’’منظر نہیں بدلیں گے!‘‘
سیما شکور
ہنستے گلاب ، مسکراتے ستارے ، گاتے جھرتے ، جھومتے بادل
سبز کونپلوں کی گود میں سوئے
شبنم کے بلوریں قطرے
گلابی شاموں کے ماتھے پر بوسہ دیتی
آفتاب کی الوداعی کرنیں
سرخ گلابوں سے سرگوشیاں کرتی
کومل کومل سی تتلیاں
پتوں کو گدگداتی ، جل ترنگ بجاتی
نٹ کھٹ بارش
مٹی کی سوندھی خوشبو
پہاڑوں پر سجی برفیلی سفید چادر
چاند کے چہرے سے پھوٹتی دودھیا چاندنی
گنگناتی ندیوں سے اٹھکلیاں کرتے بادِ صبا …
کے نرم جھونکے
جھیلوں کی سطح پر تیرتے حسین کنول
یہ کائنات کے حسین نظارے
اور … ہرسو پھیلتی تمہارے خوبصورت لفظوں …
کی مہک
یونہی رہیں گے امر
محبتوں کے سجیلے گیت
ایک میرے نہ ہونے سے
ایک میرے چلے جانے سے
منظر نہیں بدلیں گے
منظر نہیں بدلیں گے
’منظر نہیں بدلیں گے!-سیما شکور
’منظر نہیں بدلیں گے!-سیما شکور
’’منظر نہیں بدلیں گے!‘‘
سیما شکور
ہنستے گلاب ، مسکراتے ستارے ، گاتے جھرتے ، جھومتے بادل
سبز کونپلوں کی گود میں سوئے
شبنم کے بلوریں قطرے
گلابی شاموں کے ماتھے پر بوسہ دیتی
آفتاب کی الوداعی کرنیں
سرخ گلابوں سے سرگوشیاں کرتی
کومل کومل سی تتلیاں
پتوں کو گدگداتی ، جل ترنگ بجاتی
نٹ کھٹ بارش
مٹی کی سوندھی خوشبو
پہاڑوں پر سجی برفیلی سفید چادر
چاند کے چہرے سے پھوٹتی دودھیا چاندنی
گنگناتی ندیوں سے اٹھکلیاں کرتے بادِ صبا …
کے نرم جھونکے
جھیلوں کی سطح پر تیرتے حسین کنول
یہ کائنات کے حسین نظارے
اور … ہرسو پھیلتی تمہارے خوبصورت لفظوں …
کی مہک
یونہی رہیں گے امر
محبتوں کے سجیلے گیت
ایک میرے نہ ہونے سے
ایک میرے چلے جانے سے
منظر نہیں بدلیں گے
منظر نہیں بدلیں گے


