جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر، 31 مئی: ملک گیر سول ڈیفنس مشق ’آپریشن شیلڈ‘ کے تحت جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں ایمرجنسی ردعمل کی جانچ کے لیے مشقیں کی گئیں۔
سرینگر، بارہ مولہ، اننت ناگ، اور کولگام سمیت کئی اضلاع میں ڈرون حملے، فضائی حملے، انخلا، اور ایمرجنسی بلیک آؤٹ کے منظرنامے پر مبنی مشقیں ہوئیں۔ ان مشقوں میں سول انتظامیہ، پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس، طبی عملہ اور مقامی رضاکار شامل ہوئے۔
جموں ڈویژن کے پونچھ، راجوری، ڈوڈہ اور کٹھوعہ میں بھی مشقیں ہوئیں، جن میں دشمن ڈرون حملے کے بعد شہریوں کا محفوظ انخلا اور طبی ایمرجنسی کا انتظام شامل تھا۔
سرینگر میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین نے بتایا کہ اس کا مقصد عوام اور انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مشقیں ضروری ہیں تاکہ اصل خطرات کی صورت میں کوئی خامی نہ رہ جائے۔
ان مشقوں نے ہنگامی طبی امداد، انخلا، اور شہری دفاعی تعاون کی تربیت فراہم کی۔ اس دوران لوگوں کو پہلے ہی آگاہ کیا گیا کہ سائرن اور بلیک آؤٹ فرضی ہیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
یہ مشقیں قومی سلامتی کے خدشات اور پچھلے مہینے کے پہلگام حملے کے تناظر میں کی گئی ہیں، تاکہ شہری انتظامیہ دفاعی فورسز کی مدد کے لیے تیار رہے۔


