چنار کتاب میلہ :ڈیجیٹل شور میں کتابوں کا میلہ

خان سحرش

ڈل جھیل کے کنارے جب ہوا کے جھونکے چنار کے پتوں کو ہلکے ہلکے ہلاتے ہیں تو سری نگر کی فضا میں ایک الگ سی شاعری گھل جاتی ہے۔ اس بار یہ شاعری کاغذ اور سیاہی کی مہک کے ساتھ ملی جلی ہے، کیونکہ ایس کے آئی سی سی کے وسیع و شاندار ہالوں میں چنار بُک فیسٹیول 2025کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ یہ میلہ ۲ اگست سے شروع ہوا اور ۱۰ اگست تک جاری رہے گا، لیکن اس کا اثر اور یادیں شاید برسوں تک دلوں میں بسی رہیں گی۔
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں بچوں کی صبح فون یا ٹیبلٹ سے شروع ہوتی ہے اور رات اسی اسکرین کی چمک میں ختم۔ نوجوان سوشل میڈیا کی لامتناہی پوسٹس اور ویڈیوز میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں، اور بڑے بھی خبروں اور سیریز کے ہنگامے میں الجھ کر کتابوں سے دور ہو گئے ہیں۔
ایسے میںچنار بُک فیسٹیول ایک ایسی پناہ گاہ بن کر سامنے آیا ہے جہاں کوئی نوٹیفیکیشن بیچ میں نہیں ٹوکتا، جہاں کاغذ کی خوشبو اور ورق پلٹنے کی آواز دل کو ایک عجیب سکون دیتی ہے۔
فیسٹیول میں دو سو سے زائد ناشرین (پبلشرز) کے اسٹالز لگے ہیں۔ اردو، کشمیری اور ہندی ادب کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ یہاں کلاسیکی شاعری کے دیوان سے لے کر جدید افسانے، تحقیقاتی مضامین، سوانح حیات، اور بچوں کی تصویری کتابوں تک سب کچھ ہے۔
ایک اسٹال پر نوجوانوں کی بھیڑ تھی جہاں ایک مقامی مصنفہ اپنی پہلی کتاب کے دستخط شدہ نسخے فروخت کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا:
"یہ میلہ ہمارے جیسے نئے لکھاریوں کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں براہِ راست قارئین سے ملنا، ان کی آراء سننا، یہ سب کسی خواب سے کم نہیں۔”
اس بار کا ایک خاص پہلو شاردہ رسم الخط پر خصوصی نمائش ہے۔ یہ رسم الخط کبھی کشمیر میں علمی اور دفتری زبان کے طور پر استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔
ایک بزرگ شرکاء نمائش دیکھ کر رکے اور کہا:
"ہم نے بچپن میں اس میں خطوط لکھے پڑھے ہیں، آج کے بچے اس کا نام بھی نہیں جانتے۔ یہ فیسٹیول کم از کم انہیں یہ بتا رہا ہے کہ ہماری جڑیں کہاں ہیں۔”
فیسٹیول میں بچوں کے لیے الگ سیکشن بنایا گیا ہے۔ یہاں کہانی سنانے کے سیشن، تصویری کتابوں کے مقابلے، اور سائنسی ورکشاپس ہو رہی ہیں۔ بچے رنگ برنگے فرش پر بیٹھے، ہاتھ میں کتاب لیے، پوری توجہ سے سن رہے تھے — ایک منظر جو آج کے ڈیجیٹل زمانے میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو کتاب سے جوڑنے کے لیے ایسے ایونٹس عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جو کسی نصیحت سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
یہ میلہ صرف ماضی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ موجودہ اور آنے والے وقت کے اہم مسائل پر بھی مکالمے کا مرکز ہے۔ سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، اور ڈیجیٹل خواندگی جیسے موضوعات پر ماہرین کے لیکچرز ہوئے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کتاب کا کردار آج بھی اتنا ہی ضروری ہے، چاہے موضوع کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو۔
شام ڈھلتے ہی فیسٹیول ایک اور روپ دھار لیتا ہے۔ مشاعرے میں مقامی اور مہمان شعرا اپنی تازہ ترین تخلیقات سناتے ہیں، تو سامعین داد کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ لوک موسیقی کے پروگرام میں دمبرو اور رباب کی آواز ڈل جھیل کی لہروں کے ساتھ مل کر ایک جادو پیدا کرتی ہے۔
کئی نوجوان پہلی بار اپنی مادری زبان میں لائیو شاعری سن کر حیران تھے کہ یہ کتنا طاقتور تجربہ ہے۔
والدین کے لیے یہ فیسٹیول ایک نایاب موقع ہے۔ ایک ماں نے بتایا:
"میرے بیٹے کا دن کارٹونز اور ویڈیوز میں گزرتا ہے، مگر یہاں آ کر اس نے خود دو کتابیں خریدیں اور کہا کہ میں یہ آج ہی پڑھوں گا۔”
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ماحول کتاب دوست ہو تو بچے فطری طور پر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
فیسٹیول کے دوران ایک واقعہ خاصا زیرِ بحث رہا۔ پولیس نے چند اسٹالز سے ایسی کتابیں ضبط کیں جنہیں “تخریبی” یا “سب ورسیو” قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ مواد عوامی امن کے لیے خطرہ ہے، جبکہ کئی ادیبوں اور پبلشرز نے اسے سنسرشپ قرار دیا۔
یہ واقعہ اس سوال کو زندہ کرتا ہے کہ کیا کتابوں پر پابندی واقعی معاشرتی ہم آہنگی قائم کرتی ہے یا پھر اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اس میلے سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہوا۔ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بکنگ میں اضافہ ہوا، مقامی ریستورانوں میں گاہک بڑھے، اور ہینڈ کرافٹ فروشوں نے بھی اچھی کمائی کی۔
یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ ادبی سرگرمیاں صرف ذہنی غذا نہیں بلکہ معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
چنار بُک فیسٹیول دراصل اس پیغام کا مظہر ہے کہ کتاب آج بھی زندہ ہے، اور رہے گی، بشرطیکہ ہم اسے اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ اس میلے نے ثابت کیا کہ ڈیجیٹل ہنگاموں میں بھی لوگ اب بھی کتاب کے لمس، اس کی خوشبو، اور اس کے ساتھ جڑی یادوں سے محبت کرتے ہیں۔
سری نگر کے اس فیسٹیول نے نہ صرف کتاب کو واپس دلوں میں جگہ دی بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ادب، علم اور مکالمہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہیں۔ جب تک یہ بنیاد مضبوط ہے، تب تک اسکرین کا شور بھی کتاب کی خاموش طاقت کو دبا نہیں سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

چنار کتاب میلہ :ڈیجیٹل شور میں کتابوں کا میلہ

خان سحرش

ڈل جھیل کے کنارے جب ہوا کے جھونکے چنار کے پتوں کو ہلکے ہلکے ہلاتے ہیں تو سری نگر کی فضا میں ایک الگ سی شاعری گھل جاتی ہے۔ اس بار یہ شاعری کاغذ اور سیاہی کی مہک کے ساتھ ملی جلی ہے، کیونکہ ایس کے آئی سی سی کے وسیع و شاندار ہالوں میں چنار بُک فیسٹیول 2025کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ یہ میلہ ۲ اگست سے شروع ہوا اور ۱۰ اگست تک جاری رہے گا، لیکن اس کا اثر اور یادیں شاید برسوں تک دلوں میں بسی رہیں گی۔
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں بچوں کی صبح فون یا ٹیبلٹ سے شروع ہوتی ہے اور رات اسی اسکرین کی چمک میں ختم۔ نوجوان سوشل میڈیا کی لامتناہی پوسٹس اور ویڈیوز میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں، اور بڑے بھی خبروں اور سیریز کے ہنگامے میں الجھ کر کتابوں سے دور ہو گئے ہیں۔
ایسے میںچنار بُک فیسٹیول ایک ایسی پناہ گاہ بن کر سامنے آیا ہے جہاں کوئی نوٹیفیکیشن بیچ میں نہیں ٹوکتا، جہاں کاغذ کی خوشبو اور ورق پلٹنے کی آواز دل کو ایک عجیب سکون دیتی ہے۔
فیسٹیول میں دو سو سے زائد ناشرین (پبلشرز) کے اسٹالز لگے ہیں۔ اردو، کشمیری اور ہندی ادب کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی اور عربی زبانوں کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ یہاں کلاسیکی شاعری کے دیوان سے لے کر جدید افسانے، تحقیقاتی مضامین، سوانح حیات، اور بچوں کی تصویری کتابوں تک سب کچھ ہے۔
ایک اسٹال پر نوجوانوں کی بھیڑ تھی جہاں ایک مقامی مصنفہ اپنی پہلی کتاب کے دستخط شدہ نسخے فروخت کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایا:
"یہ میلہ ہمارے جیسے نئے لکھاریوں کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں براہِ راست قارئین سے ملنا، ان کی آراء سننا، یہ سب کسی خواب سے کم نہیں۔”
اس بار کا ایک خاص پہلو شاردہ رسم الخط پر خصوصی نمائش ہے۔ یہ رسم الخط کبھی کشمیر میں علمی اور دفتری زبان کے طور پر استعمال ہوتا تھا، مگر وقت کے ساتھ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔
ایک بزرگ شرکاء نمائش دیکھ کر رکے اور کہا:
"ہم نے بچپن میں اس میں خطوط لکھے پڑھے ہیں، آج کے بچے اس کا نام بھی نہیں جانتے۔ یہ فیسٹیول کم از کم انہیں یہ بتا رہا ہے کہ ہماری جڑیں کہاں ہیں۔”
فیسٹیول میں بچوں کے لیے الگ سیکشن بنایا گیا ہے۔ یہاں کہانی سنانے کے سیشن، تصویری کتابوں کے مقابلے، اور سائنسی ورکشاپس ہو رہی ہیں۔ بچے رنگ برنگے فرش پر بیٹھے، ہاتھ میں کتاب لیے، پوری توجہ سے سن رہے تھے — ایک منظر جو آج کے ڈیجیٹل زمانے میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو کتاب سے جوڑنے کے لیے ایسے ایونٹس عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں، جو کسی نصیحت سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
یہ میلہ صرف ماضی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ موجودہ اور آنے والے وقت کے اہم مسائل پر بھی مکالمے کا مرکز ہے۔ سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، اور ڈیجیٹل خواندگی جیسے موضوعات پر ماہرین کے لیکچرز ہوئے۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ کتاب کا کردار آج بھی اتنا ہی ضروری ہے، چاہے موضوع کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو۔
شام ڈھلتے ہی فیسٹیول ایک اور روپ دھار لیتا ہے۔ مشاعرے میں مقامی اور مہمان شعرا اپنی تازہ ترین تخلیقات سناتے ہیں، تو سامعین داد کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ لوک موسیقی کے پروگرام میں دمبرو اور رباب کی آواز ڈل جھیل کی لہروں کے ساتھ مل کر ایک جادو پیدا کرتی ہے۔
کئی نوجوان پہلی بار اپنی مادری زبان میں لائیو شاعری سن کر حیران تھے کہ یہ کتنا طاقتور تجربہ ہے۔
والدین کے لیے یہ فیسٹیول ایک نایاب موقع ہے۔ ایک ماں نے بتایا:
"میرے بیٹے کا دن کارٹونز اور ویڈیوز میں گزرتا ہے، مگر یہاں آ کر اس نے خود دو کتابیں خریدیں اور کہا کہ میں یہ آج ہی پڑھوں گا۔”
یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ماحول کتاب دوست ہو تو بچے فطری طور پر اس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
فیسٹیول کے دوران ایک واقعہ خاصا زیرِ بحث رہا۔ پولیس نے چند اسٹالز سے ایسی کتابیں ضبط کیں جنہیں “تخریبی” یا “سب ورسیو” قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ مواد عوامی امن کے لیے خطرہ ہے، جبکہ کئی ادیبوں اور پبلشرز نے اسے سنسرشپ قرار دیا۔
یہ واقعہ اس سوال کو زندہ کرتا ہے کہ کیا کتابوں پر پابندی واقعی معاشرتی ہم آہنگی قائم کرتی ہے یا پھر اختلافِ رائے کو دبانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
اس میلے سے مقامی معیشت کو بھی فائدہ ہوا۔ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی بکنگ میں اضافہ ہوا، مقامی ریستورانوں میں گاہک بڑھے، اور ہینڈ کرافٹ فروشوں نے بھی اچھی کمائی کی۔
یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ ادبی سرگرمیاں صرف ذہنی غذا نہیں بلکہ معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
چنار بُک فیسٹیول دراصل اس پیغام کا مظہر ہے کہ کتاب آج بھی زندہ ہے، اور رہے گی، بشرطیکہ ہم اسے اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ اس میلے نے ثابت کیا کہ ڈیجیٹل ہنگاموں میں بھی لوگ اب بھی کتاب کے لمس، اس کی خوشبو، اور اس کے ساتھ جڑی یادوں سے محبت کرتے ہیں۔
سری نگر کے اس فیسٹیول نے نہ صرف کتاب کو واپس دلوں میں جگہ دی بلکہ یہ بھی دکھایا کہ ادب، علم اور مکالمہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہیں۔ جب تک یہ بنیاد مضبوط ہے، تب تک اسکرین کا شور بھی کتاب کی خاموش طاقت کو دبا نہیں سکتا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں