ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دستخطی مہم

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ریاستی درجۂ بحالی کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کتنے لوگ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل ہے جو عوامی خواہشات کے اظہار کے دروازے کھولتا ہے۔ لیکن ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہےکیا ایک منتخب وزیر اعلیٰ جو پہلے ہی عوامی نمائندہ ہے اور جسے عوامی رائے کا مینڈیٹ حاصل ہے، اس طرح کی مہم شروع کرنے کا حق رکھتا ہے یا یہ اس کی سیاسی کمزوری اور عدمِ اعتماد کی علامت ہے؟

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ دستخطی مہم عوامی جذبات کو مرکزی حکومت تک براہِ راست پہنچانے کا ایک ذریعہ بنے گی۔ اس دلیل میں وزن ضرور ہے، کیونکہ پچھلے برسوں میں مرکز نے کئی فیصلے یک طرفہ طور پر نافذ کیے ہیں جن پر کشمیری عوام کو مؤثر انداز میں مشاورت کا موقع نہیں ملا۔ اس پس منظر میں اگر ایک عوامی دستخطی مہم مرکز کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے تو اسے ایک مثبت حکمتِ عملی قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو زیادہ گہرا ہے۔ ایک وزیر اعلیٰ کی اصل قوت اس کا عوامی مینڈیٹ ہوتا ہے۔ جب وہ اس مینڈیٹ کو ایک کاغذی دستخطی مہم کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کرے تو یہ پیغام مل سکتا ہے کہ عوامی اعتماد یا سیاسی حیثیت میں کوئی کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہ عمل بظاہر ایک احتجاجی تحریک یا سول سوسائٹی کے اقدام سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ ایک حکومتی سربراہ کے ایجنڈے سے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کسی ایک جماعت یا رہنما کا نہیں بلکہ پورے خطے کی اجتماعی آواز ہے۔ اس تناظر میں عمر عبداللہ کا اقدام عوامی رجحان کو مزید نمایاں کر سکتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ مسئلے کو آگے بڑھانے میں مؤثر ہوگا یا صرف ایک علامتی کوشش ثابت ہوگی؟

اداریے کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ قیادت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوامی جذبات کو ادارہ جاتی اور آئینی چینل کے ذریعے عملی شکل دے۔ دستخطی مہم ایک اچھا سیاسی حربہ ضرور ہے، مگر ایک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز شخص کو اپنے کردار کو محض ایک مہم تک محدود کرنے کے بجائے فیصلہ سازی اور مؤثر مذاکرات پر زور دینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ قیادت اپنے ہی مینڈیٹ پر اعتماد نہیں کر پا رہی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دستخطی مہم

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ریاستی درجۂ بحالی کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کتنے لوگ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل ہے جو عوامی خواہشات کے اظہار کے دروازے کھولتا ہے۔ لیکن ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہےکیا ایک منتخب وزیر اعلیٰ جو پہلے ہی عوامی نمائندہ ہے اور جسے عوامی رائے کا مینڈیٹ حاصل ہے، اس طرح کی مہم شروع کرنے کا حق رکھتا ہے یا یہ اس کی سیاسی کمزوری اور عدمِ اعتماد کی علامت ہے؟

عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ دستخطی مہم عوامی جذبات کو مرکزی حکومت تک براہِ راست پہنچانے کا ایک ذریعہ بنے گی۔ اس دلیل میں وزن ضرور ہے، کیونکہ پچھلے برسوں میں مرکز نے کئی فیصلے یک طرفہ طور پر نافذ کیے ہیں جن پر کشمیری عوام کو مؤثر انداز میں مشاورت کا موقع نہیں ملا۔ اس پس منظر میں اگر ایک عوامی دستخطی مہم مرکز کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے تو اسے ایک مثبت حکمتِ عملی قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو زیادہ گہرا ہے۔ ایک وزیر اعلیٰ کی اصل قوت اس کا عوامی مینڈیٹ ہوتا ہے۔ جب وہ اس مینڈیٹ کو ایک کاغذی دستخطی مہم کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کرے تو یہ پیغام مل سکتا ہے کہ عوامی اعتماد یا سیاسی حیثیت میں کوئی کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہ عمل بظاہر ایک احتجاجی تحریک یا سول سوسائٹی کے اقدام سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے، نہ کہ ایک حکومتی سربراہ کے ایجنڈے سے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کسی ایک جماعت یا رہنما کا نہیں بلکہ پورے خطے کی اجتماعی آواز ہے۔ اس تناظر میں عمر عبداللہ کا اقدام عوامی رجحان کو مزید نمایاں کر سکتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ مسئلے کو آگے بڑھانے میں مؤثر ہوگا یا صرف ایک علامتی کوشش ثابت ہوگی؟

اداریے کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ قیادت کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوامی جذبات کو ادارہ جاتی اور آئینی چینل کے ذریعے عملی شکل دے۔ دستخطی مہم ایک اچھا سیاسی حربہ ضرور ہے، مگر ایک وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز شخص کو اپنے کردار کو محض ایک مہم تک محدود کرنے کے بجائے فیصلہ سازی اور مؤثر مذاکرات پر زور دینا چاہیے۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ قیادت اپنے ہی مینڈیٹ پر اعتماد نہیں کر پا رہی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں