
ایڈوکیٹ کشن سنمکھ داس
گزشتہ چند دنوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ٹیرف پالیسی کو عالمی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اکثر ممالک کو اپنی شرائط پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ ملکوں کو رعایت دی گئی ہے، لیکن جہاں امریکہ کے مفادات میں رکاوٹ ہے، وہاں بھاری ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ کشن سنمکھ داس بھوانی کے مطابق کئی ممالک نے امریکی دباؤ کے تحت معاہدے قبول کیے، لیکن بھارت نے دفاعی سازوسامان، جانوروں کی خریداری، ڈیری، زراعت اور ماہی گیری جیسے حساس شعبوں میں روس کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
دو روز قبل 50 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے 8 جولائی 2025 کو بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات روکنے کا اعلان کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکی حکام کا وفد بھارت نہیں آئے گا۔ یہ فیصلہ بھارت کے لیے چیلنج ضرور ہے، لیکن دہلی نے پیچھے ہٹنے کے بجائے مقابلے کا اعلان کیا۔ اس پر عالمی برادری حیران ہے کہ بھارت نے ایک سپر پاور کو کھلا جواب دے دیا۔
بھارت کی عالمی سطح پر حمایت
بھارت نے حال ہی میں روسی صدر سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان کے جلد دورۂ بھارت کی امید ہے۔ چین، برازیل، اسرائیل اور ایران نے بھی بھارت کی پالیسی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ امکان ہے کہ وزیراعظم 31 اگست سے 1 ستمبر تک شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں روس-چین-بھارت تعاون مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اس سے امریکہ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوں گی۔
امریکہ-بھارت تعلقات میں تناؤ کی وجوہات
بھارت اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کے چند بڑے اسباب درج ذیل ہیں:
1. تجارتی خسارہ اور منڈی تک رسائی — ٹرمپ کے مطابق بھارت امریکی مصنوعات کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، اس لیے ٹیرف بڑھانا ضروری ہے۔
2. پاکستان تنازعہ پر موقف ٹرمپ نے کئی بار کہا کہ انہوں نے پاک-بھارت کشیدگی کم کرائی، لیکن بھارت اس بیان کو مسترد کرتا رہا۔
3. برکس گروپ کی پالیسی — برکس ممالک کی کرنسی پالیسی امریکی ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہے، جس پر ٹرمپ ناراض ہیں۔
4. روس سے تیل کی درآمدات — یوکرین جنگ کے بعد بھارت روس سے تقریباً 40% تیل خرید رہا ہے، جو مغربی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
وزیر اعظم کا "ذاتی قیمت” والا بیان
بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ذاتی قیمت ادا کرنی پڑی تو بھی وہ عوام کے مفاد میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ "قیمت” مالی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی نقصانات سے متعلق ہے، جیسے:
ز سیاسی ساکھ پر اثر اور اپوزیشن کا دباؤ
ز امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری
ز عالمی فورمز پر کم حمایت
ز معاشی ترقی کے منصوبوں پر دباؤ
اقتصادی اثرات اور عوامی ردعمل
بھارت کی 70 کروڑ سے زائد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے، 3 کروڑ ماہی گیری میں ہیں، اور 8 کروڑ خاندان مویشی پالتے ہیں۔ امریکی ٹیرف سے یہ شعبے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ تاہم، عوامی سطح پر وزیر اعظم کے فیصلے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے، اور اسے "خودداری” کا مظاہرہ کہا جا رہا ہے۔
ممکنہ عالمی منظرنامہ
اگر بھارت کے ساتھ دیگر متاثرہ ممالک جیسے چین، برازیل، روس اور ایران متحد ہو جائیں تو عالمی تجارتی توازن امریکہ کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم اس اتحاد کو عملی شکل دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں:
ز امریکہ کی برآمدات متاثر ہوں گی
ز ڈالر پر انحصار کم ہو سکتا ہے
ز نئی تجارتی راہیں کھلیں گی
ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف حملہ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کا امتحان بن چکا ہے۔ بھارت کے انکار نے یہ پیغام دیا ہے کہ اب یکطرفہ دباؤ کی پالیسی ہر جگہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وزیر اعظم کا مؤقف واضح ہے — "ملکی مفاد پہلے” — اور یہ مؤقف آنے والے مہینوں میں ایشیا اور دنیا کی معیشت پر دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔


