کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟


شیخ افلاق حسین سینانی
سیموہ ترال پلوامہ

ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو بہت ہی غریب تھا لیکن دن بھر انتھک محنت کر کے اپنے گھر کو پالتا تھا مگر بد قسمتی سے اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی گھر کا گزارہ مشکل سے ہی ہوتا تھا جو اُس کو ہر پل پریشان کرتا تھا لیکن اس کا اثر اپنی بچوں کی پڑھائی پر آنے نہ دیا۔ اب اس کسان کی زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور بچے بھی بڑے ہوتے گئے اور وہ بھی باپ کے کندھے سے کندھے کا ملا کر چلتے گئے اور ان بچوں میں سے ہر ایک اچھے اچھے عہدے پر فائز ہوئے اور والد کو اب یہ کام کرنے منع کیا۔ یہ دیکھ کر باپ بھی خوش ہوا کہ کیا واقعی میرے بیٹے ایسے ہیں جن کو میری فکر اور میری تکالیف جو میں نے اُٹھائے ہیں وہ بھی یاد ہیں لیکن یہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہ سکی کیونکہ نوکری لگنے کے فوراً بعد اس کسان نے اپنے بچوں کی شادی کرنا شروع کی لیکن جس بچے کی شادی ہوئی وہی باپ سے بیزار ہونے لگا اور الگ رہنے کا مطالبہ کرنے لگا۔۔۔ جب بات اس کسان کی کرتے ہیں تو وہ بہت زیادہ تجربہ کار تھا وہ الگ ہونے کے مطالبہ کرنے کے بعد ہی اپنے بیٹے کو الگ چھوڑتا تھا مگر اندر ہی اندر یہ غم کھائے جا رہا تھا کیونکہ یہ باپ جانتا تھا کہ کیسے میں نے ان کو پالا ہے، کیسی تکلیف میں نے برداشت کی ہے لیکن میرے بیٹوں کو وہ یاد نہیں رہا۔ کئی سال گزرنے کے بعد اب یہ کسان اپنے آخری بیٹے کی شادی کرتا ہے اور اس کا انجام وہی رہا جو باقی سب کا رہا یعنی اس بیٹے نے کچھ ہی ہفتوں کے بعد الگ ہونے کا مطالبہ کیا جو اب اس کمزور باپ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا لیکن یہ کسان خودار تھا اور خوداری کی زندگی بسر کی تھی۔ اس نے محنت، مشقت کی لیکن کسی سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔۔۔۔۔ یہ کمزور باپ اپنے آخری بیٹے کے اس مطالبے پر اس بیٹے کو بھی الگ رہنے کا کہتا ہے اور اب اس گھر میں یہی کمزور میاں بیوی رہتے تھے۔ بیوی اپنے شوہر سے پُرنم آنکھوں سے کہتی ہے :
” اب یہ گھر کیسے چلے گا“۔
کیوں، جیسے پہلے چلتا تھا،،، شوہر نے کہا۔
پہلے آپ جوان تھے لیکن اب آپ کیسے دن بھر کام کر سکتے ہیں،،،، بیوی نے پوچھا۔
پہلے عیال کے لیا کیا اب میں اپنے لیے اور اپنی بیوی کے لیے کروں گا اور ہاں ابھی مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ آپ کو اور اپنے آپ کو پال سکوں۔
اب یہ کمزور کسان دوسرے ہی دن اپنے پُرانے کام پر جاتا ہے اور وہاں نئے سرے سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور کئی دن کام کے دوران انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جوانی کے دنوں میں کیا کرتا تھا۔ یہ کسان کئی سالوں تک اسی طریقے سے اپنی بیوی اور خود کے لیے کام کرتا ہے لیکن کئی سال تک حالات بہتر بھی رہے اور کسی طرح کی ذہنی پریشانی بھی نہیں تھی مگر صورتحال وہاں تبدیل ہوتی ہے جب اس کی بیوی اس کسان کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔۔۔۔ یہ وہ لمحہ تھا جو اس کسان سے برداشت نہ ہوا باقی جتنی بھی پریشانیاں آئیں اُن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا لیکن آج وہ ہمت نہ تھی، آج جسم میں وہ طاقت باقی نہ تھی کہ اس کا غم کا مقابلہ کرتا مگر زندگی بسر کرنے کے لیے مقابلہ اور برداشت کرنا ہی پڑا اور اپنی بیوی کے جنازے پر ایک تاریخی جملہ کہا :
” یہ میری بیوی جو مجھ آج چھوڑ کر چلی گئی ہے اس کا قرض میں کبھی ادا نہیں کر سکتا ہوں، البتہ اُس کا ربّ ہی بہترین اجر دے سکتا ہے کیونکہ اس خاتون نے مجھے کبھی کسی معمولی چیز کے لیے بھی تنگ نہیں کیا ہے اور میں بحثیت اس کا شوہر اس سے راضی ہوں اور میرا ربّ بھی اس سے راضی ہو “۔ اور بقول شاعر :
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا ہے
یہ کسان اب اداس ہی رہتا تھا اور طبعیت بھی اب کچھ ٹھیک نہیں رہتی تھی اور ایک دن سب بیٹوں کو جمع کیا اور کہا :
میرے پیارے بیٹو! کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟؟
ہاں ہاں پوچھیے،،،، سارے بیٹوں نے یک زبان میں کہا۔
ماں باپ اپنے اولاد کے لیے کیا کرتا ہے،،، باپ نے پوچھا۔
وہ سب کچھ جو والدین سے بن پاتا ہے،،،سارے بیٹوں نے یک زبان میں کہا۔
جب یہ سب آپ کو پتہ ہے تو مجھے یہ بتاؤ کہ کیا ماں باپ اسی لیے اولاد کو پالتی ہے کہ وہ ماں باپ کو خون کے آنسو رلائے یا اس لیے پالتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے،،، باپ نے پوچھا۔
نہیں، اس لیے پالتی ہے کہ وہ اِن کے بڑھاپے کا سہارا بنے،، بیٹوں نے جواب میں کہا۔
تو میرا تم سب سے ایک ہی سوال ہے، کیا میں نے تم اس لیے نہیں پالا تھا کہ تم میری خدمت کرو،،، باپ نے پوچھا۔
باپ کا یہ کہنا تھا تو یہ سارے بیٹے شرم سے سر بھی اُٹھا سکتے۔ یہ سب سننے کے بعد باپ نے پھر ایک بار کہا:
کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم نے مجھے اکیلے چھوڑ کر اپنی زندگی اور عیال کے مگن ہو گئے۔۔۔۔ وقت بہت جلد آئے گا جب تمہاری اولاد تمہارے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کرے گی بلکہ اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرے گی،،، اُس وقت تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو تم سب نے مل کر میرا کیا۔۔۔۔ اب باپ نے آخر پر یہی کہا کہ میرے بیٹو ! تم بھی اپنی اولاد سے یہی کہو گے لیکن تمہیں نہ کوئی جواب ملے گا اور نہ کوئی سہارا اور یہ یاد رکھنا کہ تم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاؤ گے لیکن تمہارا کوئی سننے اور کہنے والا کوئی نہیں ہوگا مگر تم ہر کسی سے کہو گے ” کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں “ مگر تمہیں کہیں سے پوچھنے کی اجازت نہ ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟


شیخ افلاق حسین سینانی
سیموہ ترال پلوامہ

ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو بہت ہی غریب تھا لیکن دن بھر انتھک محنت کر کے اپنے گھر کو پالتا تھا مگر بد قسمتی سے اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی گھر کا گزارہ مشکل سے ہی ہوتا تھا جو اُس کو ہر پل پریشان کرتا تھا لیکن اس کا اثر اپنی بچوں کی پڑھائی پر آنے نہ دیا۔ اب اس کسان کی زندگی اسی طرح گزرتی گئی اور بچے بھی بڑے ہوتے گئے اور وہ بھی باپ کے کندھے سے کندھے کا ملا کر چلتے گئے اور ان بچوں میں سے ہر ایک اچھے اچھے عہدے پر فائز ہوئے اور والد کو اب یہ کام کرنے منع کیا۔ یہ دیکھ کر باپ بھی خوش ہوا کہ کیا واقعی میرے بیٹے ایسے ہیں جن کو میری فکر اور میری تکالیف جو میں نے اُٹھائے ہیں وہ بھی یاد ہیں لیکن یہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہ سکی کیونکہ نوکری لگنے کے فوراً بعد اس کسان نے اپنے بچوں کی شادی کرنا شروع کی لیکن جس بچے کی شادی ہوئی وہی باپ سے بیزار ہونے لگا اور الگ رہنے کا مطالبہ کرنے لگا۔۔۔ جب بات اس کسان کی کرتے ہیں تو وہ بہت زیادہ تجربہ کار تھا وہ الگ ہونے کے مطالبہ کرنے کے بعد ہی اپنے بیٹے کو الگ چھوڑتا تھا مگر اندر ہی اندر یہ غم کھائے جا رہا تھا کیونکہ یہ باپ جانتا تھا کہ کیسے میں نے ان کو پالا ہے، کیسی تکلیف میں نے برداشت کی ہے لیکن میرے بیٹوں کو وہ یاد نہیں رہا۔ کئی سال گزرنے کے بعد اب یہ کسان اپنے آخری بیٹے کی شادی کرتا ہے اور اس کا انجام وہی رہا جو باقی سب کا رہا یعنی اس بیٹے نے کچھ ہی ہفتوں کے بعد الگ ہونے کا مطالبہ کیا جو اب اس کمزور باپ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا لیکن یہ کسان خودار تھا اور خوداری کی زندگی بسر کی تھی۔ اس نے محنت، مشقت کی لیکن کسی سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔۔۔۔۔ یہ کمزور باپ اپنے آخری بیٹے کے اس مطالبے پر اس بیٹے کو بھی الگ رہنے کا کہتا ہے اور اب اس گھر میں یہی کمزور میاں بیوی رہتے تھے۔ بیوی اپنے شوہر سے پُرنم آنکھوں سے کہتی ہے :
” اب یہ گھر کیسے چلے گا“۔
کیوں، جیسے پہلے چلتا تھا،،، شوہر نے کہا۔
پہلے آپ جوان تھے لیکن اب آپ کیسے دن بھر کام کر سکتے ہیں،،،، بیوی نے پوچھا۔
پہلے عیال کے لیا کیا اب میں اپنے لیے اور اپنی بیوی کے لیے کروں گا اور ہاں ابھی مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ آپ کو اور اپنے آپ کو پال سکوں۔
اب یہ کمزور کسان دوسرے ہی دن اپنے پُرانے کام پر جاتا ہے اور وہاں نئے سرے سے کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور کئی دن کام کے دوران انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن پھر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جوانی کے دنوں میں کیا کرتا تھا۔ یہ کسان کئی سالوں تک اسی طریقے سے اپنی بیوی اور خود کے لیے کام کرتا ہے لیکن کئی سال تک حالات بہتر بھی رہے اور کسی طرح کی ذہنی پریشانی بھی نہیں تھی مگر صورتحال وہاں تبدیل ہوتی ہے جب اس کی بیوی اس کسان کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔۔۔۔ یہ وہ لمحہ تھا جو اس کسان سے برداشت نہ ہوا باقی جتنی بھی پریشانیاں آئیں اُن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا لیکن آج وہ ہمت نہ تھی، آج جسم میں وہ طاقت باقی نہ تھی کہ اس کا غم کا مقابلہ کرتا مگر زندگی بسر کرنے کے لیے مقابلہ اور برداشت کرنا ہی پڑا اور اپنی بیوی کے جنازے پر ایک تاریخی جملہ کہا :
” یہ میری بیوی جو مجھ آج چھوڑ کر چلی گئی ہے اس کا قرض میں کبھی ادا نہیں کر سکتا ہوں، البتہ اُس کا ربّ ہی بہترین اجر دے سکتا ہے کیونکہ اس خاتون نے مجھے کبھی کسی معمولی چیز کے لیے بھی تنگ نہیں کیا ہے اور میں بحثیت اس کا شوہر اس سے راضی ہوں اور میرا ربّ بھی اس سے راضی ہو “۔ اور بقول شاعر :
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا ہے
یہ کسان اب اداس ہی رہتا تھا اور طبعیت بھی اب کچھ ٹھیک نہیں رہتی تھی اور ایک دن سب بیٹوں کو جمع کیا اور کہا :
میرے پیارے بیٹو! کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟؟
ہاں ہاں پوچھیے،،،، سارے بیٹوں نے یک زبان میں کہا۔
ماں باپ اپنے اولاد کے لیے کیا کرتا ہے،،، باپ نے پوچھا۔
وہ سب کچھ جو والدین سے بن پاتا ہے،،،سارے بیٹوں نے یک زبان میں کہا۔
جب یہ سب آپ کو پتہ ہے تو مجھے یہ بتاؤ کہ کیا ماں باپ اسی لیے اولاد کو پالتی ہے کہ وہ ماں باپ کو خون کے آنسو رلائے یا اس لیے پالتی ہے کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے،،، باپ نے پوچھا۔
نہیں، اس لیے پالتی ہے کہ وہ اِن کے بڑھاپے کا سہارا بنے،، بیٹوں نے جواب میں کہا۔
تو میرا تم سب سے ایک ہی سوال ہے، کیا میں نے تم اس لیے نہیں پالا تھا کہ تم میری خدمت کرو،،، باپ نے پوچھا۔
باپ کا یہ کہنا تھا تو یہ سارے بیٹے شرم سے سر بھی اُٹھا سکتے۔ یہ سب سننے کے بعد باپ نے پھر ایک بار کہا:
کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم نے مجھے اکیلے چھوڑ کر اپنی زندگی اور عیال کے مگن ہو گئے۔۔۔۔ وقت بہت جلد آئے گا جب تمہاری اولاد تمہارے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کرے گی بلکہ اس سے بھی بدتر رویہ اختیار کرے گی،،، اُس وقت تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو تم سب نے مل کر میرا کیا۔۔۔۔ اب باپ نے آخر پر یہی کہا کہ میرے بیٹو ! تم بھی اپنی اولاد سے یہی کہو گے لیکن تمہیں نہ کوئی جواب ملے گا اور نہ کوئی سہارا اور یہ یاد رکھنا کہ تم خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاؤ گے لیکن تمہارا کوئی سننے اور کہنے والا کوئی نہیں ہوگا مگر تم ہر کسی سے کہو گے ” کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں “ مگر تمہیں کہیں سے پوچھنے کی اجازت نہ ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون