غزل-عبنان گُل

عبنان گُل
سیموہ ترال پلوامہ

یہ کیسا سماں ہے، شاید کہ میرا گماں ہے
ہر آسماں کے بعد، اک نیا آسماں ہے
یہ کارِ گشتِ حیات تھمتا نہیں
جہاں کے آگے بھی، اک دوسرا جہاں ہے
ملتا نہیں میرا سایہ اِن اونچی عمارتوں سے
کہ میرے قدیم ہونے کے بعد، نیا زماں ہے
چہرے یہ آج کے، بھاتے نہیں میری صورت کو
شاید کہ جس سے ملتا ہوں، کوئی اور انساں ہے
شب ڈھلی تو دیکھا، سب لوگ ڈھونڈنے نکلے
وہ جس کو ڈھونڈتے ہیں، شاید وہی نہاں ہے
مرگ کے ہالے میں بھی نہ آیا سکوں
کہ مرنے کے بعد بھی، اک اور داستاں ہے
آپ کی کھوج میں کچھ ملا ہی نہیں
شاید نہ گُل وہاں ہے، نہ گُل یہاں ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

غزل-عبنان گُل

عبنان گُل
سیموہ ترال پلوامہ

یہ کیسا سماں ہے، شاید کہ میرا گماں ہے
ہر آسماں کے بعد، اک نیا آسماں ہے
یہ کارِ گشتِ حیات تھمتا نہیں
جہاں کے آگے بھی، اک دوسرا جہاں ہے
ملتا نہیں میرا سایہ اِن اونچی عمارتوں سے
کہ میرے قدیم ہونے کے بعد، نیا زماں ہے
چہرے یہ آج کے، بھاتے نہیں میری صورت کو
شاید کہ جس سے ملتا ہوں، کوئی اور انساں ہے
شب ڈھلی تو دیکھا، سب لوگ ڈھونڈنے نکلے
وہ جس کو ڈھونڈتے ہیں، شاید وہی نہاں ہے
مرگ کے ہالے میں بھی نہ آیا سکوں
کہ مرنے کے بعد بھی، اک اور داستاں ہے
آپ کی کھوج میں کچھ ملا ہی نہیں
شاید نہ گُل وہاں ہے، نہ گُل یہاں ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں