انتخابی نظام کو یرغمال بنانے کی کوشش؟

سراج نقوی

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر ’ووٹوں کی چوری‘کا الزام عائد کیا ہے۔جمعرات کے روز لوک سبھا میں اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ’ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ مل کر ووٹوں کی چوری کر وا رہا ہے۔‘اپنے الزام کے ثبوت میںراہل نے کرناٹک کی مہادیو پورہ اسمبلی سیٹ
کے ووٹروں سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ’ وہاں ایک لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹ بنوائے گئے تھے،اور ان کے پاس اس کے ثبوت ہیں۔‘راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ’ میں ووٹ چوری کی بات کر رہا ہوںلیکن کمیشن میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتااور مجھ پر حملہ کرنے سے ڈرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں۔‘
راہل گاندھی کے اس الزام پر الیکشن کمیشن نے کوئی صفائی پیش کرنے کے بجائے اسے صرف گمراہ کن بتا کر الزام سے فرار کی کوشش کی ہے،اور راہل گاندھی کو چیلنج کیا ہے کہ اگر ان کی بات درست ہے تو وہ اسے کرناٹک کے چیف الیکشن افسرکے سامنے اپنے حلف نامے کے ساتھ پیش کریں۔‘راہل گاندھی الیکشن کمیشن کے اس چیلنج کا کیا جواب دیتے ہیں یہ وہ جانیں،لیکن راہل گاندھی کے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزام کے جواب میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی کمیشن کا دفاع کیا ہے اور راہل کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔رجیجو کے ذریعہ کمیشن کا دفاع ’چور کی داڑھی میں تنکا‘کے مترادف ہے۔
حکومت یا وزیر موصوف اس معاملے پر یہ موقف بھی اختیار کر سکتے تھے کہ راہل کے الزام کا جواب الیکشن ہی دیگا،لیکن ایسا نہ کرکے انھوں نے بی جے پی اور حکومت دونوں پر اٹھنے والی انگلیوں کو درست ہی ثابت کیا ہے۔جہاں تک حکمراں پارٹی کا معاملہ ہے تو پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کے دفاع کا ’فرض غیر منصبی‘پارٹی ترجمان سمبت پاترا نے ادا کیا ہے۔پاترا نے راہل کے الیکشن کمیشن پر لگائے الزام کو’غیر مہذب اور ملک کے آئینی اداروںپر حملہ‘قرار دیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی ترجمان یہ بھول گئے کہ خود ان کی پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے تہذیب کا دامن داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں کی ہے۔یہ بھی ان کی پارٹی کا ہی کارنامہ ہے کہ ملک کے آئینی اداروں کو حکومت کا حاشیہ بردار بنانے کے لیے تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے ہیں۔ خود الیکشن کمیشن بھی ان اداروں میں شامل ہے۔یاد کیجیے کہ 1990سے1996تک چیف الیکشن کمشنر رہتے ہوئے ٹی این شیشن نے الیکشن کمیشن کے وقار کو کوپورے دبدبے اور غیر جانبداری کے ساتھ بلند کیا تھا،لیکن اب دبدبے والے الیکشن کمیشن کی جگہ دبے ہوئے کمیشن نے لے لی ہے۔شیشن کے زمانے کے پر وقار الیکشن کمیشن کے مقابلے میں کی آج کمیشن کی کیا اوقات ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے باوجود سمبت پاترا راہل کے الیکشن کمیشن سے متعلق بیان کے جواب میں دفاع کرتے نظر آرہے ہیں تو سمجھ لیں دال میں کچھ کالا ہے۔بلکہ شک تو یہ ہوتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ بہرحال بی جے پی کی موجودہ حکومت میں ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ اپوزیشن نے الزام حکومت کی کسی ایک وزارت پر لگایا اور جواب دوسری وزارت کی طرف سے دیا گیا۔یہی رویہ کمیشن کے معاملے میںبھی اختیار کیا جا رہا ہے۔اس بقراطیت کے پیچھے مصلحت اندیشی کا کون سا پہلو پوشیدہ ہے یہ تو بی جے پی جانے ،لیکن ظاہری طور پر اس کا مقصد کسی الزام سے بچنے کے لیے ایک چور دروازہ کھلا رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا۔بہرحال یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔راہل گاندھی نے لوک سبھا میں دیے گئے اپنے مذکورہ بیان میں یہ بھی کہا کہ ’جب تک الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں ہوتا تب تک الیکشن خواہ ای وی ایم سے ہو یا بیلٹ پیپر سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘اب راہل گاندھی کے اس بیان کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ کے دو بیانات پر بھی نگاہ ڈال لیں تو شائد بات واضح ہو جائیگی۔سن2014کا پارلیمانی الیکشن جیتنے کے بعد امت شاہ نے کہا تھا کہ کانگریس اب آئیندہ پچاس برس تک اقتدارمیں نہیں آئیگی۔ظاہر ہے امت شاہ نہ تو جیوتشی ہیں اور نہ ہی ابھی تک کوئی ایسا قانون ہمارے جمہوری نظام میں بنایا گیا ہے جس میں کسی پارٹی کو پچاس سال اقتدار میں رہنے کے لیے ’کچھ بھی کرنے‘کی آزادی دی گئی ہو۔حا ہی میں امت شاہ نے لوک سبھا میں بھی اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ آئیندہ بیس سال تک اقتدار میں نہیں آئیگی۔‘امت شاہ کے اس طرح کے بیانات بی جے پی او ر اس کی حکومت کے ’ارادوں‘ یا آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کا زیر بحث بیان بھی حکمراں جماعت کی ان سازشوں سے جمہوریت کے لیے پیدا خطرات کو ہی سامنے رکھتا ہے۔
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزام میں صرف کرناٹک کی مذکورہ اسمبلی سیٹ پر بدعنوانی سے بڑھائے گئے ووٹروں کی بات نہیں کی بلکہ گذشتہ لوک سبھا الیکشن کے کچھ عرصے بعد مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے موقع پر ووٹر فہرستوں میں غیر معمولی طور پر ووٹروں کے نام بڑھانے اور پولنگ کے آخری چند گھنٹوں میں ووٹنگ میںمعمول سے زیادہ اضافے پر بھی سوال اٹھائے ہیں،اور کہا ہے کہ اس سے اعداد و شمار میں جو فرق آیا ہے وہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔اس سے انتخابی عمل کی ایمانداری پر سنگین نوعیت کے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔‘راہل گاندھی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ’ مہاراشٹر میں گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں صرف پانچ ماہ میں کئی گنا زیادہ ووٹر جوڑے گئے ۔مزید یہ کہ کئی علاقوں میں ووٹروں کی تعداد پوری آبادی سے بھی زیادہ تھی۔‘یہ بیحد سنگین الزامات ہیں لیکن الیکشن کمیشن ان الزامات کو سنیجدگی سے نوٹس میں لگائے بغیر اگر رد کر رہا تو واضح ہے کہ اسے آئین اور قانون سے زیادہ حکمرانوں کی یا ان کے مفادات کی فکر ہے۔راہل گاندھی کے مطابق’ 2024کے پارلیمانی الیکشن اور اس کے چند ماہ بعد منعقد ہوئے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے درمیان میں تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹر جوڑے گئے ۔اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن گئیں لیکن انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا بلکہ اس کے برعکس کمیشن نے انھیں ’مشین ریڈیبل فارمیٹ‘ ووٹر لسٹ مہیا کرانے سے بھی کمیشن نے انکار کر دیا۔‘ اس انکار کا کیا سبب تھا یہ تو کمیشن ہی بتا سکتا ہے لیکن اگر کمیشن واقعی غیر جانبدار ہے تو اس نے اپوزیشن کے مذکورہ مطالبے کو پورا کرنے سے گریز کیوں کیا؟ایک بہت چھوٹی مدت میںکسی علاقے کے ووٹروں میں ایک کروڑ نئے ووٹروں کا شامل ہونا معمول کی بات تو بہرحال نہیں ہو سکتی۔اسے اگر ووٹوں کی چوری نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کو دیکھتے ہوئے الزام لگانے کے لیے الفاظ کے انتخاب میں احتیاظ برتی ہے ورنہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ موجودہ الیکشن کمشنر کی’کارگزاریاں‘ ایک عام آدمی کو تہذیب کا دامن چھوڑنے کے لیے مجبور کرتی ہیں۔الیکشن کمیشن کا عمل جس طرح جمہوری نظام کو حکمراں جماعت کے مفادات کے حق میںیرغمال بنانے کی کوششوں میں شریک نظر آتا ہے وہ بیحد خطرناک بھی ہے اور ملک کی جمہوری اقدار ومنصفانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بھی۔اسی لیے راہل گاندھی نے موجودہ حالات میں منصفانہ انتخابات ہونے کے تعلق سے اندیشوں اور شکوک کا اظہار کیا ہے۔
ان شکوک کو انھوں نے دستاویزی ثبوت پریس کانفرنس میں پیش کرکے الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج پیش کر دیا ہے۔لیکن کمیشن کے پاس اس کا کوئی معقول جواب نہیں ہے۔
یہی معاملہ بہار میں ایس آئی آر پرکمیشن کی ضد کا بھی ہے۔سپریم کورٹ کی سرزنش اور چند نکات پر دیے گئے مشوروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کمیشن نے ایس آئی آر کے بعد جو ووٹر لسٹیں شائع کی ہیں ان سے صاف ہے کہ یہ سب کچھ اس مقصد کے لیے تو بہرحال نہیں کیا گیا جس کا دعویٰ کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے کیا ہے۔رپورٹوں کے مطابق بہار کی ووٹر لسٹوں میں سے تقریباً 65لاکھ ووٹروں کے نام نکال دیے گئے ہیں۔ان رپورٹوں کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان ہٹائے گئے ووٹروں میں سے بیشتر کا تعلق غریب، مسلم اور قبائلی طبقات سے ہے۔یہ محض اتفاق ہے یا اس کا سبب کچھ اور ہے یہ تو کمیشن ہی جانتا ہوگا،لیکن انتخابی فہرستوں میں ایس آئی آر کے بہانے کی گیء تبدیلی اور تخفیف نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا حکومت الیکشن کمیشن کے توسط سے انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

انتخابی نظام کو یرغمال بنانے کی کوشش؟

سراج نقوی

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر ’ووٹوں کی چوری‘کا الزام عائد کیا ہے۔جمعرات کے روز لوک سبھا میں اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ’ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ مل کر ووٹوں کی چوری کر وا رہا ہے۔‘اپنے الزام کے ثبوت میںراہل نے کرناٹک کی مہادیو پورہ اسمبلی سیٹ
کے ووٹروں سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ’ وہاں ایک لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹ بنوائے گئے تھے،اور ان کے پاس اس کے ثبوت ہیں۔‘راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ’ میں ووٹ چوری کی بات کر رہا ہوںلیکن کمیشن میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتااور مجھ پر حملہ کرنے سے ڈرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ میں سچ بول رہا ہوں۔‘
راہل گاندھی کے اس الزام پر الیکشن کمیشن نے کوئی صفائی پیش کرنے کے بجائے اسے صرف گمراہ کن بتا کر الزام سے فرار کی کوشش کی ہے،اور راہل گاندھی کو چیلنج کیا ہے کہ اگر ان کی بات درست ہے تو وہ اسے کرناٹک کے چیف الیکشن افسرکے سامنے اپنے حلف نامے کے ساتھ پیش کریں۔‘راہل گاندھی الیکشن کمیشن کے اس چیلنج کا کیا جواب دیتے ہیں یہ وہ جانیں،لیکن راہل گاندھی کے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزام کے جواب میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے بھی کمیشن کا دفاع کیا ہے اور راہل کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔رجیجو کے ذریعہ کمیشن کا دفاع ’چور کی داڑھی میں تنکا‘کے مترادف ہے۔
حکومت یا وزیر موصوف اس معاملے پر یہ موقف بھی اختیار کر سکتے تھے کہ راہل کے الزام کا جواب الیکشن ہی دیگا،لیکن ایسا نہ کرکے انھوں نے بی جے پی اور حکومت دونوں پر اٹھنے والی انگلیوں کو درست ہی ثابت کیا ہے۔جہاں تک حکمراں پارٹی کا معاملہ ہے تو پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کے دفاع کا ’فرض غیر منصبی‘پارٹی ترجمان سمبت پاترا نے ادا کیا ہے۔پاترا نے راہل کے الیکشن کمیشن پر لگائے الزام کو’غیر مہذب اور ملک کے آئینی اداروںپر حملہ‘قرار دیا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی ترجمان یہ بھول گئے کہ خود ان کی پارٹی کے بہت سے لیڈروں نے تہذیب کا دامن داغدار کرنے میں کوئی کسر نہیں کی ہے۔یہ بھی ان کی پارٹی کا ہی کارنامہ ہے کہ ملک کے آئینی اداروں کو حکومت کا حاشیہ بردار بنانے کے لیے تمام طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے ہیں۔ خود الیکشن کمیشن بھی ان اداروں میں شامل ہے۔یاد کیجیے کہ 1990سے1996تک چیف الیکشن کمشنر رہتے ہوئے ٹی این شیشن نے الیکشن کمیشن کے وقار کو کوپورے دبدبے اور غیر جانبداری کے ساتھ بلند کیا تھا،لیکن اب دبدبے والے الیکشن کمیشن کی جگہ دبے ہوئے کمیشن نے لے لی ہے۔شیشن کے زمانے کے پر وقار الیکشن کمیشن کے مقابلے میں کی آج کمیشن کی کیا اوقات ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے باوجود سمبت پاترا راہل کے الیکشن کمیشن سے متعلق بیان کے جواب میں دفاع کرتے نظر آرہے ہیں تو سمجھ لیں دال میں کچھ کالا ہے۔بلکہ شک تو یہ ہوتا ہے کہ پوری دال ہی کالی ہے۔ بہرحال بی جے پی کی موجودہ حکومت میں ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ اپوزیشن نے الزام حکومت کی کسی ایک وزارت پر لگایا اور جواب دوسری وزارت کی طرف سے دیا گیا۔یہی رویہ کمیشن کے معاملے میںبھی اختیار کیا جا رہا ہے۔اس بقراطیت کے پیچھے مصلحت اندیشی کا کون سا پہلو پوشیدہ ہے یہ تو بی جے پی جانے ،لیکن ظاہری طور پر اس کا مقصد کسی الزام سے بچنے کے لیے ایک چور دروازہ کھلا رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا۔بہرحال یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔راہل گاندھی نے لوک سبھا میں دیے گئے اپنے مذکورہ بیان میں یہ بھی کہا کہ ’جب تک الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں ہوتا تب تک الیکشن خواہ ای وی ایم سے ہو یا بیلٹ پیپر سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘اب راہل گاندھی کے اس بیان کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ کے دو بیانات پر بھی نگاہ ڈال لیں تو شائد بات واضح ہو جائیگی۔سن2014کا پارلیمانی الیکشن جیتنے کے بعد امت شاہ نے کہا تھا کہ کانگریس اب آئیندہ پچاس برس تک اقتدارمیں نہیں آئیگی۔ظاہر ہے امت شاہ نہ تو جیوتشی ہیں اور نہ ہی ابھی تک کوئی ایسا قانون ہمارے جمہوری نظام میں بنایا گیا ہے جس میں کسی پارٹی کو پچاس سال اقتدار میں رہنے کے لیے ’کچھ بھی کرنے‘کی آزادی دی گئی ہو۔حا ہی میں امت شاہ نے لوک سبھا میں بھی اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ آئیندہ بیس سال تک اقتدار میں نہیں آئیگی۔‘امت شاہ کے اس طرح کے بیانات بی جے پی او ر اس کی حکومت کے ’ارادوں‘ یا آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کا زیر بحث بیان بھی حکمراں جماعت کی ان سازشوں سے جمہوریت کے لیے پیدا خطرات کو ہی سامنے رکھتا ہے۔
راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزام میں صرف کرناٹک کی مذکورہ اسمبلی سیٹ پر بدعنوانی سے بڑھائے گئے ووٹروں کی بات نہیں کی بلکہ گذشتہ لوک سبھا الیکشن کے کچھ عرصے بعد مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے موقع پر ووٹر فہرستوں میں غیر معمولی طور پر ووٹروں کے نام بڑھانے اور پولنگ کے آخری چند گھنٹوں میں ووٹنگ میںمعمول سے زیادہ اضافے پر بھی سوال اٹھائے ہیں،اور کہا ہے کہ اس سے اعداد و شمار میں جو فرق آیا ہے وہ حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔اس سے انتخابی عمل کی ایمانداری پر سنگین نوعیت کے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔‘راہل گاندھی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ’ مہاراشٹر میں گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں صرف پانچ ماہ میں کئی گنا زیادہ ووٹر جوڑے گئے ۔مزید یہ کہ کئی علاقوں میں ووٹروں کی تعداد پوری آبادی سے بھی زیادہ تھی۔‘یہ بیحد سنگین الزامات ہیں لیکن الیکشن کمیشن ان الزامات کو سنیجدگی سے نوٹس میں لگائے بغیر اگر رد کر رہا تو واضح ہے کہ اسے آئین اور قانون سے زیادہ حکمرانوں کی یا ان کے مفادات کی فکر ہے۔راہل گاندھی کے مطابق’ 2024کے پارلیمانی الیکشن اور اس کے چند ماہ بعد منعقد ہوئے مہاراشٹر اسمبلی الیکشن کے درمیان میں تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹر جوڑے گئے ۔اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن گئیں لیکن انھیں کوئی جواب نہیں دیا گیا بلکہ اس کے برعکس کمیشن نے انھیں ’مشین ریڈیبل فارمیٹ‘ ووٹر لسٹ مہیا کرانے سے بھی کمیشن نے انکار کر دیا۔‘ اس انکار کا کیا سبب تھا یہ تو کمیشن ہی بتا سکتا ہے لیکن اگر کمیشن واقعی غیر جانبدار ہے تو اس نے اپوزیشن کے مذکورہ مطالبے کو پورا کرنے سے گریز کیوں کیا؟ایک بہت چھوٹی مدت میںکسی علاقے کے ووٹروں میں ایک کروڑ نئے ووٹروں کا شامل ہونا معمول کی بات تو بہرحال نہیں ہو سکتی۔اسے اگر ووٹوں کی چوری نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ راہل گاندھی نے الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت کو دیکھتے ہوئے الزام لگانے کے لیے الفاظ کے انتخاب میں احتیاظ برتی ہے ورنہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ موجودہ الیکشن کمشنر کی’کارگزاریاں‘ ایک عام آدمی کو تہذیب کا دامن چھوڑنے کے لیے مجبور کرتی ہیں۔الیکشن کمیشن کا عمل جس طرح جمہوری نظام کو حکمراں جماعت کے مفادات کے حق میںیرغمال بنانے کی کوششوں میں شریک نظر آتا ہے وہ بیحد خطرناک بھی ہے اور ملک کی جمہوری اقدار ومنصفانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ میں بڑی رکاوٹ بھی۔اسی لیے راہل گاندھی نے موجودہ حالات میں منصفانہ انتخابات ہونے کے تعلق سے اندیشوں اور شکوک کا اظہار کیا ہے۔
ان شکوک کو انھوں نے دستاویزی ثبوت پریس کانفرنس میں پیش کرکے الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج پیش کر دیا ہے۔لیکن کمیشن کے پاس اس کا کوئی معقول جواب نہیں ہے۔
یہی معاملہ بہار میں ایس آئی آر پرکمیشن کی ضد کا بھی ہے۔سپریم کورٹ کی سرزنش اور چند نکات پر دیے گئے مشوروں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کمیشن نے ایس آئی آر کے بعد جو ووٹر لسٹیں شائع کی ہیں ان سے صاف ہے کہ یہ سب کچھ اس مقصد کے لیے تو بہرحال نہیں کیا گیا جس کا دعویٰ کمیشن نے سپریم کورٹ کے سامنے کیا ہے۔رپورٹوں کے مطابق بہار کی ووٹر لسٹوں میں سے تقریباً 65لاکھ ووٹروں کے نام نکال دیے گئے ہیں۔ان رپورٹوں کے بعد سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان ہٹائے گئے ووٹروں میں سے بیشتر کا تعلق غریب، مسلم اور قبائلی طبقات سے ہے۔یہ محض اتفاق ہے یا اس کا سبب کچھ اور ہے یہ تو کمیشن ہی جانتا ہوگا،لیکن انتخابی فہرستوں میں ایس آئی آر کے بہانے کی گیء تبدیلی اور تخفیف نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا حکومت الیکشن کمیشن کے توسط سے انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں