سہیل خان
سرینگر ، کشمیر
5 اگست 2019 کو حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو ڈرامائی طور پر تبدیل کیا، اس کی خصوصی خودمختاری ختم کر کے اسے دو مرکزی خطوں،جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا۔ چھ سال بعد جب یہ خطہ اس تاریخی فیصلے کی چھٹی سالگرہ منا رہا ہے، اس کی کہانی ترقی کی شاندار کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔
دسمبر 2023 میں سپریم کورٹ کی طرف سے آئینی طور پر درست قرار دیا گیا یہ اقدام خطے کو بھارت کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے، عسکریت پسندی پر قابو پانے، اور معاشی و سماجی ترقی کو فروغ دینے کے وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا۔
ترقی کا ایک نیا دورآرٹیکل 370 کی منسوخی نے جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، معاشی بحالی، اور سماجی اصلاحات کے حوالے سے نمایاں تبدیلیاں لائی ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، خطے نے سیاحت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا، جہاں 2023 میں11.2کروڑ سے زائد سیاحوں نے جموں و کشمیر کا رخ کیا، جس سے مقامی معیشت کو خاطر خواہ تقویت ملی۔ مجموعی ریاستی پیداوار (GSDP) مبینہ طور پر 1 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر27.2لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو 2019 سے اب تک 5656 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے تقویت یافتہ ہے۔
2021 میں شروع کی گئی نئی سینٹرل سیکٹر اسکیم برائے صنعتی ترقی نے 1500 سے زائد سرمایہ کاری کے تجاویز کو راغب کیا، جن میں 110000 کروڑ روپے کے مفاہمتی سمجھوتوں (MoUs) پر عمل درآمد جاری ہے۔
بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، جیسے کہ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک (USBRL)، زوجیلا سرنگ، اور دیگر نئی سڑکیں اور پل، نے رابطہ کاری کو بہتر بنایا، سفر کے اوقات کو کم کیا، اور خطے کو قومی نیٹ ورکس کے ساتھ جوڑا۔
سماجی اور جمہوری اصلاحات نے بھی گہری جڑیں پکڑ لی ہیں۔ آرٹیکل 35A کی منسوخی نے امتیازی قوانین کو ختم کیا، جن کے تحت غیر مقامی افراد زمین خریدنے یا مستقل رہائش کے حق سے محروم تھے۔ گزشتہ تین سالوں میں 185 غیر مقامی افراد نے زمین خریدی، جبکہ غیر مقامی مردوں سے شادی کرنے والی مقامی خواتین کے شریک حیات کو ڈومیسائل حقوق ملے، جو صنفی مساوات کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
پسماندہ طبقات، بشمول شیڈولڈ ٹرائبز، دیگر پسماندہ طبقات، اور پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے 25000 سے زائد افراد کو ڈومیسائل حیثیت اور سیاسی تحفظات دیے گئے ہیں۔ 2020 کے ضلعی ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات اور 2024 کے ریاستی قانون ساز انتخابات، جو سپریم کورٹ نے لازمی قرار دیے، میں 70 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ میں اضافہ دیکھا گیا، جو خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین میں جمہوری جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔
نئے تعلیمی اداروں جیسےIIT جموں، AIIMS اوانتی پورہ، اور متعدد میڈیکل کالجوں نے تعلیمی مواقع کو وسعت دی، جبکہ جاب فیئرز، سٹارٹ اپس، اور ہنر مندی کے پروگراموں نے، جن میں سے کئی خواتین کی قیادت میں ہیں، مقامی خودمختاری کو فروغ دیا۔
ثقافتی بحالی بھی اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو ہے۔ تین دہائیوں کے بعد سری نگر، پلوامہ، اور بارہمولہ میں سینما ہالز کا دوبارہ کھلنا، اور 2023 میں 50 سے زائد فلموں کی شوٹنگ، معمول کی بحالی کی علامت ہے۔ محرم کے جلوس، لال چوک پر جنم اشٹمی، اور دیگر مذہبی و ثقافتی تقریبات، جو کبھی پابندیوں کا شکار تھیں، اب پرامن طور پر منائی جا رہی ہیں۔
سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات، جیسے کہ گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور نئے سیاحتی مقامات کا قیام، نے خطے کو عالمی نقشے پر اجاگر کیا۔ وزیرداخلہ امیت شاہ نے اسے "نیا کشمیر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80000 کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج میں سے 51000 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو امن، خوشحالی، اور مکمل انضمام کی طرف ناقابل واپسی پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومتی اعداد و شمار 2019 سے دہشت گردی کے واقعات میں 66 فیصد اور ہلاکتوں میں 81 فیصد کمی کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن 2021 سے اب تک 119 سیکیورٹی اہلکاروں اور 18 کشمیری پنڈتوں یا غیر مقامی ہندوؤں کی ہلاکت، خاص طور پر جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں، عسکریت پسندی کے جاری رہنے کی گواہی دیتی ہے۔ 2019 میں مواصلاتی بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ کی معطلی، اور بڑے پیمانے پر حراستیں جیسے سخت گیر اقدامات نے دیرپا زخم چھوڑے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اختلاف رائے کو دبانے کے لیے تھے، نہ کہ اعتماد سازی کے لیے۔ حلقہ بندیوں کی نئی تقسیم، جسے ہندو اکثریتی جموں کے حق میں سمجھا جاتا ہے، اور غیر مقامی ووٹروں کی شمولیت نے آبادیاتی تبدیلی کے خدشات کو جنم دیا، جو آرٹیکل 35A کی منسوخی سے مزید بڑھ گئے ہیں۔معاشی ترقی کے باوجود، چیلنجز برقرار ہیں۔
خطے کا پہاڑی علاقہ، لاجسٹک مسائل، اور موسم سرما کی بندش ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے، اور مقامی لوگوں کو اکثر زمین کے لیز اور کاروباری ٹھیکوں میں غیر مقامیوں کے مقابلے میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری، اگرچہ متاثر کن ہے، توقعات سے کم ہے—2019-20 میں3.36 ملین ڈالر جبکہ پچھلے سال3.72ملین ڈالر۔
زرعی زمینوں اور جنگلات کو صنعتی یا سیاحتی منصوبوں کے لیے تبدیل کرنے سے ماحولیاتی خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ہمالہ میں پلاسٹک کے فضلے اور غیر منصوبہ بند سیاحت سے۔ لداخ میں، 2024 میں سونم وانگچک کی قیادت میں احتجاج نے بیوروکریٹک کنٹرول، زمینوں کے نقصان، اور ثقافتی شناخت کے خاتمے کے خدشات کو اجاگر کیا، جن میں چھٹی شیڈول کے تحفظات اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبات شامل ہیں۔
امید اور آگے کا راستہ چھ سال بعد، جموں و کشمیر ایک عبوری خطہ ہے۔ جموں اور لداخ کے لیے آرٹیکل 370 کی منسوخی نے ترقی، سیاسی شمولیت، اور خودمختاری کے مواقع فراہم کیے ہیں۔
سپریم کورٹ کا ستمبر 2024 تک ریاستی حیثیت کی بحالی اور انتخابات کا مینڈیٹ ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اسے حقیقی شمولیت، شفافیت، اور مقامی خدشات کے احترام کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہیے۔
پائیدار ترقی کے لیے مقامی روزگار، ماحولیاتی تحفظ، اور ثقافتی شناخت کو ترجیح دینی چاہیے۔ سیکورٹی پالیسیوں کو طاقت کے بجائے مکالمے اور اعتماد سازی پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ بیگانگی کے بنیادی اسباب کو حل کیا جا سکے۔
جموں و کشمیر کی آرٹیکل 370 کے بعد کی داستان ایک متنوع خطے میں قوم سازی کی کامیابیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ ترقی، جمہوری شرکت، اور ثقافتی بحالی نے نئے امکانات کھولے ہیں، لیکن دیرپا امن کے لیے ہمدردی، سیاسی مکالمہ، اور تمام باشندوں کی خواہشات کے احترام کی ضرورت ہے۔
صرف اسی صورت میں "نیا کشمیر” کا وعدہ ایک ایسی حقیقت بن سکتا ہے جو نہ صرف اعداد و شمار میں، بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں بھی گونجتی ہو۔


