ماحولیات کے قتل اور صحت کے بحران کے بیچ سری نگر کی خاموش چیخ

اچھن ڈمپنگ سائٹ- سرسبز علاقہ سےکوڑے اور کچرے کا پہاڑ !

سرینگر جنگ فیچر

"بس جی رہے ہیں سخت گرمی اور بدبو میں! بہ شکریہ، اچھن ڈمپنگ پلانٹ!”

یہ جملہ آج کل سری نگر کے وسطی علاقوں کے رہائشیوں کی روزمرہ شکایت اور طنز دونوں میں شامل ہو چکا ہے۔ گلیوں میں بدبو ہے، گھروں میں سانس لینا دوبھر ہو چکا ہے، اور گرمی میں گیس اور تعفن کی شدت عوامی صحت کو چیلنج کر رہی ہے۔ مسئلہ ہے سری نگر کے واحد میونسپل ویسٹ ڈمپنگ سائٹ، اچھن سیدہ پورہ کا۔
جہاں ایک طرف حکومت سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کی بات کر رہی ہے، وہیں اس "اسمارٹ سٹی” کا دل، اس کا قدیم شہر، اچھن کی بدبو اور زہریلے فضلے کی لپیٹ میں ہے۔ ایک حالیہ انکشاف کے مطابق، سری نگر میونسپل کارپوریشن (SMC) کے آٹھ سابق کمشنرز کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی متوقع ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ دہائیوں میں اچھن ڈمپنگ سائٹ پر میونسپل سالڈ ویسٹ کو "غیر sائنسی طریقے سے” ٹھکانے لگانے کی اجازت دی، جو آج ایک ماحولیاتی بحران بن چکا ہے۔
اچھن: جھیل سے جہنم تک کا سفر
اچھن کبھی ایک سرسبز علاقہ تھا، جہاں انچار جھیل ہوا کرتی تھی۔ مگر 1983 میں یہاں میونسپل ویسٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوا۔ تب کسی نے تصور نہیں کیا تھا کہ چند دہائیوں میں یہ علاقہ 11 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کچرے کا قبرستان بن جائے گا۔
روزانہ تقریباً 600 ٹن ویسٹ یہاں لایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈمپ کی بلندی 7 میٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور گرمیوں میں نکلنے والی میتھان گیس اور دیگر زہریلے کیمیکلز نے مقامی فضا کو خطرناک حد تک آلودہ کر دیا ہے۔
عوامی صحت پر براہ راست حملہ
ڈاکٹرزبیر بٹ، ایک معروف معالج اور عوامی صحت کے کارکن، کہتے ہیں:
"میتھان گیس آکسیجن کی مقدار گھٹا دیتی ہے اور مسلسل بدبو لوگوں کو ذہنی و جسمانی دونوں طور پر متاثر کر رہی ہے۔”
SMHS ہسپتال کے اعداد و شمار بھی یہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں سانس کی بیماریوں، جِلدی امراض، پیٹ کی خرابی اور دیگر صحت سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اور متاثرین میں ایک بڑا حصہ وہ لوگ ہیں جو اچھن کے قریب رہتے ہیں۔
"سمارٹ سٹی” میں سڑتی ہوئی بدبو
میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں کہا:
"قبل اس کے کہ سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنایا جائے، کیا اسے بدبو سے پاک اور رہنے کے قابل شہر بنایا جا سکتا ہے؟”
یہ سوال کئی دہائیوں سے فضاء میں گونج رہا ہے، مگر جواب ندارد۔
مقامی شہری عادل احمد کی شکایت ہے:
"ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیفٹیننٹ گورنر سے لے کر کارپوریشن تک، لیکن ہمیں صرف وعدے ملے، عمل نہیں۔”
قانونی کارروائی: کیا کچھ بدلے گا؟
حالیہ رپورٹس کے مطابق، آٹھ سابقہ SMC کمشنرز پر جلد مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، جن میں اچھن سائٹ کی بندش اور متبادل سائٹ کے قیام کی تاکید کی گئی تھی۔ نیشنل گرین ٹریبیونل (NGT) نے 2017 میں ہی حکم دیا تھا کہ یہاں waste-to-energy پلانٹ لگایا جائے، مگر منصوبہ آج بھی فائلوں میں دفن ہے۔
NGT نے حالیہ حکم میں حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اچھن سائٹ کی موجودہ صورتحال کی رپورٹ پیش کرے اور متبادل اقدامات تجویز کرے۔
فراہم کردہ فنڈز اور خراب منصوبہ بندی
2014 میں 93 کروڑ روپے اچھن کی صورتحال بہتر کرنے کےلئے جاری کیے گئے، مگر SMC کمشنر حفیظ اللہ شاہ کے مطابق، یہ فنڈز ناکافی تھے۔
"فی الحال، شہر کو بدبو کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا”، وہ کہتے ہیں۔
اس بیان نے مقامی باشندوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔
کیا حل ہے؟
ڈمپ سائٹ کی فوری بندش اور نئے مقام کا تعین
ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ کا جلد قیام
کچرے کی سائنسی درجہ بندی اور ری سائیکلنگ کا نظام
میتھان اور لیکویڈ لیچیٹ کی باقاعدہ نگرانی اور ضیاع
SMC میں جواب دہی اور شفافیت کا نفاذ
عدالتی نگرانی میں عمل درآمد کی رفتار بڑھانا
عوامی بیداری اور میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر خوب بحث جاری ہے۔
ایک صارف نے لکھا:
"اچھن کی بدبو صرف ناک میں نہیں، نظام میں گھس چکی ہے۔”
آخری بات: سانس لینے کےلئے انصاف درکار ہے
اچھن کا مسئلہ صرف ایک گلی، ایک محلے یا ایک وارڈ کا نہیں، بلکہ سری نگر کے اجتماعی شہری وقار اور صحت کا ہے۔ بدبو، زہریلی فضا اور حکومتی لاپرواہی کا مجموعہ اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ عوامی صبر ٹوٹنے کے قریب ہے۔
اگر حکومت واقعی سری نگر کو "اسمارٹ سٹی” بنانے میں سنجیدہ ہے، تو سب سے پہلا قدم اچھن جیسے مسائل کا حل ہونا چاہیے نہ صرف بیانات میں بلکہ میدانِ عمل میں بھی۔
مِر واعظ عمر فاروق نے حال ہی میں اس بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے شہر کو "اسمارٹ سٹی” بنانے کے بجائے "بہتر رہائش” پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔
علاقہ زونی مر کے مکین گزشتہ کئی مہینوں سے شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی مل چکے ہیں۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر متبادل ڈمپنگ سائٹ کےلئے زمین کی نشاندہی کی جائے تو اچھن میں قائم موجودہ ڈمپنگ سائٹ کو بند کر دیا جائے گا۔ لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ لاکھوں شہریوں کی حالتِ زار پر رحم کھاتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔

اچھن کے قریب واقع علاقوں میں کوڑے کے ڈمپنگ سائٹ سے اٹھنے والی بدبو پورے شہر میں پھیل رہی ہے، جس نےمکینوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اچھن میں 11 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پرانا کوڑا گل سڑ رہا ہے، جبکہ روزانہ 550 میٹرک ٹن کوڑا مزید وہاں پھینکا جا رہا ہے۔ یہ ایک مکمل عوامی صحت اور ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔مقامی لوگ سانس اور جلد کی بیماریوں میں اضافہ رپورٹ کر رہے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں خود، جو اچھن سے خاصا دور رہتا ہوں، شام کے وقت اس بدبو کو محسوس کرتا ہوں۔
یہ تفصیلات مجھے جناب راجہ مظفر، جو کہ ایک معروفRTI کارکن ہیںنے فراہم کیں۔ ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ پچھلے دو برسوں سے اس معاملے کو حکام کے سامنے اٹھا رہے ہیں، لیکن تاحال کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی۔
ان علاقوں سے پریشان حال مکینوں اور محلہ کمیٹیوں کے نمائندوں نے حال ہی میں مجھ سے ملاقات کی اور منت سماجت کی کہ میں اس سنگین مسئلے کو جامع مسجد میں اُٹھاؤں، اس امید کے ساتھ کہ انتظامیہ، بشمول سری نگر میونسپل کارپوریشن (SMC)، جو اس معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہے، شاید حرکت میں آ جائے۔
سوال یہ ہے کہ سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے سے پہلے، کیا اسے بدبو سے پاک اور قابلِ رہائش بنایا جا سکتا ہے؟
-میرواعظ کشمیر

سرینگر جنگ میں شائع ہونے والے اس فیچر کی ترتیب میں عوامی مسائل پر نظر رکھنے والی نوجوان قلم کار، خان سحرش نے اپنی خدمات پیش کیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

ماحولیات کے قتل اور صحت کے بحران کے بیچ سری نگر کی خاموش چیخ

اچھن ڈمپنگ سائٹ- سرسبز علاقہ سےکوڑے اور کچرے کا پہاڑ !

سرینگر جنگ فیچر

"بس جی رہے ہیں سخت گرمی اور بدبو میں! بہ شکریہ، اچھن ڈمپنگ پلانٹ!”

یہ جملہ آج کل سری نگر کے وسطی علاقوں کے رہائشیوں کی روزمرہ شکایت اور طنز دونوں میں شامل ہو چکا ہے۔ گلیوں میں بدبو ہے، گھروں میں سانس لینا دوبھر ہو چکا ہے، اور گرمی میں گیس اور تعفن کی شدت عوامی صحت کو چیلنج کر رہی ہے۔ مسئلہ ہے سری نگر کے واحد میونسپل ویسٹ ڈمپنگ سائٹ، اچھن سیدہ پورہ کا۔
جہاں ایک طرف حکومت سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے کی بات کر رہی ہے، وہیں اس "اسمارٹ سٹی” کا دل، اس کا قدیم شہر، اچھن کی بدبو اور زہریلے فضلے کی لپیٹ میں ہے۔ ایک حالیہ انکشاف کے مطابق، سری نگر میونسپل کارپوریشن (SMC) کے آٹھ سابق کمشنرز کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی متوقع ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ دہائیوں میں اچھن ڈمپنگ سائٹ پر میونسپل سالڈ ویسٹ کو "غیر sائنسی طریقے سے” ٹھکانے لگانے کی اجازت دی، جو آج ایک ماحولیاتی بحران بن چکا ہے۔
اچھن: جھیل سے جہنم تک کا سفر
اچھن کبھی ایک سرسبز علاقہ تھا، جہاں انچار جھیل ہوا کرتی تھی۔ مگر 1983 میں یہاں میونسپل ویسٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوا۔ تب کسی نے تصور نہیں کیا تھا کہ چند دہائیوں میں یہ علاقہ 11 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کچرے کا قبرستان بن جائے گا۔
روزانہ تقریباً 600 ٹن ویسٹ یہاں لایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ڈمپ کی بلندی 7 میٹر سے تجاوز کر چکی ہے اور گرمیوں میں نکلنے والی میتھان گیس اور دیگر زہریلے کیمیکلز نے مقامی فضا کو خطرناک حد تک آلودہ کر دیا ہے۔
عوامی صحت پر براہ راست حملہ
ڈاکٹرزبیر بٹ، ایک معروف معالج اور عوامی صحت کے کارکن، کہتے ہیں:
"میتھان گیس آکسیجن کی مقدار گھٹا دیتی ہے اور مسلسل بدبو لوگوں کو ذہنی و جسمانی دونوں طور پر متاثر کر رہی ہے۔”
SMHS ہسپتال کے اعداد و شمار بھی یہ بتاتے ہیں کہ علاقے میں سانس کی بیماریوں، جِلدی امراض، پیٹ کی خرابی اور دیگر صحت سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا ہے، اور متاثرین میں ایک بڑا حصہ وہ لوگ ہیں جو اچھن کے قریب رہتے ہیں۔
"سمارٹ سٹی” میں سڑتی ہوئی بدبو
میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک بیان میں کہا:
"قبل اس کے کہ سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنایا جائے، کیا اسے بدبو سے پاک اور رہنے کے قابل شہر بنایا جا سکتا ہے؟”
یہ سوال کئی دہائیوں سے فضاء میں گونج رہا ہے، مگر جواب ندارد۔
مقامی شہری عادل احمد کی شکایت ہے:
"ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیفٹیننٹ گورنر سے لے کر کارپوریشن تک، لیکن ہمیں صرف وعدے ملے، عمل نہیں۔”
قانونی کارروائی: کیا کچھ بدلے گا؟
حالیہ رپورٹس کے مطابق، آٹھ سابقہ SMC کمشنرز پر جلد مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، جن میں اچھن سائٹ کی بندش اور متبادل سائٹ کے قیام کی تاکید کی گئی تھی۔ نیشنل گرین ٹریبیونل (NGT) نے 2017 میں ہی حکم دیا تھا کہ یہاں waste-to-energy پلانٹ لگایا جائے، مگر منصوبہ آج بھی فائلوں میں دفن ہے۔
NGT نے حالیہ حکم میں حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اچھن سائٹ کی موجودہ صورتحال کی رپورٹ پیش کرے اور متبادل اقدامات تجویز کرے۔
فراہم کردہ فنڈز اور خراب منصوبہ بندی
2014 میں 93 کروڑ روپے اچھن کی صورتحال بہتر کرنے کےلئے جاری کیے گئے، مگر SMC کمشنر حفیظ اللہ شاہ کے مطابق، یہ فنڈز ناکافی تھے۔
"فی الحال، شہر کو بدبو کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا”، وہ کہتے ہیں۔
اس بیان نے مقامی باشندوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔
کیا حل ہے؟
ڈمپ سائٹ کی فوری بندش اور نئے مقام کا تعین
ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ کا جلد قیام
کچرے کی سائنسی درجہ بندی اور ری سائیکلنگ کا نظام
میتھان اور لیکویڈ لیچیٹ کی باقاعدہ نگرانی اور ضیاع
SMC میں جواب دہی اور شفافیت کا نفاذ
عدالتی نگرانی میں عمل درآمد کی رفتار بڑھانا
عوامی بیداری اور میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے پر خوب بحث جاری ہے۔
ایک صارف نے لکھا:
"اچھن کی بدبو صرف ناک میں نہیں، نظام میں گھس چکی ہے۔”
آخری بات: سانس لینے کےلئے انصاف درکار ہے
اچھن کا مسئلہ صرف ایک گلی، ایک محلے یا ایک وارڈ کا نہیں، بلکہ سری نگر کے اجتماعی شہری وقار اور صحت کا ہے۔ بدبو، زہریلی فضا اور حکومتی لاپرواہی کا مجموعہ اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ عوامی صبر ٹوٹنے کے قریب ہے۔
اگر حکومت واقعی سری نگر کو "اسمارٹ سٹی” بنانے میں سنجیدہ ہے، تو سب سے پہلا قدم اچھن جیسے مسائل کا حل ہونا چاہیے نہ صرف بیانات میں بلکہ میدانِ عمل میں بھی۔
مِر واعظ عمر فاروق نے حال ہی میں اس بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے شہر کو "اسمارٹ سٹی” بنانے کے بجائے "بہتر رہائش” پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔
علاقہ زونی مر کے مکین گزشتہ کئی مہینوں سے شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی مل چکے ہیں۔ ان کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر متبادل ڈمپنگ سائٹ کےلئے زمین کی نشاندہی کی جائے تو اچھن میں قائم موجودہ ڈمپنگ سائٹ کو بند کر دیا جائے گا۔ لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ لاکھوں شہریوں کی حالتِ زار پر رحم کھاتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔

اچھن کے قریب واقع علاقوں میں کوڑے کے ڈمپنگ سائٹ سے اٹھنے والی بدبو پورے شہر میں پھیل رہی ہے، جس نےمکینوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اچھن میں 11 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پرانا کوڑا گل سڑ رہا ہے، جبکہ روزانہ 550 میٹرک ٹن کوڑا مزید وہاں پھینکا جا رہا ہے۔ یہ ایک مکمل عوامی صحت اور ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔مقامی لوگ سانس اور جلد کی بیماریوں میں اضافہ رپورٹ کر رہے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں خود، جو اچھن سے خاصا دور رہتا ہوں، شام کے وقت اس بدبو کو محسوس کرتا ہوں۔
یہ تفصیلات مجھے جناب راجہ مظفر، جو کہ ایک معروفRTI کارکن ہیںنے فراہم کیں۔ ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ پچھلے دو برسوں سے اس معاملے کو حکام کے سامنے اٹھا رہے ہیں، لیکن تاحال کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہوئی۔
ان علاقوں سے پریشان حال مکینوں اور محلہ کمیٹیوں کے نمائندوں نے حال ہی میں مجھ سے ملاقات کی اور منت سماجت کی کہ میں اس سنگین مسئلے کو جامع مسجد میں اُٹھاؤں، اس امید کے ساتھ کہ انتظامیہ، بشمول سری نگر میونسپل کارپوریشن (SMC)، جو اس معاملے سے مکمل طور پر آگاہ ہے، شاید حرکت میں آ جائے۔
سوال یہ ہے کہ سری نگر کو اسمارٹ سٹی بنانے سے پہلے، کیا اسے بدبو سے پاک اور قابلِ رہائش بنایا جا سکتا ہے؟
-میرواعظ کشمیر

سرینگر جنگ میں شائع ہونے والے اس فیچر کی ترتیب میں عوامی مسائل پر نظر رکھنے والی نوجوان قلم کار، خان سحرش نے اپنی خدمات پیش کیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں