حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانیؒ


محمد اشرف بن سلام

سیدالسّادات، سالار عجم،حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ، ۲۱ رجب المرجب۴۱۷ھ کو شہر ہمدان میں سید شہاب الدین ؒ اور سیدہ فاطمہؒ کے گھرانے میں تولد ہوئے۔ انہی دو نیک ہستیوں کے چمن سے یہ عطرگلاب کھلا جس نے اپنے خوشبو سے پورے برصغیر کو مہکادیا ہے۔ اسّعیدمن سعدفی بطن اُمہ” نیک بخت اپنی ماں کے بطن سے ہی نیک بخت ہوتا ہے“ شاہ ہمدان رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے داعیانہ کارنامے سات سو برس گزرنے کے باوجود لوگوں کے ذہنوں میں تروتازہ ہیں۔حضرت شاہمدان ؒ خاندان نبوت کے علم وعرفان کا روشن ستارہ ہے اور بحیثیت ولی کامل پوری دنیا میں خاص کر کشمیر میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
بنی نوح انسان کی رہنمائی کےلئے اللہ تعالی کی طرف سے انبیا ءکرام مبعوث ہوتے رہے ۔ انبیاءعلیہم اسلام اشاعت دین کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کاکام میں بھی رہنمائی فرماتے رہے ۔مگر رسول رحمت ﷺ کے بعد تزکیہ نفس کی ذمہ داری علماءحق واصفیا پر عائد ہے۔ یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو دین کی تبلیغ کرنے کےلئے عوام الناس کو اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ میں جھکانے کےلئے وقف کیا ہے۔بلا شبہ یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے خاتم الانبیا ﷺ کی نبوت و رسالت کا ڈنکا پورے عالم میں بجاتے رہے ہیں اور وہ ایسے معاشرے کی تشکیل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔جہاں روحانی خصوصیات کو نمایاں مقام حاصل ہو،اور محبت انسانیت ،خدمت خلق، اخوت ،خلوص،صبر وشکر کے ساتھ ساتھ تسلیم و رضاکی بالادستی کار فرما ہو۔ انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت ا میر کبیرمیرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ہیں جس نے اندھیرں میں روشنی پھیلائی ،اسلام کے جان نثار ،مبلغ دین اور اعلیٰ رتبے کے ادیب ، اللہ کی وحدانیت اور کلمتہ الحق کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی ۔اس وادی کشمیر کی کھیتی میں ایسے ثمر دار اشجار اور شیرین باغ لگائے جن سے رہتی دنیا تک یہاں کے لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔ جس نے وادی کشمیر کے لوگوں کو کفر کی ضالت سے نکال کرایمان کی نعمت سے مالا مال کیا۔ ہم جیسے لوگوں کی کیا مجال کہ اتنی بڑی ہستی کی سیرت پر تذکر ہ کریں یہ بہت ہی مشکل ترین امر ہے۔ لیکن عقیدت اور محبت کا یہ نذرانہ پیش خدمت کرتا ہوں ۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی نیک لوگوں کی صحبت میں رکھے ۔آمین۔
داغ بلند ان طلب اے ہوش مند۔ تاشوی از داغ بلنداں بلند۔ترجمہ ۔ اے عقلمند بلند خیال لوگوں کی صحبت تلاش کر ،تاکہ آپ بھی بلند خیال لوگوں کی صحبت کی وجہ سے بلند ہوجائیں“
احضرت میرسید علی ہمدانی ؒ کی تشریف آوری سے یہاں ایک ایسی مشعل روشن ہوگئی جس کی روشنی سے پورا کشمیر منور ہوا۔آپ ؒکی تشریف آوری یہاں ذہنی ، دینی اورمعاشی انقلاب آیا۔ ا س کے اثرات لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آج بھی قائم ہیں اور آیند ہ بھی رہیں گے۔حضرت امیرؒ کی تعلیمات قرآن’ حدیث اور صحابہ کرام کی سیرت کا آئینہ ہیں ۔آپؒ کی تصانیف علم وادب اور ثقافت وفکر کا ایک نہایت ہی گرانقدر سرمایہ ہے- ان تصانیف میں اہل ذوق رکھنے والے سالک حق کیلئے ہدایت کا ذخیرہ موجود ہے۔ شاہ ہمدان ؒذخیرة الملوک میں فرماتے ہیں: کہ اے عزیز اگر تجھے ابھی یہ حوصلہ پیدا نہیں ہوا،کہ صفا اور مودت کی قوت سے اسرار کے خرانہ سے رکاوتوں کی مہر کو دُور کرلے ،اور گنج عرفان کی ابدی اور سرمدی دولت کے حقائق سے اپنادامن بھر پور کرلے۔اتناتوکر کہ نماز کے وقت میں ہی اس پروردگار کا حضور دلی خلوص سے حاصل کرے،اورطبیت کی پر شانی اور خیالات کی سرگردانی کی خلعت حضرت دل کے سرسے دوُر پھینک دے،اورکلام ربانی کے ظاہری کلمات پرہی عامل بن جائے اور اعمال کی برائیوں اور احوال کی بد حالیوں سے آرام پایا جائے،اور اس احکم الحاکمین کی بارر گاہ عالی سر شرم کرے ۔میان اتناہی کرو۔کہ نفس امارہ کی بدلگامیوں سے بچ کر راہ جفا سے نجات پاکر وفا کی سڑک پر قدم رکھ لو۔اگر تم اہل عففان کے مدارج پر(جو عالم یقین کے بادشاہ اور میدان عین الیقین کے شہسوار ہیں)نہ پہنچ سکو۔ اتنا تو ضرور کرلوکہ عبودیت اور عجزوانکساری کی دہلیز سے تو محروم نہ ہوجاؤ۔(وان یصبہا واہل فظل) اگر بارش موسلادھار نہ ہوگی۔اتنا تو ہوگا کہ قطرات شبنم ہی تمارے خس وخاشاک پر پڑجا ئیں گے۔ اگر تمہارے دامن پھولوں سے بھر پورنہ ہوگا ۔اتنا تو ہوگا کہ اس باغ معرفت کا کانٹا ہی تمہارے پاؤں میں چبُھ جائے گا،تاہم اس گلزار کے خار کی معیت بھی تمہیں خالی نہ رہنے دے گی۔اور فرماتے:کہ اے عزیز اپنے وجود کو تلوار محبت کے سامنے کر۔ ڈھال کی تلاش میں نہ جا۔ تیرا اللہ تیرے گلے مل جائے گا۔ شفافت ابدی کاا دور ختم ہوجائے گا۔ اور سعادت سرمدی کا زمانہ شروع ہوگا“ذخیرة الملوک ۔ پیج 72“ حضرتامیر کبیر میرہمدانی ؒ وہ نمایاں شخصیات ہیں جنہوں نے اہل کشمیر ذوق و سوچ یکسر بدل کر انہیں پسماندگی اور جہالت سے نجات دلائی ۔ معاشی اصلاح کیلئے آپ ؒنے ان ہنرمنددں جو آپؒ کے ہمراہ آئے تھے جن میں سادات بھی ،ماہر دستکاراورہنر مند شامل تھے ۔جنہوں نے یہاں لوگوں نے ہنر سکھا یا ، جس میں شالبافی’ پشمینہ سازی’ خوشنویسی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جس سے یہاں کے لوگ خود کفالت ہوئے۔ جو اصلاح نفس تحریک حضرت بلبل شاہ قدس اللہ سرہ نے اپنے زور سے شاہی محلات میں پہنچایا تھا ۔ اسے شاہ ہمدان ؒنے اپنی خداداد صلاحیت سے وادی کے کونے کونے میں پہنچادیا ۔ آپ ؒ نے علماءاور مشائخ کو کشمیر کے طول و عرض میں تبلیغ کےلئے بیجادیا، اور خود بھی مختلف مقامات پر اشاعت دین کےلئے گئے جہاں پر آپؒ نے قیام کیا۔ ان مقامات میں خانقاہ معلی سرینگر’خانقاہ ترال اور خانقاہ مکہ ہامہ بیروہ قابل ذکر ہیں۔ اس مردِ خد کے قائم کردہ ان عظیم مقامات پر روزانہ ہزاروں لوگ بارگاہ الہی میں سجد ریز ہوکر اللہ تعالیٰ کی بندگی انجام دیتے دیکرروحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے۔ملت اسلامیہ کشمیر کے محسن عظیم حضرت شاہ ہمدان امیرکبیر میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے منفرد ، مخصوص اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ ہمیشہ جڑا ہے اور ر ہے گا۔جس کی مثال اس مردِ خدکی مشہورعظیم الشان درگاہ خانقاہ معلی ہے ،جہاںروزانہ عقیدت مندوں اور زائر ین کی ایک بڑی تعداد حاضری دے کر فیض حاصل کرتی ہے۔ اہل کشمیر حضرت شاہ ہمدانؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں او رانہیں مختلف القاب سے یاد کرتے ہیں۔ ملت اسلامیہ کشمیر کے محسن عظیم حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانیؒ نہ صرف ایک ولی اللہ ہیں بلکہ ایک صاحب قلم ،انشاپرواز اور اعلیٰ رتبے کے ادیب وشاعر بھی تھے۔آپؒ کی تصانیف جوعربی اور فارسی زبانوں میں لکھی گئی ہیں ۔جو مختلف موضوعات پر جن میں سیاحیاحت ،علوم قرآن، اور تصوف وعرفان اور دیگر موضوعات ہیں، جن کی تعداد ایک سو سے زائد ہے ۔کتاب خانہ برٹش میوززیم کے مجموعے میں جو شامل ہے ،ان میں رسالہ مکتوبات، رسالہ نوریہ، اسناداورادفتحیہ ، درمعرفت، صورت وسیرت انسان،رسالہ اعتقادیہ،رسالہ درویشیہ،کشف الحقائق، میرالطالبین،چہل اسرار، رسالہ واردات عقل اور ذخیرةالملوک،اور نیشنل لابئریری پیرس میں، رسالہ امیریہ، منازل السالکین، رسالہ دربیان روح ونفس اور رسالہ معرفت نفس شامل ہے، اورادفتحیہ جو توحید کا ایک لامثال نسخہ اور وظیفہ ہے جسکو پڑھنے سے دل اور دماغ پرسکون ہوجاتا ہے۔ حضرت شاہ ہمدانؒ کی بلند پایہ ادبی وعلمی شاہ کار تصنیف ذخیرة الملوک ہے جو دس ابواب پر مشتمل ہے اور یہ آٹھویں صدی ہجری کی ایک اہم تصنیف وتحریر ہے ۔ ذخیرة الملوک ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے اور یہ تصنیف علماءدین ،اہل سلوک اور مثائخ کےلئے بھی نسخہ کیمیا ہے۔ حضرت شاہ ہمدان ہمدان رحمتہ اللہ علیہ کا ہم کشمیریوں پر بڑا احسان ہے کہ آپؒ نے نہ صرف علم وعرفان اور راہ حق کی دولت سے مالامال کیا بلکہ ہرطرح سے یہاں کے لوگوں کی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی لائی ۔حضرت شاہ ہمدان ؒ نے جو انقلاب سات سو برس قبل برپا کیا وہ آج بھی اپنے پورے آن بان کے ساتھ قائم ودائم ہے اور کشمیریوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ ذخیرة الملوک میں فرماتے ہیں کہ اگر تیرے نفس کا کتا تیرے قابومیں ہے توجان کہ بہشت تری ملکیت ہے تیرا دشمن توتیرے بہلاوے پھسلاوے میں نہ آئے صبر کی گھنٹی سے فریاد کرتو دین کا بندہ ہوجانہ کہ شطیان کا۔ خواہشات سے منہ موڑ لینا سروری ہے ۔خواہشات کو ترک کرنا پیغمبری شیوہ ہے۔
سلطان قطب الدین کے دورمیں کشمیرجن خدائی برکات و عطیات خاص سے نوازا گیا، ان میں عالی پناہ، نبوت انتساب، سیادت مرتبت، قطب الاولیاحضرت سید علی ہمدانی کی پر سعادت تشریف آوری ہے، اللہ ان کے مرقد کو منور فرمائے۔ انہوں نے کشمیر جنت نظیر میں نزول اجلال فرمایا۔
حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیںہر لحاظ سے رہنمائی فرمائی اور ہمیںزندگی گزرانے کی راہ دکھائی،اورجہاں تک شاہ ہمدان ؒ کا تعلق ہے، انہوں نے اس قوم کو نہ صرف روحانی دینی تعلیم سے روشناس کرایا بلکہ ہمیں خودکفیل بنایا ۔شاہ ہمدان ؒ صرف ولی اللہ نہ تھے بلکہ وہ ماہر اقتصادیات اور روحانی پیشوا بھی تھے۔ جو انمول تحفہ انہوں نے ہمیں اوراد ِفتح شکل تحفہ دیا ہے ایسا تحفہ دنیا کسی اور قوم کوآج تک نہ مل سکا۔ ہم ہر سال شاہ ہمدان ؒ کا عرس پاک عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ اہل ا عتقاد خانقاہوں میں ختمات المعظمات کی مجالس منعقد کرتے ہیںاور علماءکرام شاہ ہمدان ؒ زندگی اور تعلیمات پرروشنی ڈالتے ہیں۔ اس سے کیا ہوگا دوسرے دن آخبار میں آئے گا کہ اس تنظیم نے شاہ ہمدانؒ پر سمینار کیا اس میں علماءکرام ، دانشوروں اسکالروں نے شرکت کی سات میں انکے نام بھی ہونگئے ۔سب کو معلوم ہے گزشتہ تین دہائیوںہم لوگ اس تعلیم سے بہت دور چلے گئے جس میںبھائی چارے،اخوت کا سبق تھا۔ جو ہمیںشاہ ہمدانؒ نے دیاتھا۔ یہ بات ہمیں یاد رکھنی چائے کہ اس شہر کے بارے اہل عارف کیا لکھتے تھے ۔”جناب ابو الفقرا حضرت بابا نصیب نے جو اس شہر کے مشائخ عظام میں سے ہیں،چاروں خلفائے راشدین(رضوان اللہ علیھم اجمعین) کی منقبت میں ایک رسالہ لکھا ہے۔جس کے آغاز میں انہوں نے کسی تقریب سے اس شہر اور اس شہر کے ساکنوں کے احوال پر ایک رباعی تحریر فرمائی ہے۔جسے جناب شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین السہروردی قدس سرہ سے انہوں نے منسوب کیا ہے۔ رباعی۔
کان الکشمیر لسا کینہا۔۔جنات عدن ھی للمومینن۔۔۔قد کتب اللہ علیٰ بابھا۔۔۔ساکنھا کان من الامنین:ترجمہ”کشمیر اپنے ساکنوں کے لئے ایسے ہی ہے۔ جیسے مومنوں کے لئے بہشت بریں،اللہ تعالیٰ نے اس دروازے پر لکھ دیا ہے کہ اس کا باشندہ ہمیشہ امن وسلامتی میں رہے گا۔“اس صورت حال میں اہل کشمیر پروردگار کے فضل وکرم اور پیران بزرگوار کے دم سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں۔“
مگر شو مئی قسمت ہمارے نو جوان نسل اس تعلیم سے پوری طرح بے خبر ہیں۔گذارش کے سات علماءکرام اپنے اپنے حلقے میں اثر رکھتے ہیں ۔کسی اسکالر کے اخلاق معاشرے کو سدھانے کی قوت رکھتے ہیںاور دانشوروں حضرات کی بات اثر رکھتی ہے ۔جبکہ ہمارے معاشرے میںایسے ہمارے نوجوان ہیں جو اس قابل ان کو اس روحانی معاشرے فکر ہیں ۔اگر انہیں اچھی رہنمائی ملےگی تو ممکن ہیں۔اس پر اختتام کرتا ہوں” زمانے کے باغ میں پھول تو بے شمار ہیں ،لیکن ایسا پھول جس سے وفا کی خوشبو آئے نہیں ہے۔“کیونکہ ہم اس دھاگے سے منتشر ہوگئے۔“
حضرت علمدار کشمیر شیخ العالمؒ کے اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔
ترجمہ ۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیارکرلے، اور اُن سے محبت رکھ لے۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت قبلہ روہوتے ہیں ،یعنی ہرقدم خدائے کعبہ کے حکم کے تحت اُٹھاتے ہیں ۔ نیک لوگوں کی صحبت دِل کو نورانی اور بُروں کی صحبت دِل کو سیاہ بناتی ہے۔
بلا آخر یہ عظیم المرتب ہستی شریعت کے علمبرداراورمجلس روحانی کے سردار حضرت میرسید علی ہمدانی ؒ ۲۷ سال کی عمرشریف پاکر ۶ ذی الحجہ ۶۸۷ھ کو کناُر میںواصل بحق ہوئے۔ اناللہ وانااللہ راجعون۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہد ؒ کو فیوض حیات بخشا۔
اللہ تعالی ٰ ہمارے وادی گلشن کو ہر بلا سے نجات دے اور پرامن شہروں شمار ہو ا۔ کشمیری قوم کو توحید و سنت رسول رحمتﷺ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اتباع کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانیؒ


محمد اشرف بن سلام

سیدالسّادات، سالار عجم،حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ، ۲۱ رجب المرجب۴۱۷ھ کو شہر ہمدان میں سید شہاب الدین ؒ اور سیدہ فاطمہؒ کے گھرانے میں تولد ہوئے۔ انہی دو نیک ہستیوں کے چمن سے یہ عطرگلاب کھلا جس نے اپنے خوشبو سے پورے برصغیر کو مہکادیا ہے۔ اسّعیدمن سعدفی بطن اُمہ” نیک بخت اپنی ماں کے بطن سے ہی نیک بخت ہوتا ہے“ شاہ ہمدان رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے داعیانہ کارنامے سات سو برس گزرنے کے باوجود لوگوں کے ذہنوں میں تروتازہ ہیں۔حضرت شاہمدان ؒ خاندان نبوت کے علم وعرفان کا روشن ستارہ ہے اور بحیثیت ولی کامل پوری دنیا میں خاص کر کشمیر میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔
بنی نوح انسان کی رہنمائی کےلئے اللہ تعالی کی طرف سے انبیا ءکرام مبعوث ہوتے رہے ۔ انبیاءعلیہم اسلام اشاعت دین کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کاکام میں بھی رہنمائی فرماتے رہے ۔مگر رسول رحمت ﷺ کے بعد تزکیہ نفس کی ذمہ داری علماءحق واصفیا پر عائد ہے۔ یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیوں کو دین کی تبلیغ کرنے کےلئے عوام الناس کو اللہ تعالیٰ کی بارہ گاہ میں جھکانے کےلئے وقف کیا ہے۔بلا شبہ یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے خاتم الانبیا ﷺ کی نبوت و رسالت کا ڈنکا پورے عالم میں بجاتے رہے ہیں اور وہ ایسے معاشرے کی تشکیل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔جہاں روحانی خصوصیات کو نمایاں مقام حاصل ہو،اور محبت انسانیت ،خدمت خلق، اخوت ،خلوص،صبر وشکر کے ساتھ ساتھ تسلیم و رضاکی بالادستی کار فرما ہو۔ انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت ا میر کبیرمیرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ہیں جس نے اندھیرں میں روشنی پھیلائی ،اسلام کے جان نثار ،مبلغ دین اور اعلیٰ رتبے کے ادیب ، اللہ کی وحدانیت اور کلمتہ الحق کے لئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی ۔اس وادی کشمیر کی کھیتی میں ایسے ثمر دار اشجار اور شیرین باغ لگائے جن سے رہتی دنیا تک یہاں کے لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔ جس نے وادی کشمیر کے لوگوں کو کفر کی ضالت سے نکال کرایمان کی نعمت سے مالا مال کیا۔ ہم جیسے لوگوں کی کیا مجال کہ اتنی بڑی ہستی کی سیرت پر تذکر ہ کریں یہ بہت ہی مشکل ترین امر ہے۔ لیکن عقیدت اور محبت کا یہ نذرانہ پیش خدمت کرتا ہوں ۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی نیک لوگوں کی صحبت میں رکھے ۔آمین۔
داغ بلند ان طلب اے ہوش مند۔ تاشوی از داغ بلنداں بلند۔ترجمہ ۔ اے عقلمند بلند خیال لوگوں کی صحبت تلاش کر ،تاکہ آپ بھی بلند خیال لوگوں کی صحبت کی وجہ سے بلند ہوجائیں“
احضرت میرسید علی ہمدانی ؒ کی تشریف آوری سے یہاں ایک ایسی مشعل روشن ہوگئی جس کی روشنی سے پورا کشمیر منور ہوا۔آپ ؒکی تشریف آوری یہاں ذہنی ، دینی اورمعاشی انقلاب آیا۔ ا س کے اثرات لوگوں کے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں آج بھی قائم ہیں اور آیند ہ بھی رہیں گے۔حضرت امیرؒ کی تعلیمات قرآن’ حدیث اور صحابہ کرام کی سیرت کا آئینہ ہیں ۔آپؒ کی تصانیف علم وادب اور ثقافت وفکر کا ایک نہایت ہی گرانقدر سرمایہ ہے- ان تصانیف میں اہل ذوق رکھنے والے سالک حق کیلئے ہدایت کا ذخیرہ موجود ہے۔ شاہ ہمدان ؒذخیرة الملوک میں فرماتے ہیں: کہ اے عزیز اگر تجھے ابھی یہ حوصلہ پیدا نہیں ہوا،کہ صفا اور مودت کی قوت سے اسرار کے خرانہ سے رکاوتوں کی مہر کو دُور کرلے ،اور گنج عرفان کی ابدی اور سرمدی دولت کے حقائق سے اپنادامن بھر پور کرلے۔اتناتوکر کہ نماز کے وقت میں ہی اس پروردگار کا حضور دلی خلوص سے حاصل کرے،اورطبیت کی پر شانی اور خیالات کی سرگردانی کی خلعت حضرت دل کے سرسے دوُر پھینک دے،اورکلام ربانی کے ظاہری کلمات پرہی عامل بن جائے اور اعمال کی برائیوں اور احوال کی بد حالیوں سے آرام پایا جائے،اور اس احکم الحاکمین کی بارر گاہ عالی سر شرم کرے ۔میان اتناہی کرو۔کہ نفس امارہ کی بدلگامیوں سے بچ کر راہ جفا سے نجات پاکر وفا کی سڑک پر قدم رکھ لو۔اگر تم اہل عففان کے مدارج پر(جو عالم یقین کے بادشاہ اور میدان عین الیقین کے شہسوار ہیں)نہ پہنچ سکو۔ اتنا تو ضرور کرلوکہ عبودیت اور عجزوانکساری کی دہلیز سے تو محروم نہ ہوجاؤ۔(وان یصبہا واہل فظل) اگر بارش موسلادھار نہ ہوگی۔اتنا تو ہوگا کہ قطرات شبنم ہی تمارے خس وخاشاک پر پڑجا ئیں گے۔ اگر تمہارے دامن پھولوں سے بھر پورنہ ہوگا ۔اتنا تو ہوگا کہ اس باغ معرفت کا کانٹا ہی تمہارے پاؤں میں چبُھ جائے گا،تاہم اس گلزار کے خار کی معیت بھی تمہیں خالی نہ رہنے دے گی۔اور فرماتے:کہ اے عزیز اپنے وجود کو تلوار محبت کے سامنے کر۔ ڈھال کی تلاش میں نہ جا۔ تیرا اللہ تیرے گلے مل جائے گا۔ شفافت ابدی کاا دور ختم ہوجائے گا۔ اور سعادت سرمدی کا زمانہ شروع ہوگا“ذخیرة الملوک ۔ پیج 72“ حضرتامیر کبیر میرہمدانی ؒ وہ نمایاں شخصیات ہیں جنہوں نے اہل کشمیر ذوق و سوچ یکسر بدل کر انہیں پسماندگی اور جہالت سے نجات دلائی ۔ معاشی اصلاح کیلئے آپ ؒنے ان ہنرمنددں جو آپؒ کے ہمراہ آئے تھے جن میں سادات بھی ،ماہر دستکاراورہنر مند شامل تھے ۔جنہوں نے یہاں لوگوں نے ہنر سکھا یا ، جس میں شالبافی’ پشمینہ سازی’ خوشنویسی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ جس سے یہاں کے لوگ خود کفالت ہوئے۔ جو اصلاح نفس تحریک حضرت بلبل شاہ قدس اللہ سرہ نے اپنے زور سے شاہی محلات میں پہنچایا تھا ۔ اسے شاہ ہمدان ؒنے اپنی خداداد صلاحیت سے وادی کے کونے کونے میں پہنچادیا ۔ آپ ؒ نے علماءاور مشائخ کو کشمیر کے طول و عرض میں تبلیغ کےلئے بیجادیا، اور خود بھی مختلف مقامات پر اشاعت دین کےلئے گئے جہاں پر آپؒ نے قیام کیا۔ ان مقامات میں خانقاہ معلی سرینگر’خانقاہ ترال اور خانقاہ مکہ ہامہ بیروہ قابل ذکر ہیں۔ اس مردِ خد کے قائم کردہ ان عظیم مقامات پر روزانہ ہزاروں لوگ بارگاہ الہی میں سجد ریز ہوکر اللہ تعالیٰ کی بندگی انجام دیتے دیکرروحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے۔ملت اسلامیہ کشمیر کے محسن عظیم حضرت شاہ ہمدان امیرکبیر میرسید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ اپنے منفرد ، مخصوص اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ ہمیشہ جڑا ہے اور ر ہے گا۔جس کی مثال اس مردِ خدکی مشہورعظیم الشان درگاہ خانقاہ معلی ہے ،جہاںروزانہ عقیدت مندوں اور زائر ین کی ایک بڑی تعداد حاضری دے کر فیض حاصل کرتی ہے۔ اہل کشمیر حضرت شاہ ہمدانؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھتے ہیں او رانہیں مختلف القاب سے یاد کرتے ہیں۔ ملت اسلامیہ کشمیر کے محسن عظیم حضرت امیرکبیر میرسید علی ہمدانیؒ نہ صرف ایک ولی اللہ ہیں بلکہ ایک صاحب قلم ،انشاپرواز اور اعلیٰ رتبے کے ادیب وشاعر بھی تھے۔آپؒ کی تصانیف جوعربی اور فارسی زبانوں میں لکھی گئی ہیں ۔جو مختلف موضوعات پر جن میں سیاحیاحت ،علوم قرآن، اور تصوف وعرفان اور دیگر موضوعات ہیں، جن کی تعداد ایک سو سے زائد ہے ۔کتاب خانہ برٹش میوززیم کے مجموعے میں جو شامل ہے ،ان میں رسالہ مکتوبات، رسالہ نوریہ، اسناداورادفتحیہ ، درمعرفت، صورت وسیرت انسان،رسالہ اعتقادیہ،رسالہ درویشیہ،کشف الحقائق، میرالطالبین،چہل اسرار، رسالہ واردات عقل اور ذخیرةالملوک،اور نیشنل لابئریری پیرس میں، رسالہ امیریہ، منازل السالکین، رسالہ دربیان روح ونفس اور رسالہ معرفت نفس شامل ہے، اورادفتحیہ جو توحید کا ایک لامثال نسخہ اور وظیفہ ہے جسکو پڑھنے سے دل اور دماغ پرسکون ہوجاتا ہے۔ حضرت شاہ ہمدانؒ کی بلند پایہ ادبی وعلمی شاہ کار تصنیف ذخیرة الملوک ہے جو دس ابواب پر مشتمل ہے اور یہ آٹھویں صدی ہجری کی ایک اہم تصنیف وتحریر ہے ۔ ذخیرة الملوک ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے اور یہ تصنیف علماءدین ،اہل سلوک اور مثائخ کےلئے بھی نسخہ کیمیا ہے۔ حضرت شاہ ہمدان ہمدان رحمتہ اللہ علیہ کا ہم کشمیریوں پر بڑا احسان ہے کہ آپؒ نے نہ صرف علم وعرفان اور راہ حق کی دولت سے مالامال کیا بلکہ ہرطرح سے یہاں کے لوگوں کی زندگی میں بھی بڑی تبدیلی لائی ۔حضرت شاہ ہمدان ؒ نے جو انقلاب سات سو برس قبل برپا کیا وہ آج بھی اپنے پورے آن بان کے ساتھ قائم ودائم ہے اور کشمیریوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں روز روشن کی طرح عیاں ہے ۔ ذخیرة الملوک میں فرماتے ہیں کہ اگر تیرے نفس کا کتا تیرے قابومیں ہے توجان کہ بہشت تری ملکیت ہے تیرا دشمن توتیرے بہلاوے پھسلاوے میں نہ آئے صبر کی گھنٹی سے فریاد کرتو دین کا بندہ ہوجانہ کہ شطیان کا۔ خواہشات سے منہ موڑ لینا سروری ہے ۔خواہشات کو ترک کرنا پیغمبری شیوہ ہے۔
سلطان قطب الدین کے دورمیں کشمیرجن خدائی برکات و عطیات خاص سے نوازا گیا، ان میں عالی پناہ، نبوت انتساب، سیادت مرتبت، قطب الاولیاحضرت سید علی ہمدانی کی پر سعادت تشریف آوری ہے، اللہ ان کے مرقد کو منور فرمائے۔ انہوں نے کشمیر جنت نظیر میں نزول اجلال فرمایا۔
حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ نے ہمیںہر لحاظ سے رہنمائی فرمائی اور ہمیںزندگی گزرانے کی راہ دکھائی،اورجہاں تک شاہ ہمدان ؒ کا تعلق ہے، انہوں نے اس قوم کو نہ صرف روحانی دینی تعلیم سے روشناس کرایا بلکہ ہمیں خودکفیل بنایا ۔شاہ ہمدان ؒ صرف ولی اللہ نہ تھے بلکہ وہ ماہر اقتصادیات اور روحانی پیشوا بھی تھے۔ جو انمول تحفہ انہوں نے ہمیں اوراد ِفتح شکل تحفہ دیا ہے ایسا تحفہ دنیا کسی اور قوم کوآج تک نہ مل سکا۔ ہم ہر سال شاہ ہمدان ؒ کا عرس پاک عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔ اہل ا عتقاد خانقاہوں میں ختمات المعظمات کی مجالس منعقد کرتے ہیںاور علماءکرام شاہ ہمدان ؒ زندگی اور تعلیمات پرروشنی ڈالتے ہیں۔ اس سے کیا ہوگا دوسرے دن آخبار میں آئے گا کہ اس تنظیم نے شاہ ہمدانؒ پر سمینار کیا اس میں علماءکرام ، دانشوروں اسکالروں نے شرکت کی سات میں انکے نام بھی ہونگئے ۔سب کو معلوم ہے گزشتہ تین دہائیوںہم لوگ اس تعلیم سے بہت دور چلے گئے جس میںبھائی چارے،اخوت کا سبق تھا۔ جو ہمیںشاہ ہمدانؒ نے دیاتھا۔ یہ بات ہمیں یاد رکھنی چائے کہ اس شہر کے بارے اہل عارف کیا لکھتے تھے ۔”جناب ابو الفقرا حضرت بابا نصیب نے جو اس شہر کے مشائخ عظام میں سے ہیں،چاروں خلفائے راشدین(رضوان اللہ علیھم اجمعین) کی منقبت میں ایک رسالہ لکھا ہے۔جس کے آغاز میں انہوں نے کسی تقریب سے اس شہر اور اس شہر کے ساکنوں کے احوال پر ایک رباعی تحریر فرمائی ہے۔جسے جناب شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین السہروردی قدس سرہ سے انہوں نے منسوب کیا ہے۔ رباعی۔
کان الکشمیر لسا کینہا۔۔جنات عدن ھی للمومینن۔۔۔قد کتب اللہ علیٰ بابھا۔۔۔ساکنھا کان من الامنین:ترجمہ”کشمیر اپنے ساکنوں کے لئے ایسے ہی ہے۔ جیسے مومنوں کے لئے بہشت بریں،اللہ تعالیٰ نے اس دروازے پر لکھ دیا ہے کہ اس کا باشندہ ہمیشہ امن وسلامتی میں رہے گا۔“اس صورت حال میں اہل کشمیر پروردگار کے فضل وکرم اور پیران بزرگوار کے دم سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں۔“
مگر شو مئی قسمت ہمارے نو جوان نسل اس تعلیم سے پوری طرح بے خبر ہیں۔گذارش کے سات علماءکرام اپنے اپنے حلقے میں اثر رکھتے ہیں ۔کسی اسکالر کے اخلاق معاشرے کو سدھانے کی قوت رکھتے ہیںاور دانشوروں حضرات کی بات اثر رکھتی ہے ۔جبکہ ہمارے معاشرے میںایسے ہمارے نوجوان ہیں جو اس قابل ان کو اس روحانی معاشرے فکر ہیں ۔اگر انہیں اچھی رہنمائی ملےگی تو ممکن ہیں۔اس پر اختتام کرتا ہوں” زمانے کے باغ میں پھول تو بے شمار ہیں ،لیکن ایسا پھول جس سے وفا کی خوشبو آئے نہیں ہے۔“کیونکہ ہم اس دھاگے سے منتشر ہوگئے۔“
حضرت علمدار کشمیر شیخ العالمؒ کے اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔
ترجمہ ۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیارکرلے، اور اُن سے محبت رکھ لے۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت قبلہ روہوتے ہیں ،یعنی ہرقدم خدائے کعبہ کے حکم کے تحت اُٹھاتے ہیں ۔ نیک لوگوں کی صحبت دِل کو نورانی اور بُروں کی صحبت دِل کو سیاہ بناتی ہے۔
بلا آخر یہ عظیم المرتب ہستی شریعت کے علمبرداراورمجلس روحانی کے سردار حضرت میرسید علی ہمدانی ؒ ۲۷ سال کی عمرشریف پاکر ۶ ذی الحجہ ۶۸۷ھ کو کناُر میںواصل بحق ہوئے۔ اناللہ وانااللہ راجعون۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہد ؒ کو فیوض حیات بخشا۔
اللہ تعالی ٰ ہمارے وادی گلشن کو ہر بلا سے نجات دے اور پرامن شہروں شمار ہو ا۔ کشمیری قوم کو توحید و سنت رسول رحمتﷺ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اتباع کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں