وزیر اعلیٰ کا تشویش بجا ، کارروائی لازمی

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وادی کی بار بار آنے والی سیلابی آفات پر بجا طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2014 کے ہولناک سیلاب کے دس برس بعد بھی ہم نے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا؟ کروڑوں کی خطیر رقم کہاں گئی، ڈریجنگ کی صلاحیت کیا بنی، اور کیوں دو دن کی بارش کے بعد ہی خوف و ہراس چھا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر عام شہری کے دل کی آواز ہیں۔تاہم عمر عبداللہ کے یہ بیانات صرف اخباری سرخیوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ ان پر عملی کارروائی اور جواب دہی ہونی چاہیے۔ اگر فنڈز فراہم کیے گئے تھے تو وہ کہاں استعمال ہوئے؟ پائیدار اقدامات کے وعدے کہاں گئے؟
سب سے بڑھ کر یہ کہ عمر عبداللہ کو یہ حقیقت بھی اجاگر کرنی چاہیے کہ پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت نے اپنے دور میں ٹھوس اقدامات نہ کرکے وادی کو بار بار خطرے میں ڈالا۔ ان کی غفلت نے عوام کو سال بہ سال بے سہارا چھوڑ دیا۔
سیاسی بیان بازی سے جانیں نہیں بچتیں۔ عوام کی سلامتی صرف اسی وقت یقینی ہوگی جب سنجیدہ پالیسی، فنڈز کی سخت نگرانی اور سائنسی منصوبہ بندی کی جائے۔ وادی ایک اور 2014 کے متحمل نہیں ہوسکتی۔ عمر عبداللہ کو اب محض تشویش سے آگے بڑھ کر ایک جامع فلڈ مینجمنٹ حکمتِ عملی کیلئے قیادت کرنی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں دو افراد زخمی

بانڈی پورہ، 30 جولائی شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ...

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں دو افراد زخمی

بانڈی پورہ، 30 جولائی شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ...

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

وزیر اعلیٰ کا تشویش بجا ، کارروائی لازمی

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وادی کی بار بار آنے والی سیلابی آفات پر بجا طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 2014 کے ہولناک سیلاب کے دس برس بعد بھی ہم نے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا؟ کروڑوں کی خطیر رقم کہاں گئی، ڈریجنگ کی صلاحیت کیا بنی، اور کیوں دو دن کی بارش کے بعد ہی خوف و ہراس چھا جاتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج ہر عام شہری کے دل کی آواز ہیں۔تاہم عمر عبداللہ کے یہ بیانات صرف اخباری سرخیوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ ان پر عملی کارروائی اور جواب دہی ہونی چاہیے۔ اگر فنڈز فراہم کیے گئے تھے تو وہ کہاں استعمال ہوئے؟ پائیدار اقدامات کے وعدے کہاں گئے؟
سب سے بڑھ کر یہ کہ عمر عبداللہ کو یہ حقیقت بھی اجاگر کرنی چاہیے کہ پی ڈی پی کی قیادت والی حکومت نے اپنے دور میں ٹھوس اقدامات نہ کرکے وادی کو بار بار خطرے میں ڈالا۔ ان کی غفلت نے عوام کو سال بہ سال بے سہارا چھوڑ دیا۔
سیاسی بیان بازی سے جانیں نہیں بچتیں۔ عوام کی سلامتی صرف اسی وقت یقینی ہوگی جب سنجیدہ پالیسی، فنڈز کی سخت نگرانی اور سائنسی منصوبہ بندی کی جائے۔ وادی ایک اور 2014 کے متحمل نہیں ہوسکتی۔ عمر عبداللہ کو اب محض تشویش سے آگے بڑھ کر ایک جامع فلڈ مینجمنٹ حکمتِ عملی کیلئے قیادت کرنی ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں