گیارہ سال بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا

گیارہ برس گزر گئے مگر کشمیر اب بھی اسی خوف اور بے بسی کے عالم میں کھڑا ہے، جس کا سامنا 2014 کے تباہ کن سیلاب کے وقت ہوا تھا۔ حالیہ بارشوں کے بعد جہلم کا پانی ایک بار پھر خطرے کے نشان سے اوپر گیا اور انتظامیہ کو ہنگامی مشورے جاری کرنے پڑے۔ بازاروں میں دکان دار اپنا سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے اور کئی خاندان خوف کے سائے میں گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ یہ مناظر انہی بدنصیب دنوں کی یاد دلاتے ہیں جب وادی کے بڑے حصے پانی میں ڈوب گئے تھے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔
ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ وادی کی زمینی حقیقت مزید نازک ہو گئی ہے۔ جہلم کی گنجائش کم ہو چکی ہے، دلدلی علاقے سکڑ گئے ہیں اور اوسط بارش بھی اب بڑے خطرے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ 2014 میں محکمہ ماحولیات و ریموٹ سینسنگ اور اسرو کی مشترکہ تحقیق نے واضح کیا تھا کہ آئندہ برسوں میں بارشوں کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ نے بروقت متنبہ کیا تھا کہ اگر نکاسیٔ آب کا نظام درست نہ کیا گیا تو کشمیر ایک اور ہولناک سیلاب سے دوچار ہو سکتا ہے۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وادی کا سب سے بڑا قدرتی فلڈ بیسن، وُلر جھیل، انسانی مداخلت اور ماحولیاتی تباہ کاریوں سے اپنی اصل صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، تجاوزات، آبی گزرگاہوں کی بندش اور دلدلوں کا ختم ہونا سب مل کر کشمیر کی مزاحمتی قوت کو تقریباً مفلوج کر چکے ہیں۔2014 کے بعد سرکار نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔ کہا گیا تھا کہ جہلم کی کھدائی (dredging) 2016 تک مکمل ہو جائے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ کام آج بھی ادھورا ہے۔ متبادل فلڈ چینل بنانے کا منصوبہ کاغذوں میں تو موجود ہے لیکن زمین پر ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔ آفات سے نمٹنے کے ادارے بھی اسی طرح غیر تیار ہیں جیسے گیارہ سال پہلے تھے۔
سوال یہ ہے کہ آخر حکمرانوں نے گیارہ برس میں کیا سیکھا؟ عوام کو بار بار قربانی کا بکرا کیوں بنایا جا رہا ہے؟ وادی کی زمین، ماحول اور زندگیاں سیاسی وعدوں کی نذر کب تک ہوتی رہیں گی؟یہ وقت ہے کہ حکومت اعلانات اور فائلوں سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ فلڈ مینجمنٹ کو محض ترقیاتی نعرے کے بجائے بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ بصورت دیگر کشمیر ایک بار پھر قدرتی آفت نہیں بلکہ سرکاری غفلت کے نتیجے میں انسانی المیے کا سامنا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

گیارہ سال بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا

گیارہ برس گزر گئے مگر کشمیر اب بھی اسی خوف اور بے بسی کے عالم میں کھڑا ہے، جس کا سامنا 2014 کے تباہ کن سیلاب کے وقت ہوا تھا۔ حالیہ بارشوں کے بعد جہلم کا پانی ایک بار پھر خطرے کے نشان سے اوپر گیا اور انتظامیہ کو ہنگامی مشورے جاری کرنے پڑے۔ بازاروں میں دکان دار اپنا سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرتے رہے اور کئی خاندان خوف کے سائے میں گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ یہ مناظر انہی بدنصیب دنوں کی یاد دلاتے ہیں جب وادی کے بڑے حصے پانی میں ڈوب گئے تھے اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے تھے۔
ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ وادی کی زمینی حقیقت مزید نازک ہو گئی ہے۔ جہلم کی گنجائش کم ہو چکی ہے، دلدلی علاقے سکڑ گئے ہیں اور اوسط بارش بھی اب بڑے خطرے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ 2014 میں محکمہ ماحولیات و ریموٹ سینسنگ اور اسرو کی مشترکہ تحقیق نے واضح کیا تھا کہ آئندہ برسوں میں بارشوں کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ نے بروقت متنبہ کیا تھا کہ اگر نکاسیٔ آب کا نظام درست نہ کیا گیا تو کشمیر ایک اور ہولناک سیلاب سے دوچار ہو سکتا ہے۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ وادی کا سب سے بڑا قدرتی فلڈ بیسن، وُلر جھیل، انسانی مداخلت اور ماحولیاتی تباہ کاریوں سے اپنی اصل صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، تجاوزات، آبی گزرگاہوں کی بندش اور دلدلوں کا ختم ہونا سب مل کر کشمیر کی مزاحمتی قوت کو تقریباً مفلوج کر چکے ہیں۔2014 کے بعد سرکار نے بڑے بڑے دعوے کیے تھے۔ کہا گیا تھا کہ جہلم کی کھدائی (dredging) 2016 تک مکمل ہو جائے گی، مگر حقیقت یہ ہے کہ کام آج بھی ادھورا ہے۔ متبادل فلڈ چینل بنانے کا منصوبہ کاغذوں میں تو موجود ہے لیکن زمین پر ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔ آفات سے نمٹنے کے ادارے بھی اسی طرح غیر تیار ہیں جیسے گیارہ سال پہلے تھے۔
سوال یہ ہے کہ آخر حکمرانوں نے گیارہ برس میں کیا سیکھا؟ عوام کو بار بار قربانی کا بکرا کیوں بنایا جا رہا ہے؟ وادی کی زمین، ماحول اور زندگیاں سیاسی وعدوں کی نذر کب تک ہوتی رہیں گی؟یہ وقت ہے کہ حکومت اعلانات اور فائلوں سے نکل کر عملی اقدامات کرے۔ فلڈ مینجمنٹ کو محض ترقیاتی نعرے کے بجائے بقا کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ بصورت دیگر کشمیر ایک بار پھر قدرتی آفت نہیں بلکہ سرکاری غفلت کے نتیجے میں انسانی المیے کا سامنا کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں