نئی روحانی شان کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

درگاہ حضرتبل کا مختصر تاریخی پس منظر
حضرتبل کی بنیاد 17ویں صدی میں پڑی جب شاہجہان کے دور میں اشرف محل کو مسجد میں تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں 1699 میں موئے مقدس یہاں لایا گیا۔ سفید سنگ مرمر کا گنبد فارسی طرزِ تعمیر کا حسین نمونہ ہے، جو کشمیر کے دیگر روایتی ڈھانچوں سے مختلف ہے۔
1968 سے 1979 تک اس درگاہ کی بڑی مرمت ہوئی جبکہ حالیہ برسوں میں جدید انفراسٹرکچر شامل کیا گیا ہے۔ مارچ 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے حضرتبل ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے تحت صوفی مرکز، پارکنگ سہولت، روشنی کے انتظامات، اور جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ زائرین کے لیے سہولت میں اضافہ ہو۔
یہ درگاہ نہ صرف جمعہ کی نماز کا مرکز ہے بلکہ میلاد اور دیگر مواقع پر ہزاروں عقیدت مند یہاں جمع ہوتے ہیں۔ موئے مقدس کی زیارت کے وقت ماحول عشق و عقیدت سے لبریز ہو جاتا ہے۔
درگاہ کے اردگرد چھوٹے پیمانے پر کاروبار اور دستکاریوں نے مقامی معیشت کو نئی جان بخشی ہے۔ کٹھ بادام، نادر مونج، مچھلی کے پکوان اور دیگر کشمیری اشیاء بیچنے والے اسٹال زائرین کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ یوں حضرتبل سیاحت اور روزگار دونوں کا مرکز بن چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں