روبرو ہے ادیب: حفصہ فیصل

 

ذوالفقار علی بخاری

حفصہ محمد فیصل کا نام معیار کی ضمانت ہے۔ آپ کا قلمی سفر2002سے شروع ہوالیکن 2009سے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا ۔آپ اُن ادیبوں میں شمار ہوتی ہیں جوخاص مقاصد کے حصول کے لیے لکھتے ہیں۔
آپ کی تقریباََ400 کہانیاں، 200 کے قریب کالمز اور 200 کے لگ بھگ مضامین چھپ چکے ہیں۔

آپ کی *4* کتب شائع ہوچکی ہیں ۔پہلی کتاب ’’جنت کے راستے‘‘ نومبر 2019 میں بچوں کا کتاب گھر سے شائع ہوئی۔ ماہنامہ فہم دین میں سنت سیریز کے عنوان سے کہانیاں دوسال تک چھپتی رہیں جسے کتابی صورت میں ’جنت کے راستے‘‘ کے نام سے منظرعام پر لایا گیا ۔اس کتاب کو سیرت کانفرنس 2020 میں *صدارتی ایوارڈ* سے نوازا گیا ۔2021 کے آخر میں دوسری کتاب ” *باتیں اعضاء کی* ” کے عنوان سے سائنسی ،معلوماتی کہانیاں احادیث کی روشنی میں نوعمر بچوں کے لیے شائع ہوئیں ،جسے خوب پذیرائی ملی۔2022 کے آخر میں پہلی کتاب ” *جنت کے راستے* کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔دسمبر *2023* میں پریس فار پیس پبلیکیشن سے تیسری کتاب *نیکی کا پھول* کی اشاعت ہوئی۔جس کا جنوری 2025 میں *دوسرا* ایڈیشن شائع ہوچکا ہے۔جون 2025 میں بچوں کے لیے لکھی گئی چوتھی کتاب’’ گڈو سیریز‘‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن سے شائع ہوئی ہے ۔

2016 میں روزنامہ ایکسپریس کے خواتین پیج کے لیے کالمز لکھنے شروع کیے جو مسلسل تین سال تک شائع ہوتے رہے۔ آپ نے انگریزی کہانیاں بھی کئی بار لکھی ہیں، جو ملک کے بڑے انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔آپ کی تحریریں اصل نام کے ساتھ ساتھ قلمی ناموں اہلیہ محمد فیصل اورام مصطفی کے نام سے بھی شائع ہو ئی ہیں۔

محترمہ حفصہ فیصل سے ہونے والی گفتگوقارئین سرینگر جنگ کےلئے یہاں سوالات و جوابات کی صورت میں پیش ہے

کیاآپ کو ایک طویل عرصے کے بعد آج احساس ہوتا ہے کہ آپ نے بطور قلم کار اپنی ذمہ داری انصاف کے ساتھ نبھائی ہے۔
حفصہ فیصل:الحمدللہ! بھرپور کوشش کی اور کررہی ہوں۔
آپ نے بیک وقت انگریزی اور اردو زبان میں لکھا ہے۔ بطور قلم کار زبان پر عبور ہونا کتنا ضروری سمجھتی ہیں؟
حفصہ فیصل: زبان پر عبور کے ذریعے ہی آپ اپنے خیالات اپنے قارئین تک درست طریقے سے پہنچا سکتے ہیں،ورنہ آپ کی تحریر میں وزن نہیں رہے گا۔
اْردو زبان کا مستقبل کیا دیکھتی ہیں اور انگریزی زبان میں مہارت کیوں ضروری ہے ؟
حفصہ فیصل:انگریزی زبان وقت کی اہم ضرورت ہے۔عمومی طور پر پاکستان میں 50 فیصد اسکول انگریزی زبان کو فوقیت دیتے ہیں ۔بچے انگریزی زبان بولنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے میں ضروری سمجھتی ہوں کہ ادب اطفال میں اس زبان کے ذریعے بھی اپنی نسل کی آبیاری کی جائے۔ بچوں کو اپنے معاشرے اور مذہب کے مطابق مواد فراہم کیا جائے، ورنہ وہ غیر ملکی اور غیر مذہبی لکھنے والوں کو پڑھیں گے اور ان کے معاشرے کی چیزوں کو اخذ کریں گے، اور یہ بات ہماری مذہبی اور معاشرتی ناکامی ہوگی۔
بچوں کے لیے لکھتے وقت کن نکات کو مدنظر رکھ کر لکھتی ہیں؟
حفصہ فیصل:ان تک اصلاحی، تفریحی اور معلوماتی چیزیں پہنچائی جائیں۔
اسلامی موضوعات پر لکھنے کا خیال کب آیا۔ آپ کے خیال میں بچوں کو کن اہم معاملات پر دینی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے ؟
حفصہ فیصل:دینی رجحان ہمیشہ سے تھا، لیکن2008 میں کچھ ایسی کتب اور تحریریں پڑھیں تو سنت سیریز کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ بطور مسلمان ہماری گھٹی میں مذہب شامل ہے، لفظ اللہ سے ہمارا بچہ بولنے کی شروعات کرتا ہے تو مذہب کو ہم کبھی کبھی بھی کسی بھی شعبے میں ثانوی حیثیت دے ہی نہیں سکتے۔
اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضری کے بعد شخصیت میں کن نمایاں تبدیلیاں کو محسوس کرتی ہیں؟
حفصہ فیصل:سوچ اور فکر میں نئے زاویے سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اپنی ذات کی اصلاح کی فکر دامن گیر ہوئی۔
صحافت کے حوالے سے تربیتی کورس کا انعقاد بھی کروا رہی ہیں اس کا مقصد کیا کچھ خاص ہے۔ آپ دور حاضر کی صحافت کو کس نظر سے دیکھتی ہیں ؟
حفصہ فیصل: اکثر نو آموز طالبات رابطہ کرتی ہیں اور مختلف سوالات میں الجھی ہوتی ہیں انہی کی سہولت کو مدنظر رکھ کر یہ کورس ترتیب دیا گیا اور الحمدللہ مقبول عام ہوا۔ دور حاضر کی صحافت بڑی عجلت کا شکار ہے ۔ہر شخص اپنی وال پر صحافی بنا اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے، جمہوریت کے لحاظ سے اسے غلط نہیں کہا جاسکتا لیکن ہر سنی سنائی پر لکھنا اور پھیلانا صحافت کی روح کو پامال کررہا ہے۔
آپ کی چاروں کتب نے بچوں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس کامیابی پر بطور ادیب کتنا فخر محسوس ہوتا ہے ؟
حفصہ فیصل:کہانی لکھنا اور کتاب کی اشاعت بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ بچوں کے اندر آپ کی بات کتنی اتری؟ انہوں نے آپ کی لکھی کہانی سے کیا سیکھا؟ اصل کامیابی اور فخر کی بات یہ ہے۔الحمدللہ اکثر بچے خود رابطہ کرکے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور اصل کامیابی یہی ہے۔
نوجوانوں کو بے راہ روی سے کس طرح روکا جاسکتا ہے ، اس حوالے سے کیا ادیبوں کے کردار سے مطمئن ہیں؟
حفصہ فیصل: اس موضوع پر کئی ادیب لکھ رہے ہیں اور ان کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔ لیکن نوجوان طبقہ کتاب اور رسائل سے پہلے دوڑ کی نسبت دور ہوتا جارہا ہے۔ اسے کتاب سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز کو سمجھ سکے۔
طلاق اور خلع کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ کن عوامل کو قرار دیں گی۔
حفصہ فیصل:اس ضمن میں دین سے دوری سب سے بڑا اور اہم سبب ہے۔ اس کے علاوہ آج کی نسل کی بڑھتی ہوئی ترجیحات نے بھی خانگی زندگی کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔اسٹیٹس اور ریاکاری کی وبا نے نسل نو کو بری طرح لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔نوجوان طبقے میں صبر کی بے انتہا کمی ہے، جذباتیت کا شکار نوجوان اکثر غلط فیصلے کرکے پچھتاتا ہے،ان موضوعات پر تربیتی نشستوں کی اشد ضرورت ہے۔
دور حاضر میں ایک ماں کے کردار کو کتنا اہمیتِ کا حامل قرار دیتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:ماں کا کردار بچے کی زندگی میں صدیوں سے اہم رہا ہے اور رہے گا۔ دور حاضر میں تو ماں کا کردار بہت ہی زیادہ ذمہ داری کا حامل ہو گیا ہے، لیکن مائیں لاپرواہ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ ایک عمومی تجزیہ ہے۔ آج کے دور میں بیشتر مائیں ایسی بھی ہیں جو اپنے بچوں کی تربیت اور نشوونما کے لیے دن رات ایک کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کے لیے دعائیں خوب خوب مانگیں کیونکہ ماں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی اور آج کے پرفتن دور میں اولاد کو تربیت کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔
بچوں کے لیے لکھنے کا خیال کیوں آیا؟ بچپن میں کیا ادب اطفال کا مطالعہ کیا ہے ؟
حفصہ فیصل:لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا گھریلو ماحول کافی علمی تھا۔ ابو، بھائی مختلف رسالے گھر پر لے آتے۔ پھر کچھ بڑے ہوئے تو محلے کی لائبریری سے بچوں کے ہر قسم کی کہانیوں کی کتب خصوصاً عمرو عیار کی کہانی بہت شوق سے پڑھیں ۔لائبریری پر کتب ختم ہو جاتیں لیکن ہماری پڑھنے کی پیاس ختم نہ ہوتی۔ چوتھی جماعت میں ساتھی رسالے میں ایک خط لکھا جو شائع ہوا وہ دن گویا عید کا دن تھا۔ پھر اسی طرح پڑھتے پڑھتے کب لکھنا شروع کر دیا پتا ہی نہ چلا۔
ماضی اور حال کے ادب اطفال اور ادب عالیہ میں کیا نمایاں تبدیلیاں دیکھتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:ماضی میں پرنٹ میڈیا ہی سب کچھ تھا اب سوشل میڈیا بھی نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے استعمال کی زیادتی کی وجہ سے ادب اطفال پر عمومی جب کہ ادب عالیہ پر خصوصی اثرات مرتب ہوئے ہیں مثلاً ؛معیار کی تنزلی بہت ہورہی ہے۔
ادیب الاطفال کو معاشرے میں اعلی مقام کس طرح مل سکتا ہے ؟
حفصہ فیصل: ماضی کی نسبت حال میں ادب اطفال کی بہتری اور ادب اطفال کے ادیبوں کے حقوق کے لیے بہت ساری تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ اب بچوں کے ادیبوں کو بھی ایک مقام حاصل ہو رہا ہے حالانکہ پچھلے ادوار میں بچوں کے لیے لکھنا کوئی خاص مقام نہ رکھتا تھا۔
تعلیمی و ادبی میدان کی کامیابی میں والدین اور شریک حیات کا کردار کتنا اہم ہے ؟
حفصہ فیصل:؛ ان تینوں رشتوں نے میری زندگی میں تو بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بچپن میں والدین کی حوصلہ افزائی اور دعائیں پھر شادی کے بعد شریک حیات کی اجازت اور حوصلہ افزائی نے ہی مجھے آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔میری چاروں کتابیں سب سے پہلے میرے والد صاحب پڑھتے ہیں اور مزید کے لیے اب تک موٹیویٹ کرتے ہیں۔اللہ پاک انہیں لمبی اور عافیت والی حیاتی عطا فرمائے۔ آمین۔
کیا خواتین کی تعلیم ، آزادی کے نعروں اور جائز حقوق کی تحریکوں کی حمایت کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں ؟
حفصہ فیصل:خواتین کی تعلیم، آزادی اور جائز حقوق ان کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ لیکن سڑکوں پر نعرے بازی اور فضول گوئی ایک الگ چیز ہے۔ اللہ تعالی نے مرد اور عورت دونوں کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، اگر دونوں ان کی پیروی کریں تو بعید نہیں کہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ زیادتی عموماً مردوں کی طرف سے ہوتی ہے لیکن بعض جگہوں پر خواتین بھی زیادتی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس لیے اگر ہم قرآن و سنت کو مکمل طور پر تھام لیں تو خسارہ نہ ہوگا۔
کتب بینی اور مطالعے کے فروغ کے لیے کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:؛کراچی جیسے بڑے شہر میں، میں رہتی ہوں اور سب سے زیادہ لائبریریوں کی کمی محسوس کرتی ہوں۔ آج کے بچے کی کتب بینی سے دوری کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے، لیکن مستقبل اتنا بھی تاریک نہیں، ہر سال کراچی انٹرنیشنل بک فیئر میں سب سے زیادہ کتب کے خریدار بچے ہی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ کتاب کا مستقبل روشن ہے۔
پاکستان کے کن مسائل کا حل فوری طور پر دیکھنا چاہتی ہیں اور کیوں؟
حفصہ فیصل:؛مہنگائی، خواندگی شرح کی کمی،بچوں میں بڑھتے ہوئے مختلف قسم کے نشے کا رجحان۔ یہ تینوں مسائل ہر طبقے کو بری طرح لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔
فرصت کے لمحات کس طرح گزارتی ہیں؟
حفصہ فیصل:؛سیاحت کی دلدادہ ہوں لیکن مواقع کم ہی میسر آتے ہیں۔ اس لیے فرصت میں کوکنگ، بیکنگ، مطالعہ اور سلائی مشاغل ہیں۔
کن ادیبوں کی شخصیت اور کتب سے بے حد متاثر ہیں؟
حفصہ فیصل::مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم ،اشتیاق احمد رح، اشفاق احمد رح،مستنصر حسین تارڑ ، ہاشم ندیم وغیرہ
نفرت اور حسد کے خاتمے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟
حفصہ فیصل:: دوسروں کی خوشی میں سنت کے مطابق خوش ہوا جائے۔ اپنے دل کو کینہ سے پاک رکھا جائے۔
قارئین سرینگر جنگ  کے نام کیا پیغام دیں گی۔
حفصہ فیصل:؛ زندگی بہت مختصر ہے اپنی ذات کے ذریعے محبتیں تقسیم کیجیے۔ نرم مزاجی اور اعلیٰ اخلاق کو اپنا وطیرہ بنا لیجیے اور اپنے بچوں کے لیے بہت ساری دعائیں کیا کیجیے، یہ دعائیں ان کو روشن مستقبل عطا کریں گے۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

روبرو ہے ادیب: حفصہ فیصل

 

ذوالفقار علی بخاری

حفصہ محمد فیصل کا نام معیار کی ضمانت ہے۔ آپ کا قلمی سفر2002سے شروع ہوالیکن 2009سے باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا ۔آپ اُن ادیبوں میں شمار ہوتی ہیں جوخاص مقاصد کے حصول کے لیے لکھتے ہیں۔
آپ کی تقریباََ400 کہانیاں، 200 کے قریب کالمز اور 200 کے لگ بھگ مضامین چھپ چکے ہیں۔

آپ کی *4* کتب شائع ہوچکی ہیں ۔پہلی کتاب ’’جنت کے راستے‘‘ نومبر 2019 میں بچوں کا کتاب گھر سے شائع ہوئی۔ ماہنامہ فہم دین میں سنت سیریز کے عنوان سے کہانیاں دوسال تک چھپتی رہیں جسے کتابی صورت میں ’جنت کے راستے‘‘ کے نام سے منظرعام پر لایا گیا ۔اس کتاب کو سیرت کانفرنس 2020 میں *صدارتی ایوارڈ* سے نوازا گیا ۔2021 کے آخر میں دوسری کتاب ” *باتیں اعضاء کی* ” کے عنوان سے سائنسی ،معلوماتی کہانیاں احادیث کی روشنی میں نوعمر بچوں کے لیے شائع ہوئیں ،جسے خوب پذیرائی ملی۔2022 کے آخر میں پہلی کتاب ” *جنت کے راستے* کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔دسمبر *2023* میں پریس فار پیس پبلیکیشن سے تیسری کتاب *نیکی کا پھول* کی اشاعت ہوئی۔جس کا جنوری 2025 میں *دوسرا* ایڈیشن شائع ہوچکا ہے۔جون 2025 میں بچوں کے لیے لکھی گئی چوتھی کتاب’’ گڈو سیریز‘‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن سے شائع ہوئی ہے ۔

2016 میں روزنامہ ایکسپریس کے خواتین پیج کے لیے کالمز لکھنے شروع کیے جو مسلسل تین سال تک شائع ہوتے رہے۔ آپ نے انگریزی کہانیاں بھی کئی بار لکھی ہیں، جو ملک کے بڑے انگریزی اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔آپ کی تحریریں اصل نام کے ساتھ ساتھ قلمی ناموں اہلیہ محمد فیصل اورام مصطفی کے نام سے بھی شائع ہو ئی ہیں۔

محترمہ حفصہ فیصل سے ہونے والی گفتگوقارئین سرینگر جنگ کےلئے یہاں سوالات و جوابات کی صورت میں پیش ہے

کیاآپ کو ایک طویل عرصے کے بعد آج احساس ہوتا ہے کہ آپ نے بطور قلم کار اپنی ذمہ داری انصاف کے ساتھ نبھائی ہے۔
حفصہ فیصل:الحمدللہ! بھرپور کوشش کی اور کررہی ہوں۔
آپ نے بیک وقت انگریزی اور اردو زبان میں لکھا ہے۔ بطور قلم کار زبان پر عبور ہونا کتنا ضروری سمجھتی ہیں؟
حفصہ فیصل: زبان پر عبور کے ذریعے ہی آپ اپنے خیالات اپنے قارئین تک درست طریقے سے پہنچا سکتے ہیں،ورنہ آپ کی تحریر میں وزن نہیں رہے گا۔
اْردو زبان کا مستقبل کیا دیکھتی ہیں اور انگریزی زبان میں مہارت کیوں ضروری ہے ؟
حفصہ فیصل:انگریزی زبان وقت کی اہم ضرورت ہے۔عمومی طور پر پاکستان میں 50 فیصد اسکول انگریزی زبان کو فوقیت دیتے ہیں ۔بچے انگریزی زبان بولنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے میں ضروری سمجھتی ہوں کہ ادب اطفال میں اس زبان کے ذریعے بھی اپنی نسل کی آبیاری کی جائے۔ بچوں کو اپنے معاشرے اور مذہب کے مطابق مواد فراہم کیا جائے، ورنہ وہ غیر ملکی اور غیر مذہبی لکھنے والوں کو پڑھیں گے اور ان کے معاشرے کی چیزوں کو اخذ کریں گے، اور یہ بات ہماری مذہبی اور معاشرتی ناکامی ہوگی۔
بچوں کے لیے لکھتے وقت کن نکات کو مدنظر رکھ کر لکھتی ہیں؟
حفصہ فیصل:ان تک اصلاحی، تفریحی اور معلوماتی چیزیں پہنچائی جائیں۔
اسلامی موضوعات پر لکھنے کا خیال کب آیا۔ آپ کے خیال میں بچوں کو کن اہم معاملات پر دینی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے ؟
حفصہ فیصل:دینی رجحان ہمیشہ سے تھا، لیکن2008 میں کچھ ایسی کتب اور تحریریں پڑھیں تو سنت سیریز کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ بطور مسلمان ہماری گھٹی میں مذہب شامل ہے، لفظ اللہ سے ہمارا بچہ بولنے کی شروعات کرتا ہے تو مذہب کو ہم کبھی کبھی بھی کسی بھی شعبے میں ثانوی حیثیت دے ہی نہیں سکتے۔
اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضری کے بعد شخصیت میں کن نمایاں تبدیلیاں کو محسوس کرتی ہیں؟
حفصہ فیصل:سوچ اور فکر میں نئے زاویے سے تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اپنی ذات کی اصلاح کی فکر دامن گیر ہوئی۔
صحافت کے حوالے سے تربیتی کورس کا انعقاد بھی کروا رہی ہیں اس کا مقصد کیا کچھ خاص ہے۔ آپ دور حاضر کی صحافت کو کس نظر سے دیکھتی ہیں ؟
حفصہ فیصل: اکثر نو آموز طالبات رابطہ کرتی ہیں اور مختلف سوالات میں الجھی ہوتی ہیں انہی کی سہولت کو مدنظر رکھ کر یہ کورس ترتیب دیا گیا اور الحمدللہ مقبول عام ہوا۔ دور حاضر کی صحافت بڑی عجلت کا شکار ہے ۔ہر شخص اپنی وال پر صحافی بنا اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے، جمہوریت کے لحاظ سے اسے غلط نہیں کہا جاسکتا لیکن ہر سنی سنائی پر لکھنا اور پھیلانا صحافت کی روح کو پامال کررہا ہے۔
آپ کی چاروں کتب نے بچوں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ اس کامیابی پر بطور ادیب کتنا فخر محسوس ہوتا ہے ؟
حفصہ فیصل:کہانی لکھنا اور کتاب کی اشاعت بڑا کارنامہ نہیں ہے۔ بچوں کے اندر آپ کی بات کتنی اتری؟ انہوں نے آپ کی لکھی کہانی سے کیا سیکھا؟ اصل کامیابی اور فخر کی بات یہ ہے۔الحمدللہ اکثر بچے خود رابطہ کرکے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور اصل کامیابی یہی ہے۔
نوجوانوں کو بے راہ روی سے کس طرح روکا جاسکتا ہے ، اس حوالے سے کیا ادیبوں کے کردار سے مطمئن ہیں؟
حفصہ فیصل: اس موضوع پر کئی ادیب لکھ رہے ہیں اور ان کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔ لیکن نوجوان طبقہ کتاب اور رسائل سے پہلے دوڑ کی نسبت دور ہوتا جارہا ہے۔ اسے کتاب سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز کو سمجھ سکے۔
طلاق اور خلع کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ کن عوامل کو قرار دیں گی۔
حفصہ فیصل:اس ضمن میں دین سے دوری سب سے بڑا اور اہم سبب ہے۔ اس کے علاوہ آج کی نسل کی بڑھتی ہوئی ترجیحات نے بھی خانگی زندگی کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔اسٹیٹس اور ریاکاری کی وبا نے نسل نو کو بری طرح لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔نوجوان طبقے میں صبر کی بے انتہا کمی ہے، جذباتیت کا شکار نوجوان اکثر غلط فیصلے کرکے پچھتاتا ہے،ان موضوعات پر تربیتی نشستوں کی اشد ضرورت ہے۔
دور حاضر میں ایک ماں کے کردار کو کتنا اہمیتِ کا حامل قرار دیتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:ماں کا کردار بچے کی زندگی میں صدیوں سے اہم رہا ہے اور رہے گا۔ دور حاضر میں تو ماں کا کردار بہت ہی زیادہ ذمہ داری کا حامل ہو گیا ہے، لیکن مائیں لاپرواہ ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ ایک عمومی تجزیہ ہے۔ آج کے دور میں بیشتر مائیں ایسی بھی ہیں جو اپنے بچوں کی تربیت اور نشوونما کے لیے دن رات ایک کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کے لیے دعائیں خوب خوب مانگیں کیونکہ ماں کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی اور آج کے پرفتن دور میں اولاد کو تربیت کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔
بچوں کے لیے لکھنے کا خیال کیوں آیا؟ بچپن میں کیا ادب اطفال کا مطالعہ کیا ہے ؟
حفصہ فیصل:لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا گھریلو ماحول کافی علمی تھا۔ ابو، بھائی مختلف رسالے گھر پر لے آتے۔ پھر کچھ بڑے ہوئے تو محلے کی لائبریری سے بچوں کے ہر قسم کی کہانیوں کی کتب خصوصاً عمرو عیار کی کہانی بہت شوق سے پڑھیں ۔لائبریری پر کتب ختم ہو جاتیں لیکن ہماری پڑھنے کی پیاس ختم نہ ہوتی۔ چوتھی جماعت میں ساتھی رسالے میں ایک خط لکھا جو شائع ہوا وہ دن گویا عید کا دن تھا۔ پھر اسی طرح پڑھتے پڑھتے کب لکھنا شروع کر دیا پتا ہی نہ چلا۔
ماضی اور حال کے ادب اطفال اور ادب عالیہ میں کیا نمایاں تبدیلیاں دیکھتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:ماضی میں پرنٹ میڈیا ہی سب کچھ تھا اب سوشل میڈیا بھی نمایاں کردار ادا کررہا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے استعمال کی زیادتی کی وجہ سے ادب اطفال پر عمومی جب کہ ادب عالیہ پر خصوصی اثرات مرتب ہوئے ہیں مثلاً ؛معیار کی تنزلی بہت ہورہی ہے۔
ادیب الاطفال کو معاشرے میں اعلی مقام کس طرح مل سکتا ہے ؟
حفصہ فیصل: ماضی کی نسبت حال میں ادب اطفال کی بہتری اور ادب اطفال کے ادیبوں کے حقوق کے لیے بہت ساری تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ اب بچوں کے ادیبوں کو بھی ایک مقام حاصل ہو رہا ہے حالانکہ پچھلے ادوار میں بچوں کے لیے لکھنا کوئی خاص مقام نہ رکھتا تھا۔
تعلیمی و ادبی میدان کی کامیابی میں والدین اور شریک حیات کا کردار کتنا اہم ہے ؟
حفصہ فیصل:؛ ان تینوں رشتوں نے میری زندگی میں تو بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بچپن میں والدین کی حوصلہ افزائی اور دعائیں پھر شادی کے بعد شریک حیات کی اجازت اور حوصلہ افزائی نے ہی مجھے آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔میری چاروں کتابیں سب سے پہلے میرے والد صاحب پڑھتے ہیں اور مزید کے لیے اب تک موٹیویٹ کرتے ہیں۔اللہ پاک انہیں لمبی اور عافیت والی حیاتی عطا فرمائے۔ آمین۔
کیا خواتین کی تعلیم ، آزادی کے نعروں اور جائز حقوق کی تحریکوں کی حمایت کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں ؟
حفصہ فیصل:خواتین کی تعلیم، آزادی اور جائز حقوق ان کا شرعی اور قانونی حق ہے۔ لیکن سڑکوں پر نعرے بازی اور فضول گوئی ایک الگ چیز ہے۔ اللہ تعالی نے مرد اور عورت دونوں کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، اگر دونوں ان کی پیروی کریں تو بعید نہیں کہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔ زیادتی عموماً مردوں کی طرف سے ہوتی ہے لیکن بعض جگہوں پر خواتین بھی زیادتی کرتی نظر آتی ہیں۔ اس لیے اگر ہم قرآن و سنت کو مکمل طور پر تھام لیں تو خسارہ نہ ہوگا۔
کتب بینی اور مطالعے کے فروغ کے لیے کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتی ہیں ؟
حفصہ فیصل:؛کراچی جیسے بڑے شہر میں، میں رہتی ہوں اور سب سے زیادہ لائبریریوں کی کمی محسوس کرتی ہوں۔ آج کے بچے کی کتب بینی سے دوری کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے، لیکن مستقبل اتنا بھی تاریک نہیں، ہر سال کراچی انٹرنیشنل بک فیئر میں سب سے زیادہ کتب کے خریدار بچے ہی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ یقین ہو جاتا ہے کہ کتاب کا مستقبل روشن ہے۔
پاکستان کے کن مسائل کا حل فوری طور پر دیکھنا چاہتی ہیں اور کیوں؟
حفصہ فیصل:؛مہنگائی، خواندگی شرح کی کمی،بچوں میں بڑھتے ہوئے مختلف قسم کے نشے کا رجحان۔ یہ تینوں مسائل ہر طبقے کو بری طرح لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔
فرصت کے لمحات کس طرح گزارتی ہیں؟
حفصہ فیصل:؛سیاحت کی دلدادہ ہوں لیکن مواقع کم ہی میسر آتے ہیں۔ اس لیے فرصت میں کوکنگ، بیکنگ، مطالعہ اور سلائی مشاغل ہیں۔
کن ادیبوں کی شخصیت اور کتب سے بے حد متاثر ہیں؟
حفصہ فیصل::مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم ،اشتیاق احمد رح، اشفاق احمد رح،مستنصر حسین تارڑ ، ہاشم ندیم وغیرہ
نفرت اور حسد کے خاتمے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟
حفصہ فیصل:: دوسروں کی خوشی میں سنت کے مطابق خوش ہوا جائے۔ اپنے دل کو کینہ سے پاک رکھا جائے۔
قارئین سرینگر جنگ  کے نام کیا پیغام دیں گی۔
حفصہ فیصل:؛ زندگی بہت مختصر ہے اپنی ذات کے ذریعے محبتیں تقسیم کیجیے۔ نرم مزاجی اور اعلیٰ اخلاق کو اپنا وطیرہ بنا لیجیے اور اپنے بچوں کے لیے بہت ساری دعائیں کیا کیجیے، یہ دعائیں ان کو روشن مستقبل عطا کریں گے۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں