جنگ نیوز ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں ترقی، امن و امان میں بہتری اور دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کے نتیجے میں عوامی اعتماد بحال ہوا ہے۔The Weekکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "نیا کشمیر” اب ایک حقیقت بن چکا ہے، جہاں تعلیمی نظام، اقتصادی مواقع اور سماجی ہم آہنگی میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پانچ سالوں میں جموں و کشمیر کی معیشت تقریباً دوگنا ہو چکی ہے۔ "جموں و کشمیر بینک جو کبھی خسارے میں تھا، آج منافع میں ہے۔ شاہراہوں، سرنگوں اور دیگر بنیادی ڈھانچوں پر بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ زرعی ترقی کے لیے ’ہالسٹک ایگریکلچر ڈویلپمنٹ پلان‘ کے تحت 29 منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ سیاحت میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
امن و امان کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سنہا نے کہا کہ "اب کشمیر میں نہ پاکستان کی ہڑتال کال کارگر ہوتی ہے، نہ پتھراؤ ہوتا ہے۔ اس سال صرف ایک نوجوان دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوا، جو اعتماد کی بحالی کا ثبوت ہے۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جا رہی ہیں، اور جن افراد کی زمینیں یا جائیدادیں قبضے میں لی گئیں، ان کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
’آپریشن سندور‘ کے تحت کیے جانے والے حالیہ اقدامات پر انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور تجارت، یا پانی اور انتہا پسندی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ "اگر کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش آیا، تو اسے ’ایکٹ آف وار‘ کے طور پر لیا جائے گا،” انہوں نے وزیر اعظم مودی کے حوالے سے کہا۔
اس موقع پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر بھی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے پارلیمنٹ میں جو یقین دہانی دی گئی تھی، وہ مناسب وقت پر ضرور پوری کی جائے گی۔ "ڈیلِیمیٹیشن اور اسمبلی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں۔ ریاستی حیثیت بھی آئندہ مراحل میں بحال کی جائے گی، جیسا کہ پارلیمانی وعدہ کیا گیا تھا۔”
منوج سنہا نے کہا کہ ان کے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں ہندوستانی ریاستی اختیارات مکمل طور پر جموں و کشمیر میں نافذ ہو چکے ہیں، اور خطہ قومی دھارے میں مکمل طور پر ضم ہو چکا ہے۔


