جنگ نیوز ڈیسک
وادی کے شعر میں شمار ہونے والے شاہد بڈگامی پیر کے روز طویل علالت کے بعد اپنے آبائی گھر بڈگام میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 90 برس تھی۔ ان کا اصل نام غلام محمد بٹ تھا۔شاہد بڈگامی نے کشمیری ادب میں اپنی رومانوی اور نغمگی سے بھرپور شاعری کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا، جو کئی دہائیوں تک ریڈیو کشمیر سرینگر کی زینت بنی اور وادی کے معروف گلوکاروں نے جسے اپنے فن سے دوام بخشا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جب وہ اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ اور ضلعی پنچایت افسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، تو وہ ثقافتی منظرنامے کا ایک سرگرم حصہ بنے رہے۔ انہوں نے باوقار سیاسی و ادبی جریدہ "بدشاہ” شائع اور مدون کیا، جو فکری حلقوں میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کا گھر شعرا، براڈکاسٹروں، فنکاروں اور ثقافتی مفکرین کا ایک مرکز بن چکا تھا۔
جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز نے معروف کشمیری ادیب اور شاعر شاہد بڈگامی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کی وفات کو ایک عہد کا اختتام اور کشمیری زبان و ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا گیا ہے۔
اکیڈیمی کی سیکرٹری ہروندر کور نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و ہمت کی دعا کی۔مرحوم شاہد بڈگامی کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس اور خراجِ عقیدت کی تقریب بروز 17 جولائی، دوپہر 2 بجے، کانفرنس ہال، ٹیگور ہال، سرینگر میں منعقد کی جائے گی، جس میں ان کی ادبی خدمات کو خراج پیش کیا جائے گا۔


