صاحب خان ساگر
نہ آیا دل کو ہمارے قرار برسوں تک
کسی کا ہم کو رہا انتظار برسوں تک
اسی نے آج محبّت میں دے دیا دھوکہ
ہمارا جس پے رہا اعتبار برسوں تک
کسی سے دل کو لگانے کی یہ سزا پائی
ہماری آنکھ رہی اشک بار برسوں تک
نہ جانے توڑ کے دل کو کہاں گیا میرے
جو میرا بن کے رہا غم گسار برسوں تک
بچھڑ کے ہو گیا ویران وہ اگر ساگر
نہ دیکھی ہمنے بھی فصلِ بہار برسوں تک


