فوج کی حوصلہ شکنی کی کوششیں شرمناک

سراج نقوی

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے بی جے پی کے کئی لیڈروں نے جس طرح ہندو مسلم بڑھانے والے بیان دیے ۔ کرنل صوفیہ قریشی پر مدھیہ پردیش کے ایک بد زبان وزیر اجے شاہ نے رکیک زبانی حملہ کرتے ہوئے انھیں’’دہشت گردوں کی بہن ‘‘بتایا اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں ۔اس بے لگام وزیر پر عدلیہ نے بھلے ہی سخت موقف اختیار کیا ہو لیکن تادم تحریر کسی ’سنسکاری بی جے پی لیڈر‘ کا کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ جس سے واضح ہوتا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت یا ریاست کی بی جے پی حکومت اپنے بے لگام وزیر کے بیان پر شرمندہ ہے اور اس کے خلاف کارروائی کے نام پر کم از کم تنبیہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔یہ وزیر صوفیہ قریشی کی توہین کے باوجود ابھی تک وزیر ہے،اور اس سے پارٹی یا حکومت نے اس معاملے میں وضاحت تک طلب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔پہلگام حملے میں جان گنوانے والے ونے نروال کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے ۔نروال کی بیوی نے شوہر کی شہادت کے باوجود پہلگام حملے کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے خلاف بولتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ انھیں’صرف انصاف چاہیے اور وہ ہندو مسلم منافرت نہیں چاہتیں۔‘ لیکن ونے نروال کی اہلیہ کے اس بیان پر ’دیش بھکت ‘اس قدر چراغ پا ہوئے کہ انھوں سوشل میڈیا پر انھیں بری طرح ٹرول کرکے اپنی اوقات بتا دی۔بی جے پی لیڈروں کی اس معاملے میں بد زبانی میں نیا باب جوڑتے ہوئے پارٹی کے راجیہ سبھا رکن را م چندر چنگاڑا نے بیان دیا کہ ’پہلگام حملے میں اپنے شوہروں کو کھونے والی خواتین میں ’’ویرانگنا (بہادر خواتین)کا جذبہ،جوش اور دل کی کمی تھی۔‘ چنگڑا شاید چاہتے تھے کہ پہلگام میںدہشت گردوں کا مقابلہ مرنے والے افراد کی خواتین کرتیں۔یہ نہایت کم عقلی اور دوسروں کے درد و مجبوری کو محسوس نہ کرنے والے مزاج کی عکاسی کرنے والا بیان ہے۔حملے میں شہید ہونے والوں کی اس بیان سے دل آزاری ہی ہوئی ہوگی ،لیکن بی جے پی لیڈروں کو اس سے کیا غرض؟اقتدار میں ہونے کا مطلب اس پارٹی کے لوگ بے لگام بکواس کا حق مانتے ہیں۔حالانکہ جنگڑا نے بعد میں اس بیان کے لیے معافی مانگی۔لیکن معاملہ یہاں پر بھی وہی رہا کہ پارٹی قیادت نے اس معاملے پر ان سے جواب طلب کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔صرف یہ کہا کہ جنگڑا کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے،اور پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
شہیدوں اور فوج کی خلاف تازہ بیان بی جے پی لیڈر رنویر سنگھ پٹھانیہ کا ہے۔یہ شخص نہ صرف جموں و کشمیر کے اودھم پور(مغرب) سے بی جے پی کا رکن اسمبلی ہے بلکہ پارٹی کا ترجمان بھی ہے۔شاید اسی لیے انھیں اپنی زبان پر قابو نہیںہے۔بی جے پی میں ایسے ترجمانوں کی کمی نہیں ہے کہ جو جو میڈیا کے سامنے اور سیاسی مباحثوں میں اس حد تک بے قابو ہو جاتے ہیں کہ ادب و لحاظ اور میڈیا کے سامنے لب کشائی کے لیے ضروری پروٹوکول کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔بہرحال جموں و کشمیر کے ان رکن اسمبلی اور پارٹی ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ،’’آپریشن سندور کے دورانانڈین ائیر فورس کے جوان سو رہے تھے۔‘‘پٹھانیہ نے یہ بھی کہا کہ ،’’ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے انھیں پلکوں پر بٹھا رکھا ہے۔‘‘پٹھانیہ کا یہ بیان سراسر انڈین ائیر فورس کی توہین اور اس کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔یہ انتہائی شرمناک ہے کہ ایک طرف تو بی جے پی کی مرکز مودی حکومت آپریشن سندور کا کریڈٹ لینے کے لیے پوری مہم چلا رہی ہے۔اپنی فوج کی شجاعت کی تعریف اور اس معاملے میں فوج کو دیے گئے مبینہ ’’فری ہینڈ‘‘ کا بار بار ذکر کر رہی ہے ،دوسری طرف حکمراں جماعت کا کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی اور پارٹی ترجمان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ آپریشن سندور کے وقت ہماری فضائیہ کے جوان سو رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہماری فضائیہ کے جوان اپریشن سندور کے وقت سو رہے تھے تو پھر آپریشن کس نے انجام دیا؟کیا بی جے پی کے ’اندھ بھکت‘ اور سوشل میڈیا کے بہادر اس آپریشن کو انجام دے رہے تھے؟
کیا حکومت نے سنگھ کے ان کارکنوں کو اس آپریشن کو انجام دینے کے لیے بھیجا تھا کہ جن کے تعلق سے موہن بھاگوت کا فی پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ سنگھ کے سوئم سیوک ضرورت پڑنے پر محاذ جنگ پر جانے کے لیے تیار ہیں۔اگر فضائیہ کے جوان آپریشن سندور کے وقت سور ہے تھے تو پٹھانیہ کو بتانا چاہیے کہ پھر اس آپریشن کو کس نے انجام دیا؟
دوسری بات یہ کہ مذکورہ آپریشن کے دوران فضائیہ کے جوان کیا کر رہے تھے یہ عوامی بحث کا موضوع نہیں بلکہ خفیہ اطلاعات کا حصہ ہے۔یہ خفیہ اطلاعات پٹھانیہ کو کہاں سے موصول ہوئیںکہ جس میں فضائیہ کے جوانوں کے بارے میں مذکورہ اطلاعات دی گئی تھیں؟ معمولی باتوں پر مسلم دانشوروں،سیاست دانو ں ،حکومت کے خلاف لب کشائی کا حوصلہ دکھانے والے دیگر لوگوں کو جس حکومت کے زیر کنٹرول پولیس کے ذریعہ ملک دشمنی اور ملک کی سا لمیت کے لیے خطرہ بتا کر گرفتار کر لیا جاتا ہو اس حکومت میں اگر کوئی رکن اسمبلی آپریشن سندور کے دوران فضائیہ کے جوانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی متنازعہ بیان دے رہا ہے تو اسے ابھی تک گرفتار کرکے یہ کیوں نہیں پوچھا جا رہا کہ فوجی جوانوں کی مبینہ بے عملی کی اطلاع اسے کس نے دی؟ اور یہ اطلاع ملنے پر اس نے اسے قومی مفاد میںخفیہ کیوں نہیں رکھا؟اس لیے کہ اس سے عوام میں اپنی فوج کے خلاف ناراضگی کا اندیشہ تھا اور فوج کی اس طرح کے بے بنیاد بیانوں سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
پٹھانیہ ائیرفورس پر مذکورہ الزام لگا کر ہی خاموش نہیں ہوئے ،بلکہ انھوں نے اس الزام کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ،’’ہمارا قصور ہے کہ ہم نے انھیں پلکوں پر بٹھا رکھاہے۔‘‘پٹھانیہ جیسے لوگ کس طرح اپنے ملک کی فوجوں کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں اس کا ثبوت تو خود ان کا مذکورہ بیان ہی ہے۔فوج کو جس طرح ’اگنی ویر منصوبہ‘نافذ کر کے اسے پلکوں پر بٹھایا گیا اس سے کون واقف نہیں۔اب یہ سوال لاحاصل ہے کہ فوج اور سابق فوجیوں کی بڑی تعداد اس منصوبے کے حق میں تھی یا نہیں۔بہر حال موضوع بحث
اگنی ویر منصوبہ نہیں بلکہ پٹھانیہ کا مذکورہ بیان ہے۔اگر واقعی پٹھانیہ جیسے لوگ فوج کو پلکوں پر بٹھانے والے ہوتے تو ائیرفورس پر مذکورہ الزام لگانے سے پہلے سو مرتبہ سوچتے اور پارٹی قیادت سے اس کی اجازت لیکر بولتے۔پٹھانیہ اس معاملے کو میڈیا میں اٹھانے کی بجائے کسی ایسے مناسب پلیٹ فارم پر بھی لے جا سکتے تھے کہ جہاں نہ تو ائییر فورس کی حوصلہ شکنی ہوتی اور آپریشن سندور کے دوران مبینہ لا پرواہی برتنے والے فوجیوں سے بھی مناسب قوانین کے تحت جواب طلبی ہوتی۔لیکن ایسا کرنے سے پٹھانیہ کو میڈیا میں بدنامی کے راستے مشہور ہونے کا موقع کیسے ملتا؟دراصل پٹھانیہ اور ان کی پارٹی لیڈروں کی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے کہ جنھیں ان کے مثبت کارناموں کے سبب کم اور متنازعہ بیانات کے سبب زیادہ لوگ جانتے ہیں۔ان لوگوں کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ ایسے بیانات ہمارے آئینی اداروں،ہمارے نوکوشاہوں یا ہماری فوج پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔پٹھانیہ کامذکورہ بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔جب پارٹی میں متنازعہ بیانات دینے کا’کلچر‘عام ہو تو پھر یہ امید لا حاصل ہے کہ پٹھانیہ سے ان کے مذکورہ بیان پر کوئی جواب طلب کیا جائیگا ،یا ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی اس الزام کے تحت کی جائیگی کہ ان کے بیان سے ہماری فضائیہ کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

فوج کی حوصلہ شکنی کی کوششیں شرمناک

سراج نقوی

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد سے بی جے پی کے کئی لیڈروں نے جس طرح ہندو مسلم بڑھانے والے بیان دیے ۔ کرنل صوفیہ قریشی پر مدھیہ پردیش کے ایک بد زبان وزیر اجے شاہ نے رکیک زبانی حملہ کرتے ہوئے انھیں’’دہشت گردوں کی بہن ‘‘بتایا اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں ۔اس بے لگام وزیر پر عدلیہ نے بھلے ہی سخت موقف اختیار کیا ہو لیکن تادم تحریر کسی ’سنسکاری بی جے پی لیڈر‘ کا کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ جس سے واضح ہوتا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت یا ریاست کی بی جے پی حکومت اپنے بے لگام وزیر کے بیان پر شرمندہ ہے اور اس کے خلاف کارروائی کے نام پر کم از کم تنبیہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔یہ وزیر صوفیہ قریشی کی توہین کے باوجود ابھی تک وزیر ہے،اور اس سے پارٹی یا حکومت نے اس معاملے میں وضاحت تک طلب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔پہلگام حملے میں جان گنوانے والے ونے نروال کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے ۔نروال کی بیوی نے شوہر کی شہادت کے باوجود پہلگام حملے کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے خلاف بولتے ہوئے صرف یہ کہا تھا کہ انھیں’صرف انصاف چاہیے اور وہ ہندو مسلم منافرت نہیں چاہتیں۔‘ لیکن ونے نروال کی اہلیہ کے اس بیان پر ’دیش بھکت ‘اس قدر چراغ پا ہوئے کہ انھوں سوشل میڈیا پر انھیں بری طرح ٹرول کرکے اپنی اوقات بتا دی۔بی جے پی لیڈروں کی اس معاملے میں بد زبانی میں نیا باب جوڑتے ہوئے پارٹی کے راجیہ سبھا رکن را م چندر چنگاڑا نے بیان دیا کہ ’پہلگام حملے میں اپنے شوہروں کو کھونے والی خواتین میں ’’ویرانگنا (بہادر خواتین)کا جذبہ،جوش اور دل کی کمی تھی۔‘ چنگڑا شاید چاہتے تھے کہ پہلگام میںدہشت گردوں کا مقابلہ مرنے والے افراد کی خواتین کرتیں۔یہ نہایت کم عقلی اور دوسروں کے درد و مجبوری کو محسوس نہ کرنے والے مزاج کی عکاسی کرنے والا بیان ہے۔حملے میں شہید ہونے والوں کی اس بیان سے دل آزاری ہی ہوئی ہوگی ،لیکن بی جے پی لیڈروں کو اس سے کیا غرض؟اقتدار میں ہونے کا مطلب اس پارٹی کے لوگ بے لگام بکواس کا حق مانتے ہیں۔حالانکہ جنگڑا نے بعد میں اس بیان کے لیے معافی مانگی۔لیکن معاملہ یہاں پر بھی وہی رہا کہ پارٹی قیادت نے اس معاملے پر ان سے جواب طلب کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔صرف یہ کہا کہ جنگڑا کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے،اور پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
شہیدوں اور فوج کی خلاف تازہ بیان بی جے پی لیڈر رنویر سنگھ پٹھانیہ کا ہے۔یہ شخص نہ صرف جموں و کشمیر کے اودھم پور(مغرب) سے بی جے پی کا رکن اسمبلی ہے بلکہ پارٹی کا ترجمان بھی ہے۔شاید اسی لیے انھیں اپنی زبان پر قابو نہیںہے۔بی جے پی میں ایسے ترجمانوں کی کمی نہیں ہے کہ جو جو میڈیا کے سامنے اور سیاسی مباحثوں میں اس حد تک بے قابو ہو جاتے ہیں کہ ادب و لحاظ اور میڈیا کے سامنے لب کشائی کے لیے ضروری پروٹوکول کو بھی بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔بہرحال جموں و کشمیر کے ان رکن اسمبلی اور پارٹی ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ،’’آپریشن سندور کے دورانانڈین ائیر فورس کے جوان سو رہے تھے۔‘‘پٹھانیہ نے یہ بھی کہا کہ ،’’ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے انھیں پلکوں پر بٹھا رکھا ہے۔‘‘پٹھانیہ کا یہ بیان سراسر انڈین ائیر فورس کی توہین اور اس کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔یہ انتہائی شرمناک ہے کہ ایک طرف تو بی جے پی کی مرکز مودی حکومت آپریشن سندور کا کریڈٹ لینے کے لیے پوری مہم چلا رہی ہے۔اپنی فوج کی شجاعت کی تعریف اور اس معاملے میں فوج کو دیے گئے مبینہ ’’فری ہینڈ‘‘ کا بار بار ذکر کر رہی ہے ،دوسری طرف حکمراں جماعت کا کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک رکن اسمبلی اور پارٹی ترجمان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ آپریشن سندور کے وقت ہماری فضائیہ کے جوان سو رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ہماری فضائیہ کے جوان اپریشن سندور کے وقت سو رہے تھے تو پھر آپریشن کس نے انجام دیا؟کیا بی جے پی کے ’اندھ بھکت‘ اور سوشل میڈیا کے بہادر اس آپریشن کو انجام دے رہے تھے؟
کیا حکومت نے سنگھ کے ان کارکنوں کو اس آپریشن کو انجام دینے کے لیے بھیجا تھا کہ جن کے تعلق سے موہن بھاگوت کا فی پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ سنگھ کے سوئم سیوک ضرورت پڑنے پر محاذ جنگ پر جانے کے لیے تیار ہیں۔اگر فضائیہ کے جوان آپریشن سندور کے وقت سور ہے تھے تو پٹھانیہ کو بتانا چاہیے کہ پھر اس آپریشن کو کس نے انجام دیا؟
دوسری بات یہ کہ مذکورہ آپریشن کے دوران فضائیہ کے جوان کیا کر رہے تھے یہ عوامی بحث کا موضوع نہیں بلکہ خفیہ اطلاعات کا حصہ ہے۔یہ خفیہ اطلاعات پٹھانیہ کو کہاں سے موصول ہوئیںکہ جس میں فضائیہ کے جوانوں کے بارے میں مذکورہ اطلاعات دی گئی تھیں؟ معمولی باتوں پر مسلم دانشوروں،سیاست دانو ں ،حکومت کے خلاف لب کشائی کا حوصلہ دکھانے والے دیگر لوگوں کو جس حکومت کے زیر کنٹرول پولیس کے ذریعہ ملک دشمنی اور ملک کی سا لمیت کے لیے خطرہ بتا کر گرفتار کر لیا جاتا ہو اس حکومت میں اگر کوئی رکن اسمبلی آپریشن سندور کے دوران فضائیہ کے جوانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی متنازعہ بیان دے رہا ہے تو اسے ابھی تک گرفتار کرکے یہ کیوں نہیں پوچھا جا رہا کہ فوجی جوانوں کی مبینہ بے عملی کی اطلاع اسے کس نے دی؟ اور یہ اطلاع ملنے پر اس نے اسے قومی مفاد میںخفیہ کیوں نہیں رکھا؟اس لیے کہ اس سے عوام میں اپنی فوج کے خلاف ناراضگی کا اندیشہ تھا اور فوج کی اس طرح کے بے بنیاد بیانوں سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
پٹھانیہ ائیرفورس پر مذکورہ الزام لگا کر ہی خاموش نہیں ہوئے ،بلکہ انھوں نے اس الزام کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ،’’ہمارا قصور ہے کہ ہم نے انھیں پلکوں پر بٹھا رکھاہے۔‘‘پٹھانیہ جیسے لوگ کس طرح اپنے ملک کی فوجوں کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں اس کا ثبوت تو خود ان کا مذکورہ بیان ہی ہے۔فوج کو جس طرح ’اگنی ویر منصوبہ‘نافذ کر کے اسے پلکوں پر بٹھایا گیا اس سے کون واقف نہیں۔اب یہ سوال لاحاصل ہے کہ فوج اور سابق فوجیوں کی بڑی تعداد اس منصوبے کے حق میں تھی یا نہیں۔بہر حال موضوع بحث
اگنی ویر منصوبہ نہیں بلکہ پٹھانیہ کا مذکورہ بیان ہے۔اگر واقعی پٹھانیہ جیسے لوگ فوج کو پلکوں پر بٹھانے والے ہوتے تو ائیرفورس پر مذکورہ الزام لگانے سے پہلے سو مرتبہ سوچتے اور پارٹی قیادت سے اس کی اجازت لیکر بولتے۔پٹھانیہ اس معاملے کو میڈیا میں اٹھانے کی بجائے کسی ایسے مناسب پلیٹ فارم پر بھی لے جا سکتے تھے کہ جہاں نہ تو ائییر فورس کی حوصلہ شکنی ہوتی اور آپریشن سندور کے دوران مبینہ لا پرواہی برتنے والے فوجیوں سے بھی مناسب قوانین کے تحت جواب طلبی ہوتی۔لیکن ایسا کرنے سے پٹھانیہ کو میڈیا میں بدنامی کے راستے مشہور ہونے کا موقع کیسے ملتا؟دراصل پٹھانیہ اور ان کی پارٹی لیڈروں کی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے کہ جنھیں ان کے مثبت کارناموں کے سبب کم اور متنازعہ بیانات کے سبب زیادہ لوگ جانتے ہیں۔ان لوگوں کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ ایسے بیانات ہمارے آئینی اداروں،ہمارے نوکوشاہوں یا ہماری فوج پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔پٹھانیہ کامذکورہ بیان بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔جب پارٹی میں متنازعہ بیانات دینے کا’کلچر‘عام ہو تو پھر یہ امید لا حاصل ہے کہ پٹھانیہ سے ان کے مذکورہ بیان پر کوئی جواب طلب کیا جائیگا ،یا ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی اس الزام کے تحت کی جائیگی کہ ان کے بیان سے ہماری فضائیہ کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں