
رشید پروینؔ
سوپور، کشمیر
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایک تاریخی جملہ کہا تھا: ’’ایسے ممالک بھی موجود ہیں جو ہمارے تحفظ کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں چل سکتے، اور انہیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔‘‘ یہ واضح اشارہ سعودی عرب اور عرب امارات کی طرف تھا، جنہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھا۔ لیکن محکوم، مجبور، اور کمزور لوگ تڑپنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں؟ کیونکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔‘‘
اس پس منظر میں ٹرمپ نے جنوری 2025 کے ڈیوس اکنامک فورم میں سعودی عرب سے ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ سرمایہ کاری کے پردے میں وہ قیمت ہے جو ٹرمپ کے خیال میں سعودی حکومت کو تاوان اور امریکی نگہبانی کی صورت میں ادا کرنی چاہیے۔ کیونکہ ان کے خیال میں امریکی حمایت اور مرضی کے بغیر یہ حکومتیں ایک ہفتہ بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتیں۔ یہ حکمراں اس بات کو اچھی طرح جانتے اور سمج their۔ یہ کھلا بلیک میل ہے، لیکن خوبصورت پرد Churchدوں میں چھپایا جا رہا ہے۔
اپنی دوسری صدارتی مدت میں ٹرمپ نے اپنے عزائم کا اظہار یوں کیا: ’’میری حلف برداری تک حماس یرغمالیوں کو رہا کر دے، ورنہ قیامت برپا ہوگی۔‘‘ وائٹ ہاؤس منتقل ہونے سے پہلے انہوں نے یہ بیان واشگاف الفاظ میں دیا۔ یہ مشرق وسطیٰ، خصوصاً مسلم ممالک کے لیے نہ صرف ایک واضح پیغام بلکہ کھلی دھمکی تھی۔ ٹرمپ قیدیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کے لیے پورے مشرق وسطیٰ میں قیامت برپا کرنے کی بات بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں، لیکن ان ہزاروں فلسطینیوں کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتے جو برسوں سے اسرائیلی قیدوں اور عقوبت خانوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ انہیں یہ بھی نظر نہیں آتا کہ غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک دو جنگ عظیموں سے زیادہ بارود گرایا جا چکا، جس میں فاسفورس بم اور کارپٹ بمباری بھی شامل ہے۔ اسرائیلی جارحیت سے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں، لیکن اندازے کے مطابق یہ تعداد لاکھوں میں ہے، جن میں سب سے زیادہ بچے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فلسطینیوں کی نسل کشی ہے۔ اسرائیل نے معصوم شہریوں کا جو قتل عام کیا، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن ٹرمپ کو نہ یہ سب نظر آتا ہے، نہ ان لاکھوں انسانوں کی موت کے مناظر ان کے ذہن میں گھومتے ہیں، اور نہ ہی وہ غزہ کے شہروں اور دیہات کو دیکھ کر رنجیدہ ہیں جو ملبے کے ڈھیر بن چکے، جہاں ہزاروں لاشیں دفن ہیں۔ نہ ہی وہ اس بات پر ماتم کناں ہیں کہ ایران کے سینکڑوں سائنسدانوں، حماس اور حزب اللہ کے کمانڈروں سمیت ایرانی صدر کو موساد نے شہید کیا۔
ہر امریکی صدر ٹیپ ریکارڈر کی طرح یہی جملہ دہراتا ہے: ’’ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس معاملے میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔‘‘ اب آئیے ٹرمپ کے حالیہ دورے کا جائزہ لیں، جس میں وہ سعودی عرب، عرب امارات، اور قطر گئے۔ یہ دورہ ان کی دوسری صدارتی مدت کی سب سے بڑی سرگرمی تھی۔ ٹرمپ سعودی پیٹرو ڈالرز کو بڑی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ امریکی معیشت قرضوں کے نیچے دبی ہوئی ہے، جو کبھی اس گورکھ دھندے سے نکل نہیں پائے گی۔
سعودی حکومت نے ٹرمپ کا شاندار استقبال کیا۔ ائیرپورٹ کو اعلیٰ قسم کے قالینوں سے سجایا گیا، اور اس استقبال میں آقا اور فرمانبردار غلاموں کی جھلکیاں واضح تھیں۔ جب مسلم ملک کی چھوٹی بچیوں نے بال کھول کر رقص پیش کیا (حدیث مبارک: ’’شیطان نجد سے ہی سر نکالے گا‘‘)، ریاض میں ایک کانفرنس کے دوران 600 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوئے، جسے سرمایہ کاری کا نام دیا گیا۔ قطر میں شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ٹرمپ کے ساتھ1.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر دستخط کیے اور 400 ملین ڈالر کا بوئنگ جیٹ تحفے میں پیش کیا۔ متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کو ملک کا سب سے بڑا اعزاز دیا اور ملاقات کے دوران 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر دستخط ہوئے۔ اتنا کچھ دینے کے باوجود کسی بھی مسلم ملک کے سربراہ کے ہونٹوں پر فلسطین کی نسل کشی پر کوئی شکایت یا شکوہ نہ آیا۔ یہ خوف، یہ ڈر، اور یہ غیر مشروط سرنڈر، اس کے سوا کیا کہا جائے کہ یہ وہی دجالی فتنہ ہے جو احادیث سے واضح ہے۔ دجال اپنی جھولی میں جنت اور جہنم ساتھ لے کر پھرے گا اور اسی بل بوتے پر دنیا کو مسwaterدہرے گا۔ اگرچہ اصل دجال کا ظہور باقی ہے، لیکن اس کے لیے زمین ہموار ہو رہی ہے۔ کوئی ملک اس کی دستبرد سے نہیں بچ سکتا، نہ ہی کوئی اس کی مرضی سے انحراف کر سکتا۔
امریکہ چاہتا ہے کہ تہذیب، تمدن، صحافت، ثقافت، حتیٰ کہ جینے مرنے کا انداز بھی اسی کی معاشرت کے مطابق ہو۔ جو اس راہ میں رکاوٹ بنے، ان ممالک کو امریکہ نے اپنی حکمت عملیوں سے کھنڈر بنا دیا، جیسے شام، عراق، سوڈان، لبنان، اور اردن۔ دجال کا اصل مسکن فلسطین ہی ہے، جہاں اسرائیل سٹیج سیٹ کر رہا ہے، اور اسی سرزمین میں دجال کے آخری ایام گزریں گے۔ احادیث کے مطابق، دجال کے پاس ساری قوتیں ہوں گی، اور دنیا اس کی طاقت سے لرزہ براندام ہوگی۔
موجودہ مسلم حکومتیں، حکمران، اور مملکتیں بھی دجالی لباس زیب تن کر چکی ہیں۔ انہوں نے سودی معاشی نظام کو حتمی سمجھ کر اپنے ممالک میں رائج کر دیا۔ حیران کن شداد کی جنت سے بھی حیرت انگیز شہر تعمیر ہو رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ دجال اسی سرزمین سے سر اٹھائے گا۔ دجال ایک آنکھ سے دیکھتا ہے، یعنی مادیت کے بغیر روحانی بصیرت سے خالی ہے۔ اس نے یہ اندازِ فکر تعلیمی اور سائنسی انداز میں پیش کرکے بازی مار لی، اور ساری دنیا، بشمول مسلم مملکتیں، اس نظام پر ایمان لا چکی ہیں۔
اب صرف یہ انتظار ہے کہ اسرائیل کب امریکہ کو ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرکے خود سپر پاور بننے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ وہی لمحہ ہوگا جب دجال امریکہ سے اپنے آخری ٹھکانے یروشلم منتقل ہوگا۔ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے موجودہ قبلہ اول کو منہدم کرنا ضروری ہے، اور اس کی تعمیر کے ساتھ یہودی عقیدے کے مطابق ان کا مسیحا آکر ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم کرے گا۔ احادیث کی روشنی میں یہ قوم اپنے آخری انجام کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دجال نے انہیں اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے، اور جو یہ اللہ کی مرضی سمجھتے ہیں، وہ ان کے لیے دجالی پھندا ثابت ہوگا۔ یہ فرموداتِ رسول ﷺ ہیں، جو اٹل اور برحق ہیں۔
مسلم مملکتیں سمجھتی ہیں کہ اسرائیل کا ساتھ دے کر وہ محفوظ رہیں گی اور ان کی بادشاہتیں قائم رہیں گی۔ افسوس کہ انہوں نے نہ تاریخ کا مطالعہ کیا، نہ ان احادیث مبارکہ کو سمجھا۔ یہ علاقہ آخری بڑی جنگ کا میدان ہوگا، جس کے بعد یہ قوم ہمیشہ کے لیے نابود ہو جائے گی، جیسے قوم عاد، ثمود، اور نمرود کی داستانیں صرف عبرت کے لیے باقی ہیں۔ عرب و مسلم دنیا کی تباہی کے بغیر یہ وقت نہیں آئے گا، اور اس تباہی میں سو میں سے ننانوے کو قتل ہونا پڑے گا۔ دجالی ہنگامہ تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے نہ اتریں، دجال کو قتل نہ کریں، اور دین ابراہیمی نافذ نہ کریں۔ یہ تیسری بار قوم یہود کی سزا ہوگی، جس میں یہ ساری قوم فنا کے گھاٹ اتر جائے گی۔ یہود کا یہ مقدر پہلے سے طے ہے، لیکن عرب دنیا بھی اپنی غفلت اور عیش کوشی کی بڑی قیمت ادا کرے گی۔ اور تب تک ارضِ فلسطین سے لہو ٹپکتا رہے گا۔
ززز


