ذوالفقار علی بخاری
اہل قلم بہت خاص اورحساس ہوتے ہیں۔اُن کی سوچ عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مخصوص سوچ کے تابع ادیبوں کے بارے میں کچھ الگ نظریہ رکھا جاتا ہے۔اِسی نظریے کی وجہ سے ادیبوں کو معاشرے میں وہ قدرومنزلت حاصل نہیں ہے جو ملنی چاہیے تھی۔ اوریہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ بدحالی کا شکار ہو رہا ہے۔ تاہم اِس کے باوجو دکئی خوش نصیب لوگ ایسے ہیں جو قلمی جہاد کر رہے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اِنھی میں سے ایک منفرد سوچ کی حامل فیض عالم صاحبہ ہیں جنھوں نے قلمی جہاد کو ایک خاص مقصد کے تحت جاری رکھا ہوا ہے۔
محترمہ فیض عالم کا اصل نام قرۃ العین فیضان ہے۔ فیض عالم اِن کا قلمی نام ہے۔ اِنھیں پسند ہے کہ اِسی نام سے پکارا جائے۔آپ کا جنم کراچی میں ہوا تب سے یہ شہر دل کے بہت قریب ہے۔ آپ کے والد وفات پاچکے ہیں ۔والدہ اِن کی بہترین رہنما اور سہیلی ہیں۔اللہ کریم نے اِنھیں بہترین شخص کی زوجیت میں دیا جو کہ رہنما، دوست اور ہر لحاظ سے بہترین شریک سفر ثابت ہوئے ہیں۔فیض عالم صاحبہ اُن کے ساتھ کوباعث سعادت و فخر قرار دیتی ہیں۔ رشتوں کے معاملے میں بے تحاشہ دولت مندثابت ہوئی ہیں۔آپ جامعہ کراچی سے بی ایس ان جینڈر اسٹڈیز اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ لیڈرشپ اینڈ منجمنٹ کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔ تدریس و تحقیق سے وابستہ رہ چکی ہیں ۔ امریکن بورڈ آف ہپناتھراپی اینڈ این ایل پی سے ماسٹر این ایل پی پڑیکٹشنر، ماسٹر لائف کوچ اور ٹائم لائن تھراپی ماسٹر پڑیکٹشنر کی ٹریننگ و سرٹیفیکیشن مکمل کر چکی ہیں۔ آج کل کاونسلنگ اینڈ سائیکو تھراپی سینٹرل ایوارڈنگ باڈی یو کے سے سائکوتھراپی کی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔ علم دین کی طالب علم اور ایک طالب علم کی حیثیت سے جتنا علم و شعور حاصل کر چکی ہیں اسے اہل ایمان کے سامنے پیش کرتی رہتی ہیں۔فیض عالم صاحبہ سے ہونے والی گفتگو یہاں قارئین سرینگر جنگ کے لئے سوالات و جوابات کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
٭۔آپ نے قلمی جہاد کا فیصلہ کیوں کیا؟
فیض عالم:مسلمان کو اللہ کی جانب سے ایک ایسا پراجیکٹ دیا گیا ہے ۔جس پر اس نے آخری دم تک کام جاری و ساری رکھنا ہے۔ اور وہ ہے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ میرا ماننا ہے کہ مومن اس پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے اسے دئیے گئے ہر زریعے کو استعمال کرتا ہے۔ مجھے جو ذرائع عطا کیے گئے ان میں سے ایک یہ عظیم ہنر ہے۔ رب العالمین کے پیغام کو اپنے الفاظ کی مالا میں پرو کر اہل ایمان کے سامنے پیش کر دینا۔میں اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہوں کہ اس دنیا میں ہمیں جو بھی ہنر عطا کیے گئے ہیں ۔ان کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا کہ کس مصرف میں استعمال کیا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ذہن سازی کے لیے الفاظ صدیوں سے اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے انقلاب قلم کی طاقت نے برپا کیے ہیں۔ اس وقت ادب کے دائرے میں بہت سے ایسے لوگ کام کر رہے ہیں جو اہل ایمان کو مزید پستی میں پہچانے کا کام بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں اہل حق کے قلم کا میدان میں اترنا لازم ہے، اس کے علاوہ عصر حاضر میں خواتین اپنی پوشیدہ صلاحیتوں سے جتنی غافل ہوچکی ہیں اور خواتین کی غفلت نسلوں میں سفر کرتی ہے تو یہ بہت ضروری ہے کہ وہ خواتین جن کو نہ صرف اس معاشرے کی بگڑتی حالت، امت کی تباہی کا ادراک ہے وہ میدان عمل میں اتریں اور اپنا کردار ادا کریں اور اسی لیے میں نے جہاد بلقلم کا فیصلہ کیا۔
٭۔ دورحاضر میں قلم کارکیسے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں؟
فیض عالم:سب سے پہلے تو یہ سمجھ لینا ہوگا کہ معاشرے اور اسلامی معاشرے میں فرق کیا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی معاشرے میں بہتری اس معاشرے میں رہنے والوں کے مذہب،ثقافت یا اقدار کے حساب سے ہوگی۔ اگر اسلامی معاشرے کی بات ہے تو پھر یہاں صرف اور صرف دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات ہوگی۔ اس معاشرے کی بہتری اس وقت ممکن ہوگی کہ جب احکام الٰہی اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو من و عن قلم کے ذریعے بیان کیا جائے۔ دور حاضر کے اہل قلم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر وہ اسلامی معاشرے میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو اس ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیں جو ذمہ داری حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبھائی تھی۔ باطل کے میدان میں آواز حق بلند کرنا، اہل قلم درحقیقت بہترین انداز میں سنت ابراہیمی نبھا سکتے ہیں۔ اگر نفس کی ٹوپی سر سے اتار کر دیکھیں تو وہ جان پائیں گے کہ قلم والے تو خدائی فوج کا حصہ ہیں۔ یہ تو معاشرے کو تبدیل ہی نہیں بلکہ معاشرے کا رخ چودہ سو سال پہلے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بچھی چٹائی کی جانب موڑ سکتے ہیں۔
٭۔مثبت سوچ اورکامیابی کا آپس میں کتنا گہرا تعلق ہے؟
فیض عالم:سب سے پہلے تو تصور کامیابی کو سمجھا جائے کیوں کہ اسے سمجھے بغیر مثبت سوچ کے تصور کو سمجھنا ممکن نہیں۔ جو کامیابی کی تعریف مغرب نے پیش کی ہے وہ ہر حال میں نظر آنے والی ہے، کسی مادی شے کی صورت میں۔ کامیاب انسان اسے ہی سمجھا جاتا یے جو دنیاوی مقاصد کو حاصل کر لے جب کہ دین اسلام کی کامیابی آخرت پر منحصر ہے۔ دین اسلام نے دنیاوی کامیابی کو بھی حق سے مشروط کیا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی انسان مقرر بننا چاہتا ہے، وہ مشہور ہوجاتا ہے، خوب پیسہ بھی کماتا ہے اور اپنی شعلہ بیانی سے عوام کا رخ جہاں چاہے موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اسے احساس نہیں کہ وہ انسانوں کو کس طرف مائل کر رہا ہے، ایک اور مقرر ہے وہ بھی بہترین تقریریں کرتا یے مگر اس کا مقصد انسانوں کو اللہ کی جانب مائل کرنا ہے، اس کی تقاریر انسان کو صحیح اور غلط کی پہچان سکھاتی ہیں۔ لیکن یہ پہلے والے کی طرح مشہور نہیں نہ ہی اتنا مال دار ہے تو پھر کامیاب کون ہوا؟ مغرب کہے گا کامیاب وہ انسان ہوا جو مشہور ہے اور پیسے والا ہے، کیوں کہ اس کامیابی مادیت کی صورت میں نظر آرہی ہے جب کہ دین کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو اللہ کا نمائندہ بنا رہا۔ اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں استعمال کرتا رہا تو دین کی کامیابی ہی مسلمان کا مقصد حیات ہونی چاہیے۔ اب آتے ہیں اس سوال کی جانب جو آپ نے کیا،کامیابی اور مثبت سوچ کا وہ ہی تعلق ہے جو مچلی کا آب سے ہے۔ وہ پانی سے نکلے گی تو ختم ہو جائے گی۔ کامیابی کی کوشش اور جدوجہد مثبت سوچ کے دائرے سے نکلے گی تو دم توڑ دے گی۔ مثبت سوچ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی خیالی دنیا میں رہا جائے، ہر وقت سبز باغ کے سب سے گھنے درخت پر چڑھ کر بیٹھے رہیں بلکہ مثبت سوچ کا تعلق قرآن مجید کی ایک عظیم آیت سے ہے۔
ترجمہ:’’تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘اب جس دل کو یہ سکون ہو کہ ہر مشکل کے بعد میرا رب مجھے راحت عطا فرمائے گا وہ کب منفیت کے بھنور میں پھنسے گا؟مثبت سوچ ایک وسیع تصور ہے ہم نے اسے محدود کیا ہے یہ کہہ کر کہ انسان سب کچھ کر سکتا ہے، جب کہ وسیع اور گہرے معنوں میں مثبت سوچ یہ ہوگی کہ انسان جو نہ کر پایا یا، جو انسان کو کوشش کے بعد بھی نہ مل پایا ،اس میں میرے رب کی رضا ہے اور مصلحت ہے جس کو سمجھنے سے میں قاصر ہوں۔ یہ سوچ انسان کو ناکامی کے خوف سے بچاتی ہے اور جو ناکامی کے خوف سے بچا رہا وہ کامیابی کے راستے پر گامزن رہا۔ مثبت سوچ برکت ہے اور برکت انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی طرف مائل کرتی ہے۔ منفی سوچ ذلت ہے اور ذلت انسان کو دنیا و آخرت میں بربادی کی جانب مائل کرتی ہے۔ مثبت سوچ نیت کو خالص کرتی ہے اور خالص نیت سے کامیاب عمل جنم لیتا یے۔ منفی سوچ نیت کو پلید کر دیتی ہے اور پلید نیت ناکامی کو پیدا کرتی ہے۔
٭۔کیا کسی لکھنے والے کی سرگزشت (آپ بیتی) یا کوئی تحریر قارئین کی زندگی بدل سکتی ہے؟
فیض عالم:الفاظ زندگی تبدیل کر سکتے ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ قلم سے انقلاب برپا ہوجاتے ہیں اب چاہے وہ انقلاب اجتماعی طور پر آئے یا کسی ایک فرد کے لیے ہو، اس لیے آپ بیتی تحریر کرنے والے بھی یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان کی بتائی ہوئی کہانی بالکل صحیح (خیر) اور واضح پیغام دے رہی ہو۔
٭۔کس کتاب، ڈرامے، ناول نے آپ کی سوچ کا دھارا بدلا ہے؟
فیض عالم:مجھے تبدیل کرنے والی کتاب قرآن مجید ہے، اس میں درج انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے۔ میں حقیقت بیان کروں تو سب سے بڑی تبدیلی ان سے ہی ملی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ الفاظ تبدیلی لانے کی طاقت رکھتے ہیں اور مجھے کئی کتابوں نے بہترین راہنمائی فراہم کی جیسے کہ کشف المعجوب، جہاں تک ناول ڈراموں کی بات رہی تو عصر حاضر کے لکھنے والوں نے مایوس کیا، کسی نے فیمنزم کے عقائد کو برقعہ پہنا دیا تو کسی نے لبرازم کی ڈاڑھی رکھ کر مزید نفس پرستی کو پروموٹ کیا۔ اس لیے میں عصر حاضر کے اہل قلم سے کہتی ہوں جو ناول یا ڈرامے لکھ رہے ہیں وہ ذمے دار ہیں معاشرے کی ہر اس باطل تبدیلی کے جو ان کے قلم سے رونما ہوئی۔ ڈرامے اور ناول لکھتے ہوئے مکمل ہوش و حواس میں رہیں، اسلامی ٹچ کے ساتھ رومانس اور نفس پرستی پر مبنی لبرل، سیکیولر خیالات کی تبلیغ نہ کریں۔ اس لیے میں اس حوالے سے بہت محتاط رہتی ہوں۔ کہانیوں کی شکل میں اسماعیل بدایونی صاحب نے جو کام کیا ہے وہ اچھا ہے۔ اس سے نئی نسل کی کردار سازی میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ باقی لوگوں نے اگر تاریخی ناول لکھے ہیں تو اسے رومانوی ضرور بنایا ہے۔ عصر حاضر میں اہل قلم کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ مسلمان کسی نئے فتنے کا شکار نہ ہوں۔
٭۔دورحاضرمیں کتب بینی کے رجحان میں اضافے اورمطالعے کے فروغ کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
فیض عالم:یہ بات افسوس کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن ہے کہ جنہیں Gen z کہا جاتا ہے وہ کتب بینی سے کوسوں دور ہیں۔ جس وجہ سے ان کی شخصیت کے کئی پہلو لچک کا شکار ہیں۔ شعور و آگاہی کی گرہیں کھولنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ کتب بینی انسانی شخصیت و کردار پر کیا اثر مرتب کرتی ہے یہ بات اہل علم بہ خوبی جانتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اہم اقدامات سنجیدگی کے ساتھ لینے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کی نفسیاتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر قلم اٹھائیں۔ ان کے مسائل کا حل پیش کریں۔ قرآن مجید کے احکامات و سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح آج کے نوجوان کے مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں یہ تحاریر کی زریعے اجاگر کریں۔ سائنسی تحقیقات کو بھی موضوع بنائیں۔ اس کے علاوہ یہ ذمہ داری پھر والدین اور خاص کر تعلیمی اداروں کی ہے۔ اسٹڈی سرکلز بنائیں۔ تعلیمی اداروں میں قوالی نائٹ کی بجائے کتب بینی کے حوالے سے سرگرمیاں کروائی جائیں۔ والدین بچوں کو موبائل سے جوڑنے کی بجائے چھوٹی عمر سے ہی کتب بینی کا شوق پیدا کریں۔ کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ایسے معاشرے میں مشکل ہے، جہاں دو ہزار کا کوئی تعلیمی کورس کرنا مشکل ہو مگر دوہزار کا پیزا کھانا آسان ہو لیکن ہمت نہ ہاریں۔ قلمی قبیلے کا ہر فرد چاہے لکھنے والا ہو یا پڑھنے والا یہ کام جاری رکھیں۔
٭۔آپ کی زندگی کا خوش گوار واقعہ کیا ہے۔اْس سے کیا سیکھنے کو ملا ہے؟
فیض عالم:الحمدللہ! ان گنت خوشگوار لمحات اور واقعات کے ساتھ زندگی اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ کوئی ایک ہو تو بتاوں۔۔۔۔ اتنا کہوں گی کہ میرے لیے ہر وہ لمحہ ایک خوش گوار واقعہ میں تبدیل ہوجاتا ہے کہ جب رونے دھونے شکایت کرنے کا پورا موقع میرے پاس ہوتا ہے۔ مگر اللہ کی عطا سے میں صبر و سکون اور اطمینان کے ساتھ اللہ کا شکر بجا لانے کی کوشش میں لگ جاتی ہوں۔ ان ہی لمحوں میں چھپا ہوتاہے کوئی بڑا سبق یا سیکھ۔ میں نے بہت سے خوشگوار واقعات سے یہ سیکھا ہے کہ آزمائش کے وقت مایوسی یا واویلا جتنا کم ہوگا، ملنے والا انعام اتنا ہی بہترین ہوگا۔
٭۔حسد،ناکامی اورمایوسی سے کبھی واسطہ پڑا تو کیسے نبرد آزماہوئی ہیں؟
فیض عالم:حسد، ناکامی اور مایوسی نارمل انسانی جذبات و کیفیات ہیں۔ یہ اس وقت ابنارمل بن جاتے ہیں جب ہم انہیں نہ صرف اپنے سر پر سوار کرتے ہیں بلکہ ان کے احکامات پر سر تسلیم خم بھی کر دیتے ہیں۔ جب یہ جذبات ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں، بے لگام ہوجاتے ہیں تو فصل پودے کے اوپری حصے سے نہیں جڑ سے تباہ ہوتی ہے۔ میں نے یہ بات بہت جلد ہی سیکھ لی تھی کہ یہ سب زندگی کے کسی نا کسی موڑ پر انسان محسوس کرتا ہے اور دین اسلام ان رویوں اور ایسے جذبات کو پسند نہیں کرتا، پھر جب علم نفسیات کی باقاعدہ طالب علم بنی تو اپنی عادات و جذبات پر گہرائی سے کام شروع کیا۔ الحمدللہ ۔۔اللہ راستہ دکھاتا گیا۔ یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین کر لی کہ حسد، ناکامی اور مایوسی مومن کی صفات نہیں ہیں تو کسی صورت ان کو خود میں آنے نہیں دینا ہے۔ مثبت سوچ ان سب کی طرف جانے ہی نہیں دیتی ۔اگر کبھی محسوس بھی ہو کچھ تو دعا بہترین دوا ہے۔ شعوری کوشش اور دعا منفیت سے دور رکھتی ہے۔ اللہ سے رابطے بحال کرنے کی کوششیں کی جائیں تو حقیقت میں ذہن کو موقع نہیں ملتا کہ ایسا کچھ بھی سوچے۔
٭۔پاکستان کے کن مسائل کو فوری طور پر حل کرانے کی خواہش ہے؟
فیض عالم:فوری حل طلب مسائل تو بہت ہیں۔ میں جس پر فوری کام کرنا چاہوں گی وہ ہے بڑھتی ہوئی بے حیائی اور بے روزگاری۔ کیوں کہ بیروزگاری کے سبب، لوگ کوئی بھی کام کر گزرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال پیسہ کمانے کے لیے بغیر کسی حدود کے کیا جا رہا ہے۔ وہ کیا بنے ہوئے ہیں، خود کو کیسا پیش کر رہے ہیں، معاشرے کو کیا فراہم کر رہے ہیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بس کسی طرح پیسہ آنا چاہیے۔ نئی نسل کے اقداد مغرب زدہ ہو چکے ہیں۔ بے حیائی کا طوفان شرم و حیا اور غیرت کو بہائے لے جا رہا ہے۔ جب کوئی قوم برہنگی کو نارمل سمجھنے لگے یا پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ بیٹھے تو ایسی قوم کس چیز میں ترقی کرے گی؟پھر ہمارے یہاں ڈراموں کے موضوعات انتہائی بیہودہ ہیں، ان پر نہ صرف پابندی لگنی چاہیے بلکہ جرمانے لگنے چاہئیں۔ ڈراموں میں اسلامی اقدار و مشرقی روایت اور دینی احکامات کو جس طرح مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے وہ کسی بھی مسلمان کہ لیے کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے؟ اہل قلم ان معاملات میں لبرل بن کر نہیں ایمان والا یا ایمان والی بن کر سوچیں اور ان مسائل پر قلم اٹھائیں۔
٭۔اگراخبار یا رسالے کا مدیر بنایا جائے تو کس نوعیت کی تحریریں شائع نہیں کریں گی؟
فیض عالم:رومانس پر مبنی تحایر، لبرلازم و فیمنزم کے عقائد کا پرچار کرنے والے نام نہاد اسلامی ٹچ والے ناول اور افسانے، سسپینس کے نام پر ایسی ڈراونی کہانیاں جن میں رومانس اور خوف لکھا جاتا ہے، سیاست کے نام پر دین اسلام کی مخالفت، دین اسلام کے نام پر انتہا درجے کی تفرقہ بازی پر مبنی تحایر ہرگز شائع نہیں کروں گی۔
٭۔آپ اپنے آپ کو پانچ سال بعد کس مقام پر کھڑا ہوا دیکھتی ہیں؟
فیض عالم:اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے یہی کہوں گی کہ جہاں میرا رب مجھے پہچانا چاہے وہ ہی مقام میرے لیے بہترین ہوگا۔ بطور مسلمان جو میرے مقاصد ہیں ان شاء اللہ تعالٰی ان کو پورا کرنے کی جدوجہد میں ہی خود کو مصروف دیکھتی ہوں پانچ سال بعد بھی۔ خود کو مزید دین اسلام کی خدمت و حفاظت کے قابل بنا سکوں۔ اپنی ہر صلاحیت کو مزید بہترین انداز میں دین کے لیے استعمال کر سکوں۔ باقی میری عادت ہے کہ قبل از وقت دعوے کرنے کی بجائے کام کرنے پر توجہ مرکوز رکھتی ہوں اور پبلک میں اپنے بہت پرسنل گولز کبھی شئیر نہیں کرتی جیسے جیسے حاصل ہوتے جائیں گے سب دیکھتے جائیں گے۔
٭۔ محبت، کامیابی، تعلیم، دولت میں سے کس کا انتخاب کریں گے اورکیوں؟
فیض عالم:محبت اور تعلیم ( علم ) کا انتخاب کروں گی۔ دونوں ہی انسانی تخلیق کی وجوہات میں سے سب سے اہم ہیں۔ ناکامی کا کوئی خوف نہیں اس لیے کامیابی کے پیچھے بھاگتی نہیں ہوں، اپنے آپ اور اپنے کام کو بہتر بناتی ہوں کامیابی خود ہی آجاتی ہے۔ دولت کو ہمیشہ آخری درجے پر رکھا ہے اور رکھوں گی۔ محبت اور علم مجھے اپنی روح کی غذا معلوم ہوتے ہیں ان دونوں کے بغیر میرے لیے جینا ناممکن سا ہے۔ محبت اپنے رب سے ہو، اپنے زوج سے ہو یا دیگر رشتوں سے رب کی طرف جانے کے راستے ہموار کرتی ہے۔ علم ان راستوں کو روشن کرتا یے اس لیے دونوں لازم و ملزوم ہیں میرے لیے۔
٭۔اپنے پرستاروں کے نام کیا پیغا م دیں گی؟
فیض عالم:ایک پیغام خاص اہل قلم کے نام ہے۔ جناب لکھنے کی طاقت اللہ نے دی ہے تو اس طاقت کا بہترین استعمال یہ ہے کہ اسے اسلامی معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ایسا لکھیں جو اسلامی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنے۔۔۔ کچھ ایسا لکھیں جسے پڑھ کر سوئی ہوئی قوم ہوش میں آنے لگے۔۔۔۔ کسی بھی قسم کے ( ازم ) کی پرورش میں اپنے الفاظ کا رزق فراہم نہ کریں۔ ادب کے نام پر لوگوں میں الحاد و لبرل عقائد کا پرچار نہ کریں۔ شعور کے نام پر لوگوں کے دلوں میں قرآن و سنت کے لیے شکوک پیدا نہ کریں۔ سائنس کے نام پر عوام کو اللہ کی ذات سے دور نہ کریں۔ ناول افسانے بھی اصلاحی ہوتے ہیں ان میں بھی اصلاح کا پہلو مدنظر رکھیں۔۔۔ صرف دل لبھانے والی تحاریر۔۔۔ رومانٹک کہانیاں۔۔۔ رومانٹک ناولز، باہر آجائیں اس سے۔۔۔ ہمارے مد مقابل جو قوم تھی وہ ریسرچ کر کے ہمارے سروں پر مسلط ہو چکی ہے۔۔۔ زہنی طور پر ہمیں اپنا غلام بنا چکی ہے۔۔۔ باہر آجائیں نیلی آنکھوں والوں چھ فٹ کے ہینڈسم ہیرو اور غزالی آنکھوں والی، لمبے بالوں والی ہیروئین سے۔۔۔۔ یہ سوائے سستی شہرت کے دنیا و آخرت میں آپ کو ایک روپے کا فائدہ بھی نہیں دیں گی۔ قلم ایک امانت ہے، رب العالمین کی طرف سے دی گئی عظیم ذمہ داری ہے اور اس کا حساب بہت سختی سے لیا جائے گا۔ میرا ایک پیغام قارئین کے نام ہے کہ اہل ایمان! جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو مکمل خیال رکھتے ہیں کہ کھانے میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو آپ کی صحت کے لیے نقصان کا باعث ہو۔ سڑا ہوا کھانا کوئی بھی کھانا نہیں چاہے گا بالکل ایسے ہی جب آپ پڑھنے کے لیے تحریر یا کسی کتاب کا انتخاب کرتے ہیں۔ تو خیال رکھیں کیوں کہ پڑھنا آپ کے ذہن کی غذا ہے۔ اچھی طرح تسلی کر لیں کہ اس تحریر یا کتاب میں کوئی ایسی بات، عقیدہ یا نظریہ تو شامل نہیں جو آپ کے ذہن سے ہوتا ہوا آپ کی روح کو بیمار کر دے؟جس طرح لکھنے والے کی ذمہ داری بڑی ہے اسی طرح پڑھنے والے کی بھی ایک ذمہ داری ہے۔ ہر کہانی، ناول کتاب نہ پڑھ لیں۔ صرف وہ کتابیں پڑھیں جن سے ذہن زرخیز ہو، روح شاداب ہو، نفس پاک ہو، عقل سلیم ہو اور ایمان کامل ہوتا جائے۔
۔ختم شد۔


