رفیق احمد کولاری
دنیا میں دو مسائل ایسے ہیں جو اب تک حل نہیں ہوئے ایک کشمیر کا مسئلہ دوسرا فلسطین کا مسئلہ۔ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے تب سے یہ دونوں مسائل سنتے آرہے ہیں۔ لاکھوں اربوں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ کروڑوں پریوار کا آباد گلشن ویران ہوگیا۔ گھنی آبادیاں کھنڈروں میں تبدیل ہو گئیں۔ نہ جانے کتنے معصوم بچوں کی جانیں فلک بوس عمارتوں کے ملبے تلے دب کے رہ گئیں۔ پرشکوہ عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ ظالموں نے مسجدوں سے لیکر اسپتالوں تک کو تاخت وتاراج کردیا۔تعلیم گاہوں کو نشانہ بنا کر تہس نہس کردیا۔ حد تو یہ کہ ان ظالموں نے گھروں کو پامال کرکے معصوم بچوں اور انکے پریوار کو بے گھر کردینے کے ساتھ ساتھ انہیں بے بس وبے کس بنا کر سڑکوں پر لا گھڑا کر دیا۔ چند دن پہلے اخباروں کی سرخیاں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آگیا کہ غزہ کے بے شمار نونہال بچے بکھمری اور بھوک پیاس سے موت کے آغوش میں ہمیشہ ہمیش کے لیے چلے گئے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ اک طرف غزہ کے بچے بھوک وپیاس میں تڑپ رہے ہیں وہیں دوسری طرف ہمارے اسلامی ممالک کے حکمران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اربوں دراہم تحفے میں پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمران سمجھ رہے کہ غزہ کے بچوں کے لیے درہم ودینار کی ضرورت نہیں انہیں صرف منبر و محراب کی آہ و فغاں اور دعا وگریہ وزاری کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا اسرائیل کی جارحیت اور بربریت کے خلاف کھڑی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جئے جئے کاری میں لگا ہوا ہے۔ انہیں ہتھیار فراہم کرنے تک کا کام امریکہ انجام دے رہا ہے۔ ہمیں ان گوری چمڑی والے یہود ونصاریٰ سے کوئی گلہ وشکوہ نہیں کیونکہ وہ تو شروع ہی سے ہمارے جانی دشمن ہیں جیسے کہ قرآن کہہ رہا ہے وَ لَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ۔ یہودی اور عیسائی ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کرلیں(بقرہ:120) ۔
ہمیں گلہ ان مسلم حکمرانوں سے ہے۔ کیا خوب کہا علامہ اقبال نے
اِدھر اُ دھر کی نہ بات کر یہ بتا قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے نہیں گلہ تیری رہبری کا سوال ہے
اب غزہ کوئی جغرافیائی حقیقت نہیں۔ یہ اب ایک اجتماعی قبر ہے۔ جہاں ہر دن نئی قبریں کھودی جاتی ہیں۔مگرکوئی کتبہ نہیں لگتا۔ نہ نام، نہ تاریخ پیدائش، نہ تاریخِ وفات۔ بس ایک ہجوم ہے جو ماضی حال اور مستقبل کو اپنی آنکھوں کے سامنے دفن کرتا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگیں حکومتیں لڑتی ہیں مگر مرتے عوام ہیں۔ غزہ میں تو حکومتیں بھی محصور ہوچکی ہیں اور عوام بھی۔ یہاں امن کا دروازہ کھلتا نظر نہیں آرہا۔ نہ غزہ کے بچوں کے لیے ایک روشن و خوشحال صبح نمودار ہورہا ہے۔ فلسطینی باشندے روز اول سے بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔ایک طرف بمبار طیارے ہیں اور دوسری طرف بچوں کی وہ خونچکاں تصویریں جو امت مسلمہ کو شرمسار کررہی ہیں۔ اور چیخ چیخ کر پکار رہی ہیں کہ تم عیش وآرام سے زندگی بسر کرو اور ہم موت کی پوشاک پہن کر اللہ اور اسکے حبیب پاک ﷺ سے اپنی فریاد اور دکھڑا سنائیں گے۔ ہمارا اس دنیا میں کوئی پرسان حال نہیں تو کیا جنت وبہشت، حور و قصور ہمارے استقبال کے لیے کھڑے انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں دنیوی بھوک وپیاس نڈھال تو کرسکتی ہے لیکن ایمان وایقان، صبر وشکیب سے کبھی برگشتہ نہیں کرسکتی۔ یہ غزہ کے بچوں کی پکار ہے۔ ابھی غزہ نامی علاقہ دنیا کے نقشے سے معدوم ہوگیا۔ انسانی آبادی ویران ہوگی۔ آبادیاں قبروں میں تبدیل ہوگئیں۔ افسوس اس بات کا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی مسلم حکمران اور اسلامی ممالک امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تعریف وتوصیف میں آسمان وزمین کے قلابے ملاتے نظر آرہے ہیں۔ اب تو امریکی صدر کو نوبل پرائز دینے کی تیاریاں بھی چالو ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادیں انسانی حقوق کے عالمی منشور انصاف کے دعوے دار بین الاقوامی ادارے سب غزہ میں ہونے والے ظلم کو روکنے سے قاصر ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ غزہ میں ہونے والے مکروہ جرائم کے خلاف اپنی آواز بلند کررہے ہیں مگر اسرائیل اور امریکا کی حکومتوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ مگر تاریخ اس ظلم و زیادتی کو نہ بھولے گی اور نہ معاف کرے گی۔ ظلم جہاں بھی ہو انسان کے اندرکی انسانیت اگر زندہ ہو تو خاموش نہیں رہ سکتا۔ تو پھر یہ عالمِ اسلام کیوں خاموش ہے؟؟ تمام مسلم ممالک فلسطینیوں کے لیے کیا کررہے ہیں؟؟ اس خاموشی کا حساب ایک نہ ایک دن دینا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ تمام ممالک ایک ہوکر فلسطینیوں کی آواز بنیں اور ان کا ساتھ دیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں کہ جو آگ آج غزہ میں معصوم شہریوں کو جھلسا رہی ہے وہ آگ کسی بھی وقت ہمارے دامن پر بھی گر سکتی ہے۔
عالم اسلام کی یہ خاموشی اور چپی دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا روتے چیختے فلسطینی بچوں کی آوازوں کے عادی وخوگر ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ پراسرائیلی جارحیت پر کسی کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔ ہم صرف زبانی احتجاج اور زبانی ہمدردیاں صرف کرتے رہتے ہیں اور مساجد کے منبر و محراب سے دعاؤں کے علاوہ ہم سے کچھ نہیں ہو پارہا ہے۔ اسرائیل معصوم فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلا ہے جبکہ ہم ابھی بھی کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے ابابیل کے انتظار میں ہماری نگاہیں آسمانوں پر جمی ہوئی ہیں۔ کرشماتی معجزات اور آسمانی نصرت ومدد کے انتظار کرنے والوں سے ہم وہی کہنا چاہتے ہیں جو کئی دہائیوں پہلے مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
اب مزید ہم کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ اس نازک صورتحال میں اگر کسی سے امید ہے تو خدائے قدوس کی ذات بابرکت سے۔اگر وہ چاہیں تو ایک لمحہ میں دشمن کو کیفرکردار تک پہنچا سکتا ہے اور فلسطین کو ظالم اسرائیل کی بربریت وجارحیت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے۔ لہذا ہم رب قدیر سے دعا گو ہیں کہ مولا ان معصوم وبے گناہ بچوں پر رحم کر۔ انہیں زندگی کی خوشیاں نصیب فرما، ظالم وجابر حکومتوں کو نیست ونابود فرما، ظلم و ستم سے ان بچوں کو نجات عطا فرما، جس طرح ابرھہ اور اس کے لشکر کو ابابیل بھیج کر انہیں پامال کیا اسی طرح اسرائیل کو مسمار فرما۔ آمین۔
تا ابد یا رب ز تو من لطف ہا دارم امید
از تو گر امید ببرم از کجا دارم امید
ززز


