بھارت اور چین دو ایسے بڑے ایشیائی ممالک ہیں جن کے درمیان تعلقات ہمیشہ پیچیدگی اور نازک توازن کا شکار رہے ہیں۔ سرحدی تنازعات، تجارتی مسابقت اور خطے میں تزویراتی برتری کی کشمکش ان تعلقات کی بنیاد پر اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ حالیہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ سرحدی مسائل خاص طور پر لداخ اور اروناچل پردیش کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان گہری خلیج قائم ہیں۔ گذشتہ برسوں میں گلوان وادی جیسے واقعات نے اس حقیقت کو عیاں کر دیا کہ اعتماد کا فقدان ابھی بھی غالب ہے۔ ایسے میںچین کے وزیر خارجہ اور بھارت کے وزیر اعظم کی حالیہ ملاقات اگرچہ بظاہر خوش آئند ہے، مگر اس کے عملی نتائج پر سوالیہ نشان برقرار ہیں۔
بھارت کے لئے چین محض ایک ہمسایہ نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی حریف بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی وسعت کے باوجود توازن چین کے حق میں جھکا ہوا ہے، جو بھارت کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، بحر ہند اور انڈو-پیسفک خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ بھارت کی قربت چین کو مزید محتاط بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت۔چین تعلقات کو محض دو طرفہ مذاکرات سے آگے بڑھا کر ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ سرحدی کشیدگی کم کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔ ملاقاتوں اور بیانات سے وقتی سکون حاصل ہو سکتا ہے، لیکن مستقل امن کے لئے زمینی حقائق میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ بھارت کو اپنی دفاعی اور اقتصادی حکمت عملی میں توازن پیدا کرنا ہوگا، جبکہ چین کو جارحانہ رویے کے بجائے باہمی احترام اور ہمسائیگی کے اصول کو اپنانا ہوگا۔اگر دونوں ممالک سنجیدگی سے مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ ایشیا عالمی معیشت اور سیاست میں ایک نئی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ پیچیدہ تعلقات کشیدگی اور عدم اعتماد کے دائرے میں ہی گھومتے رہیں گے۔
٭٭٭٭


