نصرت پروین: ایک ماڈل سے روحانی روشنی تک کا سفر

محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر

جب انسان تاریخ کے گرد آلود اوراق کو دل کی آنکھ سے پڑھتا ہے تو اس پر ایک ایسی حقیقت آشکار ہوتی ہے جو کائنات کے نظام نور کو بیان کرتی ہے۔ روشنی ہمیشہ روشنی سے جنم لیتی ہے اندھیروں سے نہیں۔ یہ وہ روشنی ہے جو نہ آسمان سے برستی ہے نہ بازاروں سے خریدی جاتی ہے بلکہ یہ دلوں کے کرب، روحوں کے اخلاص، اور کردار کی سچائی سے پھوٹتی ہے۔ اور اکثر یہ نور ان خاموش گمنام عورتوں کے وجود سے پھوٹتا ہے جو خود پس منظر میں رہ کر نسلوں کے مقدر سنوار دیتی ہیں۔ یہ وہ مائیں، بیٹیاں اور بیویاں ہیں جو دنیا کے شور و غل سے دور، روح کی خلوت میں جاکر ایک ایسا انقلاب رقم کرتی ہیں جو نہ صرف تہذیبوں کی بنیاد رکھتا ہے بلکہ انسان کی فطرت کو اس کی اصل پہچان بھی عطا کرتا ہے۔ ان کا چراغ، ان کی قربانی، ان کی دعا اور ان کی خاموشی تاریخ کے صفحات پر ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہے جنہیں وقت کی گرد مٹا نہیں سکتی۔
چاہے اسلامی تاریخ کا دامن ہو یا ہندوستان کی تہذیبی فضا ہر دور میں ہمیں ایسی مسلم خواتین کے نقوش ملتے ہیں جنہوں نے فانی دنیا کی چکاچوند کو چھوڑ کر حقیقت کے چراغ کو تھاما۔ اور جب ہم کشمیر کی حسین وادیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہاں کی مٹی میں بھی ایسی خواتین ملتی ہیں جنہوں نے شہرت، فیشن، اور فنون لطیفہ کی چوٹیوں کو چھوا مگر ایک دن انہیں یہ شعور عطا ہوا کہ اصل کامیابی صرف خالق کی رضا میں ہے۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا آغاز فلمی دنیا، ماڈلنگ، یا پینٹنگ جیسے میدانوں میں کیا تھا۔ کچھ بین الاقوامی نمائشوں میں کشمیر کی نمائندگی کر چکی تھیں، کچھ سوشل میڈیا پر لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھیں اور کچھ نے اپنے فنون خطاطی یا میک اپ آرٹ میں دنیا سے داد وصول کی تھی۔ ان میں وہ بھی تھیں جن کے چہرے رسالوں کے سرورق بنے جن کی آواز ریڈیو اور اسٹیج پر گونجی اور جن کی چال ریمپ پر دنیا نے دیکھی۔ مگر ایک دن کسی لمحہ صدق میں کسی شب تنہائی میں کسی سوال نے ان کے دل کو چھو لیا کہ آخر یہ سب کس کے لیے؟ شہرت، داد، تعریفی کمنٹس؟ یا کچھ ایسا جو دل کی گہرائی میں سکون بھر دے؟ تب انہوں نے اپنی شہرت کی چادر کو اتار کر سادگی کا دوپٹہ اوڑھ لیا۔ فیشن کی چکاچوند چھوڑ کر سجدے کی روشنی میں پناہ لی۔ وہ جو کبھی اسٹیج کی زینت تھیں آج تہجد کی خلوت میں آنسو بہاتی ہیں۔ وہ جو رنگوں کی دنیا میں جیتی تھیں اب قرآن کے سیاہ الفاظ میں نور تلاش کرتی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے شہرت کے تخت سے زیادہ سکوت کے فرش کو ترجیح دی۔ جنہوں نے سادگی کو وقار کا لباس بنایا اور عبادت کو زندگی کا مقصد۔ ان کے کلام میں روح بولتی ہے اور ان کے سکوت میں صدائیں گونجتی ہیں۔ وہ ہمیں یہ سبق دے گئیں کہ اصل حسن محض چہرے کی بناوٹ نہیں بلکہ روح کی لطافت، قربانی کی مہک، اور کردار کی روشنی ہے۔
ایسے ہی پرنور سلسلے کی ایک حالیہ جیتی جاگتی مثال ہیں کشمیر کی باوقار، بافکر، اور روحانی جاذبیت سے لبریز شخصیت نصرت پروین۔ نصرت پروین صرف ایک نام نہیں بلکہ نسوانی عظمت کا وہ خاموش ترانہ ہے جو شہرت کی بلند چوٹیوں کو چھو کر بھی روح کی گہرائیوں میں اترنے کی ہمت رکھتا ہے۔ وہ محض فیشن یا چمکتی ہوئی تصویروں کا حوالہ نہیں بلکہ ایک ایسی بیدار شعور ہستی ہیں جنہوں نے عورت کی شناخت کو آئینے سے نکال کر چراغ بنا دیا۔ ایک ایسا چراغ جو نہ صرف اپنے گھر کو روشن کرتا ہے بلکہ معاشرے کو روشنی عطا کرتا ہے۔ نصرت ایک دفاعی افسر کی بیٹی اور ایک حلیم و دعاگو ماں کی تربیت یافتہ نصرت ابتدائے شعور سے ہی وقار، ضبط اور روحانیت کی سانچ میں ڈھلتی گئیں۔ کندریہ ودیالیہ بھون اور لکھنؤ کے گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف علم بلکہ تہذیب، شائستگی اور انسانی قدروں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔ فطرتاً فن، جمالیات اور لطافت کی طرف میلان رکھنے والی نصرت نے ملائیشیا میں 2018 کے “مسز انڈیا انٹرنیشنل” مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی مگر اندر کی ایک خلش، ایک سوال، ان کے باطن میں مسلسل گونجتا رہا کہ کیا یہی میری اصل منزل ہے؟ یہی سوال ایک انقلاب بن گیا۔ انہوں نے شہرت کا تاج اتار کر وہ سجدہ چن لیا جہاں روح سجدہ ریز ہو کر سکون پاتی ہے اور جہاں دل صرف خالق حقیقی کے حضور جھکتا ہے۔
ترال کشمیر کی روح پرور فضاؤں میں قدم رکھتے ہی نصرت کی باطنی روشنی جیسے بیدار ہو گئی۔ ایک وفا شعار بیوی، ایک شکر گزار ماں اور ایک روحانی ہم سفر بن کر انہوں نے اپنے گھر کو عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا۔ ان کے شوہر کی مہذب اور دینی بصیرت نے انہیں مزید نکھارا اور ان کی زندگی میں وہ ٹھہراو آیا جو صرف خدا سے جڑنے والے دلوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شہرت، مائیک، کیمرے اور فیشن کے شور سے نکل کر نصرت پروین نے برش کو روح کا وسیلہ بنا لیا۔ ایک ایسا وسیلہ جو اب صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ہر لکیر میں تسبیح کی مانند عبادت بن چکا ہے۔ Kendriya Vidyalaya میں فنون لطیفہ کی معلمہ بن کر وہ نئی نسل کو نہ صرف فن سکھا رہی ہیں بلکہ ادب، شعور، عبادت اور وجدان کا وہ رنگ بھی دے رہی ہیں جو کتابوں سے نہیں روح سے منتقل ہوتا ہے۔ ان کا گھر اب ایک روحانی فن گاہ ہے جہاں ہر دیوار پر خوابوں کی تصویر ہے، ہر گوشہ ذکر الٰہی سے لبریز اور ہر بچہ ان کی روشنی کا امین۔
جب دنیا نے کامیابی کا مفہوم صرف شہرت، دولت، اسٹیج کی چمک، اور سوشل میڈیا کی چکاچوند سے وابستہ کر دیا تب ایک خاموش چراغ نصرت پروین کے روپ میں روشن ہوا — ایسا چراغ جس نے مصنوعی روشنیوں کو رد کر کے روحانی روشنی کو اپنایا، اور جب دوبارہ شہرت نے دروازے پر دستک دی، تو اس نے نرمی سے کہا: "یہ سب فانی ہے… اصل زندگی تو موت کے بعد ہے۔” یہ جملہ صرف ایک قول نہیں بلکہ مادہ پرستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے والی صداقت ہے۔ نصرت پروین نہ کسی منصب کی خواہاں ہیں، نہ القاب کی طالب۔ ان کا تعارف نہ کسی ادارے سے ہے، نہ کسی تمغے سے، بلکہ اُن کے کردار کی خوشبو ہے جو دلوں کو چھو جاتی ہے۔ وہ خود کو نہ ماڈل سمجھتی ہیں، نہ کوئی مشہور شخصیت، بس کہتی ہیں: "میں ایک ماں ہوں، ایک بیوی ہوں، اور ایک خادمہِ دل و روح ہوں۔” ان کی صبح بچوں کی ہنسی، کچن کی خوشبو، اور شوہر کی محبت سے شروع ہوتی ہے، اور ہر دن خاموش عبادت کی شکل میں گزرتا ہے جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ اُن کے شوہر کی زبان پر اکثر یہ دعا رہتی ہے: "اگر میں کچھ ہوں تو یہ نصرت کی دعاؤں اور قربانیوں کا اثر ہے۔” وہ نہ صرف ایک وفا شعار بیوی بلکہ ایک ایسی ماں بھی ہیں جس کی گود کردار، دین، اور حیا کی پہلی درسگاہ ہے۔ ان کی گمنام خدمتیں، جیسے بیوہ کے در پر چپکے سے راشن رکھ دینا یا یتیم کی شادی میں گمنام مدد، ان کے وجود کو اس مقام تک لے جاتی ہیں جہاں دعائیں بولتی نہیں، بس قبول ہو جاتی ہیں۔
نصرت پروین کی زندگی ایک گمنام نظم کی مانند ہے۔۔۔ایسی نظم جس کے ہر لفظ میں خامشی کی صداقت، ہر مصرعے میں وقار کی چمک اور ہر آہنگ میں روحانیت کی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔ یہ وہ نظم ہے جو شور کے بغیر سنائی دیتی ہے، اور جو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی سماعت سے پڑھی جاتی ہے۔ ان کی ذات کی سادگی، ان کی شخصیت کی نرمی، ان کے کردار کی مضبوطی، اور ان کے عمل کی خاموشی۔۔یہ سب مل کر ایک ایسا ہالہ بناتے ہیں جو دنیاوی معیار سے بالا تر ہے۔ ان کی زندگی ایک ایسا فطری شاہکار ہے جو انسانی عظمت کے ان پہلوؤں کو عیاں کرتا ہے جو آج کے دور میں اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔
نصرت کی سادہ زبان میں وہ تاثیر ہے جو دل کے بند دریچے کھول دیتی ہے ان کے چہرے کی جھکی نگاہیں دراصل ایک بینا دل کی جھلک ہیں اور ان کے ہاتھوں میں نہ زیورات کی چمک ہے نہ سوشل میڈیا کی تصویریں بلکہ ایک سادہ سی تسبیح، بچوں کے کپڑوں کی تہہ داری، اور لکڑیوں کی خوشبو ہے، جو ان کے وجود کے اصل وقار کی نشانیاں ہیں۔ یہ وہ وقار ہے جو نہ شہرت سے پیدا ہوتا ہے نہ تعلیم کے کاغذی تمغوں سے بلکہ اخلاص، ایثار، اور عبادت سے جنم لیتا ہے۔ ان کے کمرہ ذکر کی خاموش روشنی، ان کی دعاؤں کی خوشبو، اور ان کے برش سے نکلنے والے رنگ گویا وہ تصویریں بناتے ہیں جو آنکھوں سے نہیں دلوں سے دیکھی جاتی ہیں۔
وہ عورت جسے دنیا نے کبھی محض گھر کی دیواروں تک محدود سمجھا آج روحانی جمال کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ان کی موجودگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل فیشن وہی ہے جو روح کو آراستہ کرے، اور اصل عزت وہی ہے جو رب کی بارگاہ سے عطا ہو۔ نصرت پروین ایک خاموش اذان ہیں، جو دل کی محراب سے بلند ہوتی ہے—ایسی صدا جو دنیا کی ظاہری چمک دمک کو رد کرکے ہمیں ایثار، عبادت اور خودی کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ایک لمحہ بصیرت ہیں ایک ایسا خاموش انقلاب جو لفظوں کے بغیر بھی دلوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
ان کی شخصیت کوئی معمولی وجود نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و روحانی تحریک ہے۔۔ایک ایسی مشعل جو اس دور مادہ پرستی میں ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی کا تعلق نہ ڈگری سے ہے نہ اسٹیج سے نہ پوسٹ سے بلکہ وہ خاموش سجدہ ہی اصل معراج ہے جس میں انسان اپنا آپ مٹا کر خالصتا رب کا ہو جاتا ہے۔ ان کا طرز زیست اس شور زدہ، نفسا نفسی کے مارے معاشرے میں ایک پیغام ہے کہ وقار لباس یا زبان سے نہیں بلکہ کردار اور سچائی سے جنم لیتا ہے۔
ان کی زندگی میں ایسی روشنی ہے جو اندھیروں کو مات دیتی ہے۔۔ ان کی سادگی میں ایسا جمال ہے جو دلوں کو مسحور کر دیتا ہے اور ان کی خاموشی میں ایسا پیغام ہے جو ببانگ دہل کہتا ہے کہ اصل عظمت کا تعلق صرف اور صرف خلوص سے ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ شہرت کے ہر تاج کی ایک میعاد ہوتی ہے، ہر اسٹیج آخرکار خاموشی میں گم ہو جاتا ہے اور ہر چمکتی تصویر وقت کی گرد میں چھپ جاتی ہے مگر باقی رہتی ہیں صرف وہ دعائیں جو اخلاص سے نکلیں، وہ تربیت جو کردار کو سنوارے، اور وہ قربانیاں جو آنے والی نسلوں کی بنیادیں مضبوط کریں۔
نصرت پروین کے برش سے جو فن نکلتا ہے وہ شہرت کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے لیے ہے۔ ان کا فن دلوں کو جیتنے والا ہے ایسا فن جو روحوں کو جگاتا ہے، اور اقدار کو زندہ کرتا ہے۔ ان کا ہر عمل، ہر حرکت، ہر خاموشی، ایک غیرمرئی اذان ہے۔۔ایسی اذان جو انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اپنی روح کی شناخت کرے، کہ وہ سجدے کی روشنی کو محسوس کرے، جو دل کو منور کر دیتی ہے۔
ہم جب ان کی زندگی کو ایک آئینے کی طرح دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں خود سے وہ سوال پوچھنے پر مجبور کر دیتی ہیں جن سے ہم اکثر نظریں چراتے ہیں: کیا ہم نے کبھی اپنی روح کے اصل نور کو پہچانا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی عبادات میں وہ سچائی محسوس کی جو ہمیں خالص بندہ بنا دے؟ اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو شاید ہم سب سے قیمتی خزانے سے محروم ہیں۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ یہ گواہی دیتا ہے کہ عظمت لفظوں کے شور میں نہیں بلکہ عمل کی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے، اور کامیابی تالیوں کی گونج میں نہیں بلکہ رب کی رضا کی تنہائیوں میں پنہاں ہے۔ وہ ایک ایسی روشنی ہیں جو اپنی چمک کو دنیا پر تھوپتی نہیں بلکہ اپنی ذات کو مٹا کر دوسروں کی راہوں کو روشن کرتی ہیں۔ وہ چراغ کی مانند ہیں جو خود جل کر زمانے کے اندھیروں کو روشنی دیتے ہیں۔ ان کے جیسا ہونا ممکن نہیں، مگر ان سے سیکھنا ایک زندہ روح کی علامت ضرور ہو سکتا ہے۔
آج کی دنیا جہاں چمک، شہرت اور نمود کو اصل کامیابی سمجھتی ہے، وہاں نصرت پروین جیسے کردار ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتے ہیں کہ اصل فیشن وہی ہے جو دل کو سجا دے، اصل کامیابی وہی ہے جو روح کو جگا دے، اور اصل فن وہی ہے جو انسان کو انسان بنا دے۔ ان کی سادگی میں وہ لطافت ہے جو شاہانہ محلوں میں بھی نہیں ملتی، ان کی مسکراہٹ میں وہ سکون ہے جو دنیا کے قہقہوں سے محروم ہے، اور ان کی خاموشی میں وہ پیغام ہے جو پوری نسلوں کو بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔
ان کا وجود ایک ایسی داستان ہے جو وقت کے صفحات پر خاموشی سے رقم ہو رہی ہے—ایسی داستان جسے پڑھنے کے لیے دنیاوی آنکھیں نہیں، روحانی بینائی درکار ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کے تخت و تاج عارضی ہیں، مگر وہ لوگ جو خود کو مٹا کر دوسروں کے لیے چراغ بن جائیں، وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کی روح میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے کردار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو بڑے بڑے الفاظ سے نہیں بلکہ خاموش عمل سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ دور شاید ان کے نام سے ناواقف رہے، ان کی تصویروں کو نہ پہچانے، ان کے کارناموں پر تالیاں نہ بجائے، مگر وقت گواہی دے گا کہ وہ لوگ جو خود کو مٹا کر روشنی بانٹتے ہیں، وہ کبھی مٹی میں دفن نہیں ہوتے۔ ان کی چمک وقت کی آنکھ سے اوجھل ہو سکتی ہے، مگر دل کی بینائی رکھنے والے ہمیشہ اس نور سے راہ پاتے رہیں گے۔
اختتامیہ:
اور آخر میں، نصرت پروین کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روشنی کی راہ میں چلنے والے کبھی راہوں کے شور سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل مقصد منزل نہیں، بلکہ وہ خلوص ہے جو سفر کو عبادت میں بدل دیتا ہے۔ دنیا کے لیے شاید وہ ایک خاموش عورت ہوں، لیکن حقیقت میں وہ ایک بیدار زمانہ ہیں—ایسا زمانہ جو لفظوں سے نہیں، کردار سے بولتا ہے۔ آج جب دنیا تیز روشنیوں کے پیچھے اندھی ہو چکی ہے، تب نصرت پروین جیسے کردار اس بات کا اعلان ہیں کہ سب سے روشن چراغ وہی ہوتا ہے جو دل کی دہلیز پر جلتا ہے، نہ کہ شہرت کے اسٹیج پر۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل فیشن وہ ہے جو روح کو مزین کرے، اصل کامیابی وہ ہے جو دل کو جھکا دے، اور اصل فن وہ ہے جو انسان کو انسان بنا دے۔
یہ دور شاید ان کے نام سے ناواقف رہے، مگر وقت گواہ ہے کہ جو لوگ خود کو مٹا کر روشنی بانٹتے ہیں، وہ مٹی میں دفن نہیں ہوتے بلکہ زمانے کی روح میں زندہ رہتے ہیں۔ نصرت پروین بھی ایک ایسی ہی صداقت ہیں—ایک ایسی خاموش روشنی، جس کی چمک دنیا کی آنکھیں شاید نہ دیکھ سکیں، مگر دل کی بینائی رکھنے والے ہمیشہ اس نور سے راہ پائیں گے۔ کیونکہ آخر میں… شہرت مٹ جاتی ہے، مگر کردار کا چراغ کبھی بجھتا نہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

نصرت پروین: ایک ماڈل سے روحانی روشنی تک کا سفر

محمد عرفات وانی
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر

جب انسان تاریخ کے گرد آلود اوراق کو دل کی آنکھ سے پڑھتا ہے تو اس پر ایک ایسی حقیقت آشکار ہوتی ہے جو کائنات کے نظام نور کو بیان کرتی ہے۔ روشنی ہمیشہ روشنی سے جنم لیتی ہے اندھیروں سے نہیں۔ یہ وہ روشنی ہے جو نہ آسمان سے برستی ہے نہ بازاروں سے خریدی جاتی ہے بلکہ یہ دلوں کے کرب، روحوں کے اخلاص، اور کردار کی سچائی سے پھوٹتی ہے۔ اور اکثر یہ نور ان خاموش گمنام عورتوں کے وجود سے پھوٹتا ہے جو خود پس منظر میں رہ کر نسلوں کے مقدر سنوار دیتی ہیں۔ یہ وہ مائیں، بیٹیاں اور بیویاں ہیں جو دنیا کے شور و غل سے دور، روح کی خلوت میں جاکر ایک ایسا انقلاب رقم کرتی ہیں جو نہ صرف تہذیبوں کی بنیاد رکھتا ہے بلکہ انسان کی فطرت کو اس کی اصل پہچان بھی عطا کرتا ہے۔ ان کا چراغ، ان کی قربانی، ان کی دعا اور ان کی خاموشی تاریخ کے صفحات پر ایسے نقوش چھوڑ جاتی ہے جنہیں وقت کی گرد مٹا نہیں سکتی۔
چاہے اسلامی تاریخ کا دامن ہو یا ہندوستان کی تہذیبی فضا ہر دور میں ہمیں ایسی مسلم خواتین کے نقوش ملتے ہیں جنہوں نے فانی دنیا کی چکاچوند کو چھوڑ کر حقیقت کے چراغ کو تھاما۔ اور جب ہم کشمیر کی حسین وادیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں یہاں کی مٹی میں بھی ایسی خواتین ملتی ہیں جنہوں نے شہرت، فیشن، اور فنون لطیفہ کی چوٹیوں کو چھوا مگر ایک دن انہیں یہ شعور عطا ہوا کہ اصل کامیابی صرف خالق کی رضا میں ہے۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا آغاز فلمی دنیا، ماڈلنگ، یا پینٹنگ جیسے میدانوں میں کیا تھا۔ کچھ بین الاقوامی نمائشوں میں کشمیر کی نمائندگی کر چکی تھیں، کچھ سوشل میڈیا پر لاکھوں دلوں کی دھڑکن تھیں اور کچھ نے اپنے فنون خطاطی یا میک اپ آرٹ میں دنیا سے داد وصول کی تھی۔ ان میں وہ بھی تھیں جن کے چہرے رسالوں کے سرورق بنے جن کی آواز ریڈیو اور اسٹیج پر گونجی اور جن کی چال ریمپ پر دنیا نے دیکھی۔ مگر ایک دن کسی لمحہ صدق میں کسی شب تنہائی میں کسی سوال نے ان کے دل کو چھو لیا کہ آخر یہ سب کس کے لیے؟ شہرت، داد، تعریفی کمنٹس؟ یا کچھ ایسا جو دل کی گہرائی میں سکون بھر دے؟ تب انہوں نے اپنی شہرت کی چادر کو اتار کر سادگی کا دوپٹہ اوڑھ لیا۔ فیشن کی چکاچوند چھوڑ کر سجدے کی روشنی میں پناہ لی۔ وہ جو کبھی اسٹیج کی زینت تھیں آج تہجد کی خلوت میں آنسو بہاتی ہیں۔ وہ جو رنگوں کی دنیا میں جیتی تھیں اب قرآن کے سیاہ الفاظ میں نور تلاش کرتی ہیں۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے شہرت کے تخت سے زیادہ سکوت کے فرش کو ترجیح دی۔ جنہوں نے سادگی کو وقار کا لباس بنایا اور عبادت کو زندگی کا مقصد۔ ان کے کلام میں روح بولتی ہے اور ان کے سکوت میں صدائیں گونجتی ہیں۔ وہ ہمیں یہ سبق دے گئیں کہ اصل حسن محض چہرے کی بناوٹ نہیں بلکہ روح کی لطافت، قربانی کی مہک، اور کردار کی روشنی ہے۔
ایسے ہی پرنور سلسلے کی ایک حالیہ جیتی جاگتی مثال ہیں کشمیر کی باوقار، بافکر، اور روحانی جاذبیت سے لبریز شخصیت نصرت پروین۔ نصرت پروین صرف ایک نام نہیں بلکہ نسوانی عظمت کا وہ خاموش ترانہ ہے جو شہرت کی بلند چوٹیوں کو چھو کر بھی روح کی گہرائیوں میں اترنے کی ہمت رکھتا ہے۔ وہ محض فیشن یا چمکتی ہوئی تصویروں کا حوالہ نہیں بلکہ ایک ایسی بیدار شعور ہستی ہیں جنہوں نے عورت کی شناخت کو آئینے سے نکال کر چراغ بنا دیا۔ ایک ایسا چراغ جو نہ صرف اپنے گھر کو روشن کرتا ہے بلکہ معاشرے کو روشنی عطا کرتا ہے۔ نصرت ایک دفاعی افسر کی بیٹی اور ایک حلیم و دعاگو ماں کی تربیت یافتہ نصرت ابتدائے شعور سے ہی وقار، ضبط اور روحانیت کی سانچ میں ڈھلتی گئیں۔ کندریہ ودیالیہ بھون اور لکھنؤ کے گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نہ صرف علم بلکہ تہذیب، شائستگی اور انسانی قدروں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنایا۔ فطرتاً فن، جمالیات اور لطافت کی طرف میلان رکھنے والی نصرت نے ملائیشیا میں 2018 کے “مسز انڈیا انٹرنیشنل” مقابلے میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنائی مگر اندر کی ایک خلش، ایک سوال، ان کے باطن میں مسلسل گونجتا رہا کہ کیا یہی میری اصل منزل ہے؟ یہی سوال ایک انقلاب بن گیا۔ انہوں نے شہرت کا تاج اتار کر وہ سجدہ چن لیا جہاں روح سجدہ ریز ہو کر سکون پاتی ہے اور جہاں دل صرف خالق حقیقی کے حضور جھکتا ہے۔
ترال کشمیر کی روح پرور فضاؤں میں قدم رکھتے ہی نصرت کی باطنی روشنی جیسے بیدار ہو گئی۔ ایک وفا شعار بیوی، ایک شکر گزار ماں اور ایک روحانی ہم سفر بن کر انہوں نے اپنے گھر کو عبادت گاہ میں تبدیل کر دیا۔ ان کے شوہر کی مہذب اور دینی بصیرت نے انہیں مزید نکھارا اور ان کی زندگی میں وہ ٹھہراو آیا جو صرف خدا سے جڑنے والے دلوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شہرت، مائیک، کیمرے اور فیشن کے شور سے نکل کر نصرت پروین نے برش کو روح کا وسیلہ بنا لیا۔ ایک ایسا وسیلہ جو اب صرف رنگوں کا کھیل نہیں بلکہ ہر لکیر میں تسبیح کی مانند عبادت بن چکا ہے۔ Kendriya Vidyalaya میں فنون لطیفہ کی معلمہ بن کر وہ نئی نسل کو نہ صرف فن سکھا رہی ہیں بلکہ ادب، شعور، عبادت اور وجدان کا وہ رنگ بھی دے رہی ہیں جو کتابوں سے نہیں روح سے منتقل ہوتا ہے۔ ان کا گھر اب ایک روحانی فن گاہ ہے جہاں ہر دیوار پر خوابوں کی تصویر ہے، ہر گوشہ ذکر الٰہی سے لبریز اور ہر بچہ ان کی روشنی کا امین۔
جب دنیا نے کامیابی کا مفہوم صرف شہرت، دولت، اسٹیج کی چمک، اور سوشل میڈیا کی چکاچوند سے وابستہ کر دیا تب ایک خاموش چراغ نصرت پروین کے روپ میں روشن ہوا — ایسا چراغ جس نے مصنوعی روشنیوں کو رد کر کے روحانی روشنی کو اپنایا، اور جب دوبارہ شہرت نے دروازے پر دستک دی، تو اس نے نرمی سے کہا: "یہ سب فانی ہے… اصل زندگی تو موت کے بعد ہے۔” یہ جملہ صرف ایک قول نہیں بلکہ مادہ پرستی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے والی صداقت ہے۔ نصرت پروین نہ کسی منصب کی خواہاں ہیں، نہ القاب کی طالب۔ ان کا تعارف نہ کسی ادارے سے ہے، نہ کسی تمغے سے، بلکہ اُن کے کردار کی خوشبو ہے جو دلوں کو چھو جاتی ہے۔ وہ خود کو نہ ماڈل سمجھتی ہیں، نہ کوئی مشہور شخصیت، بس کہتی ہیں: "میں ایک ماں ہوں، ایک بیوی ہوں، اور ایک خادمہِ دل و روح ہوں۔” ان کی صبح بچوں کی ہنسی، کچن کی خوشبو، اور شوہر کی محبت سے شروع ہوتی ہے، اور ہر دن خاموش عبادت کی شکل میں گزرتا ہے جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ اُن کے شوہر کی زبان پر اکثر یہ دعا رہتی ہے: "اگر میں کچھ ہوں تو یہ نصرت کی دعاؤں اور قربانیوں کا اثر ہے۔” وہ نہ صرف ایک وفا شعار بیوی بلکہ ایک ایسی ماں بھی ہیں جس کی گود کردار، دین، اور حیا کی پہلی درسگاہ ہے۔ ان کی گمنام خدمتیں، جیسے بیوہ کے در پر چپکے سے راشن رکھ دینا یا یتیم کی شادی میں گمنام مدد، ان کے وجود کو اس مقام تک لے جاتی ہیں جہاں دعائیں بولتی نہیں، بس قبول ہو جاتی ہیں۔
نصرت پروین کی زندگی ایک گمنام نظم کی مانند ہے۔۔۔ایسی نظم جس کے ہر لفظ میں خامشی کی صداقت، ہر مصرعے میں وقار کی چمک اور ہر آہنگ میں روحانیت کی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔ یہ وہ نظم ہے جو شور کے بغیر سنائی دیتی ہے، اور جو آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی سماعت سے پڑھی جاتی ہے۔ ان کی ذات کی سادگی، ان کی شخصیت کی نرمی، ان کے کردار کی مضبوطی، اور ان کے عمل کی خاموشی۔۔یہ سب مل کر ایک ایسا ہالہ بناتے ہیں جو دنیاوی معیار سے بالا تر ہے۔ ان کی زندگی ایک ایسا فطری شاہکار ہے جو انسانی عظمت کے ان پہلوؤں کو عیاں کرتا ہے جو آج کے دور میں اکثر نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔
نصرت کی سادہ زبان میں وہ تاثیر ہے جو دل کے بند دریچے کھول دیتی ہے ان کے چہرے کی جھکی نگاہیں دراصل ایک بینا دل کی جھلک ہیں اور ان کے ہاتھوں میں نہ زیورات کی چمک ہے نہ سوشل میڈیا کی تصویریں بلکہ ایک سادہ سی تسبیح، بچوں کے کپڑوں کی تہہ داری، اور لکڑیوں کی خوشبو ہے، جو ان کے وجود کے اصل وقار کی نشانیاں ہیں۔ یہ وہ وقار ہے جو نہ شہرت سے پیدا ہوتا ہے نہ تعلیم کے کاغذی تمغوں سے بلکہ اخلاص، ایثار، اور عبادت سے جنم لیتا ہے۔ ان کے کمرہ ذکر کی خاموش روشنی، ان کی دعاؤں کی خوشبو، اور ان کے برش سے نکلنے والے رنگ گویا وہ تصویریں بناتے ہیں جو آنکھوں سے نہیں دلوں سے دیکھی جاتی ہیں۔
وہ عورت جسے دنیا نے کبھی محض گھر کی دیواروں تک محدود سمجھا آج روحانی جمال کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ان کی موجودگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل فیشن وہی ہے جو روح کو آراستہ کرے، اور اصل عزت وہی ہے جو رب کی بارگاہ سے عطا ہو۔ نصرت پروین ایک خاموش اذان ہیں، جو دل کی محراب سے بلند ہوتی ہے—ایسی صدا جو دنیا کی ظاہری چمک دمک کو رد کرکے ہمیں ایثار، عبادت اور خودی کی طرف بلاتی ہے۔ وہ ایک لمحہ بصیرت ہیں ایک ایسا خاموش انقلاب جو لفظوں کے بغیر بھی دلوں کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
ان کی شخصیت کوئی معمولی وجود نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و روحانی تحریک ہے۔۔ایک ایسی مشعل جو اس دور مادہ پرستی میں ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی کا تعلق نہ ڈگری سے ہے نہ اسٹیج سے نہ پوسٹ سے بلکہ وہ خاموش سجدہ ہی اصل معراج ہے جس میں انسان اپنا آپ مٹا کر خالصتا رب کا ہو جاتا ہے۔ ان کا طرز زیست اس شور زدہ، نفسا نفسی کے مارے معاشرے میں ایک پیغام ہے کہ وقار لباس یا زبان سے نہیں بلکہ کردار اور سچائی سے جنم لیتا ہے۔
ان کی زندگی میں ایسی روشنی ہے جو اندھیروں کو مات دیتی ہے۔۔ ان کی سادگی میں ایسا جمال ہے جو دلوں کو مسحور کر دیتا ہے اور ان کی خاموشی میں ایسا پیغام ہے جو ببانگ دہل کہتا ہے کہ اصل عظمت کا تعلق صرف اور صرف خلوص سے ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ شہرت کے ہر تاج کی ایک میعاد ہوتی ہے، ہر اسٹیج آخرکار خاموشی میں گم ہو جاتا ہے اور ہر چمکتی تصویر وقت کی گرد میں چھپ جاتی ہے مگر باقی رہتی ہیں صرف وہ دعائیں جو اخلاص سے نکلیں، وہ تربیت جو کردار کو سنوارے، اور وہ قربانیاں جو آنے والی نسلوں کی بنیادیں مضبوط کریں۔
نصرت پروین کے برش سے جو فن نکلتا ہے وہ شہرت کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے لیے ہے۔ ان کا فن دلوں کو جیتنے والا ہے ایسا فن جو روحوں کو جگاتا ہے، اور اقدار کو زندہ کرتا ہے۔ ان کا ہر عمل، ہر حرکت، ہر خاموشی، ایک غیرمرئی اذان ہے۔۔ایسی اذان جو انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اپنی روح کی شناخت کرے، کہ وہ سجدے کی روشنی کو محسوس کرے، جو دل کو منور کر دیتی ہے۔
ہم جب ان کی زندگی کو ایک آئینے کی طرح دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں خود سے وہ سوال پوچھنے پر مجبور کر دیتی ہیں جن سے ہم اکثر نظریں چراتے ہیں: کیا ہم نے کبھی اپنی روح کے اصل نور کو پہچانا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی عبادات میں وہ سچائی محسوس کی جو ہمیں خالص بندہ بنا دے؟ اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو شاید ہم سب سے قیمتی خزانے سے محروم ہیں۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ یہ گواہی دیتا ہے کہ عظمت لفظوں کے شور میں نہیں بلکہ عمل کی خاموشی میں چھپی ہوتی ہے، اور کامیابی تالیوں کی گونج میں نہیں بلکہ رب کی رضا کی تنہائیوں میں پنہاں ہے۔ وہ ایک ایسی روشنی ہیں جو اپنی چمک کو دنیا پر تھوپتی نہیں بلکہ اپنی ذات کو مٹا کر دوسروں کی راہوں کو روشن کرتی ہیں۔ وہ چراغ کی مانند ہیں جو خود جل کر زمانے کے اندھیروں کو روشنی دیتے ہیں۔ ان کے جیسا ہونا ممکن نہیں، مگر ان سے سیکھنا ایک زندہ روح کی علامت ضرور ہو سکتا ہے۔
آج کی دنیا جہاں چمک، شہرت اور نمود کو اصل کامیابی سمجھتی ہے، وہاں نصرت پروین جیسے کردار ہمیں اس حقیقت سے آشنا کرتے ہیں کہ اصل فیشن وہی ہے جو دل کو سجا دے، اصل کامیابی وہی ہے جو روح کو جگا دے، اور اصل فن وہی ہے جو انسان کو انسان بنا دے۔ ان کی سادگی میں وہ لطافت ہے جو شاہانہ محلوں میں بھی نہیں ملتی، ان کی مسکراہٹ میں وہ سکون ہے جو دنیا کے قہقہوں سے محروم ہے، اور ان کی خاموشی میں وہ پیغام ہے جو پوری نسلوں کو بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔
ان کا وجود ایک ایسی داستان ہے جو وقت کے صفحات پر خاموشی سے رقم ہو رہی ہے—ایسی داستان جسے پڑھنے کے لیے دنیاوی آنکھیں نہیں، روحانی بینائی درکار ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کے تخت و تاج عارضی ہیں، مگر وہ لوگ جو خود کو مٹا کر دوسروں کے لیے چراغ بن جائیں، وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کی روح میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے کردار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو بڑے بڑے الفاظ سے نہیں بلکہ خاموش عمل سے پیدا ہوتی ہے۔
یہ دور شاید ان کے نام سے ناواقف رہے، ان کی تصویروں کو نہ پہچانے، ان کے کارناموں پر تالیاں نہ بجائے، مگر وقت گواہی دے گا کہ وہ لوگ جو خود کو مٹا کر روشنی بانٹتے ہیں، وہ کبھی مٹی میں دفن نہیں ہوتے۔ ان کی چمک وقت کی آنکھ سے اوجھل ہو سکتی ہے، مگر دل کی بینائی رکھنے والے ہمیشہ اس نور سے راہ پاتے رہیں گے۔
اختتامیہ:
اور آخر میں، نصرت پروین کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روشنی کی راہ میں چلنے والے کبھی راہوں کے شور سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل مقصد منزل نہیں، بلکہ وہ خلوص ہے جو سفر کو عبادت میں بدل دیتا ہے۔ دنیا کے لیے شاید وہ ایک خاموش عورت ہوں، لیکن حقیقت میں وہ ایک بیدار زمانہ ہیں—ایسا زمانہ جو لفظوں سے نہیں، کردار سے بولتا ہے۔ آج جب دنیا تیز روشنیوں کے پیچھے اندھی ہو چکی ہے، تب نصرت پروین جیسے کردار اس بات کا اعلان ہیں کہ سب سے روشن چراغ وہی ہوتا ہے جو دل کی دہلیز پر جلتا ہے، نہ کہ شہرت کے اسٹیج پر۔ وہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل فیشن وہ ہے جو روح کو مزین کرے، اصل کامیابی وہ ہے جو دل کو جھکا دے، اور اصل فن وہ ہے جو انسان کو انسان بنا دے۔
یہ دور شاید ان کے نام سے ناواقف رہے، مگر وقت گواہ ہے کہ جو لوگ خود کو مٹا کر روشنی بانٹتے ہیں، وہ مٹی میں دفن نہیں ہوتے بلکہ زمانے کی روح میں زندہ رہتے ہیں۔ نصرت پروین بھی ایک ایسی ہی صداقت ہیں—ایک ایسی خاموش روشنی، جس کی چمک دنیا کی آنکھیں شاید نہ دیکھ سکیں، مگر دل کی بینائی رکھنے والے ہمیشہ اس نور سے راہ پائیں گے۔ کیونکہ آخر میں… شہرت مٹ جاتی ہے، مگر کردار کا چراغ کبھی بجھتا نہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں