"حریت اب غیر متعلق ہو چکی ہے” کا اصل مطلب کیا؟

سہیل خان
کشمیری سیاست جیسے حساس ماحول میں ایک جملہ پورے سیاسی عہد کا خلاصہ بن سکتا ہے۔ بلال لون کا حالیہ تبصرہ "حریت کانفرنس نے اپنی اہمیت کھو دی کیونکہ ہم عمل نہ کر سکے” ایسا ہی ایک جملہ ہے۔ یہ بیان صرف اعتراف نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی اور نظریاتی بحران کی عکاسی کرتا ہے، جو وادی کی علیحدگی پسند قیادت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ ایک اعتراف ہے، حقیقت پسندی کی طرف خاموش پیش قدمی، یا کشمیری سیاست کے بکھرتے منظرنامے میں کسی نئی سمت کا عندیہ؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلال لون کوئی غیر معروف شخصیت نہیں۔ وہ مرحوم عبدالغنی لون کے بیٹے ہیں، جو حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے کے بانیوں میں شامل تھے۔ ان کے بھائی سجاد لون پیپلز کانفرنس کے سربراہ ہیں، جو اب مرکزی دھارے کی سیاست میں پوری طرح شامل ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں بلال لون کا بیان محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک تاریخی اور علامتی گہرائی کا حامل ہے۔
جب بلال کہتے ہیں "ہم عمل نہ کر سکے” تو وہ صرف کچھ اسٹریٹیجک غلطیوں کا اعتراف نہیں کر رہے بلکہ گزشتہ تین دہائیوں کی سیاسی جمود، داخلی تضادات اور تنظیمی بے عملی کی نشاندہی کر رہے ہیں، جنہوں نے حریت کو غیر مؤثر اور مفلوج بنا دیا۔
یہ بیان ایک نادر لمحۂ خود احتسابی محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ انہی دنوں سجاد لون کی قیادت میں جماعت اسلامی جیسے سخت گیر دھڑوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ متعدد بار حریت کے دھڑوں کو "مین اسٹریم” میں لانے پر فخر کا اظہار کر چکے ہیں۔ حریت کی کئی بنیادی جماعتیں یا تو بین ہو چکی ہیں، یا خاموشی سے سیاسی دھارے میں ضم ہو گئی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی (میرواعظ عمر فاروق کی جماعت)، مسلم کانفرنس (مولانا عباس انصاری کی جماعت)، اور پروفیسر عبدالغنی بٹ کی تنظیم، سب ہی معتدل حریت کا حصہ تھیں، اور اب یا تو پابندی کی زد میں ہیں۔
ایسے میں بلال لون کا حریت کو "غیر متعلق” قرار دینا محض ایک رائے نہیں، بلکہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔ اس کی قیادت یا تو قید ہے، یا خاموش تماشائی بن چکی ہے۔ اس معاملے  میں دہلی کی 2019 کے بعد اپنائی گئی حکمت عملی کا بڑا دخل ہے ۔قانونی کارروائیاں، NIAکے چھاپے، منظم سیاسی کمزوری، اور دفعہ 370 کے بعد وادی کی سیاسی ترتیب نو جس نے علیحدگی پسند ڈھانچے کو جڑ سے ہلا دیا۔
یہ خلا اب یا تو مرکزی دھارے کی سیاست میں سرگرم رہنما بھر رہے ہیں، یا ایک خاموش عوام، جو دہائیوں کے انتشار اور غیر یقینی صورتحال سے تھک چکی ہے۔
لون خاندان خود اس تبدیلی کی علامت ہے۔ عبدالغنی لون کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ حریت کو بات چیت کے قریب لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے بیٹے سجاد نے بہت پہلے ہی مین اسٹریم کا راستہ چن لیا، جبکہ بلال حریت سے جڑے رہے۔
لیکن بلال لون کا حالیہ بیان شاید اس باب کا اختتام ہو۔ اب نظریاتی دو راہے پر کھڑا رہنا ممکن نہیں۔ یہ بیان ندامت ہو یا حقیقت پسندی، یا ایک نئی صف بندی کی کوشش اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک نایاب لمحۂ صداقت ہے۔ ایک ایسا اعتراف کہ پرانے نعرے دم توڑ چکے ہیں، اور پرانی حکمت عملیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

"حریت اب غیر متعلق ہو چکی ہے” کا اصل مطلب کیا؟

سہیل خان
کشمیری سیاست جیسے حساس ماحول میں ایک جملہ پورے سیاسی عہد کا خلاصہ بن سکتا ہے۔ بلال لون کا حالیہ تبصرہ "حریت کانفرنس نے اپنی اہمیت کھو دی کیونکہ ہم عمل نہ کر سکے” ایسا ہی ایک جملہ ہے۔ یہ بیان صرف اعتراف نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی اور نظریاتی بحران کی عکاسی کرتا ہے، جو وادی کی علیحدگی پسند قیادت کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا یہ ایک اعتراف ہے، حقیقت پسندی کی طرف خاموش پیش قدمی، یا کشمیری سیاست کے بکھرتے منظرنامے میں کسی نئی سمت کا عندیہ؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلال لون کوئی غیر معروف شخصیت نہیں۔ وہ مرحوم عبدالغنی لون کے بیٹے ہیں، جو حریت کانفرنس کے معتدل دھڑے کے بانیوں میں شامل تھے۔ ان کے بھائی سجاد لون پیپلز کانفرنس کے سربراہ ہیں، جو اب مرکزی دھارے کی سیاست میں پوری طرح شامل ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں بلال لون کا بیان محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک تاریخی اور علامتی گہرائی کا حامل ہے۔
جب بلال کہتے ہیں "ہم عمل نہ کر سکے” تو وہ صرف کچھ اسٹریٹیجک غلطیوں کا اعتراف نہیں کر رہے بلکہ گزشتہ تین دہائیوں کی سیاسی جمود، داخلی تضادات اور تنظیمی بے عملی کی نشاندہی کر رہے ہیں، جنہوں نے حریت کو غیر مؤثر اور مفلوج بنا دیا۔
یہ بیان ایک نادر لمحۂ خود احتسابی محسوس ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ انہی دنوں سجاد لون کی قیادت میں جماعت اسلامی جیسے سخت گیر دھڑوں نے انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ متعدد بار حریت کے دھڑوں کو "مین اسٹریم” میں لانے پر فخر کا اظہار کر چکے ہیں۔ حریت کی کئی بنیادی جماعتیں یا تو بین ہو چکی ہیں، یا خاموشی سے سیاسی دھارے میں ضم ہو گئی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی (میرواعظ عمر فاروق کی جماعت)، مسلم کانفرنس (مولانا عباس انصاری کی جماعت)، اور پروفیسر عبدالغنی بٹ کی تنظیم، سب ہی معتدل حریت کا حصہ تھیں، اور اب یا تو پابندی کی زد میں ہیں۔
ایسے میں بلال لون کا حریت کو "غیر متعلق” قرار دینا محض ایک رائے نہیں، بلکہ ایک سیاسی حقیقت ہے۔ اس کی قیادت یا تو قید ہے، یا خاموش تماشائی بن چکی ہے۔ اس معاملے  میں دہلی کی 2019 کے بعد اپنائی گئی حکمت عملی کا بڑا دخل ہے ۔قانونی کارروائیاں، NIAکے چھاپے، منظم سیاسی کمزوری، اور دفعہ 370 کے بعد وادی کی سیاسی ترتیب نو جس نے علیحدگی پسند ڈھانچے کو جڑ سے ہلا دیا۔
یہ خلا اب یا تو مرکزی دھارے کی سیاست میں سرگرم رہنما بھر رہے ہیں، یا ایک خاموش عوام، جو دہائیوں کے انتشار اور غیر یقینی صورتحال سے تھک چکی ہے۔
لون خاندان خود اس تبدیلی کی علامت ہے۔ عبدالغنی لون کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ حریت کو بات چیت کے قریب لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے بیٹے سجاد نے بہت پہلے ہی مین اسٹریم کا راستہ چن لیا، جبکہ بلال حریت سے جڑے رہے۔
لیکن بلال لون کا حالیہ بیان شاید اس باب کا اختتام ہو۔ اب نظریاتی دو راہے پر کھڑا رہنا ممکن نہیں۔ یہ بیان ندامت ہو یا حقیقت پسندی، یا ایک نئی صف بندی کی کوشش اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک نایاب لمحۂ صداقت ہے۔ ایک ایسا اعتراف کہ پرانے نعرے دم توڑ چکے ہیں، اور پرانی حکمت عملیاں ناکام ہو چکی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں