
محمد عرفات وانی
آج سری نگر کے ایک بڑے اسپتال میں جو واقعہ پیش آیا۔۔اس نے نہ صرف انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ سفید کوٹ کی حرمت اور مسیحائی کے مفہوم پر ایک سوالیہ نشان بھی لگا دیا۔۔ بطور انسان، بطور قلمکار اور بطور ایک باشعور شہری، میں گہرے دکھ اور اضطراب کی کیفیت میں یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں۔۔۔۔واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اسپتال میں موجود ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی کی۔۔۔ یہ عمل قابل مذمت ہے۔۔ناقابل قبول ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے۔ لیکن اس ایک شخص کی بدتہذیبی کی سزا سینکڑوں بےگناہ مریضوں کو دینا؟ یہ کون سا انصاف ہے؟ کیا یہ احتجاج ہے یا مریضوں کی زندگیوں پر ظلم؟
مجھے اس لمحے سب سے زیادہ تکلیف پہنچی جب میں نے وہ مناظر دیکھے۔۔۔ سفید کوٹ پہنے، جان بچانے کے مقدس فرض پر معمور افراد سڑکوں پر نعرے لگا رہے تھے اور اسپتالوں میں مریض تڑپ رہے تھے، سسک رہے تھے، بےبسی کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔۔۔ ان کی آنکھوں میں اُمید کی چمک نہیں، مایوسی کی دھند چھائی ہوئی تھی… اور وہ منتظر تھے کسی مسیحا کے۔۔جو شاید آج نہیں آئے گا۔
یہ مناظر صرف ایک ہنگامی احتجاج نہیں تھے، بلکہ یہ انسانیت کی لاش پر بجتی تالیاں تھیں۔
ڈاکٹری ایک پیشہ نہیں ایک مقدس عہد ہے۔۔۔کہ مریض کی جان کو ہر چیز پر مقدم سمجھا جائے گا۔۔۔ کہ چاہے حالات جیسے بھی ہوں، کوئی حلف بقراط کے پابند، اپنے منصب کو فراموش نہیں کرے گا۔۔۔ مگر آج اس عہد کو، اس ایمان کو، اس سفید کوٹ کو، خود انہی ہاتھوں نے پامال کر دیا جن پر انسانیت بھروسہ کرتی تھی۔
سوال یہ ہے:
اگر کسی ایک فرد نے گستاخی کی تو آپ پورے نظام کو مفلوج کر دیں گے؟
اگر قانون موجود ہے۔۔عدلیہ موجود ہے۔۔ محکمہ صحت کے ادارے موجود ہیں تو پھر آپ سڑکوں پر نکل کر، بےبس مریضوں کو ان کے حال پر کیوں چھوڑتے ہیں؟
کیا انصاف کی تلاش میں، خود ناانصافی کرنا جائز ہے؟
ذرا ان ماں، باپ، بچوں، بزرگوں کا تصور کیجیے جو دور دراز کے علاقوں سے اپنا سب کچھ لٹا کر صرف ایک امید کے سہارے اسپتال پہنچے کہ شاید آج شفا مل جائے۔۔۔ مگر وہاں نہ ڈاکٹر تھا، نہ پرسان حال۔۔۔ بس دروازے بند تھے، وارڈ خالی تھے، اور "مسیحا” سڑکوں پر غصے میں تھے۔۔۔اگر آج ہم نے یہ سوال نہیں اٹھایا تو کل ہر "احتجاج” کے نام پر معصوم زندگیاں قربان ہوتی رہیں گی۔۔۔۔یہاں ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ ایک شخص کی بدتمیزی پورے ڈاکٹری شعبے کو بدنام نہیں کرتی۔مم لیکن پھر یہ بھی سچ ہے کہ چند افراد کا غیرذمہ دارانہ رویہ پورے شعبے کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔۔۔ آپ کو قانون کا سہارا لینا چاہیے نا کہ مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر احتجاج کی سیاست کھیلنی چاہیے۔
ہم سب کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سفید کوٹ صرف ایک وردی نہیں یہ ایک ذمہ داری ہے۔۔۔ایک عبادت ہے، ایک امانت ہے۔ اسے نعرے بازی کی علامت نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ کوٹ اس وقت زیب تن کیا جاتا ہے جب نیت زخموں پر مرہم رکھنے کی ہو، نہ کہ اپنی انا کے زخموں پر بین کرنے کی۔۔۔۔احتجاج آپ کا حق ہے لیکن اس احتجاج کی کیا حیثیت جو انسانیت کی بنیادیں ہلا دے؟
اس تحریک کی کیا قدر، جو رحم، وفا، ہمدردی، اور خدمت جیسے اصولوں کو روند دے؟
ہم سب کو یہ طے کرنا ہوگا:
کہ ہم کیسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں؟
کیا ہم وہ سماج بنانا چاہتے ہیں جہاں ایک غلطی کے جواب میں ہزار سزائیں دی جائیں؟
جہاں "مسیحا” خود ظالم بن جائیں، اور مریض انصاف کے منتظر رہیں؟
آج یہ سچ بھی بےنقاب ہوا کہ:
مریض بھی انصاف چاہتا ہے۔۔۔ڈاکٹر بھی مگر انصاف خود منصف کی تلاش میں ہے۔۔
اس تحریر کے ذریعے میں صرف سوال نہیں اُٹھا رہا۔۔ میں احساس جگانے آیا ہوں۔ میں ان تمام سفید کوٹ والوں سے کہتا ہوں:
اگر آپ واقعی "ڈاکٹر” ہیں، تو پھر انسانیت کی نبض تھام لیجیے۔
آج اگر آپ خاموشی سے قانون کی راہ اختیار کریں گے، تو آپ کے مقام کی عزت بڑھے گی۔
مگر اگر آپ نعرے بازی کی راہ اپنائیں گے، تو کل آنے والی نسلیں پوچھیں گی:
"ڈاکٹر اور قصائی میں فرق کیا تھا؟”
یہ صرف ایک احتجاج کا ردعمل نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کی صدا ہے۔ اسے سننا ہوگا۔ سمجھنا ہوگا۔ اور اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں، تو سفید کوٹ کی لاج رکھنی ہوگی۔


