جنگ نیوز ڈیسک
یمن کی حوثی تحریک نے تصدیق کی ہے کہ اس کے وزیر اعظم احمد غالب ناصر الرہوی رواں ہفتے اسرائیلی فضائی حملے میںشہید ہو گئے۔
ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ نے بتایا کہ جمعرات کو اسرائیلی فضائیہ (IDF) نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حملہ کیا جس میں کئی دیگر اعلیٰ حکام بھی مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے اس وقت بیان میں کہا تھا کہ اس نے صنعا کے علاقے میں ایک "فوجی ہدف” کو نشانہ بنایا ہے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
حوثی تحریک نے کہا کہ الرہوی کے ساتھ کئی وزراء بھی ہلاک ہوئے، لیکن ان کے نام ظاہر نہیں کیے۔ سعودی خبر رساں ویب سائٹ "الحدث” کے مطابق حوثیوں کے وزیر خارجہ، وزیر انصاف، وزیر برائے امورِ نوجوان و کھیل، وزیر برائے سماجی امور و محنت بھی مارے گئے ہیں۔
حوثیوں کے صدر مہدی المشاط کے دفتر نے کہا کہ کئی دیگر وزراء اس حملے میں شدید یا درمیانے درجے کے زخمی ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ محمد احمد مفتاح، نائب وزیر اعظم، عارضی طور پر الرہوی کی جگہ سنبھالیں گے۔
الرہوی اگست 2024 سے اس عہدے پر فائز تھے مگر انہیں زیادہ تر علامتی عہدے کا حامل سمجھا جاتا تھا اور وہ عسکری فیصلوں کے اہم حلقے میں شامل نہیں تھے۔
حوثی تحریک کے اعلیٰ رہنما عبدالملک الحوثی، وزیر دفاع اور چیف آف اسٹاف اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل نہیں ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تازہ پیش رفت پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے آغاز کے بعد سے حوثی عسکریت پسند اسرائیل پر میزائل داغ رہے ہیں اور بحیرہ احمر و خلیج عدن میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی میں ایسا کر رہے ہیں۔ جواباً اسرائیل یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں فضائی حملے کر رہا ہے تاکہ ان حملوں کو روکا جا سکے۔


