
فاضل شفیع بٹ
اننت ناگ کشمیر
سرکاری نوکری ملتے ہی آدمی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور وہ بھی جب نوکری ایسی ملی ہو جہاں عام لوگوں کے مسائل کو سلجھانے کی ذمہ داری ہو تو پوچھیے مت ۔۔۔۔۔۔حالانکہ دفتری اوقات تو صبح دس سے شام کے پانچ بجے تک ہوتے ہیں لیکن میرے معاملے میں لوگ عام طور پر علی الصبح مجھ کو نیند سے جگاتے ہیں یا پھر دیر رات کو نیند میں خلل ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔وہ دن بھر اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور شام ہوتے ہی میرے فون کی گھنٹی بجنا شروع ہو جاتی ہے ۔خیر میں خود کو سرکاری نوکر ہونے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کا بھی ایک نوکر تصور کرتا ہوں اس لیے میں لوگوں کے فون بے تکلفی سے ریسیو کرتا ہوں۔
کچھ دن پہلے جب میں صبح اپنے آفس کی جانب روانہ ہوا تو ایک بندے نے بار بار فون کر کے مجھے پریشان کر دیا ۔چونکہ میں گاڑی چلا رہا تھا اس لیے میں نے فون ریسیو کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لیکن جب وہ بھی اپنی ضد کے سامنے اڑا رہا تو مجبوراً مجھے فون ریسیو کرنا ہی پڑا اور اس کی روداد سننے لگا ۔ میں نے ایک کراسنگ پر اپنی گاڑی کی رفتار کم کی اور اِدھر اُدھر نظر گھما کر جیسے ہی میں سڑک پار کرنے لگا تو اچانک سے دوسری جانب سائرن بجاتی ایک تیز رفتار گاڑی نمودار ہوئی ۔میں نے زور سے بریک مارے اور اپنی گاڑی کو قابو میں کر لیا۔میری اور اس سائرن بجاتی گاڑی میں کم سے کم بیس فٹ کا فاصلہ تھا۔خدا جانے کیا ہوا ؟وہ گاڑی رک گئی اور اس کا ڈرائیور ایک دم سے باہر کود پڑا اور میرے پاس آ کر مجھ سے تند اور تلخ لہجے میں مخاطب ہوا :
"آپ کو معلوم بھی ہے گاڑی میں کون ہیں؟
گاڑی میں بڑے صاحب ہیں اور آپ نے تو بڑے صاحب کو گویا موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔آپ کو شرم نہیں آتی گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کا استعمال کر رہے ہو ۔۔”
"جناب میری کوئی غلطی نہیں ہے ۔میں مجبوراً فون پر بات کر رہا ہوں۔بڑے صاحب اور میری گاڑی کے بیچ ابھی بھی کم از کم بیس فٹ کا فاصلہ ہے ۔اگر پھر بھی آپ کو لگتا ہے کہ غلطی میری ہے تو مجھے معاف کریں ”
میں نے بڑی عاجزی سے جواب دیا
"ایک تو غلطی کرتے ہو اور اوپر سے یہ زبان درازی۔ معلوم بھی ہے کہ بڑے صاحب کتنے غصے میں ہیں ” ڈرائیور صاحب کے تیور فضا میں اڑان بھر رہے تھے۔۔
بڑے صاحب نے ڈرائیور کو اپنے پاس بلایا ،کچھ بڑبڑایا اور ڈرائیور ایک دم میرے پاس آیا اور کہنے لگا :
"چلو گاڑی کے کاغذات اور اپنا لائسنس میرے حوالے کر دو ۔بڑے صاحب کا حکم ہے کہ آپ کے سارے کاغذات ضبط کر دیے جائیں ۔گاڑی میں جج صاحب ہیں ”
جج صاحب کا سنتے ہی میں نے چپ چاپ گاڑی کے سارے کاغذات اور اپنا لائسنس ڈرائیور کے حوالے کر دیا۔ڈرائیور بھی بڑے صاحب سے کم نہ تھا ۔میرے کاغذات ضبط کر کے وہ برق رفتاری کے ساتھ گاڑی چلانے لگا۔
میں بھی بڑے صاحب کی گاڑی کا پیچھا کرنے لگا ۔
سوال کاغذات اور لائسنس کا تھا جن کو حاصل کرنا بے حد ضروری عمل تھا ۔حالانکہ میں انتہائی مجبوری کی حالت میں فون پر بات کررہا تھا، لیکن میں نے جج صاحب کی طاقت کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنا ہی مناسب سمجھا۔میں کورٹ پہنچا ۔چونکہ جج صاحب نے آتے ہی مقدمات کا جائزہ لینا شروع کیا تھا اس لیے میں اسی ڈرائیور کے پاس گیا اور نہایت انکساری کے ساتھ اپنے کاغذات لوٹانے کی استدا کی۔ لیکن وہ ایک عجیب قسم کا آدمی تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے جج صاحب کی روح نے اس کے جسم میں ڈیرا ڈال دیا ہو ۔اس نے کاغذات لوٹانے سے صاف صاف انکار کر دیا ۔
میں عدالت کے لان میں ادھر ادھر بھٹکتا رہا ۔مجھے آفس جانے میں دیر ہو رہی تھی اور میں بے بس تھا۔مجھے ایک ناکردہ غلطی کی سزا مل رہی تھی ۔میں نے عدالت کے چند ملازمین سے مدد طلب کی لیکن میری ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں۔میں نے جیب سے ایک سگریٹ نکالی اور عدالت کے لان کے ایک کونے میں گہرے کش لینے میں مصروف تھا کہ ڈرائیور نے مجھے بلایا اور کہا :
"بڑے صاحب نے آپ کے سارے کاغذات پولیس کے حوالے کر دیے ہیں ۔اب آپ کے خلاف ایف- ائی- آر ہوگی اور مقدمہ بھی ہوگا ”
یہ جواب سنتے ہی میرے حواس باختہ ہو گئے ۔میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور میں نے جیب سے اپنا فون نکال کر ایک جان پہچان کے بڑے صاحب کو فون کیا اور اپنے حالات سے اس کو مطلع کیا ۔بڑے صاحب بھی پیشے سے ایک جج تھے ۔جس طرح لوہا لوہے کو کاٹتا ہے ٹھیک اسی طرح میرا تیر نشانے پر بیٹھ گیا اور چند منٹ بعد ہی جج صاحب کے اجلاس سے میرا بلاوا آیا ۔۔
"آپ کو اپنی غلطی کا احساس بھی ہے ۔۔۔۔۔۔؟ سرکاری ملازم ہو کر آپ اس طرح کی غلطیاں کرتے ہیں جن کی تلافی ہونا مشکل ہے ۔میرے ڈرائیور کے کہنے کے مطابق آپ نے ہمیں موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔یہ تو بڑے صاحب کا فون آیا ورنہ میں نے ٹھان رکھی تھی کہ آپ کو کڑی سے کڑی سزا دلا کر ہی دم لوں گا ۔دوبارہ اس طرح کی غلطی سرزد نہیں ہونی چاہیے ۔اب آپ جا سکتے ہیں”جج صاحب نے تلخ لہجے میں انتباہ کیا ۔
میں اجلاس سے باہر آیا ۔ڈرائیور نے گاڑی کے کاغذات میرے سپرد کیے ۔میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور آفس تک اسی سوچ میں گرفتار تھا کہ اگر میرے پاس بھی کسی بڑے صاحب تک رسائی نہ ہوتی تو آج مجھے تھانے کچہری کی گردشوں میں الجھنا ہوتا اور پھر تاریخ پہ تاریخ میرا مقدر ہوتا۔


