عبنان گُل
سیموہ ترال پلوامہ
یہ کیسا سماں ہے، شاید کہ میرا گماں ہے
ہر آسماں کے بعد، اک نیا آسماں ہے
یہ کارِ گشتِ حیات تھمتا نہیں
جہاں کے آگے بھی، اک دوسرا جہاں ہے
ملتا نہیں میرا سایہ اِن اونچی عمارتوں سے
کہ میرے قدیم ہونے کے بعد، نیا زماں ہے
چہرے یہ آج کے، بھاتے نہیں میری صورت کو
شاید کہ جس سے ملتا ہوں، کوئی اور انساں ہے
شب ڈھلی تو دیکھا، سب لوگ ڈھونڈنے نکلے
وہ جس کو ڈھونڈتے ہیں، شاید وہی نہاں ہے
مرگ کے ہالے میں بھی نہ آیا سکوں
کہ مرنے کے بعد بھی، اک اور داستاں ہے
آپ کی کھوج میں کچھ ملا ہی نہیں
شاید نہ گُل وہاں ہے، نہ گُل یہاں ہے


