’سب کچھ بدل دینے ‘کا جنون یا احساسِ کمتری؟

سراج نقوی

موجودہ حکمرانوں اور اس کے حامی ہندوتو وادی عناصر کا ’سب کچھ بدل دینے‘کا جنون یا خبط اس ملک کو کہاں لے جائیگا اس کا صحیح اندازہ تو مستقبل میں اسی وقت ہو پائیگا کہ جب مذہبی شدت پسندی اور ہندوتو کے جنون کا یہ سیلاب گزر جائیگا،لیکن حالیہ برسوں میں جس طرح شہروں،علاقوں،محلوں اور تاریخی یادگاروں کے نام اور ان کی تاریخی اہمیت کو بدلنے کی کوشش کی گئی ،یا اب بھی کی جارہی ہے،
اس کے پس پشت ایک طرح کے احساس کمتری کو بھی محسو س کیا جا سکتا ہے۔جو لوگ یا قومیں خود کچھ نہیں کر پاتیں وہ دوسروں کی حصولیابیوں کو اپنا ثابت کرنے کی کوششیں اپنے اقتدار کے سہارے اسی طرح کرتی ہیں کہ جیسے آج کی جا رہی ہیں۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اور ہزاروں سال کی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے میں ہندو اکثریت کا مجموعی رول بیحد اہم رہا ہے،لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسی اکثریت میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے کہ جنھیں دیگر مذاہب اور فرقوں کی ملک و قوم کے لیے کی گئی خدمات کے اعتراف میں احساسِ کمتری کا احساس ہوتا ہے،اور یہ احساس انھیں صدیوں پرانی اور قابلِ فخرمشترکہ تاریخ ،تہذیب اور ثقافت کو بدلنے کے جنون یا خبط میں مبتلا کر رہا ہے۔اسی کے تحت شہروں ،علاقوں اور تاریخی یادگاروں کو بدلنے،تاریخی مساجد، مزارات کو منہدم کرنے کی ایک غیر اعلانیہ پالیسی پر پورے ملک میں مختلف بہانوں سے عمل کیا جا رہا ہے،اور اس کے سہارے عوام کو مذہب وبرادریوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
نصابی کتابوں میں تبدیلی بھی ان کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔اسی طرح سائینسی حقائق کو بھی علاقائی یا ملکی تناظر میں دیکھنے کی غیر سائینسی کوششوں کا بھی معاملہ ہے۔جہاں تک نصابی کتابوں میں ترمیم یا تبدیلی کا معاملہ ہے تو مختلف سطحوں پر یہ کوششیں مودی سرکار آنے کے بعد سے ہی جاری ہیں۔
اس سلسلے کا تازہ معاملہ این سی ای آر ٹی کی درجہ آٹھ کی تاریخ کی کتابوں میں ترمیم یا تبدیلی سے متعلق ہے۔یہ ترامیم دراصل تاریخی حقائق سے زیادہ احساس کمتری کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوششیں ہی اس احساس کی پیداوار ہوتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ماضی کے مورخین نے جو تاریخ لکھی وہ سب درست ہو،نئے حقائق کی دریافت کے پیش نظر اس میں تبدیلی یا ترمیم بھی ہو سکتی ہے،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کے لیے کیا کوئی نئی تحقیق سامنے آئی یا محض غیر مصدقہ دعووں کو ہی تاریخ بنا دیا گیا۔کچھ عرصہ پہلے ہی این سی آر ٹی نے درجہ سات کی کتاب میں سے مغلوں اور دلّی سلطنت سے متعلق ابواب کو ہٹا دیا تھا۔اب عقل کے ان پتلوں سے کون پوچھے کے درسی کتابوں سے تاریخ کے کچھ ابواب کو ہٹا دینے سے کیا تاریخ ختم ہو جائیگی۔تاریخ اچھی ہو یا بری قابلِ فخر ہو یا اس میں کچھ ایسے حصے بھی ہوں کہ جو ہماری کمزوری ثابت کرتے ہوں،لیکن انھیں پڑھانے سے گریز کرنا سمجھداری نہیں بلکہ احساسِ کمتری کا ہی ثبوت ہے۔جہاں تک تاریخ کو بدلنے کی دائیں بازو کے عناصر کی کوششوںکا معاملہ ہے تو اس میں کسی نئی تحقیق کا بہت کم دخل ہے۔بلکہ اگر درجہ آٹھ کی نصابی کتاب میں تبدیلی یا ترمیم کی بات کریں تو یہ بات واضح ہو جائیگی کہ دراصل یہ مغل حکمرانوں کے تعلق سے فرقہ پرست عناصرکے درمیان کی گئی زہریلی ذہن سازی کا نتیجہ ہے۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ تمام مغل حکمراں بہت نیک،صاف طینت اور فلاحی ریاست کے اصول حکمرانی پر عمل کرنے والے تھے،لیکن کسی بھی حکمراں کی شخصیت کے صرف منفی یا غلط مفروضوں پر مبنی پہلوئوں کو سامنے لانا اور مثبت پہلوئوں کو جان بوجھ کر کسی منافقانہ اور منافرت پر مبنی جذبے کے تحت نظر انداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو ’درست‘ کرنے کے نام پر نفرت یا مفروضوں کو تاریخ میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
این سی ای آر ٹی کی جن کتابوں میں تاریخ کے رخ کو موڑنے کی کوشش دائیں بازو کے مبینہ تاریخ دان کر رہے ہیں،ان میں مغل حکمرانوں بابر،اکبر اور اورنگزیب کو سفاک اور مذہبی اعتبار سے غیر روادار حکمراں بتایا گیا ہے ۔حالانکہ اس تعلق سے اگر کسی انگریز یا سیکولر مزاج رکھنے والے ہندوستانی مورخ کے دعووں کو نظر انداز بھی کر دیں تب بھی بابر،اکبر اور اورنگزیب کے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں محفوظ شاہی فرمان اس بات کا پختہ ثبوت ہیں کہ ان حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر خواہ کوئی بھی قدم اٹھایا ہولیکن ملک کی ہندو اکثریت کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بہرحال نہیں بنایا گیا۔جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے لیے اس بات کا لحاظ و پاس رکھنا کسی مجبوری کے سبب نہیں تھا،لیکن ان حکمرانوں کی دور اندیشی اور ملک کی ہندو اکثریت کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا بھلے ہی کسی نیک نیتی کے سبب نہ ہو لیکن خود کو تاریخ میں روادار حکمراں کے طور پر یاد رکھے جانے کی کوشش کا حصہ ضرور تھا۔اب اگر احساس کمتری یا مذہبی منافرت کے شکار کچھ عناصر ملک میں مذہبی منافرت کا زہر گھولنے کے لیے تاریخ کو زہر آلود کرنے کی غیر محققانہ کوشش کر رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہندوستان کے ایک طبقے میں ان کوششوں کا بھلے ہی کچھ بھی اثر ہو ،لیکن گلوبل ولیج بن چکی دنیا میں اس داداگیری سے حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا،اور یہ حقائق خود دائیں بازو کے عناصر کے لیے کبھی نہ کبھی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاریخ کو بدل کر اس کا ’ہندو کرن‘ کرنے کی کوشش کے بعد اب یہ عناصر سائینسی علوم کو بھی ہندوتو کے رنگ میں رنگنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔آیوروید،چیچک کا روائتی علاج اور دیگرکئی موضوعات کو این سی ای آر ٹی کی کتاب میں شامل ِ نصاب کیا گیا ہے۔حالانکہ ہندوستان کے روائتی طریقہ علاج کو شاملِ نصاب کرنا کچھ غلط نہیں ہے،اور یونانی کے ساتھ ہی آ یورویدک طریقہ علاج کی تعلیم ملک میں پہلے ہی سے رائج ہے،لیکن اسے ہندوتو نہیں بلکہ ہندوستانی طریقہ علاج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
کسی بھی طریقہ علاج کو صرف اس کی طبی اہمیت اور افادیت کے نظریے سے دیکھا جانا چاہیے۔ آیورویدک طریقہ علاج کو پوری دنیا میں پہلے ہی سے بہت مقبولیت حاصل ہے اور مغربی ممالک تک میں بہت سے لوگ آیورویدک علاج کے معاملے میں ہندوستانی ویدھوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور شفایاب بھی ہوتے ہیں۔ایسے میں اسے ابتدائی سطح پر شامل نصاب کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں،
لیکن یہ تاثردینے کی کوشش کہ اسے مقبولیت اور قبولیت دلانے میں کسی خاص سیاسی پارٹی یا حکمراں کا رول ہے،دراصل احساس کمتری کا ہی ثبوت ہے۔اپنی روایات اور ثقافت پر فخر کرنا ،اس کی ترویج کے لیے مزید کوششیں کرنااور اس بہانے سے سیاست کرنا دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔موجودہ حکمراں دراصل آخر الذکر پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انھیں اس بات کا غلط گمان ہے کہ وہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو پوری دنیا میں روشناس کرانے کا کام کر رہے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں نے دنیا میں اس تہذیب و ثقافت کی شبیہہ کو مسخ کرنے کا کام کیا ہے جسے پوری دنیا میں صدیوں سے بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ایسا کرنے والے یہ بھول گئے کہ جو قوم اپنی تاریخ یا ماضی سے منحرف ہو جاتی ہے اور کسی برے تاریخی دور کے ذکر سے دامن بچاتی ہے وہ تاریخ سے سبق لینے کا موقع گنوا دیتی ہے اور اس طرح اپنے بہترمستقبل کی راہ میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کر لیتی ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حکمراں اور ان کی ذہنی تربیت کرنے والی زعفرانی تنظیم اسی راہ پر گامزن ہیں، اور یہ راہ فخر کے نام پر مذہبی جنون پیدا کرنے اور ثقافت کے احیاء کے بہانے احساس کمتری دور کرنے کی ایک احمقانہ کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

’سب کچھ بدل دینے ‘کا جنون یا احساسِ کمتری؟

سراج نقوی

موجودہ حکمرانوں اور اس کے حامی ہندوتو وادی عناصر کا ’سب کچھ بدل دینے‘کا جنون یا خبط اس ملک کو کہاں لے جائیگا اس کا صحیح اندازہ تو مستقبل میں اسی وقت ہو پائیگا کہ جب مذہبی شدت پسندی اور ہندوتو کے جنون کا یہ سیلاب گزر جائیگا،لیکن حالیہ برسوں میں جس طرح شہروں،علاقوں،محلوں اور تاریخی یادگاروں کے نام اور ان کی تاریخی اہمیت کو بدلنے کی کوشش کی گئی ،یا اب بھی کی جارہی ہے،
اس کے پس پشت ایک طرح کے احساس کمتری کو بھی محسو س کیا جا سکتا ہے۔جو لوگ یا قومیں خود کچھ نہیں کر پاتیں وہ دوسروں کی حصولیابیوں کو اپنا ثابت کرنے کی کوششیں اپنے اقتدار کے سہارے اسی طرح کرتی ہیں کہ جیسے آج کی جا رہی ہیں۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اور ہزاروں سال کی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے میں ہندو اکثریت کا مجموعی رول بیحد اہم رہا ہے،لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسی اکثریت میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے کہ جنھیں دیگر مذاہب اور فرقوں کی ملک و قوم کے لیے کی گئی خدمات کے اعتراف میں احساسِ کمتری کا احساس ہوتا ہے،اور یہ احساس انھیں صدیوں پرانی اور قابلِ فخرمشترکہ تاریخ ،تہذیب اور ثقافت کو بدلنے کے جنون یا خبط میں مبتلا کر رہا ہے۔اسی کے تحت شہروں ،علاقوں اور تاریخی یادگاروں کو بدلنے،تاریخی مساجد، مزارات کو منہدم کرنے کی ایک غیر اعلانیہ پالیسی پر پورے ملک میں مختلف بہانوں سے عمل کیا جا رہا ہے،اور اس کے سہارے عوام کو مذہب وبرادریوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
نصابی کتابوں میں تبدیلی بھی ان کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے۔اسی طرح سائینسی حقائق کو بھی علاقائی یا ملکی تناظر میں دیکھنے کی غیر سائینسی کوششوں کا بھی معاملہ ہے۔جہاں تک نصابی کتابوں میں ترمیم یا تبدیلی کا معاملہ ہے تو مختلف سطحوں پر یہ کوششیں مودی سرکار آنے کے بعد سے ہی جاری ہیں۔
اس سلسلے کا تازہ معاملہ این سی ای آر ٹی کی درجہ آٹھ کی تاریخ کی کتابوں میں ترمیم یا تبدیلی سے متعلق ہے۔یہ ترامیم دراصل تاریخی حقائق سے زیادہ احساس کمتری کا نتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوششیں ہی اس احساس کی پیداوار ہوتی ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ماضی کے مورخین نے جو تاریخ لکھی وہ سب درست ہو،نئے حقائق کی دریافت کے پیش نظر اس میں تبدیلی یا ترمیم بھی ہو سکتی ہے،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کے لیے کیا کوئی نئی تحقیق سامنے آئی یا محض غیر مصدقہ دعووں کو ہی تاریخ بنا دیا گیا۔کچھ عرصہ پہلے ہی این سی آر ٹی نے درجہ سات کی کتاب میں سے مغلوں اور دلّی سلطنت سے متعلق ابواب کو ہٹا دیا تھا۔اب عقل کے ان پتلوں سے کون پوچھے کے درسی کتابوں سے تاریخ کے کچھ ابواب کو ہٹا دینے سے کیا تاریخ ختم ہو جائیگی۔تاریخ اچھی ہو یا بری قابلِ فخر ہو یا اس میں کچھ ایسے حصے بھی ہوں کہ جو ہماری کمزوری ثابت کرتے ہوں،لیکن انھیں پڑھانے سے گریز کرنا سمجھداری نہیں بلکہ احساسِ کمتری کا ہی ثبوت ہے۔جہاں تک تاریخ کو بدلنے کی دائیں بازو کے عناصر کی کوششوںکا معاملہ ہے تو اس میں کسی نئی تحقیق کا بہت کم دخل ہے۔بلکہ اگر درجہ آٹھ کی نصابی کتاب میں تبدیلی یا ترمیم کی بات کریں تو یہ بات واضح ہو جائیگی کہ دراصل یہ مغل حکمرانوں کے تعلق سے فرقہ پرست عناصرکے درمیان کی گئی زہریلی ذہن سازی کا نتیجہ ہے۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ تمام مغل حکمراں بہت نیک،صاف طینت اور فلاحی ریاست کے اصول حکمرانی پر عمل کرنے والے تھے،لیکن کسی بھی حکمراں کی شخصیت کے صرف منفی یا غلط مفروضوں پر مبنی پہلوئوں کو سامنے لانا اور مثبت پہلوئوں کو جان بوجھ کر کسی منافقانہ اور منافرت پر مبنی جذبے کے تحت نظر انداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخ کو ’درست‘ کرنے کے نام پر نفرت یا مفروضوں کو تاریخ میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
این سی ای آر ٹی کی جن کتابوں میں تاریخ کے رخ کو موڑنے کی کوشش دائیں بازو کے مبینہ تاریخ دان کر رہے ہیں،ان میں مغل حکمرانوں بابر،اکبر اور اورنگزیب کو سفاک اور مذہبی اعتبار سے غیر روادار حکمراں بتایا گیا ہے ۔حالانکہ اس تعلق سے اگر کسی انگریز یا سیکولر مزاج رکھنے والے ہندوستانی مورخ کے دعووں کو نظر انداز بھی کر دیں تب بھی بابر،اکبر اور اورنگزیب کے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں محفوظ شاہی فرمان اس بات کا پختہ ثبوت ہیں کہ ان حکمرانوں نے اپنے اقتدار کی خاطر خواہ کوئی بھی قدم اٹھایا ہولیکن ملک کی ہندو اکثریت کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بہرحال نہیں بنایا گیا۔جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک غیر جمہوری حکومت کے لیے اس بات کا لحاظ و پاس رکھنا کسی مجبوری کے سبب نہیں تھا،لیکن ان حکمرانوں کی دور اندیشی اور ملک کی ہندو اکثریت کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا بھلے ہی کسی نیک نیتی کے سبب نہ ہو لیکن خود کو تاریخ میں روادار حکمراں کے طور پر یاد رکھے جانے کی کوشش کا حصہ ضرور تھا۔اب اگر احساس کمتری یا مذہبی منافرت کے شکار کچھ عناصر ملک میں مذہبی منافرت کا زہر گھولنے کے لیے تاریخ کو زہر آلود کرنے کی غیر محققانہ کوشش کر رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہندوستان کے ایک طبقے میں ان کوششوں کا بھلے ہی کچھ بھی اثر ہو ،لیکن گلوبل ولیج بن چکی دنیا میں اس داداگیری سے حقائق کو نہیں بدلا جا سکتا،اور یہ حقائق خود دائیں بازو کے عناصر کے لیے کبھی نہ کبھی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
تاریخ کو بدل کر اس کا ’ہندو کرن‘ کرنے کی کوشش کے بعد اب یہ عناصر سائینسی علوم کو بھی ہندوتو کے رنگ میں رنگنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔آیوروید،چیچک کا روائتی علاج اور دیگرکئی موضوعات کو این سی ای آر ٹی کی کتاب میں شامل ِ نصاب کیا گیا ہے۔حالانکہ ہندوستان کے روائتی طریقہ علاج کو شاملِ نصاب کرنا کچھ غلط نہیں ہے،اور یونانی کے ساتھ ہی آ یورویدک طریقہ علاج کی تعلیم ملک میں پہلے ہی سے رائج ہے،لیکن اسے ہندوتو نہیں بلکہ ہندوستانی طریقہ علاج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
کسی بھی طریقہ علاج کو صرف اس کی طبی اہمیت اور افادیت کے نظریے سے دیکھا جانا چاہیے۔ آیورویدک طریقہ علاج کو پوری دنیا میں پہلے ہی سے بہت مقبولیت حاصل ہے اور مغربی ممالک تک میں بہت سے لوگ آیورویدک علاج کے معاملے میں ہندوستانی ویدھوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور شفایاب بھی ہوتے ہیں۔ایسے میں اسے ابتدائی سطح پر شامل نصاب کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں،
لیکن یہ تاثردینے کی کوشش کہ اسے مقبولیت اور قبولیت دلانے میں کسی خاص سیاسی پارٹی یا حکمراں کا رول ہے،دراصل احساس کمتری کا ہی ثبوت ہے۔اپنی روایات اور ثقافت پر فخر کرنا ،اس کی ترویج کے لیے مزید کوششیں کرنااور اس بہانے سے سیاست کرنا دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔موجودہ حکمراں دراصل آخر الذکر پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔انھیں اس بات کا غلط گمان ہے کہ وہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو پوری دنیا میں روشناس کرانے کا کام کر رہے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام لوگوں نے دنیا میں اس تہذیب و ثقافت کی شبیہہ کو مسخ کرنے کا کام کیا ہے جسے پوری دنیا میں صدیوں سے بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ایسا کرنے والے یہ بھول گئے کہ جو قوم اپنی تاریخ یا ماضی سے منحرف ہو جاتی ہے اور کسی برے تاریخی دور کے ذکر سے دامن بچاتی ہے وہ تاریخ سے سبق لینے کا موقع گنوا دیتی ہے اور اس طرح اپنے بہترمستقبل کی راہ میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کر لیتی ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حکمراں اور ان کی ذہنی تربیت کرنے والی زعفرانی تنظیم اسی راہ پر گامزن ہیں، اور یہ راہ فخر کے نام پر مذہبی جنون پیدا کرنے اور ثقافت کے احیاء کے بہانے احساس کمتری دور کرنے کی ایک احمقانہ کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں