محمد عرفان امجدی
شاعر کی جمع "شعراء” ہے، یقینا شعر و شاعری ایک نازک اور حساس فن ہے جو نہ صرف جذبات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ دلوں کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے،
مگر اسی فن کی نزاکت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے انتہائی احتیاط سوجھ بوجھ اور دینی شعور کے ساتھ استعمال کیا جائے کیونکہ معمولی سی "لغزش” کسی شاعر کو گمرہی” گستاخی” حتی کہ دائر اسلام سے باہر بھی لے جا سکتی ہے!
اسلام نے شعر و شاعری کی ممانعت نہیں کی بلکہ اس کو اخلاق، نصیحت، اور دین کی تبلیغ کے لیے بہترین ذریعہ تسلیم کیا ہے!
قران مجید میں سورۃ الشعراء میں کچھ "شعراء” کی مذمت کی گئی ہے جو جھوٹ، فحاشی، دنیاوی شاعری، یا فضول شاعری،محبوبہ کے حسن کا پرچار کرتے تھے صرف مذمت ان دنیاوی شاعر کی ہے جو دنیا کمانا چاہتے ہیں،٫
ان کے لیے قران کہہ رہا ہے کہ سب کے سب گمراہی کے گڑھے میں گرنے والے ہیں،
لیکن آخر میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
"مگر وہ شعراء جو ایمان لائے اور بکثرت اللہ کو یاد کرتے رہے” اللہ کی حمد ، اولیاء امت،اسلام کی فضیلت ،علماء کی فضیلت یا ذہن کو ابھارنے کے لیے شعر کہے جائیں ان کی مذمت نہیں ہے جیسے : جنگوں میں صحابہ کرام اشعار پڑھتے تھے تو لوگوں میں جوش آتا تھا اور جہاد میں اگے بڑھتے تھے۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شعر و شاعری اپنے آپ میں معیوب نہیں!
بعض اوقات شاعر جذبات میں بہہ کر ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جن میں شرک، تقدیر کا انکار یا دین کی توہین،شامل ہوتی ہے!
یہ الفاظ محض "ادبی اظہار” کہہ کر نظر انداز نہیں کیے جا سکتے،
ایسے اشعار پڑھنا لکھنا یا سننا دل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور اگر ان میں کفر ہو تو انسان کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ،،!
مگر افسوس! نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتوں کو بھی اپنا ذریعہ معاش بنا لیا گیا ہے اس کو ایک ایسا دھندھا بنا لیا اور جہاں کوئی پڑھتا ہے اس کی طلب یہی رہتی ہے کہ مجھ پر نوٹوں کی برسات ہو، اسٹیج ہلا دیتے ہیں، جتنے پیسوں کی برسات آتی جائے ان کا جوش بڑھتا چلا جاتا ہے ،تو وہ نعت نہیں پڑھ رہا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی اجر ہے وہ اپنی اجرت وہیں پر حاصل کر رہا ہے،
ایسے پڑھنے والوں سے کبھی عشقِ رسول بھی نہیں مل پائے گا شاعروں کو یہ چاہیے کہ نعت خواں بنے، نوٹ خواں نہ بنے،
کیونکہ اس کی بڑی فضیلت ہے اس کی قبر بھی ہمیشہ خوشبوؤں سے مہکتی رہتی ہے۔
شعر و شاعری کرنے والوں کو صرف الفاظ کا کھلاڑی نہیں بلکہ ایک فکری رہنما ہونا چاہیے، زبان سے نکلنے والے اشعار نوجوانوں، معاشرے اور ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے شاعروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ شعور کے ساتھ قلم اٹھائیں، دین کے بنیادی عقائد کا مطالعہ کریں اپنے کلام کا بار بار جائزہ لیں۔
عقیدے کے معاملے میں علمائے دین سے رہنمائی لیں اسلامی تاریخ میں "حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ” اور "ڈاکٹر اقبال” جیسے شعراء کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنے اشعار سے امت کی اصلاح کی، ایمان کو تازہ کیا، اور لوگوں کو دین کی طرف بلایا، جب ہم ڈاکٹر اقبال کے اشعار کو پڑھتے ہیں تو معاشرے کو آگے بڑھانے کا ایک الگ جذبہ پیدا ہوتا ہے انہوں نے کیا ہی خوب کہا ہے :
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
شعر و شاعری ایک نایاب نعمت ہے مگر یہ اسی وقت مفید ہے جب اسے اخلاق اور شعور کے ساتھ اپنایا جائے اس فن میں معمولی غفلت انسان کو گمراہی میں ڈال سکتی ہے اس لیے ہر شاعر پر لازم ہے کہ وہ الفاظ کے معنی، اثرات اور پیغام کو سمجھ کر ہی اس فن کا حصہ بنے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت حسان رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے جیسے لوگوں کی طرح حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نعت پڑھنے اور کہنے کی توفیق دے اور معاشرے کے لیے کچھ اچھا کرنے کی توفیق دے آمین!


