
جاوید جمال الدین
مسلمانوں کے لیے حج بیت اللہ ایک دینی فریضہ اور روحانی سفر ہے، مگر گزشتہ چند برسوں سے اس سفرِ مقدس میں مشکلات، الجھنیں اور پالیسی کی پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے حالیہ اقدامات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا یہ سب بدانتظامی کا نتیجہ ہے یا کسی منظم منصوبہ بندی کا حصہ؟
ملک میں دوسری سب سے بڑی اکثریت یعنی مسلمانوں کوگزشتہ ایک عشرے سے ملک میں اور خصوصی طور پر شمالی ہند کی ریاستوں میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ انہیں دشواریوں کا سامنا نہیں کرناپڑتاہے،یہ تقریباً دس سال قبل کی بات ہے،ایک دوست صحافی نے مجھے بتایا کہ موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کواُن کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور مستقبل میں مزید پریشانی کاسامناہوگا،انہوں نے مطلع کیاکہ دہلی میں مرکزی وزارت اقلیتی فروغ و بہبود میں کام کاج ٹھپ پڑا ہے اور کوئی بھی منصوبہ پر عمل نہیں کیاجارہاہ خاموشی اختیار کرلی گئی ہے ۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ حج کمیٹی آف انڈیا بھی کانگریس کے دور حکومت میں وزارت برائے خارجی امور سے حج کمیٹی کو وزارت اقلیتی امور کو سونپ دیاگیاتھا۔بس یہیں سے مسلمانوں کے اہم ترین رکن حج میں اُلٹ پلٹ شروع ہوچکاہے۔امسال حج سیزن 2025 کے دوران ہندوستانی حجاج کو درپیش اہم مسائل کی فہرست طویل ہے۔
پہلےکبھی ایسا نہیں ہوا ۔ ہمیشہ حج سے واپسی کے بعد جائزہ لیا جاتا تھا کہ حجاج کو سہولت فراہم کرانے میں کیا بہتر کیا گیا اور کہاں کمی رہ گئی۔ حجاج کو اگر کوئی سہولت نہیں مل سکی جس کا ان سے چارج لیا گیا تھا یا کسی عازم نے کسی معقول وجہ سے حج کا ارادہ ترک کردیا تھا تو اس کی رقم لوٹانے کاعمل شروع ہوتا تھا۔ اتنا ہی نہیں ایک جائزہ کانفرنس بھی منعقد کی جاتی تھی۔ ا س بار ایسا نہیں کیاگیا اور حج 2026 کی درخواستیں طلب کرلی گئی ہیں،پہلے حجاج کرام کی واپسی کے دو ڈھائی یا تین ماہ بعد نئے سال کا فارم جاری کیا جاتا تھا۔
حج کمیٹی کی جلدبازی سے عازمین کوپریشانی نہ ہو ایسا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ کئی عازمین کے پاسپورٹ کا مسئلہ ہوتا ہے۔پاسپورٹ کا بننا اتنا آسان نہیں ہوتا،درخوات کے بعد تقریباً ایک ماہ بعد کا وقت ملتا ہے، اس کے بعد آگے کی کارروائی شروع کی جاتی ہے جس کی تکمیل کے بعد پاسپورٹ ملتا ہے۔ اسی طرح اخراجات کا انتظام کرنا ہوتا ہے مگر سب کچھ اتنی جلدی کروایا جارہا ہے کہ خدانخواستہ عازمین کا ایک بڑا طبقہ درخواست دینے ہی سے محروم رہ سکتا ہے۔
سفر حج کیلئے خاصا خرچ درکار ہوتا ہے۔ اگر ایک کنبے کے چار افراد حج کا ارادہ رکھتے ہیں تو حج کمیٹی میں ان کو 15-14،لاکھ روپے تک دینے ادا کرنے ہوں گے اور اگر خرچ بڑھ گیا یعنی سفرِحج اور بھی مہنگا ہوا تو مزید رقم اداکرنی ہوگی۔ مقررہ وقت پر یہ رقم جمع کرانا بھی ہر ایک کیلئے آسان نہیں ہے۔ خاص طورپر ایسی صورت میں جب کہ جلد درخواست دینی ہے یعنی تمام مطلوبہ رقم جلد جمع کرانی ہے۔ عازمین کےلئے یہ دوسری بڑی دشواری ہے۔ اس بار درخواست کی واپسی پر رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
امسال کئی دقتیں بھی سامنے آئی تھیں،سعودی عرب نے نجی حج کوٹے میں تعینات تقریباً 52، ہزارحاجیوں کے اندراج منسوخ کیے، کیونکہ نجی آپریٹرز نے مقررہ تاریخ اور معاہدے وقت پر مکمل نہیں کیے ۔اس لیے صرف 10،ہزار میں عازمین حج نے فریضہ حج ادا کیا۔البتہ اضافی حاجیوں کی جگہ سعودی وزارتِ حج نے حکومت ہندکی درخواست پر حج کے متعلق اپناپورٹل دوبارہ کھول دیا،لیکن باقی ہزاروں حاجی آخری وقت تک غیر یقینی کا شکار رہے اور فریضہ حج سے محروم رہ گئے تھے اور حکومت خاموش تماشائی بنی رہی ۔
حج کی سعادت سے محروم رہے ہزاروں افراد کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا تھاکہ حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے امسال یعنی حج 2026 کی درخواست دینے کیلئے زیادہ ہی عجلت دکھائی ہے اور ابھی جبکہ امسال کے حجاج کرام کی وطن واپسی پوری طرح سے مکمل بھی نہیں ہوئی کہ آئندہ سال 2026 کیلئے درخواست جمع کرانےکا اعلان کردیاہے۔ اتنی جلدبازی پر کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔جن میں یہ سوال بھی ہے کہ 2025 کے حجاج کرام کی واپسی مکمل ہونے سے قبل ہی آئندہ سال کیلئے درخواست دینے کے اعلان سے آخر عازمین کو کیا فائدہ ہوگا، جبکہ عازمین کی روانگی دس؍ ماہ بعد ہوگی۔ امسال حجاج کو جن زبردست دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اس کے ازالے کے لئے کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔ ویسے فیصلہ سمجھ میں نہیں آیاہے،بظاہر اس میں عازمین حج کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتاہے۔2025 کے حج سیزن کے حج بیت اللہ سے محروم رہ گئے درخواست گزار کو رقم واپس بھی نہیں کی گئی ہے۔دراصل حج کمیٹی کا احتساب نہیں ہوتا ہے اور من مانی شباب پر ہے۔اس ضمن میں حج کمیٹی کے افسران کو یاد رکھنا چاہئے کہ حج کمیٹی حجاج کی خدمت کے لئے قائم ہے، حجاج کی رقم سے حج کمیٹی کا پورا نظام چلتا ہے ،اس لئے حج کمیٹی کے افسران کو بھی حجاج کے مفادات اور ان کی سہولتوں کا ہرطرح سے خیال رکھنا چاہئے ۔
حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے حج سے دس مہینے قبل رقم جمع کروانے کے عمل پر لوگوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے کہ حج کمیٹی پہلے رقم جمع کرواکر سود کھاتی ہے، حج کمیٹی نے یہ کہہ کر ہاتھ اٹھا لیے ہیں کہ سعودی حکومت کی ہدایات اور نئی حج پالیسی کے پیش نظر ایسا کیا جارہا ہے۔ اس سے انتظامات کرنے اور حج کاعمل آگے بڑھانے میںزید مدد مل سکتی ہے۔
آئندہ سال 2026 کے لیے ایک خصوصی پیکیج کیلئے 10، ہزار نشستیں مختص کی ہیں ، حیرت کی بات یہ ہے کہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے،واضح رہے کہ ہر سال ایک لاکھ 75،ہزار عازمین حج ،حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں،لیکن آئندہ سال 20،دنوں کے حج پیکیج کا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں اگر دس ہزارسے زائد درخواستیں موصول ہوتی ہیں تو پھراس معاملہ قرعہ اندازی کی جائے گی۔حج پالیسی کی رو سے عازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام شرائط اورضوابط کا مکمل مطالعہ کرنے کےبعد ہی حج کی درخواست دیں کیونکہ ایک مرتبہ درخواست دینے کےبعد زمرہ تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ 20,روزہ حج کےلئے عازمین کویہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوگی،بلکہ خرچ بڑھ سکتا ہے،کم نہیں ہوگا، اس کی وجہ سے یہ بتائی گئی ہے کہ عام حج کے ایام گزارنے والے عا زمین کے لئے ایئرچارٹر کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کا شیڈیول مقرر رہتا ہے، اس حساب سے ہوائی خدمات مہیا کرانے والی کمپنیاں ٹینڈر میں حصہ لیتی ہیں مگر حج کی کم مدت کے دوران ہوائی جہازوں کا ازسر نو انتظام کرنالازمی ہے، اس لئے خرچ کم نہیں ہوگا بلکہ زیادہ ہی ہوسکتاہے ۔ قلیل مدتی حج کے لئے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ملک کے صرف سات روانگی مراکز سے ہوگی۔ان مراکز روانگی کے سات؍مراکز میں دہلی ، ممبئی ، بنگلور، چنئی ، حیدرآباد، کوچین اوراحمدآ بادہی شامل ہیں۔
اسی طرح نئی حج پالیسی میں اس دفعہ عازمین کو ایک کے بجائے دومراکز کے انتخاب کی ہدایت دی گئی ہےاوراسے بھی حج کمیٹیوں کی جانب سے عازمین کے مفاد میں قرار دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ شرط نہیں تھی۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ مثال کے طور پر اگرکسی عازم نے ممبئی سے جانے کا ارادہ کیا اورپالیسی میں مشروط کئے جانے کے سبب اس نے متبادل کے طور پراحمدآباد روانگی پوائنٹ کا انتخاب بھی کیا اور اسے احمدآباد سے ہی جانا پڑا توکیا اسے پریشانی نہیں ہوگی؟ اور ممبئی سے احمدآباد جانے کےلئے جو اضافی خرچ اورسفر کی مشکلیں برداشت کرنی ہوگی۔ امبارکیشن پوائنٹ تبدیل کرنے کا حق حج کمیٹی کو حاصل رہے گا ۔ اس نظم پربھی عازمین کی جانب سے سوالات قائم کئے جارہے ہیں ۔
اسی طرح ملکی سطح پر 22؍امبارکیشن مراکز میں سے کم کرکے محض 17،امبارکیشن پوائنٹ ہی آئندہ سال رکھے گئے ہیں۔آئندہ سال 65 کی عمر ا ور اس سےزائد عمر کے عازمین کے لئے محفوظ زمرہ اور ان کے ساتھ ایک ساتھی کا زمرہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس زمرے کے عازم کو تنہا حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔مگر اس میں یہ شرط ہے کہ معاون کی عمر 18؍سال سے 60؍سال کےدرمیان ہونی چاہئے۔
حج کمیٹی کا کہنا ہے کہ عجلت سعودی حکومت کی جانب سے کی جارہی ہے ۔ اگر ایسا ہے تویہ بتایا جانا چاہئے کہ سعودی حکومت کی مقررہ کردہ ڈیڈ لائن کیا ہے؟ اور کب تک تمام امور مکمل کرنے ہیں ؟ یہ واضح کیا جائے تو عازمین کو اپنے سوالوں کا جواب مل جائیگا اور ان کو اطمینان ہوسکے گا۔ حج کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد حجاج کی فلاح وبہبو داور حج کے انتظامات میں لازمی سہولتوں کی فراہمی اور ضروری رہنمائی ہے تاکہ وہ اس فریضے کو بحسن وخوبی انجام دے سکیں ۔ اگر غور کریں تو محسوس ہوگاکہ حج کمیٹی اپنے قیام کا مقصد پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہے،اوراگرنہیں ، تو کیا اسے احتساب کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ دس مہینے کی منصوبہ بندی میں حج کامیاب منصوبہ بنایاجاسکتاہے۔
ززز


