سری نگر کے قریب واقع حسین وادی سونمرگ میں اس سال اگست کے مہینے میں برفباری ہوئی ہے۔ بظاہر یہ مناظر سیاحوں کے لیے خوش کن اور دلکش لگتے ہیںمگر حقیقت میں یہ ایک انتہائی تشویش ناک اشارہ ہے۔ برف کا اس غیر معمولی وقت پر گرنا دراصل موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی بگاڑ کی علامت ہے۔دنیا بھر میں ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برف پوش علاقوں اور گلیشیئرز پر سب سے زیادہ پڑیں گے۔ کشمیر کی معیشت سیاحت، زراعت اور ہائیڈرو پاور پر بڑی حد تک منحصر ہے، اور ان تینوں پر ماحولیاتی انحراف براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ اگست کی برفباری جہاں موسم کے قدرتی توازن کو توڑتی ہے، وہیں یہ کسانوں کے لیے فصلوں کی تباہی، مقامی آبادی کے لیے سردیوں کے سخت تر ہونے اور پانی کے ذخائر پر منفی اثرات کا پیش خیمہ بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وادی میں سیاحت کے بڑھتے دباؤ، بے ہنگم انفراسٹرکچر، درختوں کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے بھی ماحول کو غیر متوازن کیا ہے۔ فطرت کے ساتھ اس مسلسل چھیڑ چھاڑ نے موسموں کے نظام کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور سماج مل کر اس غیر معمولی خطرے کو سنجیدگی سے لیں۔ ماہرینِ ماحولیات کی سفارشات کو پالیسی میں شامل کیا جائے، جنگلات کے تحفظ اور ندی نالوں کی بحالی پر زور دیا جائے، اور سیاحت کو پائیدار بنانے کے لیے سخت قواعد لاگو کیے جائیں۔ عوامی سطح پر بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال دراصل ہماری اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔سونمرگ کی یہ برفباری کسی خوشی کی خبر نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے، جو ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی احتیاط نہ کی تو آنے والے برسوں میں کشمیر کا قدرتی حسن اور مقامی زندگی دونوں شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔
سونمرگ میں بے موسم برفباری
سری نگر کے قریب واقع حسین وادی سونمرگ میں اس سال اگست کے مہینے میں برفباری ہوئی ہے۔ بظاہر یہ مناظر سیاحوں کے لیے خوش کن اور دلکش لگتے ہیںمگر حقیقت میں یہ ایک انتہائی تشویش ناک اشارہ ہے۔ برف کا اس غیر معمولی وقت پر گرنا دراصل موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی بگاڑ کی علامت ہے۔دنیا بھر میں ماہرین برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برف پوش علاقوں اور گلیشیئرز پر سب سے زیادہ پڑیں گے۔ کشمیر کی معیشت سیاحت، زراعت اور ہائیڈرو پاور پر بڑی حد تک منحصر ہے، اور ان تینوں پر ماحولیاتی انحراف براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ اگست کی برفباری جہاں موسم کے قدرتی توازن کو توڑتی ہے، وہیں یہ کسانوں کے لیے فصلوں کی تباہی، مقامی آبادی کے لیے سردیوں کے سخت تر ہونے اور پانی کے ذخائر پر منفی اثرات کا پیش خیمہ بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وادی میں سیاحت کے بڑھتے دباؤ، بے ہنگم انفراسٹرکچر، درختوں کی کٹائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے بھی ماحول کو غیر متوازن کیا ہے۔ فطرت کے ساتھ اس مسلسل چھیڑ چھاڑ نے موسموں کے نظام کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور سماج مل کر اس غیر معمولی خطرے کو سنجیدگی سے لیں۔ ماہرینِ ماحولیات کی سفارشات کو پالیسی میں شامل کیا جائے، جنگلات کے تحفظ اور ندی نالوں کی بحالی پر زور دیا جائے، اور سیاحت کو پائیدار بنانے کے لیے سخت قواعد لاگو کیے جائیں۔ عوامی سطح پر بھی یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال دراصل ہماری اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔سونمرگ کی یہ برفباری کسی خوشی کی خبر نہیں بلکہ ایک وارننگ ہے، جو ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی احتیاط نہ کی تو آنے والے برسوں میں کشمیر کا قدرتی حسن اور مقامی زندگی دونوں شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔


