لال قلعہ سے ترقی یافتہ بھارت کی عکاسی

15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلسل بارہویں مرتبہ لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کا خطاب کیا۔ 103 منٹ پر مشتمل یہ تقریر رسمی جملوں کا مجموعہ نہیں بلکہ "وِکسِت بھارت 2047” کا ایک حکمتِ عملی پر مبنی روڈ میپ تھی، جو قوم پرستی کو معاشی جدیدیت کے ساتھ جوڑتی ہے اور بی جے پی کے دیرینہ نظریے خود انحصاری، ثقافتی فخر اور خودمختار ریاست پر مبنی ہے۔
خطاب کا مرکزی نکتہ "آتم نربھر بھارت” تھا نہ صرف ایک معاشی پالیسی بلکہ ایک فکری اعلان کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار نوآبادیاتی غلامی اور نو نوآبادیاتی دباؤ کی باقیات ہیں۔ وزیر اعظم کے نزدیک آج کی آزادی اقتصادی، تکنیکی اور ڈیجیٹل خودمختاری کے بغیر نامکمل ہے۔ مقامی سیمی کنڈکٹر چپس، آپریشن سندور، جیٹ انجن کی تیاری، ایٹمی توانائی کی توسیع اور اہم معدنیات کی تلاش جیسے منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنے اسٹریٹجک وسائل کو محفوظ کرنے اور غیر یقینی عالمی سپلائی چین سے خود کو بچانے کا عزم رکھتا ہے۔
وزیر اعظم نے دفاع، توانائی اور ٹیکنالوجی کو 21ویں صدی کی سکیورٹی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے آپریشن سندور کو ملکی اسلحہ سازی کی کامیابی کی علامت قرار دیا اور معدنی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی سے جوڑا۔
خطاب میں سخت مؤقف کا اظہار بھی نمایاں تھا۔ سندھ طاس معاہدے اور آپریشن سندور کا ذکر پاہلگام حملے کے پس منظر میں ہوا، جس سے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان پر پالیسی میں "کوئی سمجھوتہ” نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم کا جملہ کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے” بھارت کی دفاعی پالیسی میں فعال رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح غیر قانونی دراندازی اور آبادی کے توازن کے تحفظ کے لیے "ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن” کا اعلان کیا گیا۔
وزیر اعظم نے نوجوانوں اور صنعت کاروں کو مصنوعی ذہانت، صاف توانائی اور مینوفیکچرنگ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ "ریفارم ٹاسک فورس”، دیوالی پر "نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی” کا آغاز، اور ایک لاکھ کروڑ روپے کا روزگار منصوبہ — جس کے تحت ہر نئے ملازم نوجوان کو 15 ہزار روپے دیے جائیں گے — معاشی تحریک کو قومی تعمیر کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے۔
عالمی غیر یقینی حالات میں مودی کا پیغام یہ تھا کہ بھارت اب محض ایک منڈی نہیں بلکہ معیاری اور سستے گھریلو مصنوعات کا ایک مضبوط مرکز بنے گا۔ ان کا تصور ایک ایسے بھارت کا ہے جو اپنی سیاسی، معاشی، تکنیکی اور ثقافتی آزادی کے ساتھ خود اپنے مستقبل کا تعین کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

لال قلعہ سے ترقی یافتہ بھارت کی عکاسی

15 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلسل بارہویں مرتبہ لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کا خطاب کیا۔ 103 منٹ پر مشتمل یہ تقریر رسمی جملوں کا مجموعہ نہیں بلکہ "وِکسِت بھارت 2047” کا ایک حکمتِ عملی پر مبنی روڈ میپ تھی، جو قوم پرستی کو معاشی جدیدیت کے ساتھ جوڑتی ہے اور بی جے پی کے دیرینہ نظریے خود انحصاری، ثقافتی فخر اور خودمختار ریاست پر مبنی ہے۔
خطاب کا مرکزی نکتہ "آتم نربھر بھارت” تھا نہ صرف ایک معاشی پالیسی بلکہ ایک فکری اعلان کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار نوآبادیاتی غلامی اور نو نوآبادیاتی دباؤ کی باقیات ہیں۔ وزیر اعظم کے نزدیک آج کی آزادی اقتصادی، تکنیکی اور ڈیجیٹل خودمختاری کے بغیر نامکمل ہے۔ مقامی سیمی کنڈکٹر چپس، آپریشن سندور، جیٹ انجن کی تیاری، ایٹمی توانائی کی توسیع اور اہم معدنیات کی تلاش جیسے منصوبے ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اپنے اسٹریٹجک وسائل کو محفوظ کرنے اور غیر یقینی عالمی سپلائی چین سے خود کو بچانے کا عزم رکھتا ہے۔
وزیر اعظم نے دفاع، توانائی اور ٹیکنالوجی کو 21ویں صدی کی سکیورٹی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے آپریشن سندور کو ملکی اسلحہ سازی کی کامیابی کی علامت قرار دیا اور معدنی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی سے جوڑا۔
خطاب میں سخت مؤقف کا اظہار بھی نمایاں تھا۔ سندھ طاس معاہدے اور آپریشن سندور کا ذکر پاہلگام حملے کے پس منظر میں ہوا، جس سے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان پر پالیسی میں "کوئی سمجھوتہ” نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم کا جملہ کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے” بھارت کی دفاعی پالیسی میں فعال رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح غیر قانونی دراندازی اور آبادی کے توازن کے تحفظ کے لیے "ہائی پاورڈ ڈیموگرافی مشن” کا اعلان کیا گیا۔
وزیر اعظم نے نوجوانوں اور صنعت کاروں کو مصنوعی ذہانت، صاف توانائی اور مینوفیکچرنگ کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ "ریفارم ٹاسک فورس”، دیوالی پر "نیکسٹ جنریشن جی ایس ٹی” کا آغاز، اور ایک لاکھ کروڑ روپے کا روزگار منصوبہ — جس کے تحت ہر نئے ملازم نوجوان کو 15 ہزار روپے دیے جائیں گے — معاشی تحریک کو قومی تعمیر کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے۔
عالمی غیر یقینی حالات میں مودی کا پیغام یہ تھا کہ بھارت اب محض ایک منڈی نہیں بلکہ معیاری اور سستے گھریلو مصنوعات کا ایک مضبوط مرکز بنے گا۔ ان کا تصور ایک ایسے بھارت کا ہے جو اپنی سیاسی، معاشی، تکنیکی اور ثقافتی آزادی کے ساتھ خود اپنے مستقبل کا تعین کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں