چنار بک فیسٹیول میں ایک صدی قدیم ادبی و ثقافتی کتاب پر بصیرت افروز نشست

” کتاب ایک ایسا ادبی و ثقافتی ذخیرہ ہے جو زبانی روایات اور جدید قاری کے درمیان ایک پُل کا کام دیتی ہے”

عادل سلام

سرینگر/ جنگ نیوز ڈسیک / سرینگر میں جاری چنارکتاب میلے کے دوسرے سیزن کے دوران ایک نادر و نایاب کتاب”“Thirty Songs from the Punjab and Kashmir” پر منعقدہ نشست نے اہلِ علم و ادب کو ایک علمی و ثقافتی سفر پر محوِ حیرت کر دیا۔

یہ شاہکار پہلی بار 1913 میں لندن سے شائع ہوا، جسے مسز ایلس کوماراسوامی المعروف رتن دیوی نے مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ معروف اسکالر آنند کے۔ کوماراسوامی نے تحریر کیا، جبکہ پیش لفظ رابندر ناتھ ٹیگور نے قلم بند کیا۔ اس کتاب کا نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (IGNCA) نے 1994 میں اسٹرلنگ پبلشرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے شائع کیا، جس کی تدوین پریم لاتا شرما نے کی اور مقدمہ کپیلا واتسیاین نے لکھا۔

اس بصیرت افروز نشست میں جنوبی ایشیا کے ممتاز مورخین، محققین اور ادیب پروفیسر فاروق فیاض اور ڈاکٹر ستیش وِمل نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف صحافی بلال بشیر بٹ نے انجام دیے۔ابتدائی گفتگو میں بلال بشیربٹ نے کتاب کا ایک جامع تعارف پیش کیا اور اس کی ادبی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر ستیش وِمل نے کتاب میں شامل لوک گیتوں کی فکری و فنی جہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گیت،جو پنجابی، کشمیری، ڈوگری اور فارسی زبانوں میں ترتیب دیے گئے ہیں،محبت، جدائی، فطرت، روحانیت اور جیسے آفاقی موضوعات کو سمیٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نےکہا اس کتاب میں موسیقی کے جو سر اور لے کے نوٹیشنز دیے گئے ہیں، وہ غیر معمولی فنی باریکیوں کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں، جو کشمیری لوک موسیقی کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بجانے کے قابل بناتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم اس علمی ورثے کا اطلاق ممکن نہ بنا سکے۔

پروفیسر فاروق فیاض نے کتاب کے تاریخی اور لسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "اس کتاب میں شامل گیت محض نغمے نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی جھلکیاں ہیں۔ ان میں ماضی کی محبت، لوگوں کے احساسات اور ان کے تمدنی شعور کی پرتیں پوشیدہ ہیں۔”


دونوں ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ کتاب ایک سیکولر اور ہمہ جہت ثقافتی دستاویز ہے جو مذہب و ملت، نسل و زبان کی قیود سے ماورا ہے۔ ڈاکٹر ستیش وِمل نے کہا: "اس میں کسانوں کے لوک گیتوں سے لے کر شعری تخلیقات تک، ہر سطح کی تخلیقی جہتیں شامل ہیں، جو اسے ایک بے مثال (ethnographic) دستاویز بناتی ہیں۔”
اختتامی کلمات میں پروفیسر فاروق فیاض نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسا ادبی و ثقافتی ذخیرہ ہے جو زبانی روایات اور جدید قاری کے درمیان ایک پُل کا کام دیتی ہے اور پنجاب و کشمیر کی مشترکہ تہذیبی و جمالیاتی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے۔

نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ ہوا جس میں سامعین نے پینلسٹ حضرات سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ اس موقع پر IGNCA کی جانب سے معزز مہمانوں کی تقریبِ اعزاز بھی منعقد کی گئی۔
کتاب "تھرٹی سانگز فرام دی پنجاب اینڈ کشمیر” کی کاپیاں IGNCA کے اسٹال پر دستیاب ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

چنار بک فیسٹیول میں ایک صدی قدیم ادبی و ثقافتی کتاب پر بصیرت افروز نشست

” کتاب ایک ایسا ادبی و ثقافتی ذخیرہ ہے جو زبانی روایات اور جدید قاری کے درمیان ایک پُل کا کام دیتی ہے”

عادل سلام

سرینگر/ جنگ نیوز ڈسیک / سرینگر میں جاری چنارکتاب میلے کے دوسرے سیزن کے دوران ایک نادر و نایاب کتاب”“Thirty Songs from the Punjab and Kashmir” پر منعقدہ نشست نے اہلِ علم و ادب کو ایک علمی و ثقافتی سفر پر محوِ حیرت کر دیا۔

یہ شاہکار پہلی بار 1913 میں لندن سے شائع ہوا، جسے مسز ایلس کوماراسوامی المعروف رتن دیوی نے مرتب کیا تھا۔ اس کا دیباچہ معروف اسکالر آنند کے۔ کوماراسوامی نے تحریر کیا، جبکہ پیش لفظ رابندر ناتھ ٹیگور نے قلم بند کیا۔ اس کتاب کا نظرِ ثانی شدہ ایڈیشن اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس (IGNCA) نے 1994 میں اسٹرلنگ پبلشرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے شائع کیا، جس کی تدوین پریم لاتا شرما نے کی اور مقدمہ کپیلا واتسیاین نے لکھا۔

اس بصیرت افروز نشست میں جنوبی ایشیا کے ممتاز مورخین، محققین اور ادیب پروفیسر فاروق فیاض اور ڈاکٹر ستیش وِمل نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض معروف صحافی بلال بشیر بٹ نے انجام دیے۔ابتدائی گفتگو میں بلال بشیربٹ نے کتاب کا ایک جامع تعارف پیش کیا اور اس کی ادبی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں ڈاکٹر ستیش وِمل نے کتاب میں شامل لوک گیتوں کی فکری و فنی جہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گیت،جو پنجابی، کشمیری، ڈوگری اور فارسی زبانوں میں ترتیب دیے گئے ہیں،محبت، جدائی، فطرت، روحانیت اور جیسے آفاقی موضوعات کو سمیٹے ہوئے ہیں۔

انہوں نےکہا اس کتاب میں موسیقی کے جو سر اور لے کے نوٹیشنز دیے گئے ہیں، وہ غیر معمولی فنی باریکیوں کے ساتھ مرتب کیے گئے ہیں، جو کشمیری لوک موسیقی کو دنیا کے کسی بھی کونے میں بجانے کے قابل بناتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم اس علمی ورثے کا اطلاق ممکن نہ بنا سکے۔

پروفیسر فاروق فیاض نے کتاب کے تاریخی اور لسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "اس کتاب میں شامل گیت محض نغمے نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کی جھلکیاں ہیں۔ ان میں ماضی کی محبت، لوگوں کے احساسات اور ان کے تمدنی شعور کی پرتیں پوشیدہ ہیں۔”


دونوں ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ کتاب ایک سیکولر اور ہمہ جہت ثقافتی دستاویز ہے جو مذہب و ملت، نسل و زبان کی قیود سے ماورا ہے۔ ڈاکٹر ستیش وِمل نے کہا: "اس میں کسانوں کے لوک گیتوں سے لے کر شعری تخلیقات تک، ہر سطح کی تخلیقی جہتیں شامل ہیں، جو اسے ایک بے مثال (ethnographic) دستاویز بناتی ہیں۔”
اختتامی کلمات میں پروفیسر فاروق فیاض نے کہا کہ یہ کتاب ایک ایسا ادبی و ثقافتی ذخیرہ ہے جو زبانی روایات اور جدید قاری کے درمیان ایک پُل کا کام دیتی ہے اور پنجاب و کشمیر کی مشترکہ تہذیبی و جمالیاتی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے۔

نشست کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ ہوا جس میں سامعین نے پینلسٹ حضرات سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے۔ اس موقع پر IGNCA کی جانب سے معزز مہمانوں کی تقریبِ اعزاز بھی منعقد کی گئی۔
کتاب "تھرٹی سانگز فرام دی پنجاب اینڈ کشمیر” کی کاپیاں IGNCA کے اسٹال پر دستیاب ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں