رفعت آسیہ شاہین
یہ کیا کررہی ہو اے دین اسلام کی بیٹیو
دور اسلام سے کیوں ہو رہی ہو اسلام کی بیٹیو
کیا اسلام نے تمہیں عزت نہیں دی
کیا اسلام نے تمہیں عظمت نہیں دی
تمہیں پاک دامنی اسلام نے ہی دی ہے
شرم و حیا کی زندگی اسلام نے ہی دی ہے
کیوں دین سے تم نے بنالی ہیں دوریاں
کیا ہے تمہاری راہ کی ساری مجبوریاں
کیوں بھول رہے ہو تم درجات کو اپنے
کیوں روند رہے ہو یوں حجابات کو اپنے
کیوں ماں باپ کا دل توڑ رہے ہو
کیوں ان کو زندہ درگور چھوڑ رہے ہو
پاکدامنی کا کبھی اپنی سودا نہ کرو تم
ماں باپ کی عزت کو رسوا نہ کرو تم
بیٹی تو رحمت ہے اسے زحمت نہ بناؤ
یوں ملت کی شان کو مٹی میں نہ ملاؤ
کیوں غیر کی بانہوں میں جھول رہے ہو
کیوں بے باک ہو کے پر اپنے تول رہے ہو
کیوں اللہ کی تعمیوں کو ٹھکرا رہے ہو تم
کیوں جنت کو چھوڑ جہنم میں جا رہے ہو تم
بھنوروں کو اپنے آس پاس بھٹکنے نہیں دینا
کلیوں کو شام سے پہلے جٹکنے نہیں دینا
چار دن کی زندگی ہے چار دن کی جوانی
چار دن میں مٹ جائے گی ساری کہانی
اے اسلام کی بیٹیو ثابت قدم رہو
فخر تم پر کرئے زمانہ اتنے محترم بنو
اسلام ہی اول ہے اور اسلام ہی آخر
اسلام سے جو ہٹ جائے ہے وہی کافر
ملت کی بیٹوں کو تباہی سے بچانا مولا
ایمان کی شمع ان کے دل میں جلانا مولا
زز


