وسیم علی کاظم
گنڈ خواجہ قاسم پٹن
تیرے بدن کی مہک بار بار روکتی ہے
کہ چوڑیوں کی کھنک بار بار روکتی ہے
یہ تیرے ہونٹوں کی لالی گلاب جیسی ہے
یہ گھنگروں کی جھنک بار بار روکتی ہے
ہے تیری جیل سی انکھے اڑاے ہوش میرے
تیرے نین کی چمک بار بار روکتی ہے
تو اسمان سے ائی ہے جیسے کوئی پری
یہ انچھوی سی کسک بار بار روکتی ہے
ہے میرے من کے موافق یہ چال اور چلن
تیرے کمر کی لچک بار بار روکتی ہے
خدا نے تجھ کو تراشا ہے سنگ مر مر سے
وسیم کو یہ جھلک بار بار روکتی ہے
تیرے بدن کی مہک بار بار روکتی ہے
یہ چوڑیوں کی کھنک بار بار روکتی ہے


