عبدالقیوم انصاری: تقسیم کے نظریے کے خلاف برسرِ پیکار ایک بے مثال مجاہد آزادی

عنایت اللہ ننھے

عبدالقیوم انصاری ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے ملک کی آزادی اور پھر آزادی کے بعد ملک کی تقسیم کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے جدوجہدِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن تاریخ میں ان کا اتنا ذکر نہیں کیا گیا جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔ عبدالقیوم انصاری قومی یکجہتی، سیکولرازم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے مطالبے کے خلاف کھل کر ایک علیحدہ مسلم قوم کے قیام کی مخالفت کی تھی۔
عبدالقیوم انصاری نے آل انڈیا مومن کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جناح کے دو قومی نظریے کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ ایک عظیم محب وطن، کامیاب سیاستدان اور سفارتکار ہونے کے علاوہ، وہ ایک ممتاز صحافی، ادیب، شاعر اور سماجی کارکن بھی تھے۔ آزادی سے قبل، انہوں نے ایک اردو ہفت روزہ”الاصلاح” اور ایک اردو ماہنامہ ‘مساوات’ شائع کیا، جن کے وہ مدیر بھی تھے۔ وہ پسماندہ طبقات کے مسائل سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ اور لبرل پالیسیوں کے شدید ناقد تھے۔
سن 1937 اور 1938 کے درمیان انہوں نے مومن کانفرنس کی بنیاد رکھی اور 1946 کے بہار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں چھ نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی۔ یہی نہیں، انہیں بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ شری کرشنا سنگھ کی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا گیا، اور انہوں نے مسلسل 17 برس، یعنی آخری سانس تک، بطور وزیر خدمات انجام دیں۔ ان کے اس کردار کی تعریف بہار کیسری شری کرشنا سنگھ اور بہار وبھوتی انوگرہ نارائن، دونوں نے کی۔
اکتوبر 1947 میںکشمیر پر پاکستان کے حملے کے دوران، وہ ہندوستان کے ان اولین مسلم رہنماؤں میں سے تھے، جنہوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی اور مسلم عوام میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کر کے جارحیت کے خلاف مزاحمت کے لئے آمادہ کیا۔ انہوں نے 1947 میں "انڈین مسلم یوتھ کشمیر فرنٹ”بھی قائم کیا تاکہ آزاد کشمیر کو آزاد کرایا جا سکے۔ بعد ازاں، 1948 میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو حیدرآباد میں رزاکاروں کی ہندوستان مخالف بغاوت کے خلاف، حکومتِ ہند کا ساتھ دینے کی ترغیب دی۔
پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم انصاری کو بے شمار رکاوٹوں اور جدوجہد کا سامنا رہا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے مشن میں مصروفِ عمل رہے اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ جس طرح بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر دلتوں اور پسماندہ طبقات کے مسیحا تھے، اسی طرح عبدالقیوم انصاری نے نہ صرف مسلم سماج کے پسماندہ طبقات بلکہ تمام استحصال زدہ، محروم اور کمزور طبقات، حتیٰ کہ ہندو دلتوں کے لئے بھی پوری زندگی جدوجہد کی۔
ان کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتِ ہند نے 1953 میں آل انڈیا پسماندہ طبقات کمیشن تشکیل دیا۔ عبدالقیوم انصاری یکم جولائی 1905 کو ریاست بہار کے شہر ڈیہری آن سون کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم ڈیہری اور ساسارام میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کلکتہ یونیورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ایک نوجوان رہنما کی حیثیت سے انہوں نے کانگریس کے ساتھ کام کیا اور 1929 میں کلکتہ میں سائمن کمیشن کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، اور صرف 16 سال کی عمر میں آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں جیل بھی گئے۔
اگرچہ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، مگر ہمیشہ پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے سرگرم نظر آئے۔ آج کے خوشحال نوجوان، جو 30 سال کی عمر میں بھی ملک سے بے نیاز رہتے ہیں، ان کے مقابلے میں عبدالقیوم انصاری 16 سال کی عمر میں ہی ملک و ملت کے بارے میں گہری فکر رکھتے تھے۔
بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کے افکار، کارناموں اور اصولوں سے نئی نسل کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1973ء کو اس وقت ہوا، جب وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی نقل مکانی کا معائنہ کر رہے تھے — یعنی انہوں نے اپنی آخری سانس بھی عوام کے درمیان، عوام کی خدمت کرتے ہوئے لی۔
آج ہم ان کی 120ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، مگر یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ اتنے عظیم مجاہدِ آزادی ہونے کے باوجود، انہیں آج بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کی آبائی رہائش گاہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور تباہی کے دہانے پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس یادگار کو محفوظ کرنے کے لئے فوری اقدام کرے اور اسے محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرے تاکہ اسے محفوظ کیا جا سکے۔
یقیناً، یہ درست ہے کہ بہار حکومت یکم جولائی کو ریاستی سطح پر ان کی سالگرہ مناتی ہے اور ان کی تصویر پر مالا چڑھاتی ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ حکومتی سطح پر ان کی یومِ پیدائش اور یومِ وفات کو قومی سطح پر منانے کا اعلان ہونا چاہیے۔ یہ بھی درست ہے کہ حکومتِ ہند نے ان کی یاد میں یکم جولائی 2006 کو ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا، مگر ایسے سچے محبِ وطن کے لئے یہ اعزاز ناکافی ہے۔
عبدالقیوم انصاری جدوجہدِ آزادی کے ان گمنام ہیروز میں سے ایک ہیں جنہوں نے استحصال زدہ، محروم اور مظلوم طبقات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ایسے عظیم محب وطن کو "بھارت رتن” جیسے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جانا چاہیے۔
ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ میں بہت سے نام روشن ہیں، لیکن کچھ ہیرو ایسے بھی ہیں جو فراموش کر دیے گئے ہیں۔ ان کی خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور قربانیوں کو بھلا دیا گیا ہے۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوستان کے معاشرتی تانے بانے میں ان کی بے مثال شراکت کے باوجود، ان کا نام ہندوستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں شاذ و نادر ہی آتا ہے۔
اسی لئے ان کی بے لوث خدمات، ثابت قدمی، قومی اتحاد، سیکولرازم اور سماجی انصاف کے لئے ان کی مسلسل وکالت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہیں "بھارت رتن” دیے جانے کا مطالبہ نہایت واجب ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

عبدالقیوم انصاری: تقسیم کے نظریے کے خلاف برسرِ پیکار ایک بے مثال مجاہد آزادی

عنایت اللہ ننھے

عبدالقیوم انصاری ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے، جنہوں نے ملک کی آزادی اور پھر آزادی کے بعد ملک کی تقسیم کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے جدوجہدِ آزادی میں اہم کردار ادا کیا، لیکن تاریخ میں ان کا اتنا ذکر نہیں کیا گیا جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔ عبدالقیوم انصاری قومی یکجہتی، سیکولرازم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے مطالبے کے خلاف کھل کر ایک علیحدہ مسلم قوم کے قیام کی مخالفت کی تھی۔
عبدالقیوم انصاری نے آل انڈیا مومن کانفرنس کے پلیٹ فارم سے جناح کے دو قومی نظریے کے خلاف بھرپور جدوجہد کی۔ ایک عظیم محب وطن، کامیاب سیاستدان اور سفارتکار ہونے کے علاوہ، وہ ایک ممتاز صحافی، ادیب، شاعر اور سماجی کارکن بھی تھے۔ آزادی سے قبل، انہوں نے ایک اردو ہفت روزہ”الاصلاح” اور ایک اردو ماہنامہ ‘مساوات’ شائع کیا، جن کے وہ مدیر بھی تھے۔ وہ پسماندہ طبقات کے مسائل سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مسلم لیگ کی فرقہ وارانہ اور لبرل پالیسیوں کے شدید ناقد تھے۔
سن 1937 اور 1938 کے درمیان انہوں نے مومن کانفرنس کی بنیاد رکھی اور 1946 کے بہار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں چھ نشستیں جیت کر تاریخ رقم کی۔ یہی نہیں، انہیں بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ شری کرشنا سنگھ کی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا گیا، اور انہوں نے مسلسل 17 برس، یعنی آخری سانس تک، بطور وزیر خدمات انجام دیں۔ ان کے اس کردار کی تعریف بہار کیسری شری کرشنا سنگھ اور بہار وبھوتی انوگرہ نارائن، دونوں نے کی۔
اکتوبر 1947 میںکشمیر پر پاکستان کے حملے کے دوران، وہ ہندوستان کے ان اولین مسلم رہنماؤں میں سے تھے، جنہوں نے کھل کر پاکستان کی مخالفت کی اور مسلم عوام میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کر کے جارحیت کے خلاف مزاحمت کے لئے آمادہ کیا۔ انہوں نے 1947 میں "انڈین مسلم یوتھ کشمیر فرنٹ”بھی قائم کیا تاکہ آزاد کشمیر کو آزاد کرایا جا سکے۔ بعد ازاں، 1948 میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو حیدرآباد میں رزاکاروں کی ہندوستان مخالف بغاوت کے خلاف، حکومتِ ہند کا ساتھ دینے کی ترغیب دی۔
پسماندہ برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم انصاری کو بے شمار رکاوٹوں اور جدوجہد کا سامنا رہا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے مشن میں مصروفِ عمل رہے اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ جس طرح بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر دلتوں اور پسماندہ طبقات کے مسیحا تھے، اسی طرح عبدالقیوم انصاری نے نہ صرف مسلم سماج کے پسماندہ طبقات بلکہ تمام استحصال زدہ، محروم اور کمزور طبقات، حتیٰ کہ ہندو دلتوں کے لئے بھی پوری زندگی جدوجہد کی۔
ان کی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ حکومتِ ہند نے 1953 میں آل انڈیا پسماندہ طبقات کمیشن تشکیل دیا۔ عبدالقیوم انصاری یکم جولائی 1905 کو ریاست بہار کے شہر ڈیہری آن سون کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم ڈیہری اور ساسارام میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کلکتہ یونیورسٹی، الہ آباد یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ایک نوجوان رہنما کی حیثیت سے انہوں نے کانگریس کے ساتھ کام کیا اور 1929 میں کلکتہ میں سائمن کمیشن کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، اور صرف 16 سال کی عمر میں آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں جیل بھی گئے۔
اگرچہ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، مگر ہمیشہ پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے سرگرم نظر آئے۔ آج کے خوشحال نوجوان، جو 30 سال کی عمر میں بھی ملک سے بے نیاز رہتے ہیں، ان کے مقابلے میں عبدالقیوم انصاری 16 سال کی عمر میں ہی ملک و ملت کے بارے میں گہری فکر رکھتے تھے۔
بابائے قوم عبدالقیوم انصاری کے افکار، کارناموں اور اصولوں سے نئی نسل کو روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا انتقال 18 جنوری 1973ء کو اس وقت ہوا، جب وہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی نقل مکانی کا معائنہ کر رہے تھے — یعنی انہوں نے اپنی آخری سانس بھی عوام کے درمیان، عوام کی خدمت کرتے ہوئے لی۔
آج ہم ان کی 120ویں یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، مگر یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ اتنے عظیم مجاہدِ آزادی ہونے کے باوجود، انہیں آج بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کی آبائی رہائش گاہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور تباہی کے دہانے پر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس یادگار کو محفوظ کرنے کے لئے فوری اقدام کرے اور اسے محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرے تاکہ اسے محفوظ کیا جا سکے۔
یقیناً، یہ درست ہے کہ بہار حکومت یکم جولائی کو ریاستی سطح پر ان کی سالگرہ مناتی ہے اور ان کی تصویر پر مالا چڑھاتی ہے، لیکن یہ کافی نہیں۔ حکومتی سطح پر ان کی یومِ پیدائش اور یومِ وفات کو قومی سطح پر منانے کا اعلان ہونا چاہیے۔ یہ بھی درست ہے کہ حکومتِ ہند نے ان کی یاد میں یکم جولائی 2006 کو ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا، مگر ایسے سچے محبِ وطن کے لئے یہ اعزاز ناکافی ہے۔
عبدالقیوم انصاری جدوجہدِ آزادی کے ان گمنام ہیروز میں سے ایک ہیں جنہوں نے استحصال زدہ، محروم اور مظلوم طبقات کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ ایسے عظیم محب وطن کو "بھارت رتن” جیسے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جانا چاہیے۔
ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ میں بہت سے نام روشن ہیں، لیکن کچھ ہیرو ایسے بھی ہیں جو فراموش کر دیے گئے ہیں۔ ان کی خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور قربانیوں کو بھلا دیا گیا ہے۔ آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوستان کے معاشرتی تانے بانے میں ان کی بے مثال شراکت کے باوجود، ان کا نام ہندوستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں شاذ و نادر ہی آتا ہے۔
اسی لئے ان کی بے لوث خدمات، ثابت قدمی، قومی اتحاد، سیکولرازم اور سماجی انصاف کے لئے ان کی مسلسل وکالت کو مدنظر رکھتے ہوئے، انہیں "بھارت رتن” دیے جانے کا مطالبہ نہایت واجب ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں