کرپٹ ملازمین کی گرفتاری کافی نہیں

جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (ACB) لگاتار کرپٹ بابوؤں کو گرفتار کر رہا ہے ا۔ یہ وہی افسران ہیں جو بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود حرام کمائی سے باز نہیں آتے۔ عوامی خزانے کو لوٹ کر یہ اپنے لیے محلات اور اپنے اہلِ خانہ کیلئے عیش و عشرت کا سامان جمع کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ایسے بابو اصل میں بیک ڈور انٹری اور سفارش کے سہارے نوکریوں پر قابض ہوئے۔ جب بنیاد ہی ناجائز ہو تو پھر دیانت کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ کرپشن جڑ سے ختم نہیں ہو رہی۔
محض گرفتاری یا معطلی حل نہیں۔ قانون کو چاہیے کہ ان کرپٹ افسروں کی جائیدادیں ضبط کرے، ناجائز دولت عوامی خزانے میں واپس لائے اور ایسے افسران کو ملازمت سے فوری طور پر برطرف کرے۔ ان کے اہلِ خانہ جنہوں نے حرام کی کمائی پر زندگی گزاری، ان کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ عوام کو انصاف اور شفاف نظام چاہیے۔ جب تک کرپٹ افسران کے خلاف بے رحمانہ اور عبرتناک کارروائی نہیں ہوگی، بدعنوانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ "زیرو ٹالرینس” پالیسی صرف نعرہ نہ رہے بلکہ عملی شکل اختیار کرے۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

کرپٹ ملازمین کی گرفتاری کافی نہیں

جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (ACB) لگاتار کرپٹ بابوؤں کو گرفتار کر رہا ہے ا۔ یہ وہی افسران ہیں جو بھاری تنخواہیں اور مراعات لینے کے باوجود حرام کمائی سے باز نہیں آتے۔ عوامی خزانے کو لوٹ کر یہ اپنے لیے محلات اور اپنے اہلِ خانہ کیلئے عیش و عشرت کا سامان جمع کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ایسے بابو اصل میں بیک ڈور انٹری اور سفارش کے سہارے نوکریوں پر قابض ہوئے۔ جب بنیاد ہی ناجائز ہو تو پھر دیانت کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ کرپشن جڑ سے ختم نہیں ہو رہی۔
محض گرفتاری یا معطلی حل نہیں۔ قانون کو چاہیے کہ ان کرپٹ افسروں کی جائیدادیں ضبط کرے، ناجائز دولت عوامی خزانے میں واپس لائے اور ایسے افسران کو ملازمت سے فوری طور پر برطرف کرے۔ ان کے اہلِ خانہ جنہوں نے حرام کی کمائی پر زندگی گزاری، ان کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے تاکہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ عوام کو انصاف اور شفاف نظام چاہیے۔ جب تک کرپٹ افسران کے خلاف بے رحمانہ اور عبرتناک کارروائی نہیں ہوگی، بدعنوانی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ "زیرو ٹالرینس” پالیسی صرف نعرہ نہ رہے بلکہ عملی شکل اختیار کرے۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں