اساتذہ کو درپیش جدید مسائل

 

 

حافظ میر ابراھیم سلفی

فرمان ربانی ہے کہ ،”يُؤۡتِىۡ الۡحِكۡمَةَ مَنۡ يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَنۡ يُّؤۡتَ الۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ اُوۡتِىَ خَيۡرًا كَثِيۡرًا‌ ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوۡا الۡاَلۡبَابِ‏ ". ترجمہ ،”اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے”.(سورۃ البقرہ)
اساتذہ کرام کی عظمت کا کیا کہنا ۔قوم و ملت کی اساس اساتذہ کے نبھائے ہوئے کردار پر ہوتی ہے ۔معلمین و معلمات پیغمبرانہ مشن کی آبیاری کرتے ہوئے اپنا خون پسینہ ایک کردیتے ہیں۔ماضی قریب تک اساتذہ کی عزت و آبرو ہر شر سے محفوظ تھی ۔قوم و ملت کو اس بات کا شعور تھا کہ اساتذہ کرام تحفظ مستقبل میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔بچوں کے والدین بھی اساتذہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اساتذہ کے سامنے آواز بلند کرے ۔۔۔اساتذہ پر ہاتھ اٹھانے کا تصور بھی نہیں تھا۔مدرسین کی خدمت کرنا لوگ عبادت سمجھتے تھے ۔ ۔اول تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض نا اہل بھی تلاش روزگار کے سلسلے میں اس میدان میں آگئے جس کے سنگین نتائج آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں ۔لیکن ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اکثریت ایسے اساتذہ کی ہے جو اپنے شب و روز طلاب علم کا مستقبل سنوارنے میں گزارتے ہیں ۔خصوصاً پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے اساتذہ جو قلیل تنخواہ پر ہی اپنی ساری صلاحیت صرف کرکے بچوں کی زندگی روشن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔
لیکن وقت نے کروٹ بدلی اور اس قدر بدلی کہ اساتذہ کو فقط robot جتنی اہمیت دی گئی بلکہ اس سے بھی کم ۔اساتذہ کو اپنے اشاروں پر نچانا والدین اور طلاب علم کی عادت بن گئی ہے اور طلاب علم اس مصیبت کا شکار اس وجہ سے ہوئے کیونکہ والدین کے دلوں میں اساتذہ کی عظمت ختم ہوچکی ہے ۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ،”فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم”. ترجمہ ،”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے”.(قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (213 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (1 / 60)
ماضی قریب میں صبح کی شروعات ہی اس نغمے سے کی جاتی تھی
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
اساتذہ کی ڈانٹ باعث رحمت تصور کی جاتی تھی اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اساتذہ کبھی بھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے بچے پر ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔منصب رسالت کی آبیاری کرنے والے والدین سے کئی زیادہ بچے پر اپنی صلاحیتیں نچھاور کرنے والے ہوتے ہیں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ corporal punishment سے پرہیز کرنا چاہئے بلکہ اب تو حکومتی سطح پر بھی اسے قابل گرفت بیان کیا گیا ہے ۔لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ بچوں میں پنپتی ہوئی برائیوں کو دیکھ کر خاموش رہے ؟ ہر گز نہیں ۔بلکہ اساتذہ پر واجب ہے کہ طلاب علم کی تربیت احسن طریقے سے کریں۔تعلیمی ادارہ تربیت گاہ بھی ہوتا ہے جہاں انسان سے اخلاق سیئہ دور کرکے انسان کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔تعلیمی ادارے کا مقصد فقط حصول تعلیم نہیں بلکہ تعمیر کردار بھی ہے۔لیکن کافی حد تک یہ حق بھی اساتذہ سے چھین لیا گیا ہے ۔اساتذہ کی بنیادی زمہ داریوں میں بچوں کی councelling کرنا بھی ہے۔طلاب علم کو آنے والے اور عصری فتنوں سے باخبر کرکے انہیں بچنے کی راہوں سے آگاہ کرنا بھی اساتذہ کی زمہ داریوں میں شامل ہے۔دس ہزار پر کام کرنے والا یہ استاذ یہ سب کچھ کرتا ہے لیکن انعام میں اسے کیا ملتا ہے؟ والدین کی گالیاں ۔۔۔۔بچوں کے طعنے ۔۔۔۔ہر طرف سے استاذ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچے گھر میں والدین کے سامنے اکثر کذب بیانی اور حقائق کے خلاف بیان دیتے ہیں جس کی تحقیق لازم تھی لیکن والدین تحقیق نہ کرنے یکطرفہ بیان سن کر اساتذہ کی عزت و آبرو کو سر بازار نیلام کرتے ہیں ۔۔۔یہ کیسا انصاف ہے؟؟
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
اساتذہ کرام کن مسائل سے گزرتے ہیں ان چیزوں سے دنیا غافل ہے۔حیرانگی تب ہوتی ہے جب Facebook journalists اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اساتذہ کے متعلق جھوٹی خبروں کی ترویج کرکے اپنی TRP بڑانے میں لگ جاتے ہیں ۔صحافت جیسا عظیم منصب ان بے سند journalists کی وجہ سے کافی حد تک داغدار ہوگیا جیسا کہ اہل شعور اس بات سے باخبر ہیں۔والدین کی خوش قسمتی ہے اگر کوئی استاد آپ کے بچے کے کردار کی فکر کرتا ہے ۔والدین سعادت مند ہیں اگر اساتذہ آپ کے بچوں کی اخلاقی گراوٹ کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔منشیات کے سیلاب نے ہمارے بچوں کی زندگی کو تباہ کرنے میں کوئی کمی نہیں رکھی ۔۔آئے روز جرائم کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے ۔اخلاقی بحران اپنے عروج پر ہے۔ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ عظمت جس شعبے کی بڑھ جاتی ہے وہ اساتذہ کا شعبہ ہی ہے۔لہذا وقت رہتے اساتذہ کی حوصلہ شکنی سے باز آجائیں ورنہ اس کی قیمت قوم و ملت کے مستقبل کے بگاڑ کی صورت میں ادا کرنی ہوگی ۔ابھی بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اس مادہ پرستی کے دور میں بھی طلاب علم کے دین و ایمان کے تحفظ میں کوشاں ہیں والحمد للہ۔تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے الحاد کے اس دور میں بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو طلاب علم کو ایمانیات و عبادات کی تربیت دے کر قوم و ملت کی خدمت کررہے ہیں ۔اس کے جواب میں طالب علم ہی غلط افراد کی صحبت میں آکر مختلف سوشل میڈیا ذرائع سے اساتذہ کی بدنامی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔لیکن والدین اس سب سے بے خبر ہیں ۔ہائے حسرت۔۔۔۔۔۔!
اساتذہ کی عظمت کا اندازہ اس اثر سے لگایا جاسکتا ہے ۔امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ کے شاگردوں میں ہیں ، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک ؒکے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے ، کہ کہیں آپ کو بارِ خاطر نہ ہو ۔(تذکرۃ السامع و ا لمتکلم ، ص : ۸۷) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ،”اگر میرے طلبہ پر ایک مکھی بھی بیٹھ جاتی ہے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے”.(تذکرۃ السامع ،ص : ۴۹)امام شافعی رحمہ اللہ حصول علم کے لئے کوفہ اس حال میں پہنچے کہ نہایت ہی معمولی کپڑا آپ کے جسم پر تھا ، امام محمد رحمہ اللہ نے اسی وقت ایک قیمتی جوڑے کا انتظام فرمایا ، جو ایک ہزار درہم قیمت کا تھا ، پھر جب امام شافعی کورخصت کیا تو اپنی پوری نقدی جمع کر کے تین ہزار درہم انھیں حوالہ کئے”.(جامع بیان العلم لابن عبد البر)امام یحییٰ بن معین بہت بڑے محدث تھے امام بخاری رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ محدثین کا جتنا احترام وہ کرتے تھے اتنا کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ "امام ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو استاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا”.(تعلیم المتعلم 22)
بحیثیت ایک استاد ۔۔راقم والدین کی خدمت میں کچھ گذارشات رکھ رہا ہے تاکہ والدین اپنی زمہ داریوں سے آگاہ ہوجائیں۔
(1)بچوں کی کہی ہوئی باتوں کی مکمل تحقیق کریں تاکہ آپ کسی پر ظلم کرنے سے بچیں ورنہ عند اللہ آپ مجرم ہیں۔
(2) ہمیشہ اساتذہ کے رابطے میں رہیں تاکہ بچے کی کارکردگی کا علم آپ کو رہے اور ہر غلط فہمی سے بچا جاسکے ۔
(3)بے تحاشا پیسوں سے اپنے بچوں کو دور رکھیں۔ضرورت سے زیادہ پیسہ آپ کے بچے کو ان راہوں سے متعارف کراتا ہے جن سے غافل رہنا ہی اس کے لئے نفع بخش تھا۔عرب کے یہاں یہ ابیات کافی معروف ہیں کہ ،”ليس اليتيم من مات والده
إن اليتيم يتيم العلم والأدب”
ترجمہ:”حقیقی یتیم وہ نہیں جس کا والد فوت ہوگیا ہو بلکہ حقیقی یتیم تو وہ ہے جو علم و ادب سے محروم رہا”.
(4)اپنے بچوں کو بلا ضرورت سمارٹ فون کا استعمال نہ کرنے دیں ۔اگر کر رہے ہیں تو مسلسل ان کی Data history چیک کرتے رہیں تاکہ آپ کے بچے کو چار دیواری میں رہ کر ہی ایمان سے محروم نہ کیا جائے ۔آپ کے بچوں کی خلوت پر داغ لگ سکتا ہے اگر ان کی تنہائی پاک رکھنے کی کوشش نہ کی گئی ۔فرمان پروردگار ہے کہ ،”الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ”.(سورۃ یس) ترجمہ ،”آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے”.
(5)جب بھی موقع ملے ۔۔۔بہترین نصائح سے اپنی اولاد کو مستفید کریں ۔کیونکہ آپ کا بچہ فقط پانچ سے چھ گھنٹے ہی اساتذہ کی نگرانی میں رہتا ہے جب کہ باقی اٹھارہ گھنٹے بچہ آپ کی سرپرستی میں اپنے شب و روز گزارتا ہے ۔آپ نگران ہیں اور آپ کو اپنی نگرانی کے لئے پوچھا جائے گا جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ،”أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”. ترجمہ "آگاہ ہوجاؤ! تم میں سے ہرشخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا”.(صحیح مسلم)
(6) بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی غیر شائستہ حرکت نہ کریں۔جیسے تمباکو نوشی ،گھریلو تنازعات پر لب کشائی وغیرہ ۔
(7) والدین سے تاکیداً التماس ہے کہ اپنے بچوں کو صباحی و مسائی درسگاہوں میں داخل کریں ۔عصری علوم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے بھی منور کریں۔تاکہ آپ کا بچہ آپ کے لئے ذخیرہ آخرت بنے۔
(8) اسکول سے واپس آنے کے بعد آپ کا بچہ کن کے ساتھ اٹھتا اور بیٹھتا ہے ،اس پر نظر رکھیں کیونکہ صحبت اثر کر جاتی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ،”الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُر أَحَدُكُم مَنْ يُخَالِل”. ترجمہ "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے”۔(ابوداؤد ،مسند احمد) آپ کا بچہ کن کے ساتھ سوشل میڈیا پر جڑا ہے ،بڑی باریکی سے اس پر نظر رکھیں۔جیسا کہ کہا گیا ہے
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالع ترا طالع کند
(یعنی نیک اور صالح فرد کی صحبت اور دوستی صالحیت اور پرہیز گاری کا باعث بنتی ہے اور برے افراد کی صحبت بھی برائی کی طرف لے جاتی ہے)
(9) اس بات کو ذہن نشین کریں کہ ہم کتنا بھی دنیاوی لحاظ سے نام کما لیں ہماری کامیابی اور پاکیزگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہی ہے۔زمینی حقائق کی بات کریں تو ہمارے بچے اسلام کی بنیادی لوازمات سے بھی لاعلم ہوتے ہیں جبکہ دیگر معاملات (جیسے کھیل کود ، Bollywood, Hollywood، BTS) وغیرہ میں کافی آگے کی معلومات رکھتے ہیں ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری ترجیحات قابل غور ہیں۔
(10) عصری تعلیم کے بنیادی تین ارکان ہیں۔(اساتذہ ،والدین اور طالب علم) تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لئے تینوں ارکان کا آپس میں متحد رہنا لازمی ہے ۔ہر چیز کو پیسوں میں تولنے کی غلطی نہ کریں۔اساتذہ کر انتھک محنت لاثانی و انمول ہے۔
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
(11) طلباء و طالبات جب اپنے گھروں سے اسکول نکلے تب بھی والدین بستہ کی جانچ کرے اور جب بچہ اسکول سے واپس گھر جائے اس وقت بھی والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کے بستے (school bag) کی مخفی طریقے سے تلاشی لے۔جان لیجئے کہ آپ کا بچہ قابل اعتماد ہوسکتا ہے ،آپ کی تربیت بھی اعلی ہے لیکن سماج میں آپ کے بچے کہ معصومیت لوٹنے والے رحزن بھی موجود ہیں جس کا مشاہدہ ہم کرچکے ہیں۔
(12)اپنے بچوں کا تعلق مساجد کے ساتھ جوڑیں ۔مساجد سے جڑنے کے لاتعداد فوائد ہیں خصوصاً آپ کے بچے کی روحانی تربیت میں اللہ تعالیٰ آپ کا معاون ہوگا۔ان شاء اللہ ۔
عزیز قارئین! راقم کے پاس اس بات کا اچھا خاصہ تجربہ ہے کہ عصر حاضر کے طلباء فتنوں کی آندھی میں بہت دور تک راہ راست سے ہٹ چکے ہیں ۔ایسی صورتحال میں زمہ داری اور زیادہ بڑ گئی ہے ۔جبکہ راقم کی نظروں کے سامنے ایسے مربی استاتذہ بھی ہیں جو بچوں کے طعنے سن کر بھی ،والدین کی طرف سے آئے ہوئے منفی تاثرات جان کر بھی صبرو تحمل کے ساتھ طلباء و طالبات کی تعمیر کردار میں صف اول میں کھڑے ہیں۔مبالغے کے بغیر اگر ایسے اساتذہ کے پاؤں دھو کر بھی حق ادائگی کا دعویٰ کیا جائے تو غلط ہوگا۔سلامت رہے اس چمن کے محافظ ۔(آمین) اسی طرح راقم کی نگاہوں کے سامنے ایسی معلمات و مدرسات بھی ہیں جنہوں نے فحاشی و عریانی کے اس دور میں اپنے گفتار و کردار سے بالغ مسلم بچیوں کی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہ رکھی۔ایسی معلمات شرم و حیا کا پیکر ہیں ۔عظمت کردار کی زندہ مثال ہیں ۔شرعی احکامات کی عملی تفسیر ہے۔عصر حاضر میں کوئی معلمہ سیرت فاطمہ و عائشہ پر عمل پیرا ہو ،ایسی معلمہ و مدرسہ طالبات کے لئے یقیناً نعمت الہیٰ و رحمت باری ہے۔والحمد للہ۔جنکے گفتار و کردار کو دیکھ کر زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
علاجِ درد میں بھی درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں
جو تھے چھالوں میں کانٹے، نوکِ سوزن سے نکالے ہیں
پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں
( ڈاکٹر اقبال )
رب العزت سے دعا ہے کہ اساتذہ کی عزت کی حفاظت کرے اور ہمیں انکی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

اساتذہ کو درپیش جدید مسائل

 

 

حافظ میر ابراھیم سلفی

فرمان ربانی ہے کہ ،”يُؤۡتِىۡ الۡحِكۡمَةَ مَنۡ يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَنۡ يُّؤۡتَ الۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ اُوۡتِىَ خَيۡرًا كَثِيۡرًا‌ ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوۡا الۡاَلۡبَابِ‏ ". ترجمہ ،”اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے”.(سورۃ البقرہ)
اساتذہ کرام کی عظمت کا کیا کہنا ۔قوم و ملت کی اساس اساتذہ کے نبھائے ہوئے کردار پر ہوتی ہے ۔معلمین و معلمات پیغمبرانہ مشن کی آبیاری کرتے ہوئے اپنا خون پسینہ ایک کردیتے ہیں۔ماضی قریب تک اساتذہ کی عزت و آبرو ہر شر سے محفوظ تھی ۔قوم و ملت کو اس بات کا شعور تھا کہ اساتذہ کرام تحفظ مستقبل میں کتنا اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔بچوں کے والدین بھی اساتذہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ہمت نہیں ہوتی تھی کہ اساتذہ کے سامنے آواز بلند کرے ۔۔۔اساتذہ پر ہاتھ اٹھانے کا تصور بھی نہیں تھا۔مدرسین کی خدمت کرنا لوگ عبادت سمجھتے تھے ۔ ۔اول تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض نا اہل بھی تلاش روزگار کے سلسلے میں اس میدان میں آگئے جس کے سنگین نتائج آئے روز دیکھنے کو ملتے ہیں ۔لیکن ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اکثریت ایسے اساتذہ کی ہے جو اپنے شب و روز طلاب علم کا مستقبل سنوارنے میں گزارتے ہیں ۔خصوصاً پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے اساتذہ جو قلیل تنخواہ پر ہی اپنی ساری صلاحیت صرف کرکے بچوں کی زندگی روشن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔
لیکن وقت نے کروٹ بدلی اور اس قدر بدلی کہ اساتذہ کو فقط robot جتنی اہمیت دی گئی بلکہ اس سے بھی کم ۔اساتذہ کو اپنے اشاروں پر نچانا والدین اور طلاب علم کی عادت بن گئی ہے اور طلاب علم اس مصیبت کا شکار اس وجہ سے ہوئے کیونکہ والدین کے دلوں میں اساتذہ کی عظمت ختم ہوچکی ہے ۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ،”فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم”. ترجمہ ،”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے”.(قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (213 / التحقيق الثاني)، التعليق الرغيب (1 / 60)
ماضی قریب میں صبح کی شروعات ہی اس نغمے سے کی جاتی تھی
ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت
ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت
اساتذہ کی ڈانٹ باعث رحمت تصور کی جاتی تھی اور حقیقت بھی یہی ہے کیونکہ اساتذہ کبھی بھی اپنے ذاتی مفاد کے لئے بچے پر ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔منصب رسالت کی آبیاری کرنے والے والدین سے کئی زیادہ بچے پر اپنی صلاحیتیں نچھاور کرنے والے ہوتے ہیں ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ corporal punishment سے پرہیز کرنا چاہئے بلکہ اب تو حکومتی سطح پر بھی اسے قابل گرفت بیان کیا گیا ہے ۔لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اساتذہ بچوں میں پنپتی ہوئی برائیوں کو دیکھ کر خاموش رہے ؟ ہر گز نہیں ۔بلکہ اساتذہ پر واجب ہے کہ طلاب علم کی تربیت احسن طریقے سے کریں۔تعلیمی ادارہ تربیت گاہ بھی ہوتا ہے جہاں انسان سے اخلاق سیئہ دور کرکے انسان کو اخلاق جمیلہ سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔تعلیمی ادارے کا مقصد فقط حصول تعلیم نہیں بلکہ تعمیر کردار بھی ہے۔لیکن کافی حد تک یہ حق بھی اساتذہ سے چھین لیا گیا ہے ۔اساتذہ کی بنیادی زمہ داریوں میں بچوں کی councelling کرنا بھی ہے۔طلاب علم کو آنے والے اور عصری فتنوں سے باخبر کرکے انہیں بچنے کی راہوں سے آگاہ کرنا بھی اساتذہ کی زمہ داریوں میں شامل ہے۔دس ہزار پر کام کرنے والا یہ استاذ یہ سب کچھ کرتا ہے لیکن انعام میں اسے کیا ملتا ہے؟ والدین کی گالیاں ۔۔۔۔بچوں کے طعنے ۔۔۔۔ہر طرف سے استاذ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بچے گھر میں والدین کے سامنے اکثر کذب بیانی اور حقائق کے خلاف بیان دیتے ہیں جس کی تحقیق لازم تھی لیکن والدین تحقیق نہ کرنے یکطرفہ بیان سن کر اساتذہ کی عزت و آبرو کو سر بازار نیلام کرتے ہیں ۔۔۔یہ کیسا انصاف ہے؟؟
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
اساتذہ کرام کن مسائل سے گزرتے ہیں ان چیزوں سے دنیا غافل ہے۔حیرانگی تب ہوتی ہے جب Facebook journalists اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اساتذہ کے متعلق جھوٹی خبروں کی ترویج کرکے اپنی TRP بڑانے میں لگ جاتے ہیں ۔صحافت جیسا عظیم منصب ان بے سند journalists کی وجہ سے کافی حد تک داغدار ہوگیا جیسا کہ اہل شعور اس بات سے باخبر ہیں۔والدین کی خوش قسمتی ہے اگر کوئی استاد آپ کے بچے کے کردار کی فکر کرتا ہے ۔والدین سعادت مند ہیں اگر اساتذہ آپ کے بچوں کی اخلاقی گراوٹ کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔منشیات کے سیلاب نے ہمارے بچوں کی زندگی کو تباہ کرنے میں کوئی کمی نہیں رکھی ۔۔آئے روز جرائم کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے ۔اخلاقی بحران اپنے عروج پر ہے۔ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ عظمت جس شعبے کی بڑھ جاتی ہے وہ اساتذہ کا شعبہ ہی ہے۔لہذا وقت رہتے اساتذہ کی حوصلہ شکنی سے باز آجائیں ورنہ اس کی قیمت قوم و ملت کے مستقبل کے بگاڑ کی صورت میں ادا کرنی ہوگی ۔ابھی بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو اس مادہ پرستی کے دور میں بھی طلاب علم کے دین و ایمان کے تحفظ میں کوشاں ہیں والحمد للہ۔تیز رفتاری سے بڑھتے ہوئے الحاد کے اس دور میں بھی ایسے اساتذہ موجود ہیں جو طلاب علم کو ایمانیات و عبادات کی تربیت دے کر قوم و ملت کی خدمت کررہے ہیں ۔اس کے جواب میں طالب علم ہی غلط افراد کی صحبت میں آکر مختلف سوشل میڈیا ذرائع سے اساتذہ کی بدنامی کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔لیکن والدین اس سب سے بے خبر ہیں ۔ہائے حسرت۔۔۔۔۔۔!
اساتذہ کی عظمت کا اندازہ اس اثر سے لگایا جاسکتا ہے ۔امام شافعی رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ کے شاگردوں میں ہیں ، کہتے ہیں کہ جب میں امام مالک ؒکے سامنے ورق پلٹتا تو بہت نرمی سے ، کہ کہیں آپ کو بارِ خاطر نہ ہو ۔(تذکرۃ السامع و ا لمتکلم ، ص : ۸۷) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ،”اگر میرے طلبہ پر ایک مکھی بھی بیٹھ جاتی ہے تو مجھے تکلیف ہوتی ہے”.(تذکرۃ السامع ،ص : ۴۹)امام شافعی رحمہ اللہ حصول علم کے لئے کوفہ اس حال میں پہنچے کہ نہایت ہی معمولی کپڑا آپ کے جسم پر تھا ، امام محمد رحمہ اللہ نے اسی وقت ایک قیمتی جوڑے کا انتظام فرمایا ، جو ایک ہزار درہم قیمت کا تھا ، پھر جب امام شافعی کورخصت کیا تو اپنی پوری نقدی جمع کر کے تین ہزار درہم انھیں حوالہ کئے”.(جامع بیان العلم لابن عبد البر)امام یحییٰ بن معین بہت بڑے محدث تھے امام بخاری رحمہ اللہ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ محدثین کا جتنا احترام وہ کرتے تھے اتنا کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ "امام ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو استاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہیں ہوتا”.(تعلیم المتعلم 22)
بحیثیت ایک استاد ۔۔راقم والدین کی خدمت میں کچھ گذارشات رکھ رہا ہے تاکہ والدین اپنی زمہ داریوں سے آگاہ ہوجائیں۔
(1)بچوں کی کہی ہوئی باتوں کی مکمل تحقیق کریں تاکہ آپ کسی پر ظلم کرنے سے بچیں ورنہ عند اللہ آپ مجرم ہیں۔
(2) ہمیشہ اساتذہ کے رابطے میں رہیں تاکہ بچے کی کارکردگی کا علم آپ کو رہے اور ہر غلط فہمی سے بچا جاسکے ۔
(3)بے تحاشا پیسوں سے اپنے بچوں کو دور رکھیں۔ضرورت سے زیادہ پیسہ آپ کے بچے کو ان راہوں سے متعارف کراتا ہے جن سے غافل رہنا ہی اس کے لئے نفع بخش تھا۔عرب کے یہاں یہ ابیات کافی معروف ہیں کہ ،”ليس اليتيم من مات والده
إن اليتيم يتيم العلم والأدب”
ترجمہ:”حقیقی یتیم وہ نہیں جس کا والد فوت ہوگیا ہو بلکہ حقیقی یتیم تو وہ ہے جو علم و ادب سے محروم رہا”.
(4)اپنے بچوں کو بلا ضرورت سمارٹ فون کا استعمال نہ کرنے دیں ۔اگر کر رہے ہیں تو مسلسل ان کی Data history چیک کرتے رہیں تاکہ آپ کے بچے کو چار دیواری میں رہ کر ہی ایمان سے محروم نہ کیا جائے ۔آپ کے بچوں کی خلوت پر داغ لگ سکتا ہے اگر ان کی تنہائی پاک رکھنے کی کوشش نہ کی گئی ۔فرمان پروردگار ہے کہ ،”الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ”.(سورۃ یس) ترجمہ ،”آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے”.
(5)جب بھی موقع ملے ۔۔۔بہترین نصائح سے اپنی اولاد کو مستفید کریں ۔کیونکہ آپ کا بچہ فقط پانچ سے چھ گھنٹے ہی اساتذہ کی نگرانی میں رہتا ہے جب کہ باقی اٹھارہ گھنٹے بچہ آپ کی سرپرستی میں اپنے شب و روز گزارتا ہے ۔آپ نگران ہیں اور آپ کو اپنی نگرانی کے لئے پوچھا جائے گا جیسا کہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ،”أَلاَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ”. ترجمہ "آگاہ ہوجاؤ! تم میں سے ہرشخص حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا”.(صحیح مسلم)
(6) بچوں کے سامنے کبھی بھی کوئی غیر شائستہ حرکت نہ کریں۔جیسے تمباکو نوشی ،گھریلو تنازعات پر لب کشائی وغیرہ ۔
(7) والدین سے تاکیداً التماس ہے کہ اپنے بچوں کو صباحی و مسائی درسگاہوں میں داخل کریں ۔عصری علوم کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے بھی منور کریں۔تاکہ آپ کا بچہ آپ کے لئے ذخیرہ آخرت بنے۔
(8) اسکول سے واپس آنے کے بعد آپ کا بچہ کن کے ساتھ اٹھتا اور بیٹھتا ہے ،اس پر نظر رکھیں کیونکہ صحبت اثر کر جاتی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ،”الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُر أَحَدُكُم مَنْ يُخَالِل”. ترجمہ "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے”۔(ابوداؤد ،مسند احمد) آپ کا بچہ کن کے ساتھ سوشل میڈیا پر جڑا ہے ،بڑی باریکی سے اس پر نظر رکھیں۔جیسا کہ کہا گیا ہے
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالع ترا طالع کند
(یعنی نیک اور صالح فرد کی صحبت اور دوستی صالحیت اور پرہیز گاری کا باعث بنتی ہے اور برے افراد کی صحبت بھی برائی کی طرف لے جاتی ہے)
(9) اس بات کو ذہن نشین کریں کہ ہم کتنا بھی دنیاوی لحاظ سے نام کما لیں ہماری کامیابی اور پاکیزگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہی ہے۔زمینی حقائق کی بات کریں تو ہمارے بچے اسلام کی بنیادی لوازمات سے بھی لاعلم ہوتے ہیں جبکہ دیگر معاملات (جیسے کھیل کود ، Bollywood, Hollywood، BTS) وغیرہ میں کافی آگے کی معلومات رکھتے ہیں ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری ترجیحات قابل غور ہیں۔
(10) عصری تعلیم کے بنیادی تین ارکان ہیں۔(اساتذہ ،والدین اور طالب علم) تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لئے تینوں ارکان کا آپس میں متحد رہنا لازمی ہے ۔ہر چیز کو پیسوں میں تولنے کی غلطی نہ کریں۔اساتذہ کر انتھک محنت لاثانی و انمول ہے۔
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
(11) طلباء و طالبات جب اپنے گھروں سے اسکول نکلے تب بھی والدین بستہ کی جانچ کرے اور جب بچہ اسکول سے واپس گھر جائے اس وقت بھی والدین کو چاہئے کہ اپنے بچے کے بستے (school bag) کی مخفی طریقے سے تلاشی لے۔جان لیجئے کہ آپ کا بچہ قابل اعتماد ہوسکتا ہے ،آپ کی تربیت بھی اعلی ہے لیکن سماج میں آپ کے بچے کہ معصومیت لوٹنے والے رحزن بھی موجود ہیں جس کا مشاہدہ ہم کرچکے ہیں۔
(12)اپنے بچوں کا تعلق مساجد کے ساتھ جوڑیں ۔مساجد سے جڑنے کے لاتعداد فوائد ہیں خصوصاً آپ کے بچے کی روحانی تربیت میں اللہ تعالیٰ آپ کا معاون ہوگا۔ان شاء اللہ ۔
عزیز قارئین! راقم کے پاس اس بات کا اچھا خاصہ تجربہ ہے کہ عصر حاضر کے طلباء فتنوں کی آندھی میں بہت دور تک راہ راست سے ہٹ چکے ہیں ۔ایسی صورتحال میں زمہ داری اور زیادہ بڑ گئی ہے ۔جبکہ راقم کی نظروں کے سامنے ایسے مربی استاتذہ بھی ہیں جو بچوں کے طعنے سن کر بھی ،والدین کی طرف سے آئے ہوئے منفی تاثرات جان کر بھی صبرو تحمل کے ساتھ طلباء و طالبات کی تعمیر کردار میں صف اول میں کھڑے ہیں۔مبالغے کے بغیر اگر ایسے اساتذہ کے پاؤں دھو کر بھی حق ادائگی کا دعویٰ کیا جائے تو غلط ہوگا۔سلامت رہے اس چمن کے محافظ ۔(آمین) اسی طرح راقم کی نگاہوں کے سامنے ایسی معلمات و مدرسات بھی ہیں جنہوں نے فحاشی و عریانی کے اس دور میں اپنے گفتار و کردار سے بالغ مسلم بچیوں کی تربیت کرنے میں کوئی کمی نہ رکھی۔ایسی معلمات شرم و حیا کا پیکر ہیں ۔عظمت کردار کی زندہ مثال ہیں ۔شرعی احکامات کی عملی تفسیر ہے۔عصر حاضر میں کوئی معلمہ سیرت فاطمہ و عائشہ پر عمل پیرا ہو ،ایسی معلمہ و مدرسہ طالبات کے لئے یقیناً نعمت الہیٰ و رحمت باری ہے۔والحمد للہ۔جنکے گفتار و کردار کو دیکھ کر زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
علاجِ درد میں بھی درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں
جو تھے چھالوں میں کانٹے، نوکِ سوزن سے نکالے ہیں
پھلا پھُولا رہے یا رب! چمن میری اُمیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں
( ڈاکٹر اقبال )
رب العزت سے دعا ہے کہ اساتذہ کی عزت کی حفاظت کرے اور ہمیں انکی قدر کرنے کی توفیق عنایت فرمائے ۔۔۔۔آمین یا رب العالمین ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں